Chapter 613: Raising One's Hand When Seeing The House - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ يَعْنِي يَوْمَ الْفَتْحِ .
Abu Hurairah said When the Prophet(ﷺ) entered Makkah he circumambulated the House(the Ka’bah) and offered two rak’ahs of prayer behind the station. That is, he did so on the day of the Conquest (of Makkah).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ( یعنی فتح مکہ کے روز ) ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came an entered Mecca, and after the Messenger of Allah (ﷺ) had gone forward to the Stone, and touched it, he went round the House (the Ka'bah). He then went to as-Safa and mounted it so that he could look at the House. Then he raised his hands began to make mention of Allah as much as he wished and make supplication. The narrator said: The Ansar were beneath him. The narrator Hashim said: He prayed and praised Allah and asked Him for what he wished to ask.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا ، راوی کہتے ہیں : اور انصار آپ کے نیچے تھے ، ہاشم کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی ۔
Abis bin Rabi’ah said on the authority of ‘Umar He(‘Umar) came to the (Black) Stone and said “ I know for sure that you are a stone which can neither benefit nor injure and had I not seen the Apostle of Allaah(ﷺ) kissing you, I would not have kissed you.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما ، اور کہا : میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎ ۔
Chapter 615: Touching The Other Corners - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ، عَائِشَةَ رضى الله عنها إِنَّ الْحَجَرَ بَعْضُهُ مِنَ الْبَيْتِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلاَمَهُمَا إِلاَّ أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ وَلاَ طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلاَّ لِذَلِكَ .
Ibn Umar was informed about the statement of Aisha that a part of al-Hijr is included in the magnitude of the Ka'bah. Ibn Umar said:
By Allah, I think that she must have heard it from the Messenger of Allah (ﷺ). I think that the Messenger of Allah (ﷺ) had not given up touching both of them but for the reason that they were not on the foundation of the House (the Ka'bah), nor did the people circumambulate (the House) beyond al-Hijr for this reason.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا ، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رکن عراقی اور رکن شامی ) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے ۔
Ibn ‘Umar said The Apostle of Allaah(ﷺ) did not give up touching the Yamani corner and the (Black) Stone in each of his circumambulations. Ibn ‘Umar used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) performed the circumambulation at the Farewell Pilgrimage on a Camel and touched the corner(Black Stone) with a crooked stick.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) had some rest at Mecca in the year of its Conquest, he performed circumambulation on a camel and touched the corner (black Stone) with a crooked stick in his hand. She said: I was looking at him.
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی ۔
Abu Al Tufail reported on the authority of Ibn ‘Abbas who said I saw the Prophet (ﷺ) circumambulating the Ka’bah on his Camel, touching the corner (Black Stone) with a crooked stick and kissing it (the crooked stick). The narrator Muhammad bin Rafi’ added “he then went o Al Safa and Al Marwah and ran seven times on his Camel.
ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے ، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے ۔
Jabir bin ‘Abd Allah said The Prophet(ﷺ) performed the circumambulation of the House(the Ka’bah) on his Camel at the Farewell Pilgrimage and ran between Al Safa’ and Al Marwah, so that the people could see him, remain well informed about him and ask him questions(about Hajj) for the people surrounded him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں ، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اور آپ سے پوچھ سکیں ، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا ۔
Ibn ‘Abbas said When the Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah he was ill. So, he performed the circumambulation on his Camel. He touched the corner (Black Stone) with a crooked stick as often as he came to it. When he finished the circumambulation, he made his Camel kneel down and offered two rak’ahs of prayer.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے ، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور ( طواف کی ) دو رکعتیں پڑھیں ۔
Chapter 616: Regarding The Obligatory Tawaf - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
Umm Salamah said I complained to the Apostle of Allaah(ﷺ) that I was ill. He said “Perform the circumambulation riding behind the people”. She said “I performed circumambulation and the Apostle of Allaah(ﷺ) was praying towards the side of the House(the Ka’bah) and reciting “by al Tur and a Book inscribed”.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎ “ ، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions performed umrah from al-Ji'ranah. They went quickly round the House (the Ka'bah) moving their shoulders) proudly. They put their upper garments under their armpits and threw the ends over their left shoulders.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ . قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ . فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَاِمِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ
" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا " . وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ . قُلْتُ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لاَ يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلاَمَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلاَ تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ .
Abu Al Tufail said I said to Ibn ‘Abbas Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly with swift strides while going round the Ka’bah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part).” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly while going round the Ka’bah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Apostle of Allaah(ﷺ) said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Ka’bah in first three circuits. (Ibn ‘Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah.” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Apostle of Allaah(ﷺ) and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him.
ابوطفیل کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے ، انہوں نے کہا : لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی ، میں نے دریافت کیا : لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط ؟ فرمایا : انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے ( واقعہ یہ ہے ) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے ، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” تین پھیروں میں رمل کرو “ ، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎ ، میں نے کہا : آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے ، وہ بولے : انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی ، میں نے دریافت کیا : کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ ؟ وہ بولے : یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے ، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں ۔
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah while the fever of Yathrib (Medina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Medina are coming to you.” Allaah, the exalted, informed the Prophet (ﷺ) of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us.”
Ibn ‘Abbas said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا ، تو مشرکین نے کہا : تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے ، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا ، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ ( طواف کعبہ کے ) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں ، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے : یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے ، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎ ۔
I heard Umar ibn al-Khattab say: What is the need of walking proudly (ramal) and moving the shoulders (while going round the Ka'bah)? Allah has now strengthened Islam and obliterated disbelief and the infidels. In spite of that we shall not forsake anything that we used to do during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).
اسلم کہتے ہیں کہ
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے ، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Going round the House (the Ka'bah), running between as-Safa and lapidation of the pillars are meant for the remembrance of Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا ، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) wore the mantle under his right armpit with the end over his left shoulder, and touched the corner (Black Stone), then uttered "Allah is most great" and walked proudly in three circuits of circumambulation. When they (the Companions) reached the Yamani corner, and disappeared from the eyes of the Quraysh, they walked as usual; When they appeared before them, they walked proudly with rapid strides. Thereupon the Quraysh said: They look to be the deer (that are jumping). Ibn Abbas said: Hence this became the sunnah (model behaviour of the Prophet).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا ، پھر استلام کیا ، اور تکبیر بلند کی ، پھر تین پھیروں میں رمل کیا ، جب لوگ ( یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے ، قریش کہتے تھے : گویا یہ ہرن ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو یہ فعل سنت ہو گیا ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions performed umrah from al-Ji'ranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Ka'bah) in three circuits and walked as usual in four circuits.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ ذَلِكَ .
Nafi’ said Ibn ‘Umar walked proudly (ramal) from the corner (Black Stone) to the corner (Black Stone) and mentioned that the Apostle of Allaah (ﷺ) had done so.
نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ : ۹۶ ) کہتے سنا ، ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ، اور آخرت میں بھی ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔
Ibn ‘Umar said When the Apostle of Allaah(ﷺ) observed the circumambulation at hajj and ‘Umrah on his arrival, he ran three circuits and walked four, then he made two prostrations.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے ، پھر دو رکعتیں پڑھتے ۔
Chapter 620: Performing Tawaf After Asr - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَىَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . قَالَ الْفَضْلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا " .
Narrated Jubayr ibn Mut'im:
The Prophet (ﷺ) said: Do not prevent anyone from going round this House (the Ka'bah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Ya'qub) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گھر ( کعبہ ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو ، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو “ ۔ فضل کی روایت کے میں ہے : «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! کسی کو مت روکو “ ۔