Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) was asked as to which of the creatures could be killed by a pilgrim in the sacred state. He said there are five creatures which it is not a sin for anyone to kill, outside or inside the sacred area. The Scorpion, the Crow, the Rat, the Kite and the biting Dog.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں : بچھو ، چوہیا ، چیل ، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا “ ۔
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying There are five(creatures) the killing of which is lawful in the sacred territory. The Snake, the Scorpion, the Kite, the Rat and the biting Dog.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے : سانپ ، بچھو ، کوا ، چیل ، چوہیا ، اور کاٹ کھانے والا کتا “ ۔
The Prophet (ﷺ) was asked which of the creatures a pilgrim in sacred state could kill. He replied: The snake, the scorpion, the rat; he should drive away the pied crow, but should not kill it; the biting dog, the kite, and any wild animal which attacks (man).
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” سانپ ، بچھو ، چوہیا کو ( مار سکتا ہے ) اور کوے کو بھگا دے ، اسے مارے نہیں ، اور کاٹ کھانے والے کتے ، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو ( مار سکتا ہے ) “ ۔
Abdullah ibn al-Harith reported on the authority of his father al-Harith:
(My father) al-Harith was the governor of at-Ta'if under the caliph Uthman. He prepared food for Uthman which contained birds and the flesh of wild ass. He sent it to Ali (may Allah be pleased with him). When the Messenger came to him he was beating leaves for camels and shaking them off with his hand. He said to him: Eat it. He replied: Give it to the people who are not in sacred state; we are wearing ihram. I adjure the people of Ashja' who are present here. Do you know that a man presented a wild ass to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was in ihram? But he refused to eat from it. They said: Yes.
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ( حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے ) وہ کہتے ہیں
حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا ، اس میں چکور ۱؎ ، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا ، وہ کہتے ہیں : انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں ، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا : کھاؤ ، تو وہ کہنے لگے : لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں ( احرام نہ باندھے ہوں ) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا : میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ۲؎ ۔
Ibn ‘Abbas said Zaid bin ‘Arqam do you know that the limb of a game was presented to the Apostle of Allaah(ﷺ) but he did not accept it. He said “We are wearing ihram”. He replied, Yes.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا : زید بن ارقم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا ، اور فرمایا : ” ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : ہاں ( معلوم ہے ) ۔
Chapter 608: The Meat Of Game For The Muhrim - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ - عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلاَلٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The game of the land is lawful for you (when you are wearing ihram) as long as you do not hunt it or have it hunted on your behalf.
Abu Dawud said: When two traditions from the Prophet (ﷺ) conflict, one should see which of them was followed by his Companions.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے ۔
Chapter 608: The Meat Of Game For The Muhrim - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ قَالَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ
" إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى " .
Abu Qatadah said that he accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ) and he stayed behind on the way to Makkah with some of his companions who were wearing ihram, although he was not. When he saw a wild ass he mounted his horse and asked them to hand him his whip, but they refused. He then asked them to hand him his lance. When they refused, he took it, chased the while ass and killed it. Some of the Companions of the Apostle of Allaah(ﷺ) ate it and some refused (to eat). When they met the Apostle of Allaah(ﷺ) they asked him about it. He said that was the food that Allaah provided you for eating.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے ، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا ، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا ، انہوں نے انکار کیا ، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا ، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا ، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا “ ۔
Abu Hurairah said, We found a swarm of Locusts. A man who was wearing ihram began to strike it with his whip. He was told that his action was not valid. The fact was mentioned to the Prophet (ﷺ); He said “That is counted along with the game of the sea.”
I heard Abu Dawud say “The narrator Abu Al Muhzim is weak. Both these traditions are based on misunderstanding.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا ، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا ، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ " قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
Ka’ab bin ‘Ujrah said that the Apostle of Allaah(ﷺ) came upon him (during their stay) at Al Hudaibiyyah. He asked do the insects of your head (lice) annoy you? He said Yes. The Prophet (ﷺ) said Shave your head, then sacrifice a sheep as offering or fast three days or give three sa’s of dates to six poor people.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے ؟ “ کہا : ہاں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سر منڈوا دو ، پھر ایک بکری ذبح کرو ، یا تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎ “ ۔
Ka’ab bin ‘Ujrah said that the Apostle of Allaah(ﷺ) said to him, If you like sacrifice an animal or if you like fast three days or if you like give three sa’s of dates to six poor people.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو ، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came upon him (during their stay) at al-Hudaybiyyah. He then narrated the rest of the tradition. This version adds: "He asked: Do you have a sacrificial animal? He replied: No. He then said: Fast three days or give three sa's of dates to six poor people, giving one sa' to every two persons."
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے ، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تو تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے “ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً .
A man from the Ansar said on the authority of Ka'b ibn Ujrah that he was feeling pain in his head (due to lice); so he shaved his head. The Prophet (ﷺ) ordered him to sacrifice a cow as offering.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
( اور انہیں سر میں ( جوؤوں کی وجہ سے ) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا ۔
Ka’b bin ‘Ujrah said I had lice in my head when I accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Al Hudaibiyyah so much so that I feared about my eyesight. So Allaah, the exalted revealed these verses about me. “And whoever among you is sick or hath an aliment of the head.” The Apostle of Allaah(ﷺ) called me and said “Shave your head and fast three days or give a faraq of raisins to six poor men or sacrifice a goat. So, I shaved my head and sacrificed.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : ” تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو “ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی ۔
It was reported from 'Abdul-Karim bin Malik Al-Jazari, from 'Abdur-Rahman bin Abi Laila, from Ka'b bin Ujrah, regarding this incident (as narrated in on previous hadith), and he added:
"Whichever of these you do, it will suffice."
اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» ” اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے “ ۔
Al Hajjaj bin ‘Amr Al Ansari reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ If anyone breaks (a bone or leg) or becomes lame, he has come out of the sacred state and must perform Hajj the following year.” ‘Ikrimah said I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah about this. They replied He spoke the truth.
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے ، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا ، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎ “ ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا : انہوں نے سچ کہا ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks (a leg) or becomes lame or falls ill. He then narrated the tradition to the same effect. The narrator Salamah ibn Shabib said: Ma'mar narrated (this tradition) to us.
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے ۔
I came out to perform umrah in the year when the people of Syria besieged Ibn az-Zubayr at Mecca. Some people of my tribe sent sacrificial animals with me as an offering. When we reached the people of Syria, they stopped us from entering the sacred territory. I, therefore, sacrificed the animals at the same spot. I then took off ihram and returned.
Next year I came out to make an atonement for my umrah. I came to Ibn Abbas and asked him (about it). He said: Bring a new sacrificial animal, for the Messenger of Allah (ﷺ) ordered his companions to bring fresh sacrificial animals for the umrah of atonement in lieu of the animals they had sacrificed in the year of al-Hudaybiyyah.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ
میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے ، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا ، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا ، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا ، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَعَلَهُ .
Nafi’ said It was Ibn ‘Umar’s habit that whenever he came to Makkah he spent the night at Dhu Tuwa in the morning he would take a bath and enter Makkah in the daytime. He used to say the Prophet (ﷺ) had done so.
نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے ، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ، حَنْبَلٍ عَنْ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا - قَالاَ عَنْ يَحْيَى إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ - وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى . زَادَ الْبَرْمَكِيُّ يَعْنِي ثَنِيَّتَىْ مَكَّةَ وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ .
Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) used to enter Makkah from the upper hillock. The version of Yahya goes:
The Prophet (ﷺ) used to enter Makkah from Kuda’ from the hillock of Batha’. He would come out from the lower hillock.
Al Barmaki added “that is the two hillocks of Makkah”.
The version of Musaddad is more complete.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا ( بلند گھاٹی ) سے داخل ہوتے ، ( یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے ) اور ثنیہ سفلی ( نشیبی گھاٹی ) سے نکلتے ۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ .
Ibn ‘Umar said The Messenger of Allah (ﷺ) used to come out from (Medina) by the way of Al Shajarah and enter (Makkah) by the way of Al Mu’arras.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى قَالَ وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ .
A’ishah said The Apostle of Allaah (ﷺ) entered Makkah from the side of Kuda’ the upper end of Makkah in the year of conquest (of Makkah) and he entered from the side of Kida’ when he performed ‘Umrah. ‘Urwah used to enter (Makkah) from both sides, but he often entered from the side of Kuda’ as it was nearer to his house.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے ، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔
was asked about a man who looks at the House (the Ka'bah) and raises his hands (for prayer). He replied: I did not find anyone doing this except the Jews. We performed hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ), but he did not do so.
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا : میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا ، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔