Ibn Abbas said: Aqra' ibn Habis asked the Prophet (ﷺ) saying: Messenger of Allah hajj is to be performed annually or only once? He replied: Only once, and if anyone performs it more often, he performs a supererogatory act.
Abu Dawud said: The narrator Abu Sinan is Abu Sinan al-Du'wail. The same has been reported by both 'Abd al-Jalil bin Humaid and Sulaiman bin Kathir from al-Zuhri. The narrator 'Uqail reported the name "Sinan".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال ( فرض ) ہے یا ایک بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ہر سال نہیں ) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں ، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے ، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے ۔
Chapter 568: The Obligation of Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي، وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
" هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصْرِ " .
Narrated Abu Waqid al-Laythi:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying to his wives during the Farewell Pilgrimage: This (is the pilgrimage for you); afterwards stick to the surface of the mats (i.e. should stay at home).
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا : ” یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں “ ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) as saying : A muslim woman must not make a journey of a night unless she is accompanied by a man who is within the prohibited degrees.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو “ ۱؎ ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (SWAS) as saying :
A woman who believes in Allah and the last Day must not make a journey of a day and a night. He then narrated the rest of the tradition to the same effect (as above).
The narrator al-Nufaili said : Malik narrated us.
Abu Dawud said : The narrators al-Nufail and al_Qa’nabi did not mention the words “from his father”.
Ibn Wahb and ‘Uthman bin ‘Umr narrated from Malik the same words as narrated by al-Qa’nabi (i.e. omitted the words “from his father”).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے “ ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری ۔
Abu Sa’id reported The Apostel of Allah (SWAS) as saying:
A woman who believes in Allah and the Last Day must not make a journey of more than three days unless she is accompanied by her father or her brother, or her husband or her son or her relative who is within the prohibited degree.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎ “ ۔
People used to perform Hajj and not bring provisions with them. Abu Mas’ud said the inhabitants of Yemen or people of Yemen used to perform Hajj and not bring provisions with them. They would declare we put our trust in Allah. So Allah most high sent down “ and bring provisions, but the best provision is piety”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے : ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی ۔
Ibn Abbas recited this verse: 'It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord', and said: The people would not trade in Mina (during the hajj), so they were commanded to trade when they proceeded from Arafat.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں
انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا ۔
I was a man who used to give (riding-beasts) on hire for this purpose (for travelling during the pilgrimage) and the people would tell (me): Your hajj is not valid. So I met Ibn Umar and told him: AbuAbdurRahman, I am a man who gives (riding-beast) on hire for this purpose (i.e. for hajj), and the people tell me: Your hajj is not valid. Ibn Umar replied: Do you not put on ihram (the pilgrim dress), call the talbiyah (labbayk), circumambulate the Ka'bah, return from Arafat and lapidate jamrahs? I said: Why not? Then he said: Your hajj is valid. a man came to the Prophet (ﷺ) and asked him the same question you have asked me. The Messenger of Allah (ﷺ) kept silence and did not answer him till this verse came down: "It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord." The Messenger of Allah (ﷺ) sent for him and recited this verse to him and said: Your hajj is valid.
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ
میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا ، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا : ابوعبدالرحمٰن ! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم احرام نہیں باندھتے ؟ تلبیہ نہیں کہتے ؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے ؟ رمی جمار نہیں کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، تو انہوں نے کہا : تمہارا حج درست ہے ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو “ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا : ” تمہارا حج درست ہے “ ۔
The people used to trade, in the beginning, at Mina, Arafat, the market place of Dhul-Majaz, and during the season of hajj. But (later on) they became afraid of trading while they were putting on ihram. So Allah, glory be to Him, sent down this verse: "It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord during the seasons of hajj." Ubayd ibn Umayr told me that he (Ibn Abbas) used to recite this verse in his codex.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ شروع شروع میں منیٰ ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا ، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ نازل کیا یعنی حج کے موسم میں ۔ عطا کہتے ہیں : مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ( ابن عباس ) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔
In the beginning when Hajj was prescribed, people used to trade during Hajj. The narrator then narrated the rest of the tradition upto the words, `season of Hajj’.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا ۔
Chapter 575: Regarding A Child Performing Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ " مَنِ الْقَوْمُ " . فَقَالُوا الْمُسْلِمُونَ . فَقَالُوا فَمَنْ أَنْتُمْ قَالُوا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " .
Ibn `Abbas said the Messenger of Allah (SWAS) was at al-Rawha. There he met some riders. He saluted them and asked who they were. They replied that they were Muslims. They asked who are you. They (the companions) replied he is the Messenger of Allah (SWAS). A woman became upset :
she took her child by his arm and lifted him from her litter at the camel. She said Messenger of Allah (SWAS) can this (child) be credited with having performed Hajj. He replied Yes, and you will have a reward.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا : ” کون لوگ ہو ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : ہم مسلمان ہیں ، پھر ان لوگوں نے پوچھا : آپ کون ہو ؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور اجر تمہارے لیے ہے “ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) appointed the following places for putting on Ihram : Dhul al-Hulaifah for the people of Madina, al-Juhfah for the people of Syria and al-Qarn for the people of Najd and have been told that appointed Yalamlam for the people of Yemen.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا ، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا ۔
The Messenger of Allah (SWAS) appointed places for putting on Ihram and narrated the rest of the tradition to the same effect (as mentioned above).
One of them said and Yalamlam for the people of Yemen. The other narrator said Alamlam. These (places for Ihram) are appointed for these regions and for people of other regions who come to them intending to perform Hajj and `Umrah. The place where those who live nearer to Makkah should put on Ihram from where they start and so on up to the inhabitants of Makkah itself who put on Ihram in it. This is the version of Ibn Tawus.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، ان دونوں ( راویوں میں سے ) میں سے ایک نے کہا : ” اہل یمن کے لیے یلملم “ ، اور دوسرے نے کہا : «ألملم» ، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں “ ۔ ابن طاؤس ( اپنی روایت میں ) کہتے ہیں : ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے ۔
She heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone puts on ihram for hajj or umrah from the Aqsa mosque to the sacred mosque , his former and latter sins will be forgiven, or he will be guaranteed Paradise. The narrator Abdullah doubted which of these words he said.
Abu Dawud said: May Allah have mercy on Waki'. He put on ihram from Jerusalem (Aqsa mosque), that is, to Mecca.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی “ ، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا ۔
I came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was at Mina, or at Arafat. He was surrounded by the people. When the bedouins came and saw his face, they would say: This is a blessed face. He said: He (the Prophet) appointed Dhat Irq as the place of putting on ihram for the people of Iraq.
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں ، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا ، تو اعراب ( دیہاتی ) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا ۔
Asma daughther of 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr at Shajarah. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded Abu Bakr to ask her to take a bath and wear ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ( اسماء سے کہو کہ ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے ۔
The Prophet (ﷺ) said: A menstruating woman and the one who delivered a child should take a bath, put on ihram and perform all the rites of hajj except circumambulation of the House (Ka'bah) when they came to the place of wearing ihram.
Abu Ma'mar said in his version: "till she is purified". The narrator Ibn Isa did not mention the names of Ikrimah and Mujahid, but he said: from Ata on the authority of Ibn Abbas. Ibn Isa also did not mention the word "all (rites of hajj)." He said in his version: All the rites of hajj except circumambulation of the House (the Ka'bah).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں ، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎ “ ۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ” یہاں تک کہ پاک ہو جائیں “ کا اضافہ کیا ۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا ، بلکہ یوں کہا : «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ” مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے “ کہا ۔
Chapter 578: Wearing Perfume While Entering The State Of Ihram - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلإِحْلاَلِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
`A’ishah said ; I used to perfume the Messenger of Allah (SWAS) preparatory to his entering the sacred state before he put on Ihram, and preparatory to putting off Ihram before he made the circuits round the House (the Ka’bah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، - الْمَعْنَى - قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ - حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَلاً كَانَ لأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ . قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ زَادَ النُّفَيْلِيُّ يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
In the year of al-Hudaybiyyah, the Messenger of Allah (ﷺ) included among his sacrificial animals a camel with a silver nose-ring (Ibn Minhal's version has gold) which had belonged to AbuJahl (the version of an-Nufayli added) "thereby enraging the polytheists".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا ، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا ، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ ” سونے کا چھلا تھا “ ، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ” اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎ “ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) offered the noon prayer at Dhu al-Hulaifah. He then sent for a camel and made incision in the right side of its hump ; he then took out the blood by pressing it and tied two shoes in its neck. He then rode on his mount (camel) and reached al-Baida, he raised his voice for the talbiyah for performing Hajj.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا ، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا ۔
This tradition has also been transmitted by Shu’bah through a different chain of narrators similar to that reported by Abu al-Walid. This version adds he then took out the blood by pressing it with his hand.
Abu Dawud said :
Hammam’s version has the words “He took out the blood by pressing with his fingers”.
Abu Dawud said this tradition has been narrated by the people of Basrah who alone are its transmitters.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے
البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : «ثم سلت الدم بيده» ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہمام کی روایت میں «سلت الدم عنها بإصبعه» کے الفاظ ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں ۔
Chapter 582: On Marking The Sacrificial Animals - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ .
Al-Miswar bin Makhramah and al-Marwan said the Messenger of Allah (SWAS) proceeded in the year of al-Hudaibiyyah (to Makkah). When he reached Dhu al-Hulaifah, he tied (garlanded) something in the neck of the sacrificial camel (which He took along with him), and made incision in its hump and put on Ihram.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے ، وہ دونوں کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا ۔
Umar ibn al-Khattab named a bukhti camel for sacrifice (at hajj). He was offered three hundred dinars for it (as its price). He came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I named a bukhti camel for sacrifice and I was offered for it three hundred dinars. May I sell it and purchase another one for its price? No, sacrifice it.
Abu Dawud said: This was due to the fact that 'Umar had made an incision in hump.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے ، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے ( ہدی کے لیے ) ایک اونٹ خرید لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اسی کو نحر کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ممانعت ( نہی ) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے ۔
I twisted the garlands of the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SWAS) with my own hands, after which he made incision in their humps and garlanded them, and sent them as offerings to the house (Kabah), but he himself stayed back at Madinah and nothing which had been lawful for him had been forbidden.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎ ۔
Chapter 584: Regarding One Who Sends A Sacrificial Animal But Remains In Residence - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
Ai’shah said:
The Messenger of Allah (SWAS) would send the sacrificial animals as offerings (to Makkah) from Madinah. I would twist the garlands of the sacrificial animals ; thereafter he would not abstain from anything from which a pilgrim putting on Ihram abstains.
عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے ۔
The Messenger of Allah (SWAS) sent sacrificial camels as offering (to the Ka’bah) and I twisted with my own hands their garlands of coloured wool that we had with us. Next morning he came free from restrictions, having intercourse (with his wife) as a man not wearing Ihram does with his wife.
ام المؤمنین ( عائشہ ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال ( غیر مُحرم ) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے ۔
The Messenger of Allah (SWAS)saw a man driving the sacrificial camel. He said ride on it. He said this is a sacrificial camel. He again said ride on it, bother you, either the second or the third time he spoke.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر سوار ہو جاؤ “ ، وہ بولا : یہ ہدی کا اونٹ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر سوار ہو جاؤ ، تمہارا برا ہو ۱؎ “ ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا ۔
I asked Jabir bin `Abdallah about riding on the sacrificial camels. He said I heard The Messenger of Allah (SWAS) saying ride on them gently when you have nothing else till you find a mount.
ابوزبیر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) sent sacrificial camels with him (as offering to the Ka'bah). He then said: If any one of them becomes fatigued, slaughter it, dip its shoes in its blood, and leave it for the people (to eat).
ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا “ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) sent a man of al-Aslam tribe and sent with him eighteen sacrificial camels (as offering to Makkah). What do you think if any one of them becomes fatigued. He replied : You should sacrifice it then dye its shoe with its blood, then mark with it on its neck. But you or any of your companions should not eat out of it.
Abu Dawud said: The following words of this tradition are not supported by any other tradition “You should not eat of it yourself nor any of your companions”.
The version of `Abdal Warith has the words “then hang it in its neck” instead of the words “mark or strike with it”. Abu Dawud said I heard Abu Salamah say if the chain of narrators and the meaning are correct, it is sufficient for you.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : «من أهل رفقتك» ” یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا : جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے ۔
Chapter 586: Regarding The Sacrificial Animal Being Unable To Continue Traveling Before Reaching Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلاَثِينَ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
When the Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed the camels, he sacrificed thirty of them with his own hand, and then commanded me (to sacrifice them), so I sacrificed the rest of them.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس ( ۳۰ ) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے ۔
The Prophet (ﷺ) said: The greatest day in Allah's sight is the day of sacrifice and next the day of resting which Isa said on the authority of Thawr is the second day. Five or six sacrificial camels were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and they began to draw near to see which he would sacrifice first. When they fell down dead, he said something in a low voice, which I could not catch. So I asked: What did he say? He was told that he had said: Anyone who wants can cut off a piece.
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
آپ نے فرمایا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ۱؎ “ ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں ، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے “ ۔
Chapter 586: Regarding The Sacrificial Animal Being Unable To Continue Traveling Before Reaching Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَزْدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ غَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ فَقَالَ " ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ " . فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - فَقَالَ لَهُ " خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ " . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلاَهَا ثُمَّ طَعَنَ بِهَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رضى الله عنه .
Narrated Arfah ibn al-Harith al-Kandi:
I was present with the Messenger of Allah (ﷺ) at the Farewell Pilgrimage. When the sacrificial camels were brought to him, he said: Call AbulHasan (Ali) to me. Ali was then called for and he (the Prophet) said to him: Catch hold of the lower end of the lance, and the Messenger of Allah (ﷺ) himself caught hold of the upper end. He then pierced the camels with it. When he finished slaughtering, he rode on his mule and mounted Ali behind him.
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوالحسن ( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ “ ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔
Chapter 587: How Could A Camel Be Sacrificed - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ بَارِكَةٌ فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
Ziyad bin Jubair said :
I was present with Ibn `Umar at Minah. He passed a man who was sacrificing his camel while it was sitting. He said make it stand and tie its leg ; thus follow the practice (sunnah) of Muhammad (SWAS).
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں
میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا : کھڑا کر کے ( بایاں پیر ) باندھ کر نحر کرو ، یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ۔
The Messenger of Allah (SWAS) commanded me to take charge of (his) sacrificial camels and to distribute the skins and saddle clothes (after sacrifice) as sadaqah. He commanded me not to give anything from it to the butcher. He said we used to give it (the wages) to the butcher ourselves.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا : اسے ہم اپنے پاس سے ( اجرت ) دیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لاِخْتِلاَفِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَوْجَبَ . فَقَالَ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجًّا فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالاً فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلاَّهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ . قَالَ سَعِيدٌ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلاَّهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
Sa'id ibn Jubayr said: I said to Abdullah ibn Abbas: AbulAbbas, I am surprised to see the difference of opinion amongst the companions of the Apostle (ﷺ) about the wearing of ihram by the Messenger of Allah (ﷺ) when he made it obligatory.
He replied: I am aware of it more than the people. The Messenger of Allah (ﷺ) performed only one hajj. Hence the people differed among themselves. The Messenger of Allah (ﷺ) came out (from Medina) with the intention of performing hajj. When he offered two rak'ahs of prayer in the mosque at Dhul-Hulayfah, he made it obligatory by wearing it.
At the same meeting, he raised his voice in the talbiyah for hajj, when he finished his two rak'ahs. Some people heard it and I retained it from him. He then rode (on the she-camel), and when it (the she-camel) stood up, with him on its back, he raised his voice in the talbiyah and some people heard it at that moment. This is because the people were coming in groups, so they heard him raising his voice calling the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and they thought that the Messenger of Allah (ﷺ) had raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back.
The Messenger of Allah (ﷺ) proceeded further; when he ascended the height of al-Bayda' he raised his voice in the talbiyah. Some people heard it at that moment. They thought that he had raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'. I swear by Allah, he raised his voice in the talbiyah at the place where he prayed, and he raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and he raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'.
Sa'id (ibn Jubayr) said; He who follows the view of Ibn Abbas raises his voice in talbiyah (and ihram) at the place of is prayer after he finishes two rak'ahs of his prayer.
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : ابوالعباس ! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا ؟ تو انہوں نے کہا : اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں ، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے ، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا ، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا ، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا ، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے ، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا : آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے ، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا ۔ سعید کہتے ہیں : جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ .
Ibn `Umar said this is your al-Baida’ about which you ascribe falsehood to the Messenger of Allah (SWAS). He did not raise his voice in talbiyah but from the masjid, i.e. the mosque of Dhu al-Hulaifah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ
یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا . قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فِإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ .
Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar:
AbuAbdurRahman, I saw you doing things which I did not see being done by your companions.
He asked: What are they, Ibn Jurayj? He replied: I saw you touching only the two Yamani corners; and I saw you wearing shoes having no hair; I saw you dyeing in yellow colour; and I saw you wearing ihram on the eighth of Dhul-Hijjah, whereas the people had worn ihram when they sighted the moon.
Abdullah ibn Umar replied: As regards the corners, I have not seen the Messenger of Allah (ﷺ) touching anything (in the Ka'bah) but the two Yamani corners. As for the tanned leather shoes, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing tanned leather shoes, and he would wear them after ablution. Therefore I like to wear them. As regards wearing yellow, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing yellow, so I like to wear with it. As regards shouting the talbiyah, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) raising his voice in talbiyah when his she-camel stood up with him on its back.
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ
انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے ؟ انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہیں ابن جریج ؟ وہ بولے : میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں ، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے ، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں ، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے ، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے ، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں ، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے ، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں ، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی ۔
Messenger of Allah (SWAS) prayed four rak’ahs at Madinah and prayed two rak’ahs of afternoon prayer at Dhu-al Hulaifah. He then passed the night at Dhu-al Hulaifah till the morning came. When he rode on his mount and it stood up on its back, he raised his voice in talbiyah.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی ، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا ۔
When the Prophet of Allah (peace be upon him0 undertook his journey by the way of al-Far', he shouted talbiyah when his mount stood up with him on its back. But when he travelled by the way of Uhud, he raised his voice in Talbiyah when he ascended the hill of al-Bayda'.
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرع کا راستہ ( جو مکہ کو جاتا ہے ) اختیار کرتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے ۔
Duba`ah, daughter of al-Zubair bin `Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah(SWAS) and said Messenger of Allah (SWAS) I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied : Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ( لگا سکتی ہو ) “ ، انہوں نے کہا : تو میں کیسے کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو ! «لبيك اللهم لبيك ، ومحلي من الأرض حيث حبستني» ” حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں ، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے “ ۔
We went out along with The Messenger of Allah (SWAS) when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said : Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform `Umrah should raise his voice in talbiyah for an `Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an `Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Ai’shah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah (SWAS) entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your `Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah (SWAS) commanded `Abd al-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Ka’bah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj.
Hisham said : No sacrificial animal was offered during all this time.
In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے ، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے “ ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا “ ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : ” رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے “ ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی ، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیوں رو رہی ہو ؟ “ ، میں نے عرض کیا : میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا عمرہ چھوڑ دو ، سر کھول لو اور کنگھی کر لو “ ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے : ” اور حج کا احرام باندھ لو “ ، اور سلیمان کی روایت میں ہے : ” اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں “ ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے ۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا ، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا ۔ ہشام کہتے ہیں : اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ .
Ai’shah wife the Prophet (SWAS) narrated we went out with the Messenger of Allah (SWAS) at the farewell pilgrimage. Some of us had put on Ihram for `Umrah and some both for Hajj and `Umrah, when the Messenger of Allah (SWAS) had put on Ihram for Hajj only.He who had put on Ihram for 'Umrah, put off Ihram after performing `Umrah and he who had worn Ihram both for Hajj and `Umrah or only for Hajj did not take it off till the tenth (of the month).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا ، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک احرام نہیں کھولا ۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Abu al-Aswad through a different chain of narrators. This version adds he who raises his voice in talbiyah for `Umrah (and wearing Ihram for it) should put off Ihram after performing `Umrah.
اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : ” رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے ( عمرہ کر کے ) احرام کھول دیا “ ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " . فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ " هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ " . قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرُوا طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ .
Ai’shah the wife of the Prophet (SWAS) said :
We went out with the Messenger of Allah (SWAS) at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Apostel of Allah (SWAS) said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Ka’bah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah (SWAS) he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let `Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah (SWAS) sent me along with `Abd al-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed `Umrah. He said, this is `Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for `Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Ka’bah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and `Umrah performed only one circumambulation.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے “ ، چنانچہ میں مکہ آئی ، میں حائضہ تھی ، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” اپنا سر کھول لو ، کنگھی کر لو ، حج کا احرام باندھ لو ، اور عمرے کو ترک کر دو “ ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا ، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا ، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا ، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ " . فَقُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ . فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَلِكَ شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ " . فَقَالَ " انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " . فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ " . قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ .
Ai’shah said :
We raised our voices in talbiyah for Hajj. When we reached Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah (SWAS) came upon me while I was weeping. He asked, why are your weeping, Ai’shah? I replied, I menstruated. Would that I had not come out for performing Hajj. He said : Glory be to Allah, this is a thing prescribed by Allah on the daughters of Adam. He said perform all the rites of Hajj but do not go round the House (the Ka’bah). When we entered Makkah, the Messenger of Allah (SWAS) said he who desires to make (his Hajj) an `Umrah may do so, except those who have sacrificial animals with them. The Messenger of Allah (SWAS) sacrificed a cow on behalf of his wives on the day of sacrifice. When the night of al-Batha came, and Ai’shah was purified she said to the Messenger of Allah (SWAS) my fellow female pilgrims will return after performing Hajj and `Umrah and I shall return after performing only Hajj? He therefore, ordered `Abd al-Rahman bin Abu Bakr who took her to al-Ta’nim. She uttered there talbiyah for `Umrah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی ، آپ نے پوچھا : ” عائشہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ “ ، میں نے کہا : مجھے حیض آ گیا کاش میں نے ( امسال ) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی ذات پاک ہے ، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے “ ، پھر فرمایا : ” تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ “ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی ۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يُحِلَّ فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ .
A’ishah said “We went out with the Messenger of Allah(ﷺ) and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Ka’bah). The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎ ، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے ۔
A’ishah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad(bin Yahya) said “ I think he(’Uthman bin ‘Umar) said and I would have taken off my ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah.
He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites(of Hajj)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا “ ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎ ۔
Jabir said “We went out along with the Messenger of Allah(ﷺ) raising our voices in talbiyah for Hakk alone(Ifrad) while A’ishah raised her voice in talbiyah for an ‘Umrah. When she reached Sarif, she menstruated. When we came to (Makkah) we circumambulated the Ka’bah and ran between al Safa’ and al Marwah. The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded us that those who had not brought sacrificial animals withthem should put off their ihram (after ‘Umrah). We asked “Which acts are lawful(and which not)? He replied All acts are lawful (that are permissible usually). We had therefore intercourse with our wives, used perfumes, put on our clothes. There remained only four days to perform Hajj at ‘Arafah. We then raised our voice in talbiyah (wearing Ihram for Hajj) on the eighth of Dhu al Hijjah. The Messenger of Allah(ﷺ) entered upon A’ishah and found her weeping. He said What is the matter with you? My problem is that I have menstruated, while the people have put on their ihram but I have not done so, nor did I go round the House(the Ka’bah). Now the people are proceeding for Hajj. He said This is a thing destined by Allah to the daughters of Adam. Take a bath, then raise your voice in talbiyah for Hajj(i.e, wear ihram for Hajj). She took a abtah and performed all the rites of the Hajj(lit. she stayed at all those places where the pilgrims stay). When she was purified, she circumambulated the House (the Ka’bah), and ran between al Safa’ and al Marwah. He (the Prophet) said “Now you have performed both your Hajj and your ‘Umrah. She said Messenger of Allah, I have some misgiving in my mind that I did not go round the Ka’bah when I performed Hajj (in the beginning). He said ‘Abd al Rahman (her brother), take her and have her perform ‘Umrah from Al Tan’im. This happened on the night of Al Hasbah(i.e., the fourteenth of Dhu Al Hijjah).
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں ، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں ، ہم نے کہا : کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز حلال ہے “ ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی ، خوشبو لگائی ، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں ، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا ، پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ ، وہ بولیں : مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں ، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو “ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں “ ، وہ بولیں : اللہ کے رسول ! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبدالرحمٰن ! انہیں لے جاؤ ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ “ ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version has The Prophet(ﷺ) said “Raise your voice in talbiyah for Hajj and then perform Hajj, and do so all the pilgrims do, except that you should not circumambulate the Hose(the Ka’bah) and should not pray.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے ، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» ” یعنی حج کا احرام باندھ لو “ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا “ ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ خَالِصًا لاَ يُخَالِطُهُ شَىْءٌ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَحِلَّ وَقَالَ " لَوْلاَ هَدْيِي لَحَلَلْتُ " . ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلْ هِيَ لِلأَبَدِ " . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي .
Jabir bin Abdullah said “We raised our voices in talbiyah along with the Apostle of Allaah(ﷺ) exclusively for Hajj, not combining anything with it. When we came to Makkah four days of Dhu al Hijjah had already passed. We the circumambulated (the Ka’bah) and ran between Al Safa’ and Al Marwah . The Apostle of Allaah(ﷺ) then commanded us to put off ihram. He said if I had not brought the sacrificial animals, I would have taken off Ihram. Suraqah bin Malik then stood up and said Apostle of Allaah , what do you think, have you provided this facility to us for this year alone or forever? The Apostle of Allaah said No, this forever and forever.
Al Awza’l said I heard Ata bin Abi Rabah narrating this tradition, but I did not memorize it till I met Ibn Juraij who confirmed it for me.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا ، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا ، سعی کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا : ” اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا “ ، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! یہ ہمارا متعہ ( حج کا متعہ ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نہیں ) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ اوزاعی کہتے ہیں : میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ " . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ قَدِمُوا فَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
Jabir said The Apostle of Allaah(ﷺ) and his companions came to Makkah on the fourth of Dhu Al Hijjah. When they circumambulated the Ka’bah and ran between al Safa’ and al Marwah the Apostle of Allaah(ﷺ) said Change this (Hajj) into ‘Umrah, except those who have brought the sacrificial animals with them. When the eighth of Dhul Al Hijjah came, they raised their voices in talbiyah for Hall. When the tenth of Dhul Al Hijjah came, they circumambulated the Ka’bah, but did not run between al Safa’ and Al Marwah.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد ( مکہ ) آئے ، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو “ ، پھر جب یوم الترویہ ( آٹھواں ذی الحجہ ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا ، جب یوم النحر ( دسواں ذی الحجہ ) ہوا تو وہ لوگ ( مکہ ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۱؎ ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، - يَعْنِي الْمُعَلِّمَ - عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْىٌ إِلاَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالُوا أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ " .
Jabir bin Abdullah said The Apostle of Allaah(ﷺ) and his companions raised their voices in talbiyah for Hajj. No one of them had brought the sacrificial animals with them except the Prophet(ﷺ) and Talhah. Ali (may Allaah be pleased with him) had returned from Yemen and had brought sacrificial animals with him. He said I raised my voice in talbiyah for which the Apostle of Allaah (ﷺ) raised his voice. The Prophet (ﷺ) commanded his companions to change it into ‘Umrah and clip their hair after running (between Al Safa’ and Al Marwah), and then take off their ihram except those who brought the sacrificial animals with them. They remarked should we go to Mina with our penises dripping with prostatic fluid? These remarks reached the Apostle of Allaah(ﷺ). Thereupon he said “had I known before hand about my affair what I have come to know later, I would not have brought sacrificial animals. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have put off my ihram. “
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا : میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو ، تو لوگوں نے عرض کیا : کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا : ” اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا “ ۔
Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying This is an ‘Umrah from which we have benefitted. Anyone who has brought sacrificial animal with him should take off ihram totally. ‘Umrah has been included in Hajj till the Day of Judgment.
Abu Dawud said This is a munkar (uncommon) tradition. This is in fact the statement of Ibn ‘Abbas himself.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ عمرہ ہے ، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے ، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ( مرفوع حدیث ) منکر ہے ، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎ ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ وَهِيَ عُمْرَةٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَطَاءٍ دَخَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ خَالِصًا فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمْرَةً .
Ibn ‘Abbas reported the Prophet(ﷺ) as saying If a man raises his voice in talbiya for Hajj, then he comes to Makkah, goes round the House(the Ka’bah) and runs between Al Safa’ and Al Marwah he may take off his ihram. That will be considered as ihram for ‘Umrah.
Abu Dawud said Ibn Juraij narrated from a man on the authority of ‘Ata that the companions of the Prophet (ﷺ) entered Makkah raising their voices in talbiyah for Hajj alone, but the Prophet (ﷺ) changed it to ‘Umrah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا : ” جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا ۔
The Prophet (ﷺ) raised his voice in talbiyah for hajj. When he came (to Mecca) he went round the House (the Ka'bah) and ran between as-Safa and al-Marwah. The narrator Ibn Shawkar said: He did not clip his hair, nor did he take off his ihram due to sacrificial animals. But he commanded those who did not bring sacrificial animals with them to go round the Ka'bah, to run between as-Safa and al-Marwah, to clip their hair, and then put off their ihram. The narrator Ibn Mani' added: Or shave their heads, then take off their ihram."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا ، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے ، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ .
Narrated Sa'id ibn al-Musayyab:
A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) came to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him). He bore witness before him that when he (the Prophet) was suffering from a disease of which he died he heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting performing of umrah before hajj.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ۔
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ، خَيْوَانَ بْنِ خَلْدَةَ مِمَّنْ قَرَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كَذَا وَكَذَا وَعَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالُوا أَمَّا هَذَا فَلاَ . فَقَالَ أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ .
Narrated Mu'awiyah ibn AbuSufyan:
Mu'awiyah said to the Companions of the Prophet (ﷺ): Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited from doing so and so (and he prohibited from) riding on the skins of leopards? They said: Yes.
He again said: You know that he prohibited combining hajj and umrah. They replied: This we do not (know). He said: This was prohibited along with other things, but you forgot.
ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ ( جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ) سے روایت ہے کہ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، پھر معاویہ نے پوچھا : تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قران ) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے ، تو انہوں نے کہا : یہ بھی انہی ( ممنوعات ) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎ ۔
Anas bin Malik said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) uttering talbiyah(labbaik) aloud for both Hajj and ‘Umrah. He was saying in a loud voice “Labbaik for ‘Umrah and Hajj, labbaik for ‘Umrah and Hajj”.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے : «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔
Anas said The Prophet(ﷺ) passed the night at Dhu al Hulaifah till the morning came. He then rode (on his she Camel) which stood up with him on her back. When he reached al Baida, he praied Allaah, glorified Him and expressed His greatness. He then raised his voice in talbiyah for Hajj and ‘Umrah. The people too raised their voices in talbiyah for both of them. When we came (to Makkah), he ordered the people to take off their ihram and they did so. When the eight of Dhu Al Hijjah came, they again raised their voices in talbiyah for Hajj (i.e., wore ihram for Hajj). The Apostle of Allaah(ﷺ) sacrificed seven Camels standing with his own hand.
Abu Dawud said The version narrated by Anas alone has the words. He began with the praise, glorification and exaltation of Allaah, then he raised his voice in talbiyah for Hajj.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید ، تسبیح اور تکبیر بیان کی ، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا ، پھر جب ہم لوگ ( مکہ ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ( احرام کھولنے کا ) حکم دیا ، انہوں نے احرام کھول دیا ، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله ، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْيَمَنِ قَالَ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ فَاطِمَةَ - رضى الله عنها - قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَقَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ مَا لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " كَيْفَ صَنَعْتَ " . فَقَالَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْىَ وَقَرَنْتُ " . قَالَ فَقَالَ لِي " انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْهَا بَضْعَةً " .
Narrated Al-Bara' ibn Azib:
I was with Ali (may Allah be pleased with him) when the Messenger of Allah (ﷺ) appointed him to be the governor of the Yemen. I collected some ounces of gold during my stay with him.
When Ali returned from the Yemen to the Messenger of Allah (ﷺ) he said: I found that Fatimah had put on coloured clothes and the smell of the perfume she had used was pervading the house. (He expressed his amazement at the use of coloured clothes and perfume.)
She said: What is wrong with you? The Messenger of Allah (ﷺ) has ordered his companions to put off their ihram and they did so.
Ali said: I said to her: I raised my voice in talbiyah for which the Prophet (ﷺ) raised his voice (i.e. I wore ihram for qiran). Then I came to the Prophet (ﷺ).
He asked (me): How did you do? I replied: I raised my voice in talbiyah, for which the Prophet (ﷺ) raised his voice. He said: I have brought the sacrificial animals with me and combined umrah and hajj. He said to me: Sacrifice sixty-seven or sixty-six camels (for me) and withhold for yourself thirty-three or thirty-four, and withhold a piece (of flesh) for me from every camel.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا ، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ ( وہاں ) کئی اوقیہ سونا ملا ، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے ، وہ کہنے لگیں : آپ کو کیا ہو گیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے ، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے فاطمہ سے کہا : میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا : ” تم نے کیا نیت کی ہے ؟ “ ، میں نے کہا : میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم سڑسٹھ ( ۶۷ ) ۱؎ یا چھیاسٹھ ( ۶۶ ) اونٹ ( میری طرف سے ) نحر کرو اور تینتیس ( ۳۳ ) یا چونتیس ( ۳۴ ) اپنے لیے روک لو ، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو “ ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ الصُّبَىُّ بْنُ مَعْبَدٍ أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا . فَقَالَ عُمَرُ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
As-Subayy ibn Ma'bad said: I raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. umrah and hajj). Thereupon Umar said: You were guided to the practice (sunnah) of your Prophet (ﷺ).
ابووائل کہتے ہیں کہ
صبی بن معبد سے کہا : میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی ۔
I was a Christian Bedouin; then I embraced Islam. I came to a man of my tribe, who was called Hudhaym ibn Thurmulah. I said to him. O brother, I am eager to wage war in the cause of Allah (i.e. jihad), and I find that both hajj and umrah are due from me. How can I combine them?
He said: Combine them and sacrifice the animal made easily available for you. I, therefore, raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. umrah and hajj). When I reached al-Udhayb, Salman ibn Rabi'ah and Zayd ibn Suhan met me while I was raising my voice in talbiyah for both of them.
One of them said to the other: This (man) does not have any more understanding than his camel. Thereupon it was as if a mountain fell on me.
I came to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) and said to him: Commander of the Faithful, I was a Christian Bedouin, and I have embraced Islam. I am eager to wage war in the cause of Allah (jihad), and I found that both hajj and umrah were due from me. I came to a man of my tribe who said to me: Combine both of them and sacrifice the animal easily available for you. I have raised my voice in talbiyah for both of them.
Umar thereupon said to me: You have been guided to the practice (sunnah) of your Prophet) (ﷺ).
ابووائل کہتے ہیں کہ
صبی بن معبد نے عرض کیا کہ میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا : ارے میاں ! میں جہاد کا حریص ہوں ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں ، تو میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں ، اس نے کہا : دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو ، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا ، پھر جب میں مقام عذیب پر آیا تو میری ملاقات سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو ، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان سے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میں ایک نصرانی بدو تھا ، میں نے اسلام قبول کیا ، میں جہاد کا خواہشمند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں ، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو ، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق ملی ۔
Umar bin Al Khattab heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say Someone came to me at night from Allaah the Exalted. The narrator said When he was staying at ‘Aqiq said Pray in his blessed valley. Then he said ‘Umrah has been included in Hajj.
Abu Dawud said Al Walid bin Musilm and ‘Umar bin Abd Al Wahid narrated in this version from Al Auza’I the words “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
Abu Dawud said Ali bin Al Mubarak has also narrated similarly from Yahya bin said Abi Kathir in this version “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے ) اور کہنے لگا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھو ، اور کہا : عمرہ حج میں شامل ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو ! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے ۔
Ar-Rabi' ibn Saburah said on the authority of his father (Saburah): We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) till we reached Usfan, Suraqah ibn Malik al-Mudlaji said to him: Messenger of Allah, explain to us like the people as if they were born today. He said: Allah, the Exalted, has included this umrah in your hajj. When you come (to Mecca), and he who goes round the House (the Ka'bah), and runs between as-Safa and al-Marwah, is allowed to take off ihram except he who has brought the sacrificial animals with him.
سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا : اللہ کے رسول ! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں ( بالکل واضح ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کر دیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آ جاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو “ ۔
Ibn ‘Abbas said that Mu’awiyah reported to him I clipped some hair of the Prophet’s(ﷺ) head with a broad iron arrowhead at Al Marwah; or (he said) I saw him that the hair of his head was clipped with a broad iron arrowhead at Al Marwah.
The narrator Ibn Khallad said in his version “Mu’awiyah said” and not the word “reported”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ، وہ کہتے ہیں : میں نے مروہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے ، ( یا یوں ہے ) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ۱؎ ۔
do you not know that I clipped the hair of the head of the Messenger of Allah (ﷺ) with a broad iron arrowhead at al-Marwah? Al-Hasan added in his version: "during his hajj."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے ۔ حسن کی روایت میں «لحجته» ( آپ کے حج میں ) ہے ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، { عَنْ جَدِّي، } عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ
" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لَهُ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ النَّاسُ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
‘Abd Allah bin Umar said At the Farewell Pilgrimage the Apostle of Allaah(ﷺ) put on ihram first for ‘Umrah and afterwards for Hajj and drove the sacrificial animals along with him from Dhu Al Hulaifah. The Apostle of Allaah(ﷺ) first raised his voice in talbiyah for ‘Umrah and afterwards he did so for Hajj; and the people along with the Apostle of Allaah(ﷺ) did it first for ‘Umrah and afterwards for Hajj. Some of the people had brought sacrificial animals and others had not, so when the Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah , he said to the people. Those of you who have brought sacrificial animals must not treat as lawful anything which has become unlawful for you till you complete your Hajj; but those of you who have not brought sacrificial animals should go round the House(Ka’bah) and run between Al Safa’ and Al Marwah, clip their hair, put off ihram, and afterwards raise their voice in talbiyah for Hajj and bring sacrificial animals. Those who cannot get sacrificial animals should fast three days during Hajj and seven days when they return to their families. The Apostle of Allaah(ﷺ) then performed circumambulation when he came to Makkah first touching the corner then running during three circuits out of seven and walking during four and when he had finished his circumambulation of the House (Ka’bah) he prayed two rak’ahs at Maqam Ibrahim, then giving the salutation and departing he went to Al Safa’ and ran seven times between Al Safa’ and Al Marwah. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful for him till he had completed his Hajj, sacrificed his animals on the day of sacrifice, went quickly and performed the circumambulation of the House(the Ka’bah), after which all that had been unlawful became lawful for him. Those people who had brought sacrificial animals did as the Apostle of Allaah(ﷺ) did.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے ، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا ( یعنی پہلے «لبيك بعمرة» کہا پھر «لبيك بحجة» کہا ) ۱؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے ، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا : ” تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لیے ( احرام کی وجہ سے ) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کر لے ، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہیئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے ، صفا و مروہ کی سعی کرے ، بال کتروائے اور حلال ہو جائے ، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ جائے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا ، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا ، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال ، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا و مروہ میں سات بار سعی کی ، پھر ( آپ کے لیے محرم ہونے کی وجہ سے ) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنا ہدی نحر کر دیا ، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔
Hafsah, wife of the Prophet (ﷺ) said Apostle of Allaah(ﷺ), how is it that the people have put off their ihram and you did not put off your ihram after your ‘Umrah. He said I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal, so I shall not put off my ihram till I sacrifice my sacrificial animals.
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں “ ۔
Abu Dharr used to say about a person who makes the intention of Hajj but he repeal it for the ‘Umrah (that will not be valid). This cancellation of hajj for ‘Umrah was specially meant for the people who accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ).
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ
ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے : یہ صرف اسی قافلہ کے لیے ( مخصوص ) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎ ۔
I asked: Messenger of Allah, is the (command of) cancelling hajj meant exclusively for us, or for others too? He replied: No, this is meant exclusively for you.
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے “ ۔
‘Abd Allah bin Abbas said Al Fadl bin Abbas was riding the Camel behind the Apostle of Allaah(ﷺ). A woman of the tribe of Khath’am came seeking his (the Prophet’s) decision (about a problem relating to Hajj). Al Fadl began to look at her and she too began to look at him. The Apostle of Allaah(ﷺ) would turn the face of Fadl to the other side. She said Apostle of Allaah(ﷺ) Allaah’s commandment that His servants should perform Hajj has come when my father is an old man and is unable to sit firmly on a Camel. May I perform Hajj on his behalf? He said yes, That was at the Farewell Pilgrimage.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر ( عائد کردہ ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں ، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا ۔
A man of Banu Amir said: Messenger of Allah, my father is very old, he cannot perform hajj and umrah himself nor can be ride on a mount. He said: Perform hajj and umrah on behalf of your father.
ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو “ ۔
The Prophet (ﷺ) heard a man say: Labbayk (always ready to obey) on behalf of Shubrumah. He asked: Who is Shubrumah? He replied: A brother or relative of mine. He asked: Have you performed hajj on your own behalf? He said: No. He said: perform hajj on your own behalf, then perform it on behalf of Shubrumah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا : «لبيك عن شبرمة» ” حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” شبرمہ کون ہے ؟ “ ، اس نے کہا : میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے اپنا حج کر لیا ہے ؟ “ ، اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے اپنا حج کرو پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا “ ۔
Ibn ‘Umar said Talbiyah uttered by the Apostle of Allaah(ﷺ) was Labbaik(always ready to obey), O Allaah labbaik, labbaik; Thou hast no partner, praise and grace are Thine, and the Dominion, Thou hast no partner. The narrator said ‘Abd Allaah bin ‘Umar used to add to his talbiyah Labbaik, labbaik, labbaik wa sa’daik(give me blessing after blessing) and good is Thy hands, desire and actions are directed towards Thee.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا : «لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك والملك ، لا شريك لك» ” حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، حمد و ستائش ، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل» ” حاضر ہوں تیری خدمت میں ، حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، نیک بختی حاصل کرتا ہوں ، خیر تیرے ہاتھ میں ہے ، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے “ ۔
Chapter 594: The Procedure Of The Talbiyah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ
" ذَا الْمَعَارِجِ " . وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلاَمِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ فَلاَ يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
The Messenger of Allah (ﷺ) raised his voice in talbiyah; he then mentioned the wordings of talbiyah like the tradition narrated by Ibn Umar. The people used to add the words dhal-ma'arij (the Possessor of ladders) and similar other words (to talbiyah) while the Prophet (ﷺ) heard them utter these words, but he did not say anything to them.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا : لوگ ( اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں ) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎ ۔
Chapter 594: The Procedure Of The Talbiyah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَتَانِي جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلاَلِ - أَوْ قَالَ - بِالتَّلْبِيَةِ " . يُرِيدُ أَحَدَهُمَا .
Narrated as-Sa'ib al-Ansari:
Khalid ibn as-Sa'ib al-Ansari on his father's authority reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Gabriel came to me and commanded me to order my Companions to raise their voices in talbiyah.
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں “ ۲؎ ۔
‘Abd Allah bin Umar said We proceeded along with the Apostle of Allaah(ﷺ) from Mina to ‘Arafat, some of us were uttering talbiyah and the others were shouting “Allaah is most great.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے ۔
The Prophet (ﷺ) said: A person who performs umrah should shout talbiyah till he touches the Black Stone.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman and Hammam from 'Ata on the authority of Ibn 'Abbas as his own statement (i.e. the tradition was not attributed to the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے ، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
Chapter 597: The One In Ihram Who Disciplines His Slave - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلْنَا فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحِدَةً مَعَ غُلاَمٍ لأَبِي بَكْرٍ فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ قَالَ أَيْنَ بَعِيرُكَ قَالَ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ . قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ قَالَ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَسَّمُ وَيَقُولُ " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ " . قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَنْ يَقُولَ " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ " . وَيَتَبَسَّمُ .
Narrated Asma' bint AbuBakr:
We came out for performing hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ). When we reached al-Araj, the Messenger of Allah (ﷺ) alighted and we also alighted. Aisha sat beside the Messenger of Allah (ﷺ) and I sat beside my father (AbuBakr). The equipment and personal effects of AbuBakr and of the Messenger of Allah (ﷺ) were placed with AbuBakr's slave on a camel. AbuBakr was sitting and waiting for his arrival. He arrived but he had no camel with him. He asked:
Where is your camel? He replied: I lost it last night. AbuBakr said: There was only one camel, even that you have lost. He then began to beat him while the Messenger of Allah (ﷺ) was smiling and saying: Look at this man who is in the sacred state (putting on ihram), what is he doing?
Ibn AbuRizmah said: The Messenger of Allah (ﷺ) spoke nothing except the words: Look at this man who is in the sacred state (wearing ihram), what is he doing? He was smiling (when he uttered these words).
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلے ، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، ہم بھی اترے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی ۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا ، انہوں نے پوچھا : تیرا اونٹ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا ، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ “ ( ابن ابی رزمہ نے کہا ) ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) when he was at al-Ji'ranah. He was wearing perfume or the mark of saffron was on him and he was wearing a tunic.
He said: Messenger of Allah, what do you command me to do while performing my Umrah. In the meantime, Allah, the Exalted, sent a revelation to the Prophet (ﷺ).
When he (the Prophet) came to himself gradually, he asked: Where is the man who asking about umrah? (When the man came) he (the Prophet) said: Wash the perfume which is on you, or he said: (Wash) the mark of saffron (the narrator is doubtful), take off the tunic, then do in your umrah as you do in your hajj.
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ جعرانہ میں تھے ، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا ، پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں ؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی ، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا : ” عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے ؟ “ فرمایا : ” خلوق کا نشان ، یا زردی کا نشان دھو ڈالو ، جبہ اتار دو ، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو “ ۔
This tradition has also been narrated by Ya’la bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Prophet (ﷺ) said to him “Take off your tunic”. He then took it off from his head. The narrator then narrated the rest of the tradition.
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا جبہ اتار دو “ ، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا ، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
This tradition has also been transmitted by Ya’la bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Apostle of Allaah(ﷺ) commanded him to take it off (the tunic) and to take a bath twice or thrice. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے
البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ” پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
It is narrated by Ya’la bin Umayyah that a man came to Prophet (ﷺ) at Ji’ranah, putting on ihram for ‘Umrah. He had a cloak on him and his beard and head had been dyed.
یعلیٰ بن امیہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا ، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے ، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی ۔
‘Abd Allaah bin Umar said A man asked the Apostle of Allaah(ﷺ) What clothing one should put on if one intend to put on ihram? He said He should not wear shirts, turbans, trousers, garments with head coverings and clothing which has any dye of waras or saffron; one should not put on shoes unless one cannot get sandals. If one cannot get sandals, one should wear the shoes, in which case one must cut them to come below the ankles.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : محرم کون سے کپڑے پہنے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہ کرتا پہنے ، نہ ٹوپی ، نہ پائجامہ ، نہ عمامہ ( پگڑی ) ، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ۱؎ یا زعفران لگا ہو ، اور نہ ہی موزے ، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں ، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے ، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۲؎ “ ۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Umar to the same effect. This version adds “A woman in the sacred state(while wearing ihram) should not be veiled or wear gloves.
Abu Dawud said This tradition has also been transmitted by Hatim bin Isma’il and Yahya bin Ayyub from Musa bin ‘Uqbah from ‘Nafi as reported by al Laith. This has also been narrated by Musa bin Tariq from Musa bin ‘Uqbah as a statement of Ibn ‘Umar(not of the Prophet). Similarly, this tradition has also been transmitted by ‘Ubaid Allah bin Umar, Malik and Ayyub as a statement of Ibn ‘Umar (not of the Prophet). Ibrahim bin Sa’id al Madini narrated this tradition from Nafi’ on the authority of Ibn ‘Umar from the Prophet (ﷺ) A woman in the sacred state (wearing ihram) must not be veiled or wear gloves.
Abu Dawud said Ibrahim bin Sa’id al Madini is a traditionist of Madina. Not many traditions have been narrated by him.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ
محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے ، اور موسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے ، اور اسے موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے ، اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے ، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ” محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں ، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں ۔
‘Abd Allaah bin Umar said that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting women in the sacred state (wearing ihram) to wear gloves, veil(their faces) and to wear clothes with dye of waras or saffron on them. But afterwards they can wear any kind of clothing they like dyed yellow or silk or jewelry or trousers or shirts or shoes.
Abu Dawud said ‘Abdah and Muhammad bin Ishaq narrated this tradition from Muhammad bin Ishaq up to the words “And to wear clothes with dye of waras or saffron on them”. They did not mention the words after them.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے ، نقاب اوڑھنے ، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا ، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے ، یا ریشمی کپڑے ، یا زیور ، یا پائجامہ ، یا قمیص ، یا کرتا ، یا موزہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے ۔
Nafi' said Ibn ‘Umar felt cold and said Throw a garment over me, ‘Nafi. I threw a hooded cloak over him. Thereupon he said Are you throwing this over me when the Apostle of Allaah(ﷺ) has forbidden those who are in sacred state to wear it?
نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا : نافع ! میرے اوپر کپڑا ڈال دو ، میں نے ان پر برنس ڈال دی ، تو انہوں نے کہا : تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
Ibn ‘Abbas said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say When one who is wearing ihram cannot get a lower garment(loin cloth) he may ear trousers and when he cannot get sandals he may wear shoes.
Abu Dawud said This is the tradition narrated by the narrators of Makkah. Its narrator from Basrah is Jabir bin Zaid. He mentioned only trousers and omitted the mention of cutting of the shoes.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں “ ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں ) ۔
Chapter 599: What The Muhrim Should Wear - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - حَدَّثَتْهَا قَالَتْ كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا فَيَرَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ يَنْهَاهَا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
We were proceeding to Mecca along with the Prophet (ﷺ). We pasted on our foreheads the perfume known as sukk at the time of wearing ihram. When one of us perspired, it (the perfume) came down on her face. The Prophet (ﷺ) saw it but did not forbid it.
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎ ۔
Salim ibn Abdullah said: Abdullah ibn Umar used to do so, that is to say, he would cut the shoes of a woman who put on ihram; then Safiyyah, daughter of AbuUbayd, reported to him that Aisha (may Allah be pleased with her) narrated to her that the Messenger of Allah (ﷺ) gave licence to women in respect of the shoes (i.e. women are not required to cut the shoes). He, therefore, abandoned it.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں
میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ۱؎ ، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے سلسلے میں عورتوں کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ۔
Al Bara’ (bin Azib) said When the Apostle of Allaah(ﷺ) concluded the treaty with the people of Al Hudaibiyyah, they stipulated that they (the Muslims) would not enter (Makkah) except with the bag of armament (julban al-silah). I asked what is julban al-silah? He replied:
The bag with its contents.
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا : «جلبان السلاح» کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو ۔
Riders would pass us when we accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) while we were in the sacred state (wearing ihram). When they came by us, one of us would let down her outer garment from her head over her face, and when they had passed on, we would uncover our faces.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے ، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، حَدَّثَتْهُ قَالَتْ، حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلاَلاً وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ لِيَسْتُرَهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ .
Umm al Hussain said We performed the Farewell Pilgrimage along with the Prophet(ﷺ) . I saw Usamah and Bilal one of them holding the halter of the she-Camel of the Prophet(ﷺ), while the other raising his garment and sheltering from the heat till he had thrown pebbles at the jamrah of the ‘Aqabah.
ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے ، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کر سکیں ۱؎ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped on the surface of his foot because of a pain in it while he was in the sacred state (wearing ihram).
Abu Dawud said: I heard Ahmad say: "Ibn Abi 'Arubah narrated it in Mursal form". Meaning from Qatadah.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا ، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ - قَالَ سُفْيَانُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ - مَا يَصْنَعُ بِهِمَا قَالَ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ - رضى الله عنه - يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Nubaih bin Wahb said ‘Umar bin ‘Ubaid Allah bin Ma’mar had a complaint in his eyes. He sent (someone) to Aban bin ‘Uthman - the narrator Sufyan said that he was the chief of pilgrims during the season of Hajj – asking him what he should do with them. He said Apply aloes to them, for I heard ‘Uthaman narrating this on the authority of the Apostle of Allaah(ﷺ).
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ
عمر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس ( پوچھنے کے لیے اپنا آدمی ) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں ؟ ( سفیان کہتے ہیں : ابان ان دونوں حج کے امیر تھے ) تو انہوں نے کہا : ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو ، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے ۔
‘Abd Allah bin Hunain said ‘Abd Allah bin Abbas and Miswar bin Makhramah differed amongst themselves (on the question of washing the head in the sacred state) at al Abwa. ‘Ibn Abbas said A pilgrim in the sacred state (while wearing ihram) can wash his head. Al Miswar said A pilgrim in the sacred state(wearing ihram) cannot wash his head. ‘Abd Allah bin Abbas then sent him (‘Abd Allah bin Hunain) to Abu Ayyub Al Ansari. He found him taking a bath between two woods erected at the edge of the well and he was hiding himself with a cloth (curtain). He (the narrator) said I saluted him. He asked Who is this? I said I am ‘Abd Allah bin Hunain. ‘Abd Allah bin Abbas has sent me to you asking you how the Apostle of Allaah(ﷺ) used to wash his head while he was wearing ihram. Abu Ayyub then put his hand on the cloth and removed it till his head appeared to me. He then said to a person who was pouring water on him:
Pour water. He poured water on his head and Abu Ayyub moved his head with his hands. He carried his hands forward and backward.
He then said I saw him doing similarly.
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : محرم سر دھو سکتا ہے ، مسور نے کہا : محرم سر نہیں دھو سکتا ، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ( ابن حنین کو ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا ، ابن حنین کہتے ہیں : میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : میں عبداللہ بن حنین ہوں ، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے ؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا ، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا ، کہا : پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا ، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا ، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔
Nubaih bin Wahb brother of Banu Abd Al Dar said ‘Umar bin Ubaid Allah sent someone to Aban bin Uthman bin Affan asking him (to participate in the marriage ceremony). Aban in those days was the chief of the pilgrims and both were in the sacred state (wearing ihram). I want to give the daughter of Shaibah bin Jubair to Talhah bin Umar in marriage. I wish that you may attend it. Aban refused and said I heard my father ‘Uthman bin Affan narrating a tradition from the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying A pilgrim may not marry and give someone in marriage in the sacred state(while wearing ihram).
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ
عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا ، ابان اس وقت امیر الحج تھے ، وہ دونوں محرم تھے ، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں ، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو ، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Aban bin ‘Uthman on the authority of ‘Uthman from the Apostle of Allaah(ﷺ) in a similar manner. This version adds “And he should not make a betrothal”
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» ( نہ شادی کا پیغام دے ) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎ ۔
Sa’id bin Al Musayyib said There is a misunderstanding on the part of Ibn ‘Abbas about the marriage (of the Prophet) with Maimunah while he was in the sacred state.
سعید بن مسیب کہتے ہیں
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) حالت احرام میں نکاح کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے ۔
Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) was asked as to which of the creatures could be killed by a pilgrim in the sacred state. He said there are five creatures which it is not a sin for anyone to kill, outside or inside the sacred area. The Scorpion, the Crow, the Rat, the Kite and the biting Dog.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں : بچھو ، چوہیا ، چیل ، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا “ ۔
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying There are five(creatures) the killing of which is lawful in the sacred territory. The Snake, the Scorpion, the Kite, the Rat and the biting Dog.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے : سانپ ، بچھو ، کوا ، چیل ، چوہیا ، اور کاٹ کھانے والا کتا “ ۔
The Prophet (ﷺ) was asked which of the creatures a pilgrim in sacred state could kill. He replied: The snake, the scorpion, the rat; he should drive away the pied crow, but should not kill it; the biting dog, the kite, and any wild animal which attacks (man).
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” سانپ ، بچھو ، چوہیا کو ( مار سکتا ہے ) اور کوے کو بھگا دے ، اسے مارے نہیں ، اور کاٹ کھانے والے کتے ، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو ( مار سکتا ہے ) “ ۔
Abdullah ibn al-Harith reported on the authority of his father al-Harith:
(My father) al-Harith was the governor of at-Ta'if under the caliph Uthman. He prepared food for Uthman which contained birds and the flesh of wild ass. He sent it to Ali (may Allah be pleased with him). When the Messenger came to him he was beating leaves for camels and shaking them off with his hand. He said to him: Eat it. He replied: Give it to the people who are not in sacred state; we are wearing ihram. I adjure the people of Ashja' who are present here. Do you know that a man presented a wild ass to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was in ihram? But he refused to eat from it. They said: Yes.
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ( حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے ) وہ کہتے ہیں
حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا ، اس میں چکور ۱؎ ، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا ، وہ کہتے ہیں : انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں ، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا : کھاؤ ، تو وہ کہنے لگے : لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں ( احرام نہ باندھے ہوں ) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا : میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ۲؎ ۔
Ibn ‘Abbas said Zaid bin ‘Arqam do you know that the limb of a game was presented to the Apostle of Allaah(ﷺ) but he did not accept it. He said “We are wearing ihram”. He replied, Yes.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا : زید بن ارقم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا ، اور فرمایا : ” ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : ہاں ( معلوم ہے ) ۔
Chapter 608: The Meat Of Game For The Muhrim - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ - عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلاَلٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The game of the land is lawful for you (when you are wearing ihram) as long as you do not hunt it or have it hunted on your behalf.
Abu Dawud said: When two traditions from the Prophet (ﷺ) conflict, one should see which of them was followed by his Companions.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے ۔
Chapter 608: The Meat Of Game For The Muhrim - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ قَالَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ
" إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى " .
Abu Qatadah said that he accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ) and he stayed behind on the way to Makkah with some of his companions who were wearing ihram, although he was not. When he saw a wild ass he mounted his horse and asked them to hand him his whip, but they refused. He then asked them to hand him his lance. When they refused, he took it, chased the while ass and killed it. Some of the Companions of the Apostle of Allaah(ﷺ) ate it and some refused (to eat). When they met the Apostle of Allaah(ﷺ) they asked him about it. He said that was the food that Allaah provided you for eating.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے ، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا ، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا ، انہوں نے انکار کیا ، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا ، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا ، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا “ ۔
Abu Hurairah said, We found a swarm of Locusts. A man who was wearing ihram began to strike it with his whip. He was told that his action was not valid. The fact was mentioned to the Prophet (ﷺ); He said “That is counted along with the game of the sea.”
I heard Abu Dawud say “The narrator Abu Al Muhzim is weak. Both these traditions are based on misunderstanding.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا ، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا ، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ " قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
Ka’ab bin ‘Ujrah said that the Apostle of Allaah(ﷺ) came upon him (during their stay) at Al Hudaibiyyah. He asked do the insects of your head (lice) annoy you? He said Yes. The Prophet (ﷺ) said Shave your head, then sacrifice a sheep as offering or fast three days or give three sa’s of dates to six poor people.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے ؟ “ کہا : ہاں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سر منڈوا دو ، پھر ایک بکری ذبح کرو ، یا تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎ “ ۔
Ka’ab bin ‘Ujrah said that the Apostle of Allaah(ﷺ) said to him, If you like sacrifice an animal or if you like fast three days or if you like give three sa’s of dates to six poor people.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو ، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came upon him (during their stay) at al-Hudaybiyyah. He then narrated the rest of the tradition. This version adds: "He asked: Do you have a sacrificial animal? He replied: No. He then said: Fast three days or give three sa's of dates to six poor people, giving one sa' to every two persons."
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے ، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تو تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے “ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً .
A man from the Ansar said on the authority of Ka'b ibn Ujrah that he was feeling pain in his head (due to lice); so he shaved his head. The Prophet (ﷺ) ordered him to sacrifice a cow as offering.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
( اور انہیں سر میں ( جوؤوں کی وجہ سے ) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا ۔
Ka’b bin ‘Ujrah said I had lice in my head when I accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Al Hudaibiyyah so much so that I feared about my eyesight. So Allaah, the exalted revealed these verses about me. “And whoever among you is sick or hath an aliment of the head.” The Apostle of Allaah(ﷺ) called me and said “Shave your head and fast three days or give a faraq of raisins to six poor men or sacrifice a goat. So, I shaved my head and sacrificed.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : ” تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو “ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی ۔
It was reported from 'Abdul-Karim bin Malik Al-Jazari, from 'Abdur-Rahman bin Abi Laila, from Ka'b bin Ujrah, regarding this incident (as narrated in on previous hadith), and he added:
"Whichever of these you do, it will suffice."
اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» ” اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے “ ۔
Al Hajjaj bin ‘Amr Al Ansari reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ If anyone breaks (a bone or leg) or becomes lame, he has come out of the sacred state and must perform Hajj the following year.” ‘Ikrimah said I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah about this. They replied He spoke the truth.
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے ، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا ، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎ “ ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا : انہوں نے سچ کہا ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks (a leg) or becomes lame or falls ill. He then narrated the tradition to the same effect. The narrator Salamah ibn Shabib said: Ma'mar narrated (this tradition) to us.
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے ۔
I came out to perform umrah in the year when the people of Syria besieged Ibn az-Zubayr at Mecca. Some people of my tribe sent sacrificial animals with me as an offering. When we reached the people of Syria, they stopped us from entering the sacred territory. I, therefore, sacrificed the animals at the same spot. I then took off ihram and returned.
Next year I came out to make an atonement for my umrah. I came to Ibn Abbas and asked him (about it). He said: Bring a new sacrificial animal, for the Messenger of Allah (ﷺ) ordered his companions to bring fresh sacrificial animals for the umrah of atonement in lieu of the animals they had sacrificed in the year of al-Hudaybiyyah.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ
میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے ، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا ، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا ، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا ، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَعَلَهُ .
Nafi’ said It was Ibn ‘Umar’s habit that whenever he came to Makkah he spent the night at Dhu Tuwa in the morning he would take a bath and enter Makkah in the daytime. He used to say the Prophet (ﷺ) had done so.
نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے ، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ، حَنْبَلٍ عَنْ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا - قَالاَ عَنْ يَحْيَى إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ - وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى . زَادَ الْبَرْمَكِيُّ يَعْنِي ثَنِيَّتَىْ مَكَّةَ وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ .
Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) used to enter Makkah from the upper hillock. The version of Yahya goes:
The Prophet (ﷺ) used to enter Makkah from Kuda’ from the hillock of Batha’. He would come out from the lower hillock.
Al Barmaki added “that is the two hillocks of Makkah”.
The version of Musaddad is more complete.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا ( بلند گھاٹی ) سے داخل ہوتے ، ( یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے ) اور ثنیہ سفلی ( نشیبی گھاٹی ) سے نکلتے ۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ .
Ibn ‘Umar said The Messenger of Allah (ﷺ) used to come out from (Medina) by the way of Al Shajarah and enter (Makkah) by the way of Al Mu’arras.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى قَالَ وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ .
A’ishah said The Apostle of Allaah (ﷺ) entered Makkah from the side of Kuda’ the upper end of Makkah in the year of conquest (of Makkah) and he entered from the side of Kida’ when he performed ‘Umrah. ‘Urwah used to enter (Makkah) from both sides, but he often entered from the side of Kuda’ as it was nearer to his house.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے ، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔
was asked about a man who looks at the House (the Ka'bah) and raises his hands (for prayer). He replied: I did not find anyone doing this except the Jews. We performed hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ), but he did not do so.
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا : میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا ، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 613: Raising One's Hand When Seeing The House - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ يَعْنِي يَوْمَ الْفَتْحِ .
Abu Hurairah said When the Prophet(ﷺ) entered Makkah he circumambulated the House(the Ka’bah) and offered two rak’ahs of prayer behind the station. That is, he did so on the day of the Conquest (of Makkah).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ( یعنی فتح مکہ کے روز ) ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came an entered Mecca, and after the Messenger of Allah (ﷺ) had gone forward to the Stone, and touched it, he went round the House (the Ka'bah). He then went to as-Safa and mounted it so that he could look at the House. Then he raised his hands began to make mention of Allah as much as he wished and make supplication. The narrator said: The Ansar were beneath him. The narrator Hashim said: He prayed and praised Allah and asked Him for what he wished to ask.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا ، راوی کہتے ہیں : اور انصار آپ کے نیچے تھے ، ہاشم کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی ۔
Abis bin Rabi’ah said on the authority of ‘Umar He(‘Umar) came to the (Black) Stone and said “ I know for sure that you are a stone which can neither benefit nor injure and had I not seen the Apostle of Allaah(ﷺ) kissing you, I would not have kissed you.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما ، اور کہا : میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎ ۔
Chapter 615: Touching The Other Corners - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ، عَائِشَةَ رضى الله عنها إِنَّ الْحَجَرَ بَعْضُهُ مِنَ الْبَيْتِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلاَمَهُمَا إِلاَّ أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ وَلاَ طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلاَّ لِذَلِكَ .
Ibn Umar was informed about the statement of Aisha that a part of al-Hijr is included in the magnitude of the Ka'bah. Ibn Umar said:
By Allah, I think that she must have heard it from the Messenger of Allah (ﷺ). I think that the Messenger of Allah (ﷺ) had not given up touching both of them but for the reason that they were not on the foundation of the House (the Ka'bah), nor did the people circumambulate (the House) beyond al-Hijr for this reason.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا ، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رکن عراقی اور رکن شامی ) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے ۔
Ibn ‘Umar said The Apostle of Allaah(ﷺ) did not give up touching the Yamani corner and the (Black) Stone in each of his circumambulations. Ibn ‘Umar used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) performed the circumambulation at the Farewell Pilgrimage on a Camel and touched the corner(Black Stone) with a crooked stick.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) had some rest at Mecca in the year of its Conquest, he performed circumambulation on a camel and touched the corner (black Stone) with a crooked stick in his hand. She said: I was looking at him.
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی ۔
Abu Al Tufail reported on the authority of Ibn ‘Abbas who said I saw the Prophet (ﷺ) circumambulating the Ka’bah on his Camel, touching the corner (Black Stone) with a crooked stick and kissing it (the crooked stick). The narrator Muhammad bin Rafi’ added “he then went o Al Safa and Al Marwah and ran seven times on his Camel.
ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے ، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے ۔
Jabir bin ‘Abd Allah said The Prophet(ﷺ) performed the circumambulation of the House(the Ka’bah) on his Camel at the Farewell Pilgrimage and ran between Al Safa’ and Al Marwah, so that the people could see him, remain well informed about him and ask him questions(about Hajj) for the people surrounded him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں ، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اور آپ سے پوچھ سکیں ، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا ۔
Ibn ‘Abbas said When the Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah he was ill. So, he performed the circumambulation on his Camel. He touched the corner (Black Stone) with a crooked stick as often as he came to it. When he finished the circumambulation, he made his Camel kneel down and offered two rak’ahs of prayer.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے ، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور ( طواف کی ) دو رکعتیں پڑھیں ۔
Chapter 616: Regarding The Obligatory Tawaf - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
Umm Salamah said I complained to the Apostle of Allaah(ﷺ) that I was ill. He said “Perform the circumambulation riding behind the people”. She said “I performed circumambulation and the Apostle of Allaah(ﷺ) was praying towards the side of the House(the Ka’bah) and reciting “by al Tur and a Book inscribed”.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎ “ ، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions performed umrah from al-Ji'ranah. They went quickly round the House (the Ka'bah) moving their shoulders) proudly. They put their upper garments under their armpits and threw the ends over their left shoulders.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ . قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ . فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَاِمِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ
" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا " . وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ . قُلْتُ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لاَ يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلاَمَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلاَ تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ .
Abu Al Tufail said I said to Ibn ‘Abbas Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly with swift strides while going round the Ka’bah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part).” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly while going round the Ka’bah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Apostle of Allaah(ﷺ) said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Ka’bah in first three circuits. (Ibn ‘Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah.” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Apostle of Allaah(ﷺ) and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him.
ابوطفیل کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے ، انہوں نے کہا : لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی ، میں نے دریافت کیا : لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط ؟ فرمایا : انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے ( واقعہ یہ ہے ) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے ، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” تین پھیروں میں رمل کرو “ ، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎ ، میں نے کہا : آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے ، وہ بولے : انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی ، میں نے دریافت کیا : کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ ؟ وہ بولے : یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے ، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں ۔
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah while the fever of Yathrib (Medina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Medina are coming to you.” Allaah, the exalted, informed the Prophet (ﷺ) of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us.”
Ibn ‘Abbas said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا ، تو مشرکین نے کہا : تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے ، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا ، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ ( طواف کعبہ کے ) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں ، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے : یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے ، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎ ۔
I heard Umar ibn al-Khattab say: What is the need of walking proudly (ramal) and moving the shoulders (while going round the Ka'bah)? Allah has now strengthened Islam and obliterated disbelief and the infidels. In spite of that we shall not forsake anything that we used to do during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).
اسلم کہتے ہیں کہ
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے ، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Going round the House (the Ka'bah), running between as-Safa and lapidation of the pillars are meant for the remembrance of Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا ، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) wore the mantle under his right armpit with the end over his left shoulder, and touched the corner (Black Stone), then uttered "Allah is most great" and walked proudly in three circuits of circumambulation. When they (the Companions) reached the Yamani corner, and disappeared from the eyes of the Quraysh, they walked as usual; When they appeared before them, they walked proudly with rapid strides. Thereupon the Quraysh said: They look to be the deer (that are jumping). Ibn Abbas said: Hence this became the sunnah (model behaviour of the Prophet).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا ، پھر استلام کیا ، اور تکبیر بلند کی ، پھر تین پھیروں میں رمل کیا ، جب لوگ ( یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے ، قریش کہتے تھے : گویا یہ ہرن ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو یہ فعل سنت ہو گیا ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions performed umrah from al-Ji'ranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Ka'bah) in three circuits and walked as usual in four circuits.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی ۔
Chapter 618: Ar-Raml (Walking Briskly During Tawaf) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ ذَلِكَ .
Nafi’ said Ibn ‘Umar walked proudly (ramal) from the corner (Black Stone) to the corner (Black Stone) and mentioned that the Apostle of Allaah (ﷺ) had done so.
نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ : ۹۶ ) کہتے سنا ، ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ، اور آخرت میں بھی ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔
Ibn ‘Umar said When the Apostle of Allaah(ﷺ) observed the circumambulation at hajj and ‘Umrah on his arrival, he ran three circuits and walked four, then he made two prostrations.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے ، پھر دو رکعتیں پڑھتے ۔
Chapter 620: Performing Tawaf After Asr - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَىَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . قَالَ الْفَضْلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا " .
Narrated Jubayr ibn Mut'im:
The Prophet (ﷺ) said: Do not prevent anyone from going round this House (the Ka'bah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Ya'qub) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گھر ( کعبہ ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو ، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو “ ۔ فضل کی روایت کے میں ہے : «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! کسی کو مت روکو “ ۔
Chapter 621: The Tawaf For The One Performing Qiran - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا
" طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ . وَرُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها .
‘Ata said The Prophet (ﷺ) said to A’ishah Your observance of circumambulation of the Ka’bah and your running between Al Safa’ and al Marwah (only once) are sufficient for your Hajj and your ‘Umrah.
Al Shafi’i said The narrator Sufyan has transmitted this tradition from ‘Ata on the authority of A’ishah and also narrated it on the authority of ‘Ata stating that the Prophet (ﷺ) said to A’ishah(may Allah be pleased with her).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے “ ۔ شافعی کہتے ہیں : سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قُلْتُ لأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي - وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ - فَلأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسْطَهُمْ .
Narrated AbdurRahman ibn Safwan:
When the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Mecca, I said (to myself): I shall put on my clothes, and my house lay on the way, I shall watch how the Messenger of Allah (ﷺ) behaves. So I went out. I saw that the Prophet (ﷺ) and his Companions had come out from the Ka'bah and embraced the House (the Ka'bah) from its entrance (al-Bab) to al-Hatim. They placed their cheek on the House (the Ka'bah) while the Messenger of Allah (ﷺ) was amongst them.
عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا : میں اپنے کپڑے پہنوں گا ( میرا گھر راستے میں تھا ) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں ، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں ، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں ۔
Amr b. Shu'aib reported on the authority of his father:
I went round the Ka'bah along with Abdullah ibn Amr. When we came behind the Ka'bah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Ka'bah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the apostle of Allah (ﷺ) doing like this.
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا ، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا : کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے ؟ اس پر انہوں نے کہا : ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے ، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا ، پھر بولے : اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔
Abdullah ibn as-Sa'ib reported on the authority of his father as-Sa'ib that he used to lead Ibn Abbas (when he become blind) and make him stand in the third corner that was adjacent to the corner (Black Stone) near the entrance of the Ka'bah. Ibn Abbas used to say:
Has it been reported to you that the Messenger of Allah (ﷺ) would pray in this place. He would reply: Yes. He then used to stand (there) and pray.
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ
وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے ( جب ان کی بینائی ختم ہو گئی ) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے ؟ وہ کہتے : ہاں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے ۔
‘Urwa bin Al Zubair said I said to A’ishah, wife of the Prophet(ﷺ) while I was a boy. What do you think about the pronouncement of Allaah, the Exalted “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah. “I think there is no harm for anyone if he does not run between them. A’ishah(may Allah be pleased with her) said Nay, had it been so as you said, it would have been thus. It is no sin on him not to go around them. This verse was revealed about the Ansaar, they used to perform hajj for Manat. Manat was erected in front of Qudaid. Hence they used to avoid going around Al Safa and Al Marwah. When Islam came, they asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about it. Allaah, the Exalted therefore revealed the verse “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا : مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : ” ہرگز نہیں ، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ” تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں “ ہوتا ، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری ، وہ مناۃ ( یعنی زمانہ جاہلیت کا بت ) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا ، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے ، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎ “ ۔
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ .
‘Abd Allaah bin Abi Aufa said the Apostle of Allaah(ﷺ) performed ‘Umrah and went round the House(the Ka’bah) and prayed behind the station (Maqam Ibrahim) two rak’ahs and he was accompanied by so many people that he was hidden by them. ‘Abd Allaah bin Abi Aufa was asked Did the Apostle of Allaah(ﷺ) enter the Ka’bah ? He replied “No”.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی ، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے ، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔
Isma’il bin Abi Khalid said I heard ‘Abd Allaah bin Abi Aufa narrated this tradition. His version added “He then came to Al Safa’ and Al Marwah and ran between them seven times and then shaved his head.
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی ، پھر اپنا سر منڈایا ۔
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ قَالَ إِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي وَإِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ .
Kathir ibn Jamhan said:
A man asked Abdullah ibn Umar between as-Safa and al-Marwah: AbdurRahman, I see you walking while the people are running (between as-Safa and al-Marwah)? He replied: If I walk, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) running. I am too old.
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ
صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میں آپ کو ( عام چال چلتے ) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی ( دوڑتے ) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں ۔
Ja’far bin Muhammad reported on the authority of his father “We entered upon Jabir bin ‘Abd Allaah. When we reached him, he asked about the people (who had come to visit him). When my turn came I said “I am Muhammad bin Ali bin Hussain. He patted my head with his hand and undid my upper then lower buttons. He then placed his hand between my nipples and in those days I was a young boy.” He then said “welcome to you my nephew, ask what you like. I questioned him he was blind. The time of prayer came and he stood wrapped in a mantle. Whenever he placed it on his shoulders its ends fell due to its shortness. He led us in prayer while his mantle was placed on a rack by his side. I said “tell me about the Hajj of the Apostle of Allaah(ﷺ).”He signed with his hand and folded his fingers indicating nine. He then said Apostle of Allaah(ﷺ) remained nine years (at Madeenah ) during which he did not perform Hajj, then made a public announcement in the tenth year to the effect that the Apostle of Allaah(ﷺ) was about to (go to) perform Hajj. A large number of people came to Madeenah everyone desiring to follow him and act like him. The Apostle of Allaah(ﷺ) went out and we too went out with him till we reached Dhu Al Hulaifah. Asma’ daughter of ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent message to Apostle of Allaah(ﷺ) asking him What should I do?He replied “take a bath, bandage your private parts with a cloth and put on ihram.” The Apostle of Allaah(ﷺ) then prayed (in the masjid) and mounted Al Qaswa’ and his she Camel stood erect with him on its back. Jabir said “I saw (a large number of) people on mounts and on foot in front of him and a similar number on his right side and a similar number on his left side and a similar number behind him. The Apostle of Allaah(ﷺ) was among us, the Qur’an was being revealed to him and he knew its interpretation. Whatever he did, we did it. The Apostle of Allaah(ﷺ) then raised his voice declaring Allaah’s unity and saying “Labbaik ( I am at thy service), O Allaah, labbaik, labbaik, Thou hast no partner praise and grace are Thine and the Dominion. Thou hast no partner. The people too raised their voices in talbiyah which they used to utter. But the Apostle of Allaah(ﷺ) did not forbid them anything. The Apostle of Allaah(ﷺ) continued his talbiyah. Jabir said “We did not express our intention of performing anything but Hajj, being unaware of ‘Umrah (at that season), but when we came with him to the House (the Ka’bah), he touched the corner (and made seven circuits) walking quickly with pride in three of them and walking ordinarily in four. Then going forward to the station of Abraham he recited “And take the station of Abraham as a place of prayer.” (While praying two rak’ahs) he kept the station between him and the House. The narrator said My father said that Ibn Nufail and ‘Uthman said I do not know that he (Jabir) narrated it from anyone except the Prophet (ﷺ). The narrator Sulaiman said I do not know but he (Jabir) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) used to recite in the two rak’ahs “Say, He is Allaah, one” and “Say O infidels”. He then returned to the House (the ka’bah) and touched the corner after which he went out by the gate to Al Safa’. When he reached near Al Safa’ he recited “Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah” and he added “We begin with what Allaah began with”. He then began with Al Safa’ and mounting it till he could see the House (the Ka’bah) he declared the greatness of Allaah and proclaimed his Unity. He then said “there is no god but Allaah alone, Who alone has fulfilled His promise, helped His servant and routed the confederates. He then made supplication in the course of that saying such words three times. He then descended and walked towards Al Marwah and when his feet came down into the bottom of the valley, he ran, and when he began to ascend he walked till he reached Al Marwah. He did at al Marwah as he had done at Al Safa’ and when he came to Al Marwah for the last time, he said “If I had known before what I have come to know afterwards regarding this matter of mine, I would not have brought sacrificial animals but made it an ‘Umrah, so if any of you has no sacrificial animals, he may take off ihram and treat it as an ‘Umrah. All the people then took off ihram and clipped their hair except the Prophet (ﷺ) and those who had brought sacrificial animals. Suraqah (bin Malik) bin Ju’sham then got up and asked Apostle of Allaah(ﷺ)does this apply to the present year or does it apply for ever? The Apostle of Allaah(ﷺ) interwined his fingers and said “The ‘Umarh has been incorporated in Hajj. Adding ‘No’, but forever and ever. ‘Ali came from Yemen with the sacrificial animals of the Apostle of Allaah(ﷺ) and found Fathima among one of those who had taken off their ihram. She said put on colored clothes and stained her eyes with collyrium. ‘Ali disliked (this action of her) and asked Who commanded you for this? She said “My father”. Jabir said ‘Ali said at Iraq I went to Apostle of Allaah(ﷺ) to complain against Fathima for what she had done and to ask the opinion of Apostle of Allaah(ﷺ) about which she mentioned to me. I informed him that I disliked her action and that thereupon she said to me “My father commanded me to do this.” He said “She spoke the truth, she spoke the truth.” What did you say when you put on ihram for Hajj? I said O Allaah, I put on ihram for the same purpose for which Apostle of Allaah(ﷺ) has put it on. He said I have sacrificial animals with me, so do not take off ihram. He (Jabir) said “The total of those sacrificial animals brought by ‘Ali from Yemen and of those brought by the Prophet (ﷺ) from Madeenah was one hundred.” Then all the people except the Prophet (ﷺ) and those who had with them the sacrificial animals took off ihram and clipped their hair. When the 8th of Dhu Al Hijjah (Yaum Al Tarwiyah) came, they went towards Mina having pit on ihram for Hajj and the Apostle of Allaah(ﷺ) rode and prayed at Mina the noon, afternoon, sunset, night and dawn prayers. After that he waited a little till the sun rose and gave orders for a tent of hair to be set up at Namrah. The Apostle of Allaah(ﷺ) then sent out and the Quraish did not doubt that he would halt at Al Mash ‘ar Al Haram at Al Muzdalifah, as the Quraish used to do in the pre Islamic period but he passed on till he came to ‘Arafah and found that the tent had been setup at Namrah. There he dismounted and when the sun had passed the meridian he ordered Al Qaswa’ to be brought and when it was saddled for him, he went down to the bottom of the valley and addressed the people saying “Your lives and your property must be respected by one another like the sacredness of this day of yours in the month of yours in this town of yours. Lo! Everything pertaining to the pre Islamic period has been put under my feet and claims for blood vengeance belonging to the pre Islamic period have been abolished. The first of those murdered among us whose blood vengeance I permit is the blood vengeance of ours (according to the version of the narrator ‘Uthman, the blood vengeance of the son of Rabi’ah and according to the version of the narrator Sulaiman the blood vengeance of the son of Rabi’ah bin Al Harith bin ‘Abd Al Muttalib). Some (scholars) said “he was suckled among Banu Sa’d(i.e., he was brought up among Bani Sa’d) and then killed by Hudhail. The usury of the pre Islamic period is abolished and the first of usury I abolish is our usury, the usury of ‘Abbas bin ‘Abd Al Muttalib for it is all abolished. Fear Allaah regarding women for you have got them under Allah’s security and have the right to intercourse with them by Allaah’s word. It is a duty from you on them not to allow anyone whom you dislike to lie on your beds but if they do beat them, but not severely. You are responsible for providing them with food and clothing in a fitting manner. I have left among you something by which if you hold to it you will never again go astray, that is Allaah’s Book. You will be asked about me, so what will you say? They replied “We testify that you have conveyed and fulfilled the message and given counsel. Then raising his forefinger towards the sky and pointing it at the people, he said “O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness! Bilal then uttered the call to prayer and the iqamah and he prayed the noon prayer, he then uttered the iqamah and he prayed the afternoon prayer, engaging in no prayer between the two. He then mounted (his she Camel) al Qaswa’ and came to the place of standing , making his she Camel Al Qaswa‘ turn its back to the rocks and having the path taken by those who went on foot in front of him and he faced the qiblah. He remained standing till sunset when the yellow light had somewhat gone and the disc of the sun had disappeared. He took Usamah up behind him and picked the reins of Al Qaswa’ severely so much so that its head was touching the front part of the saddle. Pointing with is right hand he was saying “Calmness, O People! Calmness, O people. Whenever he came over a mound (of sand) he let loose its reins a little so that it could ascend. He then came to Al Muzdalifah where he combined the sunset and night prayers, with one adhan and two iqamahs. The narrator ‘Uthamn said He did not offer supererogatory prayers between them. The narrators are then agreed upon the version He then lay down till dawn and prayed the dawn prayer when the morning light was clear. The narrator Sulaiman said with one adhan and one iqamah. The narrators are then agreed upon the version He then mounted Al Qaswa’ and came to Al Mash’ar Al Haram and ascended it. The narrators ‘Uthaman and Sulaiman said He faced the qiblah praised Allaah, declared His greatness, His uniqueness. ‘Uthamn added in his version and His Unity and kept standing till the day was very clear. The Apostle of Allaah(ﷺ) then went quickly before the sun rose , taking Al Fadl bin ‘Abbas behind him. He was a man having beautiful hair, white and handsome color. When the Apostle of Allaah(ﷺ) went quickly, the women in the howdas also began to pass him quickly. Al Fadl began to look at them. The Apostle of Allaah(ﷺ) placed his hand on the face of Al Fadl , but Al fadl turned his face towards the other side. The Apostle of Allaah(ﷺ) also turned away his hand to the other side. Al Fadl also turned his face to the other side looking at them till he came to (the Valley of) Muhassir. He urged the Camel a little and following a middle road which comes out at the greatest jamrah, he came to the jamrah which is beside the tree and he threw seven small pebbles at this (jamrah) saying “Allah is most great” each time he threw a pebble like bean seeds. He threw them from the bottom of the valley. The Apostle of Allaah(ﷺ) then went to the place of the sacrifice and sacrificed sixty three Camels with his own hand. He then commanded ‘Ali who sacrificed the remainder and he shared him and his sacrificial animals. After that he ordered that a piece of flesh from each Camel should be put in a pot and when it was cooked the two of them ate some of it and drank some of its broth. The narrator Sulaiman said the he mounted afterwards the Apostle of Allaah(ﷺ) went quickly to the House (the Ka’bah) and prayed the noon prayer at Makkah. He came to Banu ‘Abd Al Muttalib who were supplying water at Zamzam and said draw water Banu ‘Abd Al Muttalib were it not that people would take from you the right to draw water, I would draw it along with you. So they handed him a bucket and he drank from it.
جعفر بن محمد اپنے والد محمد ( محمد باقر ) سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں ( ہر ایک سے ) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا ، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی ، پھر نیچے کی کھولی ، اور پھر اپنی ہتھیلی میرے دونوں چھاتیوں کے بیچ میں رکھی ، میں ان دنوں جوان تھا ، پھر کہا : خوش آمدید ، اے میرے بھتیجے ! جو چاہو پوچھو ، میں نے ان سے سوالات کئے ، وہ نابینا ہو چکے تھے اور نماز کا وقت آ گیا ، تو وہ ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہو گئے ( یعنی ایک ایسا کپڑا جو دہرا کر کے سلا ہوا تھا ) ، جب اسے اپنے کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کندھے سے گر جاتا ، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور ان کی چادر ان کے بغل میں تپائی پر رکھی ہوئی تھی ، میں نے عرض کیا : مجھے اللہ کے رسول کے حج کا حال بتائیے ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو کی گرہ بنائی پھر بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ( مدینہ میں ) حج کئے بغیر رہے ، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں ، چنانچہ مدینہ میں لوگ کثرت سے آ گئے ۱؎ ، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حج کرے ، اور آپ ہی کی طرح سارے کام انجام دے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے ، ہم لوگ ذی الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا : میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم غسل کر لو ، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو ، اور احرام پہن لو “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذو الحلیفہ کی ) مسجد میں نماز پڑھی ، پھر قصواء ( نامی اونٹنی ) پر سوار ہوئے ، یہاں تک کہ جب بیداء میں اونٹنی کو لے کر سیدھی ہو گئی ( جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) تو میں نے تاحد نگاہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوار بھی ہیں پیدل بھی ، اسی طرح معاملہ دائیں جانب تھا ، اسی طرح بائیں جانب ، اور اسی طرح آپ کے پیچھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا معنی سمجھتے تھے ، چنانچہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ویسے ہی ہم بھی کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید پر مشتمل تلبیہ : «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» پکارا ، اور لوگ وہی تلبیہ پکارتے رہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکارا کرتے تھے ۲؎ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس میں سے کسی بھی لفظ سے منع نہیں کیا ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تلبیہ ہی برابر کہتے رہے ۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی ، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ عمرہ بھی کرنا پڑے گا ۳؎ ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا ، اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ۴؎ ، اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں رکھا ۔ ( محمد بن جعفر ) کہتے ہیں : میرے والد کہتے تھے ( ابن نفیل اور عثمان کی روایت میں ہے ) کہ میں یہی جانتا ہوں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ( اور سلیمان کی روایت میں ہے ) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا : ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں رکعتوں میں «قل هو الله أحد» اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھا ۵؎ ، پھر بیت اللہ کی طرف لوٹے اور حجر اسود کا استلام کیا ، اس کے بعد ( مسجد کے ) دروازے سے صفا کی طرف نکل گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو «إن الصفا والمروة من شعائر الله» پڑھا اور فرمایا : ” ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا ، تو اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کی اور فرمایا : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» پھر اس کے درمیان میں دعا مانگی اور اس طرح تین بار کہا ، پھر مروہ کی طرف اتر کر آئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ڈھلکنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطن وادی ۶؎ میں رمل کیا یہاں تک کہ جب چڑھنے لگے تو عام چال چلے ، یہاں تک کہ مروہ آئے تو وہاں بھی وہی کیا جو صفا پہ کیا تھا ، جب طواف کا آخری پھیرا مروہ پہ ختم ہوا تو فرمایا : ” اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا جو کہ بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی نہ لاتا اور میں اسے عمرہ بنا دیتا ، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے ، اور اسے عمرہ بنا لے “ ۔ سبھی لوگ حلال ہو گئے اور بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی ۔ پھر سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ( عمرہ ) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں داخل کیں اور فرمایا : ” عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا “ ، اسے دو مرتبہ فرمایا : ” ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں ، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں ، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے “ ، اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا ، وہ رنگین کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھیں ، اور سرمہ لگا رکھا تھا ، علی رضی اللہ عنہ کو یہ ناگوار لگا ، وہ کہنے لگے : تمہیں کس نے اس کا حکم دیا تھا ؟ وہ بولیں : میرے والد نے ۔ علی رضی اللہ عنہ ( اپنے ایام خلافت میں ) عراق میں کہا کرتے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ نے کر رکھا تھا غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتائی تھی ، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا ، تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے اس کا حکم دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے سچ کہا ، اس نے سچ کہا ، تم نے حج کی نیت کرتے وقت کیا کہا تھا ؟ “ ، عرض کیا : میں نے یوں کہا تھا : ” اے اللہ ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے باندھا ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے ساتھ تو ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولنا “ ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہدی کے جانوروں کی مجموعی تعداد جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو ( ۱۰۰ ) تھی ، چنانچہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا ، اور بال کتروائے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب یوم الترویہ ( ذو الحجہ کا آٹھواں دن ) آیا تو سب لوگوں نے منیٰ کا رخ کیا اور حج کا احرام باندھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے ، اور منیٰ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں ۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ کا حکم دیا ، تو وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے ، قریش کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں مشعر حرام ۷؎ کے پاس ٹھہریں گے جیسے جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات جا پہنچے ۸؎ تو دیکھا کہ خیمہ نمرہ میں لگا دیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کو لانے کا حکم فرمایا ، اس پر کجاوہ باندھا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے ، تو لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا : ” تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن ، تمہارے اس مہینے ، اور تمہارے اس شہر میں ۔ سنو ! جاہلیت کے زمانے کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہو گئی ( یعنی لغو اور باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار نہ رہا ) جاہلیت کے سارے خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ یا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے- وہ بنی سعد میں دودھ پی رہا تھا- اسے ہذیل کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا ( وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی تھا ) اور جاہلیت کے تمام سود ختم ہیں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ اپنا سود ہے یعنی عباس بن عبدالمطلب کا کیونکہ سود سبھی ختم ہیں خواہ وہ کسی کے بھی ہوں ۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے ، اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ، اب اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بس اس قدر مارو کہ ہڈی نہ ٹوٹنے پائے ، اور انہیں تم سے دستور کے مطابق کھانا لینے اور کپڑا لینے کا حق ہے ۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے ، وہ اللہ کی کتاب ہے ۔ ( اچھا بتاؤ ) تم سے قیامت کے روز میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تمہارا جواب کیا ہو گا ؟ “ لوگوں نے کہا : ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم پہنچا دیا ، حق ادا کر دیا ، اور نصیحت کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا ، پھر لوگوں کی طرف جھکایا ، اور فرمایا : ” اے اللہ ! تو گواہ رہ ، اے اللہ ! تو گواہ رہ “ ۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی اور انہوں نے پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میدان عرفات آئے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ صخرات ( بڑے پتھروں ) کی جانب کیا ، اور حبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا ، اور قبلہ رخ ہوئے ، اور شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور سورج کی ٹکیہ غائب ہونے کے بعد زردی کچھ کم ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ، پھر عرفات سے لوٹے ، قصواء کی باگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچ کر رکھی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے سر سے چھو جایا کرتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ کے اشارہ سے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ : ” لوگو ! اطمینان سے چلو ! ، لوگو ! اطمینان سے چلو ! “ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بلندی پر آتے تو باگ ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں ۔ عثمان کہتے ہیں : دونوں کے بیچ میں کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی پھر سارے راوی متفق ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی یہاں تک کہ صبح خوب اچھی طرح روشن ہو گئی ، سلیمان کہتے ہیں ( یہ نماز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت سے ( پڑھی ) ، پھر سارے راوی متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام کے پاس آئے ، اس پر چڑھے ، ( عثمان اور سلیمان کہتے ہیں ) پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی تحمید ، تکبیر اور تہلیل کی ، ( عثمان نے یہ اضافہ کیا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید بیان کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل پڑے ، اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ، وہ نہایت عمدہ بال والے گورے خوبصورت شخص تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو آپ کا گزر ایسی عورتوں پر ہوا جو ہودجوں میں بیٹھی ہوئی جا رہی تھیں ، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھ دیا تو فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا ہاتھ دوسری جانب موڑ دیا تو فضل نے اپنا رخ اور جانب موڑ لیا اور دیکھنے لگے ، یہاں تک کہ جب وادی محسر میں آئے تو اپنی سواری کو ذرا حرکت دی ( یعنی ذرا تیز چلایا ) پھر درمیانی راستے ۹؎ سے چلے جو جمرہ عقبہ پہنچاتا ہے یہاں تک کہ جب اس جمرے کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری پر تکبیر کہی ، کنکری اتنی بڑی تھی کہ انگلی میں رکھ کر پھینک رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نحر کرنے کی جگہ کو آئے ، اور اپنے ہاتھ سے ( ۶۳ ) اونٹنیاں نحر کیں ، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو باقی انہوں نے نحر کیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اپنے ہدی میں شریک کر لیا ( یعنی اپنے ہدی کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ انہیں بھی نحر کرنے کے لیے دے دیئے ) پھر ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا ، تو وہ سب ٹکڑے ایک دیگ میں رکھ کر پکائے گئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ ) دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا ، ( سلیمان کہتے ہیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ۱۰؎ ظہر پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے ، وہ لوگ آب زمزم پلا رہے تھے فرمایا : ” اے بنی عبدالمطلب ! پانی کھینچو ، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے سقایہ پر لوگ تم پر غالب آ جائیں گے ۱۱؎ تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ، ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔
Ja’far bin Muhammad reported on the authority of his father The Prophet (ﷺ) prayed the noon and the afternoon prayers with one adhan and two iqamahs at ‘Arafah and he did not offer supererogatory prayers between them. He prayed the sunset and night prayers at Al Muzdalifah with one adhan and two iqamahs and he did not offer supererogatory prayers between them.
Abu Dawud said This tradition has been narrated by Hatim bin Isma’il as a part of the lengthy tradition. Muhammad bin ‘Ali Al Ju’fi narrated it from Ja’far from his father on the authority of Jabir, like the tradition transmitted by Hatim bin Isma’il. But this version has He offered the sunset and night prayers with one adhan and one iqamah.
جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی ، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی ، البتہ اقامت دو تھیں ، اور مغرب و عشاء جمع ( مزدلفہ ) میں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی ، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے ، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے ، محمد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ” آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ۱؎ “ ۔
Jabir said then the Prophet (ﷺ) said “I sacrificed here and the whole of Mina is the place of sacrifice”. He stationed at ‘Arafah and said “I stationed here and the whole of ‘Arafah is the place of station”. He stationed at Al Muzadalifah and said “I stationed here and the whole of Al Muzadalifah is the place of station.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تو یہاں ( منیٰ میں ) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے “ ، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا : ” میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے “ ، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا : ” میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Hafs bin Ghiyath from Ja’far with the same chain of narrators. But this version adds “Sacrifice in your dwellings.”
اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں اتنا اضافہ ہے : «فانحروا في رحالكم» کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو ۔
The tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. He narrated this tradition and added the words “he recited in two rak’ahs the surah relating to Unity of Allaah” and “Say, O disbelievers” to the Qur’anic verse “And take the station of Abraham as a place of prayer. “. This version has ‘Ali said in Kufah. The narrator said “My father said Jabir did not say these words. I went to complain (against Fatimah). He then narrated the story of Fatimah.”
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے
البتہ اس میں یعقوب نے «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھنے کے بعد یہ ادراج کیا ہے کہ ” آپ نے ان دونوں رکعتوں میں توحید ( یعنی «قل هو الله أحد» ) اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھیں “ ، اور اس میں یہ ادراج بھی کیا کہ ” علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں کہا “ یعقوب کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر نہیں کیا : ( میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے خلاف غصہ دلانے چلا ) ، اور یعقوب نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ، میرے والد جعفر کا کہنا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اس حرف یعنی «فذهبت محرشا» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
A’ishah said “Quraish and those who followed their religion used to station at Al Muzdalifah and they were called Al Hums and the rest of Arabs used to station at ‘Arafah. When Islam came, Allaah the most High commanded His Prophet (ﷺ) to go to ‘Arafah and station there then go quickly from it. That is in accordance with the words of Him Who is exalted “Then go quickly from where the people went quickly.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے ، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے : « ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ( سورۃ البقرہ : ۱۹۹ ) ” تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں - یعنی عرفات سے “ ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) offered the noon prayer on the 8th of Dhul-Hijjah (Yawm at-Tarwiyah) and dawn prayer on the 9th of Dhul-Hijjah (Yawm al-Arafah) in Mina.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو ظہر اور یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر منیٰ میں پڑھی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ بِمِنًى . قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ .
‘Abd Al ‘Aziz bin Rufai’ said I asked Anas bin Malik saying “Tell me something you knew about the Apostle of Allaah(ﷺ) viz where he offered the noon prayer on Yawm Al Tarwiyah(8th of Dhu Al Hijjah). He replied, In Mina I asked Where did he pray the afternoon prayer on Yaum Al Nafr(12th or 13th of Dhu Al Hijjah). He replied In al-Abtah he then said “Do as your commanders do.”
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں ، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی ؟ فرمایا : ابطح میں ، پھر کہا : تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎ ۔
Chapter 627: Leaving Mina for 'Arafah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلاَةِ الظُّهْرِ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ .
Ibn ‘Umar said the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded from Mina when he offered the dawn prayer on Yaum Al ‘Arafah (9th of Dhu Al Hijjah) in the morning till he came to ‘Arafah and he descended at Namrah. This is the place where the imam (prayer leader at ‘Arafah) takes his place. When the time of the noon prayer came, the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded earlier and combined the noon and afternoon prayers. He then addressed the people (i.e., recited the sermon) and proceeded. He stationed at a place of stationing in ‘Arafah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے ، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمرہ سے ) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا ، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا ۔
When al-Hajjaj killed Ibn Zubayr, he sent a message to Ibn Umar asking him: At which moment the Messenger of Allah (ﷺ) used to proceed (to Arafat) this day? He replied: When it happens so, we shall proceed. When Ibn Umar intended to proceed, the people said: The sun did not decline. He (Ibn Umar) asked: Did it decline? They replied: It did not decline. When they said that the sun had declined, he proceeded.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ( پوچھنے کے لیے آدمی ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ( یعنی عرفہ ) کے دن ( نماز اور خطبہ کے لیے ) کس وقت نکلتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے ، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا : ابھی سورج ڈھلا نہیں ، انہوں نے پوچھا : کیا اب ڈھل گیا ؟ لوگوں نے کہا : ابھی نہیں ڈھلا ، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ” ڈھل گیا “ تو وہ چلے ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) on 9 Dhul-Hijjah on a camel standing at the stirrups.
Abu Dawud said: Ibn al-'Ala has reported this tradition from Waki' as narrated by Hammad.
خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے ۔
We were in a place of stationing at Arafat which Amr (ibn Abdullah) thought was very far away from where the imam was stationing, when Ibn Mirba' al-Ansari came to us and told (us): I am a messenger for you from the Messenger of Allah (ﷺ). He tells you: Station where you are performing your devotions for you are an heir to the heritage of Abraham.
یزید بن شیبان کہتے ہیں
ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے ( وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو ( عمرو بن عبداللہ ) امام سے دور سمجھتے تھے ) ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر ( نشانیوں کی جگہوں ) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو ۔
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) returned from ‘Arafah preserving a quiet demeanor and he took Usamah up behind him (on the Camel). He said “O people preserve a quiet demeanor for piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i.e., in driving them quickly).” He (Ibn ‘Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands running quickly till he came to Al Muzdalifah.” The narrator Wahb added He took Al Fadl bin ‘Abbas up behind him (on the Camel) and said O people piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i.e., in driving them quickly), you must preserve a quiet demeanor”. He (Ibn ‘Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands till he came to Mina.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگو ! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے انہیں ( گھوڑوں اور اونٹوں کو ) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع ( مزدلفہ ) آئے ، ( وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا : ” لوگو ! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے ( دوڑتے ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے ۔