Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 11

The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj)

كتاب المناسك

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 325 hadiths in this chapter

Hadith 1896
Chapter 621: The Tawaf For The One Performing Qiran - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ لَمْ يَطُوفُوا حَتَّى رَمَوُا الْجَمْرَةَ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who accompanied him did not go round the Ka'bah till they threw pebbles at the Jamrah (pillar at Mina).

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے ، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 176
Hadith 1897
Chapter 621: The Tawaf For The One Performing Qiran - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏ "‏ طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها ‏.‏

‘Ata said The Prophet (ﷺ) said to A’ishah Your observance of circumambulation of the Ka’bah and your running between Al Safa’ and al Marwah (only once) are sufficient for your Hajj and your ‘Umrah. Al Shafi’i said The narrator Sufyan has transmitted this tradition from ‘Ata on the authority of A’ishah and also narrated it on the authority of ‘Ata stating that the Prophet (ﷺ) said to A’ishah(may Allah be pleased with her).

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے “ ۔ شافعی کہتے ہیں : سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 177
Hadith 1898
Chapter 622: Regarding Multazam - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قُلْتُ لأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي - وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ - فَلأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسْطَهُمْ ‏.‏

Narrated AbdurRahman ibn Safwan:

When the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Mecca, I said (to myself): I shall put on my clothes, and my house lay on the way, I shall watch how the Messenger of Allah (ﷺ) behaves. So I went out. I saw that the Prophet (ﷺ) and his Companions had come out from the Ka'bah and embraced the House (the Ka'bah) from its entrance (al-Bab) to al-Hatim. They placed their cheek on the House (the Ka'bah) while the Messenger of Allah (ﷺ) was amongst them.

عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا : میں اپنے کپڑے پہنوں گا ( میرا گھر راستے میں تھا ) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں ، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں ، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 178
Hadith 1899
Chapter 622: Regarding Multazam - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا جِئْنَا دُبَرَ الْكَعْبَةِ قُلْتُ أَلاَ تَتَعَوَّذُ ‏.‏ قَالَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ‏.‏ ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏

Amr b. Shu'aib reported on the authority of his father:

I went round the Ka'bah along with Abdullah ibn Amr. When we came behind the Ka'bah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Ka'bah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the apostle of Allah (ﷺ) doing like this.

شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ

میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا ، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا : کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے ؟ اس پر انہوں نے کہا : ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے ، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا ، پھر بولے : اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 179
Hadith 1900
Chapter 622: Regarding Multazam - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ أُنْبِئْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا فَيَقُولُ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُومُ فَيُصَلِّي ‏.‏

Abdullah ibn as-Sa'ib reported on the authority of his father as-Sa'ib that he used to lead Ibn Abbas (when he become blind) and make him stand in the third corner that was adjacent to the corner (Black Stone) near the entrance of the Ka'bah. Ibn Abbas used to say:

Has it been reported to you that the Messenger of Allah (ﷺ) would pray in this place. He would reply: Yes. He then used to stand (there) and pray.

عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ

وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے ( جب ان کی بینائی ختم ہو گئی ) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے ؟ وہ کہتے : ہاں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 180
Hadith 1901
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ‏}‏ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ كَلاَّ لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ‏}‏ ‏.‏

‘Urwa bin Al Zubair said I said to A’ishah, wife of the Prophet(ﷺ) while I was a boy. What do you think about the pronouncement of Allaah, the Exalted “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah. “I think there is no harm for anyone if he does not run between them. A’ishah(may Allah be pleased with her) said Nay, had it been so as you said, it would have been thus. It is no sin on him not to go around them. This verse was revealed about the Ansaar, they used to perform hajj for Manat. Manat was erected in front of Qudaid. Hence they used to avoid going around Al Safa and Al Marwah. When Islam came, they asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about it. Allaah, the Exalted therefore revealed the verse “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا : مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : ” ہرگز نہیں ، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ” تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں “ ہوتا ، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری ، وہ مناۃ ( یعنی زمانہ جاہلیت کا بت ) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا ، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے ، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 181
Hadith 1902
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ ‏.‏

‘Abd Allaah bin Abi Aufa said the Apostle of Allaah(ﷺ) performed ‘Umrah and went round the House(the Ka’bah) and prayed behind the station (Maqam Ibrahim) two rak’ahs and he was accompanied by so many people that he was hidden by them. ‘Abd Allaah bin Abi Aufa was asked Did the Apostle of Allaah(ﷺ) enter the Ka’bah ? He replied “No”.

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی ، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے ، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 182
Hadith 1903
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ ‏.‏

Isma’il bin Abi Khalid said I heard ‘Abd Allaah bin Abi Aufa narrated this tradition. His version added “He then came to Al Safa’ and Al Marwah and ran between them seven times and then shaved his head.

اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے

البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی ، پھر اپنا سر منڈایا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 183
Hadith 1904
Chapter 623: Regarding As-Safa and Al-Marwah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ قَالَ إِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي وَإِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ‏.‏

Kathir ibn Jamhan said:

A man asked Abdullah ibn Umar between as-Safa and al-Marwah: AbdurRahman, I see you walking while the people are running (between as-Safa and al-Marwah)? He replied: If I walk, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) running. I am too old.

کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ

صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میں آپ کو ( عام چال چلتے ) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی ( دوڑتے ) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 184
Hadith 1905
Chapter 624: The Description Of The Prophet's (saws) Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، - وَرُبَّمَا زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْكَلِمَةَ وَالشَّىْءَ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَىَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ‏.‏ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَىَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ شَابٌّ ‏.‏ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ وَأَهْلاً يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ ‏.‏ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلاَةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا يَعْنِي ثَوْبًا مُلَفَّقًا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا فَصَلَّى بِنَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ ‏.‏ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ اغْتَسِلِي وَاسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي ‏"‏ ‏.‏ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ فَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَىْءٍ عَمِلْنَا بِهِ فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّوْحِيدِ ‏"‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا مِنْهُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَلْبِيَتَهُ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِي إِلاَّ الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ ‏{‏ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ‏}‏ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ فَكَانَ أَبِي يَقُولُ قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ وَعُثْمَانُ وَلاَ أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلاَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ وَبِـ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ‏}‏ ‏"‏ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ اللَّهَ وَوَحَّدَهُ وَقَالَ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَنَعَ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْىَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ‏"‏ ‏.‏ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلاَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصَابِعَهُ فِي الأُخْرَى ثُمَّ قَالَ ‏"‏ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ ‏"‏ لاَ بَلْ لأَبَدِ أَبَدٍ لاَ بَلْ لأَبَدِ أَبَدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ فَاطِمَةَ - رضى الله عنها - مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا وَقَالَ مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا فَقَالَتْ أَبِي ‏.‏ فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الأَمْرِ الَّذِي صَنَعَتْهُ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَتْ صَدَقَتْ مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ فَلاَ تَحْلِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْىِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ مِائَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلاَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلاً حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعَرٍ فَضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ تَشُكُّ قُرَيْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلاَ إِنَّ كُلَّ شَىْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَىَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دِمَاؤُنَا دَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُثْمَانُ ‏"‏ دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ ‏"‏ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ هَؤُلاَءِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ‏"‏ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لاَ يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكِبُهَا إِلَى النَّاسِ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءَ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلاً حِينَ غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ‏"‏ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ كُلَّمَا أَتَى حَبْلاً مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلاً حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ - قَالَ عُثْمَانُ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اتَّفَقُوا - ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ - قَالَ سُلَيْمَانُ بِنِدَاءٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا - ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ قَالَ عُثْمَانُ وَسُلَيْمَانُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ زَادَ عُثْمَانُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَجُلاً حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ الظُّعُنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ وَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَحَرَّكَ قَلِيلاً ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّذِي يُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلاَثًا وَسِتِّينَ وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ - يَقُولُ مَا بَقِيَ - وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلاَ مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا قَالَ سُلَيْمَانُ ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ ‏"‏ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلاَ أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ ‏.‏

Ja’far bin Muhammad reported on the authority of his father “We entered upon Jabir bin ‘Abd Allaah. When we reached him, he asked about the people (who had come to visit him). When my turn came I said “I am Muhammad bin Ali bin Hussain. He patted my head with his hand and undid my upper then lower buttons. He then placed his hand between my nipples and in those days I was a young boy.” He then said “welcome to you my nephew, ask what you like. I questioned him he was blind. The time of prayer came and he stood wrapped in a mantle. Whenever he placed it on his shoulders its ends fell due to its shortness. He led us in prayer while his mantle was placed on a rack by his side. I said “tell me about the Hajj of the Apostle of Allaah(ﷺ).”He signed with his hand and folded his fingers indicating nine. He then said Apostle of Allaah(ﷺ) remained nine years (at Madeenah ) during which he did not perform Hajj, then made a public announcement in the tenth year to the effect that the Apostle of Allaah(ﷺ) was about to (go to) perform Hajj. A large number of people came to Madeenah everyone desiring to follow him and act like him. The Apostle of Allaah(ﷺ) went out and we too went out with him till we reached Dhu Al Hulaifah. Asma’ daughter of ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent message to Apostle of Allaah(ﷺ) asking him What should I do?He replied “take a bath, bandage your private parts with a cloth and put on ihram.” The Apostle of Allaah(ﷺ) then prayed (in the masjid) and mounted Al Qaswa’ and his she Camel stood erect with him on its back. Jabir said “I saw (a large number of) people on mounts and on foot in front of him and a similar number on his right side and a similar number on his left side and a similar number behind him. The Apostle of Allaah(ﷺ) was among us, the Qur’an was being revealed to him and he knew its interpretation. Whatever he did, we did it. The Apostle of Allaah(ﷺ) then raised his voice declaring Allaah’s unity and saying “Labbaik ( I am at thy service), O Allaah, labbaik, labbaik, Thou hast no partner praise and grace are Thine and the Dominion. Thou hast no partner. The people too raised their voices in talbiyah which they used to utter. But the Apostle of Allaah(ﷺ) did not forbid them anything. The Apostle of Allaah(ﷺ) continued his talbiyah. Jabir said “We did not express our intention of performing anything but Hajj, being unaware of ‘Umrah (at that season), but when we came with him to the House (the Ka’bah), he touched the corner (and made seven circuits) walking quickly with pride in three of them and walking ordinarily in four. Then going forward to the station of Abraham he recited “And take the station of Abraham as a place of prayer.” (While praying two rak’ahs) he kept the station between him and the House. The narrator said My father said that Ibn Nufail and ‘Uthman said I do not know that he (Jabir) narrated it from anyone except the Prophet (ﷺ). The narrator Sulaiman said I do not know but he (Jabir) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) used to recite in the two rak’ahs “Say, He is Allaah, one” and “Say O infidels”. He then returned to the House (the ka’bah) and touched the corner after which he went out by the gate to Al Safa’. When he reached near Al Safa’ he recited “Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah” and he added “We begin with what Allaah began with”. He then began with Al Safa’ and mounting it till he could see the House (the Ka’bah) he declared the greatness of Allaah and proclaimed his Unity. He then said “there is no god but Allaah alone, Who alone has fulfilled His promise, helped His servant and routed the confederates. He then made supplication in the course of that saying such words three times. He then descended and walked towards Al Marwah and when his feet came down into the bottom of the valley, he ran, and when he began to ascend he walked till he reached Al Marwah. He did at al Marwah as he had done at Al Safa’ and when he came to Al Marwah for the last time, he said “If I had known before what I have come to know afterwards regarding this matter of mine, I would not have brought sacrificial animals but made it an ‘Umrah, so if any of you has no sacrificial animals, he may take off ihram and treat it as an ‘Umrah. All the people then took off ihram and clipped their hair except the Prophet (ﷺ) and those who had brought sacrificial animals. Suraqah (bin Malik) bin Ju’sham then got up and asked Apostle of Allaah(ﷺ)does this apply to the present year or does it apply for ever? The Apostle of Allaah(ﷺ) interwined his fingers and said “The ‘Umarh has been incorporated in Hajj. Adding ‘No’, but forever and ever. ‘Ali came from Yemen with the sacrificial animals of the Apostle of Allaah(ﷺ) and found Fathima among one of those who had taken off their ihram. She said put on colored clothes and stained her eyes with collyrium. ‘Ali disliked (this action of her) and asked Who commanded you for this? She said “My father”. Jabir said ‘Ali said at Iraq I went to Apostle of Allaah(ﷺ) to complain against Fathima for what she had done and to ask the opinion of Apostle of Allaah(ﷺ) about which she mentioned to me. I informed him that I disliked her action and that thereupon she said to me “My father commanded me to do this.” He said “She spoke the truth, she spoke the truth.” What did you say when you put on ihram for Hajj? I said O Allaah, I put on ihram for the same purpose for which Apostle of Allaah(ﷺ) has put it on. He said I have sacrificial animals with me, so do not take off ihram. He (Jabir) said “The total of those sacrificial animals brought by ‘Ali from Yemen and of those brought by the Prophet (ﷺ) from Madeenah was one hundred.” Then all the people except the Prophet (ﷺ) and those who had with them the sacrificial animals took off ihram and clipped their hair. When the 8th of Dhu Al Hijjah (Yaum Al Tarwiyah) came, they went towards Mina having pit on ihram for Hajj and the Apostle of Allaah(ﷺ) rode and prayed at Mina the noon, afternoon, sunset, night and dawn prayers. After that he waited a little till the sun rose and gave orders for a tent of hair to be set up at Namrah. The Apostle of Allaah(ﷺ) then sent out and the Quraish did not doubt that he would halt at Al Mash ‘ar Al Haram at Al Muzdalifah, as the Quraish used to do in the pre Islamic period but he passed on till he came to ‘Arafah and found that the tent had been setup at Namrah. There he dismounted and when the sun had passed the meridian he ordered Al Qaswa’ to be brought and when it was saddled for him, he went down to the bottom of the valley and addressed the people saying “Your lives and your property must be respected by one another like the sacredness of this day of yours in the month of yours in this town of yours. Lo! Everything pertaining to the pre Islamic period has been put under my feet and claims for blood vengeance belonging to the pre Islamic period have been abolished. The first of those murdered among us whose blood vengeance I permit is the blood vengeance of ours (according to the version of the narrator ‘Uthman, the blood vengeance of the son of Rabi’ah and according to the version of the narrator Sulaiman the blood vengeance of the son of Rabi’ah bin Al Harith bin ‘Abd Al Muttalib). Some (scholars) said “he was suckled among Banu Sa’d(i.e., he was brought up among Bani Sa’d) and then killed by Hudhail. The usury of the pre Islamic period is abolished and the first of usury I abolish is our usury, the usury of ‘Abbas bin ‘Abd Al Muttalib for it is all abolished. Fear Allaah regarding women for you have got them under Allah’s security and have the right to intercourse with them by Allaah’s word. It is a duty from you on them not to allow anyone whom you dislike to lie on your beds but if they do beat them, but not severely. You are responsible for providing them with food and clothing in a fitting manner. I have left among you something by which if you hold to it you will never again go astray, that is Allaah’s Book. You will be asked about me, so what will you say? They replied “We testify that you have conveyed and fulfilled the message and given counsel. Then raising his forefinger towards the sky and pointing it at the people, he said “O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness, O Allaah! Be witness! Bilal then uttered the call to prayer and the iqamah and he prayed the noon prayer, he then uttered the iqamah and he prayed the afternoon prayer, engaging in no prayer between the two. He then mounted (his she Camel) al Qaswa’ and came to the place of standing , making his she Camel Al Qaswa‘ turn its back to the rocks and having the path taken by those who went on foot in front of him and he faced the qiblah. He remained standing till sunset when the yellow light had somewhat gone and the disc of the sun had disappeared. He took Usamah up behind him and picked the reins of Al Qaswa’ severely so much so that its head was touching the front part of the saddle. Pointing with is right hand he was saying “Calmness, O People! Calmness, O people. Whenever he came over a mound (of sand) he let loose its reins a little so that it could ascend. He then came to Al Muzdalifah where he combined the sunset and night prayers, with one adhan and two iqamahs. The narrator ‘Uthamn said He did not offer supererogatory prayers between them. The narrators are then agreed upon the version He then lay down till dawn and prayed the dawn prayer when the morning light was clear. The narrator Sulaiman said with one adhan and one iqamah. The narrators are then agreed upon the version He then mounted Al Qaswa’ and came to Al Mash’ar Al Haram and ascended it. The narrators ‘Uthaman and Sulaiman said He faced the qiblah praised Allaah, declared His greatness, His uniqueness. ‘Uthamn added in his version and His Unity and kept standing till the day was very clear. The Apostle of Allaah(ﷺ) then went quickly before the sun rose , taking Al Fadl bin ‘Abbas behind him. He was a man having beautiful hair, white and handsome color. When the Apostle of Allaah(ﷺ) went quickly, the women in the howdas also began to pass him quickly. Al Fadl began to look at them. The Apostle of Allaah(ﷺ) placed his hand on the face of Al Fadl , but Al fadl turned his face towards the other side. The Apostle of Allaah(ﷺ) also turned away his hand to the other side. Al Fadl also turned his face to the other side looking at them till he came to (the Valley of) Muhassir. He urged the Camel a little and following a middle road which comes out at the greatest jamrah, he came to the jamrah which is beside the tree and he threw seven small pebbles at this (jamrah) saying “Allah is most great” each time he threw a pebble like bean seeds. He threw them from the bottom of the valley. The Apostle of Allaah(ﷺ) then went to the place of the sacrifice and sacrificed sixty three Camels with his own hand. He then commanded ‘Ali who sacrificed the remainder and he shared him and his sacrificial animals. After that he ordered that a piece of flesh from each Camel should be put in a pot and when it was cooked the two of them ate some of it and drank some of its broth. The narrator Sulaiman said the he mounted afterwards the Apostle of Allaah(ﷺ) went quickly to the House (the Ka’bah) and prayed the noon prayer at Makkah. He came to Banu ‘Abd Al Muttalib who were supplying water at Zamzam and said draw water Banu ‘Abd Al Muttalib were it not that people would take from you the right to draw water, I would draw it along with you. So they handed him a bucket and he drank from it.

جعفر بن محمد اپنے والد محمد ( محمد باقر ) سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں ( ہر ایک سے ) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا ، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی ، پھر نیچے کی کھولی ، اور پھر اپنی ہتھیلی میرے دونوں چھاتیوں کے بیچ میں رکھی ، میں ان دنوں جوان تھا ، پھر کہا : خوش آمدید ، اے میرے بھتیجے ! جو چاہو پوچھو ، میں نے ان سے سوالات کئے ، وہ نابینا ہو چکے تھے اور نماز کا وقت آ گیا ، تو وہ ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہو گئے ( یعنی ایک ایسا کپڑا جو دہرا کر کے سلا ہوا تھا ) ، جب اسے اپنے کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کندھے سے گر جاتا ، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور ان کی چادر ان کے بغل میں تپائی پر رکھی ہوئی تھی ، میں نے عرض کیا : مجھے اللہ کے رسول کے حج کا حال بتائیے ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو کی گرہ بنائی پھر بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ( مدینہ میں ) حج کئے بغیر رہے ، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں ، چنانچہ مدینہ میں لوگ کثرت سے آ گئے ۱؎ ، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حج کرے ، اور آپ ہی کی طرح سارے کام انجام دے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے ، ہم لوگ ذی الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا : میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم غسل کر لو ، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو ، اور احرام پہن لو “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذو الحلیفہ کی ) مسجد میں نماز پڑھی ، پھر قصواء ( نامی اونٹنی ) پر سوار ہوئے ، یہاں تک کہ جب بیداء میں اونٹنی کو لے کر سیدھی ہو گئی ( جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) تو میں نے تاحد نگاہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوار بھی ہیں پیدل بھی ، اسی طرح معاملہ دائیں جانب تھا ، اسی طرح بائیں جانب ، اور اسی طرح آپ کے پیچھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا معنی سمجھتے تھے ، چنانچہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ویسے ہی ہم بھی کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید پر مشتمل تلبیہ : «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» پکارا ، اور لوگ وہی تلبیہ پکارتے رہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکارا کرتے تھے ۲؎ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس میں سے کسی بھی لفظ سے منع نہیں کیا ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تلبیہ ہی برابر کہتے رہے ۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی ، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ عمرہ بھی کرنا پڑے گا ۳؎ ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا ، اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ۴؎ ، اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں رکھا ۔ ( محمد بن جعفر ) کہتے ہیں : میرے والد کہتے تھے ( ابن نفیل اور عثمان کی روایت میں ہے ) کہ میں یہی جانتا ہوں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ( اور سلیمان کی روایت میں ہے ) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا : ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں رکعتوں میں «قل هو الله أحد» اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھا ۵؎ ، پھر بیت اللہ کی طرف لوٹے اور حجر اسود کا استلام کیا ، اس کے بعد ( مسجد کے ) دروازے سے صفا کی طرف نکل گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو «إن الصفا والمروة من شعائر الله» پڑھا اور فرمایا : ” ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا ، تو اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کی اور فرمایا : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» پھر اس کے درمیان میں دعا مانگی اور اس طرح تین بار کہا ، پھر مروہ کی طرف اتر کر آئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ڈھلکنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطن وادی ۶؎ میں رمل کیا یہاں تک کہ جب چڑھنے لگے تو عام چال چلے ، یہاں تک کہ مروہ آئے تو وہاں بھی وہی کیا جو صفا پہ کیا تھا ، جب طواف کا آخری پھیرا مروہ پہ ختم ہوا تو فرمایا : ” اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا جو کہ بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی نہ لاتا اور میں اسے عمرہ بنا دیتا ، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے ، اور اسے عمرہ بنا لے “ ۔ سبھی لوگ حلال ہو گئے اور بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی ۔ پھر سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ( عمرہ ) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں داخل کیں اور فرمایا : ” عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا “ ، اسے دو مرتبہ فرمایا : ” ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں ، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں ، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے “ ، اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا ، وہ رنگین کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھیں ، اور سرمہ لگا رکھا تھا ، علی رضی اللہ عنہ کو یہ ناگوار لگا ، وہ کہنے لگے : تمہیں کس نے اس کا حکم دیا تھا ؟ وہ بولیں : میرے والد نے ۔ علی رضی اللہ عنہ ( اپنے ایام خلافت میں ) عراق میں کہا کرتے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ نے کر رکھا تھا غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتائی تھی ، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا ، تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے اس کا حکم دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے سچ کہا ، اس نے سچ کہا ، تم نے حج کی نیت کرتے وقت کیا کہا تھا ؟ “ ، عرض کیا : میں نے یوں کہا تھا : ” اے اللہ ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے باندھا ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے ساتھ تو ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولنا “ ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہدی کے جانوروں کی مجموعی تعداد جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو ( ۱۰۰ ) تھی ، چنانچہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا ، اور بال کتروائے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب یوم الترویہ ( ذو الحجہ کا آٹھواں دن ) آیا تو سب لوگوں نے منیٰ کا رخ کیا اور حج کا احرام باندھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے ، اور منیٰ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں ۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ کا حکم دیا ، تو وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے ، قریش کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں مشعر حرام ۷؎ کے پاس ٹھہریں گے جیسے جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات جا پہنچے ۸؎ تو دیکھا کہ خیمہ نمرہ میں لگا دیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کو لانے کا حکم فرمایا ، اس پر کجاوہ باندھا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے ، تو لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا : ” تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن ، تمہارے اس مہینے ، اور تمہارے اس شہر میں ۔ سنو ! جاہلیت کے زمانے کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہو گئی ( یعنی لغو اور باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار نہ رہا ) جاہلیت کے سارے خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ یا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے- وہ بنی سعد میں دودھ پی رہا تھا- اسے ہذیل کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا ( وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی تھا ) اور جاہلیت کے تمام سود ختم ہیں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ اپنا سود ہے یعنی عباس بن عبدالمطلب کا کیونکہ سود سبھی ختم ہیں خواہ وہ کسی کے بھی ہوں ۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے ، اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ، اب اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بس اس قدر مارو کہ ہڈی نہ ٹوٹنے پائے ، اور انہیں تم سے دستور کے مطابق کھانا لینے اور کپڑا لینے کا حق ہے ۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے ، وہ اللہ کی کتاب ہے ۔ ( اچھا بتاؤ ) تم سے قیامت کے روز میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تمہارا جواب کیا ہو گا ؟ “ لوگوں نے کہا : ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم پہنچا دیا ، حق ادا کر دیا ، اور نصیحت کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا ، پھر لوگوں کی طرف جھکایا ، اور فرمایا : ” اے اللہ ! تو گواہ رہ ، اے اللہ ! تو گواہ رہ “ ۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی اور انہوں نے پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میدان عرفات آئے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ صخرات ( بڑے پتھروں ) کی جانب کیا ، اور حبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا ، اور قبلہ رخ ہوئے ، اور شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور سورج کی ٹکیہ غائب ہونے کے بعد زردی کچھ کم ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ، پھر عرفات سے لوٹے ، قصواء کی باگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچ کر رکھی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے سر سے چھو جایا کرتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ کے اشارہ سے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ : ” لوگو ! اطمینان سے چلو ! ، لوگو ! اطمینان سے چلو ! “ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بلندی پر آتے تو باگ ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں ۔ عثمان کہتے ہیں : دونوں کے بیچ میں کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی پھر سارے راوی متفق ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی یہاں تک کہ صبح خوب اچھی طرح روشن ہو گئی ، سلیمان کہتے ہیں ( یہ نماز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت سے ( پڑھی ) ، پھر سارے راوی متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام کے پاس آئے ، اس پر چڑھے ، ( عثمان اور سلیمان کہتے ہیں ) پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی تحمید ، تکبیر اور تہلیل کی ، ( عثمان نے یہ اضافہ کیا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید بیان کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل پڑے ، اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ، وہ نہایت عمدہ بال والے گورے خوبصورت شخص تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو آپ کا گزر ایسی عورتوں پر ہوا جو ہودجوں میں بیٹھی ہوئی جا رہی تھیں ، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھ دیا تو فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا ہاتھ دوسری جانب موڑ دیا تو فضل نے اپنا رخ اور جانب موڑ لیا اور دیکھنے لگے ، یہاں تک کہ جب وادی محسر میں آئے تو اپنی سواری کو ذرا حرکت دی ( یعنی ذرا تیز چلایا ) پھر درمیانی راستے ۹؎ سے چلے جو جمرہ عقبہ پہنچاتا ہے یہاں تک کہ جب اس جمرے کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری پر تکبیر کہی ، کنکری اتنی بڑی تھی کہ انگلی میں رکھ کر پھینک رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نحر کرنے کی جگہ کو آئے ، اور اپنے ہاتھ سے ( ۶۳ ) اونٹنیاں نحر کیں ، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو باقی انہوں نے نحر کیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اپنے ہدی میں شریک کر لیا ( یعنی اپنے ہدی کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ انہیں بھی نحر کرنے کے لیے دے دیئے ) پھر ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا ، تو وہ سب ٹکڑے ایک دیگ میں رکھ کر پکائے گئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ ) دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا ، ( سلیمان کہتے ہیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ۱۰؎ ظہر پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے ، وہ لوگ آب زمزم پلا رہے تھے فرمایا : ” اے بنی عبدالمطلب ! پانی کھینچو ، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے سقایہ پر لوگ تم پر غالب آ جائیں گے ۱۱؎ تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ، ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 185
Hadith 1906
Chapter 624: The Description Of The Prophet's (saws) Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَإِقَامَتَيْنِ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ وَوَافَقَ حَاتِمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ‏.‏

Ja’far bin Muhammad reported on the authority of his father The Prophet (ﷺ) prayed the noon and the afternoon prayers with one adhan and two iqamahs at ‘Arafah and he did not offer supererogatory prayers between them. He prayed the sunset and night prayers at Al Muzdalifah with one adhan and two iqamahs and he did not offer supererogatory prayers between them. Abu Dawud said This tradition has been narrated by Hatim bin Isma’il as a part of the lengthy tradition. Muhammad bin ‘Ali Al Ju’fi narrated it from Ja’far from his father on the authority of Jabir, like the tradition transmitted by Hatim bin Isma’il. But this version has He offered the sunset and night prayers with one adhan and one iqamah.

جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی ، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی ، البتہ اقامت دو تھیں ، اور مغرب و عشاء جمع ( مزدلفہ ) میں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی ، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے ، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے ، محمد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ” آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 186
Hadith 1907
Chapter 624: The Description Of The Prophet's (saws) Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ نَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ‏"‏ ‏.‏ وَوَقَفَ فِي الْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ وَقَفْتُ هَا هُنَا وَمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ‏"‏ ‏.‏

Jabir said then the Prophet (ﷺ) said “I sacrificed here and the whole of Mina is the place of sacrifice”. He stationed at ‘Arafah and said “I stationed here and the whole of ‘Arafah is the place of station”. He stationed at Al Muzadalifah and said “I stationed here and the whole of Al Muzadalifah is the place of station.”

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تو یہاں ( منیٰ میں ) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے “ ، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا : ” میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے “ ، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا : ” میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 187
Hadith 1908
Chapter 624: The Description Of The Prophet's (saws) Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، بِإِسْنَادِهِ زَادَ ‏ "‏ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Hafs bin Ghiyath from Ja’far with the same chain of narrators. But this version adds “Sacrifice in your dwellings.”

اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں اتنا اضافہ ہے : «فانحروا في رحالكم» کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 188
Hadith 1909
Chapter 624: The Description Of The Prophet's (saws) Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ عِنْدَ قَوْلِهِ ‏{‏ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ‏}‏ قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ وَقَالَ فِيهِ قَالَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - بِالْكُوفَةِ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا ‏.‏ وَذَكَرَ قِصَّةَ فَاطِمَةَ رضى الله عنها ‏.‏

The tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. He narrated this tradition and added the words “he recited in two rak’ahs the surah relating to Unity of Allaah” and “Say, O disbelievers” to the Qur’anic verse “And take the station of Abraham as a place of prayer. “. This version has ‘Ali said in Kufah. The narrator said “My father said Jabir did not say these words. I went to complain (against Fatimah). He then narrated the story of Fatimah.”

اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے

البتہ اس میں یعقوب نے «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھنے کے بعد یہ ادراج کیا ہے کہ ” آپ نے ان دونوں رکعتوں میں توحید ( یعنی «قل هو الله أحد» ) اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھیں “ ، اور اس میں یہ ادراج بھی کیا کہ ” علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں کہا “ یعقوب کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر نہیں کیا : ( میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے خلاف غصہ دلانے چلا ) ، اور یعقوب نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ، میرے والد جعفر کا کہنا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اس حرف یعنی «فذهبت محرشا» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 189
Hadith 1910
Chapter 625: Standing At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ قَالَتْ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ‏}‏ ‏.‏

A’ishah said “Quraish and those who followed their religion used to station at Al Muzdalifah and they were called Al Hums and the rest of Arabs used to station at ‘Arafah. When Islam came, Allaah the most High commanded His Prophet (ﷺ) to go to ‘Arafah and station there then go quickly from it. That is in accordance with the words of Him Who is exalted “Then go quickly from where the people went quickly.”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے ، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے : « ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ( سورۃ البقرہ : ۱۹۹ ) ” تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں - یعنی عرفات سے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 190
Hadith 1911
Chapter 626: Leaving For Mina - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) offered the noon prayer on the 8th of Dhul-Hijjah (Yawm at-Tarwiyah) and dawn prayer on the 9th of Dhul-Hijjah (Yawm al-Arafah) in Mina.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو ظہر اور یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر منیٰ میں پڑھی ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 191
Hadith 1912
Chapter 626: Leaving For Mina - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ بِمِنًى ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ ‏.‏

‘Abd Al ‘Aziz bin Rufai’ said I asked Anas bin Malik saying “Tell me something you knew about the Apostle of Allaah(ﷺ) viz where he offered the noon prayer on Yawm Al Tarwiyah(8th of Dhu Al Hijjah). He replied, In Mina I asked Where did he pray the afternoon prayer on Yaum Al Nafr(12th or 13th of Dhu Al Hijjah). He replied In al-Abtah he then said “Do as your commanders do.”

عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ

میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں ، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی ؟ فرمایا : ابطح میں ، پھر کہا : تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 192
Hadith 1913
Chapter 627: Leaving Mina for 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلاَةِ الظُّهْرِ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ ‏.‏

Ibn ‘Umar said the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded from Mina when he offered the dawn prayer on Yaum Al ‘Arafah (9th of Dhu Al Hijjah) in the morning till he came to ‘Arafah and he descended at Namrah. This is the place where the imam (prayer leader at ‘Arafah) takes his place. When the time of the noon prayer came, the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded earlier and combined the noon and afternoon prayers. He then addressed the people (i.e., recited the sermon) and proceeded. He stationed at a place of stationing in ‘Arafah.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے ، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمرہ سے ) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا ، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 193
Hadith 1914
Chapter 628: Entering 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا أَنْ قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّةُ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا ‏.‏ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ قَالُوا لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ أَزَاغَتْ قَالُوا لَمْ تَزِغْ - أَوْ زَاغَتْ - قَالَ فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتِ ‏.‏ ارْتَحَلَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

When al-Hajjaj killed Ibn Zubayr, he sent a message to Ibn Umar asking him: At which moment the Messenger of Allah (ﷺ) used to proceed (to Arafat) this day? He replied: When it happens so, we shall proceed. When Ibn Umar intended to proceed, the people said: The sun did not decline. He (Ibn Umar) asked: Did it decline? They replied: It did not decline. When they said that the sun had declined, he proceeded.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ( پوچھنے کے لیے آدمی ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ( یعنی عرفہ ) کے دن ( نماز اور خطبہ کے لیے ) کس وقت نکلتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے ، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا : ابھی سورج ڈھلا نہیں ، انہوں نے پوچھا : کیا اب ڈھل گیا ؟ لوگوں نے کہا : ابھی نہیں ڈھلا ، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ” ڈھل گیا “ تو وہ چلے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 194
Hadith 1915
Chapter 629: Delivering The Sermon On A Minbar At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ ‏.‏

A man from banu Damrah reported on the authority of his father or his uncle “ I saw the Apostle of Allaah(ﷺ) on the pulpit in ‘Arafah.”

بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں منبر پر ( خطبہ دیتے ) دیکھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 195
Hadith 1916
Chapter 629: Delivering The Sermon On A Minbar At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْحَىِّ عَنْ أَبِيهِ، نُبَيْطٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ ‏.‏

Narrated Nubayt:

Nubayt had seen the Prophet (ﷺ) in Arafat.

نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 196
Hadith 1917
Chapter 629: Delivering The Sermon On A Minbar At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، - قَالَ هَنَّادٌ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبِي عَمْرٍو، - قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْعَدَّاءِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ الْعَلاَءِ عَنْ وَكِيعٍ كَمَا قَالَ هَنَّادٌ ‏.‏

Al-Adda' ibn Khalid ibn Hudhah said:

I saw the Messenger of Allah (ﷺ) on 9 Dhul-Hijjah on a camel standing at the stirrups. Abu Dawud said: Ibn al-'Ala has reported this tradition from Waki' as narrated by Hammad.

خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 197
Hadith 1918
Chapter 629: Delivering The Sermon On A Minbar At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو، عَنِ الْعَدَّاءِ، بِمَعْنَاهُ ‏.‏

This tradition has also been transmitted by Al ‘Adda bin Khalid through a different chain of narrators to the same effect.

اس سند سے بھی عداء بن خالد سے

اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 198
Hadith 1919
Chapter 630: The Place Of Standing At 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو عَنِ الإِمَامِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ ‏ "‏ قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏

Yazid ibn Shayban said:

We were in a place of stationing at Arafat which Amr (ibn Abdullah) thought was very far away from where the imam was stationing, when Ibn Mirba' al-Ansari came to us and told (us): I am a messenger for you from the Messenger of Allah (ﷺ). He tells you: Station where you are performing your devotions for you are an heir to the heritage of Abraham.

یزید بن شیبان کہتے ہیں

ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے ( وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو ( عمرو بن عبداللہ ) امام سے دور سمجھتے تھے ) ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر ( نشانیوں کی جگہوں ) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 199
Hadith 1920
Chapter 631: Departing From 'Arafah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، - الْمَعْنَى - عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ وَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا ‏.‏ زَادَ وَهْبٌ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى ‏.‏

Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) returned from ‘Arafah preserving a quiet demeanor and he took Usamah up behind him (on the Camel). He said “O people preserve a quiet demeanor for piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i.e., in driving them quickly).” He (Ibn ‘Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands running quickly till he came to Al Muzdalifah.” The narrator Wahb added He took Al Fadl bin ‘Abbas up behind him (on the Camel) and said O people piety does not consist in exciting the Horses and the Camels (i.e., in driving them quickly), you must preserve a quiet demeanor”. He (Ibn ‘Abbas) said “Thereafter I did not see them raising their hands till he came to Mina.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگو ! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے انہیں ( گھوڑوں اور اونٹوں کو ) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع ( مزدلفہ ) آئے ، ( وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا : ” لوگو ! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے ( دوڑتے ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 200
Page 8 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 325 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 8 of 13 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00