Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 11

The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj)

كتاب المناسك

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 325 hadiths in this chapter

Hadith 2021
Chapter 658: Regarding Giving Nabidh To The Muhrim To Drink - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلاَ بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَابٍ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَنَحْنُ هَكَذَا لاَ نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Bakr bin ‘Abd Allah said “A man said to Ibn ‘Abbas “What about the people of this House? They supply Nabidh to the public while their cousins provide milk, honey and mush (sawiq). Is this due to their niggardliness or need? Ibn ‘Abbas replied “This is due neither to our niggardliness nor to our need, but the Apostle of Allaah(ﷺ) (once) entered upon us on his riding beast and ‘Usamah bin Zaid was sitting behind him. The Apostle of Allaah(ﷺ) called for drink. Nabidh was brought to him and he drank from it and gave its left over to Usamah bin Zaid who drank from it. The Apostle of Allaah (ﷺ) then said “You have done a good and handsome deed and do it in a similar way . It is due to this we are doing so, we do not want to change what the Apostle of Allaah (ﷺ)had said.

بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ ( کھجور کا شربت ) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے ( قریش ) دودھ ، شہد اور ستو پلاتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں ؟ ابن عباس نے کہا : نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو “ ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا ، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 301
Hadith 2022
Chapter 659: Staying In Makkah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ هَلْ سَمِعْتَ فِي الإِقَامَةِ، بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لِلْمُهَاجِرِينَ إِقَامَةٌ بَعْدَ الصَّدَرِ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏

Umar bin ‘Abd Al ‘Aziz asked Al Sa’ib bin Yazid “Did you hear anything relating to staying at Makkah(after the completion of the rites of Hajj)? He said “Ibn Al Hadrami told me that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “The Muhajirun(Immigrants) are allowed to stay at the Ka’bah (Makkah) for three days after the obligatory circumambulation (Tawaf Al Ziyarah or Sadr)”.

عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ

انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا : کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 302
Hadith 2023
Chapter 660: Praying In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَبِلاَلٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى ‏.‏

‘Abd Allaah bin Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) entered the Ka’bah and along with him entered Usamah bin Zaid, Uthman bin Talhah Al Hajabi and Bilal. He then closed the door and stayed there. ‘Abd Allah bin ‘Umar said “I asked Bilal when he came out What did the Apostle of Allaah(ﷺ) do (there)? He replied “He stood with a pillar on his left, two pillars on his right, and three pillars behind him. At that time the House (the Ka’bah) stood on six pillars. He then prayed.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے ، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا ، اور اس میں رکے رہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ وہ بولے : آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا ( اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 303
Hadith 2024
Chapter 660: Praying In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرِ السَّوَارِيَ قَالَ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلاَثَةُ أَذْرُعٍ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators. He (‘Abd Al Rahman bin Mahdi) did not mention the words “pillars”. This version adds “He then prayed and there was a distance of three cubits between him and the qiblah.”

اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں ستونوں کا ذکر نہیں ، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 304
Hadith 2025
Chapter 660: Praying In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ ‏.‏ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ‏.‏

This tradition has also been transmitted by Ibn ‘Umar through a different chain of narrators like the one narrated by Al Qa’nabi . This version has “ I forgot to ask the number of rak’ahs he offered.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ؟ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 305
Hadith 2026
Chapter 660: Praying In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

‘Abd Al Rahman bin Safwan said “I asked ‘Umar bin Al Khattab How did the Apostle of Allaah(ﷺ) do when he entered the Ka’bah? He said “He offered two rak’ahs of prayer.”

عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ

میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 306
Hadith 2027
Chapter 660: Praying In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ قَالَ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَفِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَفِي زَوَايَاهُ ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ‏.‏

‘Abbas said “When the Prophet (ﷺ) came to Makkah he refused to enter the House (the Ka’bah) for there were idols in it. He ordered to take them out and they were taken out. The statues of Abraham and Isma’il were taken out and they had arrows in their hands. Apostle of Allaah(ﷺ) said “May Allaah destroy them! By Allaah, they knew that they never cast lots by arrow. He then entered the House(the Ka’bah) and uttered the takbir (Allaah is most great) in all its sides and corners. He then came out and did not pray.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے ، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ انہیں ہلاک کرے ، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں ( ابراہیم اور اسماعیل ) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا “ ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں ، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 307
Hadith 2028
Chapter 661: Regarding Salat In The Hijr - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ فَقَالَ ‏ "‏ صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

I liked to enter the House (the Ka'bah) and pray therein. The Messenger of Allah (ﷺ) caught me by hand and admitted me to al-Hijr. He then said: Pray in al-Hijr when you intend to enter the House (the Ka'bah), for it is a part of the House (the Ka'bah). Your people shortened it when they built the Ka'bah, and they took it out of the House.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا ، اور فرمایا : ” جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے ، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 308
Hadith 2029
Chapter 662: Entering The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىَّ وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Prophet (ﷺ) went out from me, while he was happy, but he returned to me while he was sad. He said: I entered the Ka'bah, I know beforehand about my affair what I have come to know later I would not have entered it. I am afraid I have put my community to hardship.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا ، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 309
Hadith 2030
Chapter 662: Entering The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ الأَسْلَمِيَّةَ، تَقُولُ قُلْتُ لِعُثْمَانَ مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دَعَاكَ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَىْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ‏.‏

Al-Aslamiyyah said:

I said to Uthman ibn Talhah al-Hajabi): What did the Messenger of Allah (ﷺ) say to you when he called you? He said: (The Prophet said:) I forgot to order you to cover the two horns (of the lamb), for it is not advisable that there should be anything in the House (the Ka'bah) which diverts the attention of the man at prayer. Ibn as-Sarh said: The name of my maternal uncle is Musafi' ibn Shaybah.

اسلمیہ کہتی ہیں کہ

میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 310
Hadith 2031
Chapter 663: Regarding The Wealth In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ شَيْبَةَ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - قَالَ قَعَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فِي مَقْعَدِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ فَقَالَ لاَ أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ ‏.‏ قَالَ بَلَى لأَفْعَلَنَّ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ ‏.‏ قَالَ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَأَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُخْرِجَاهُ ‏.‏ فَقَامَ فَخَرَجَ ‏.‏

Shaibah bin ‘Uthman said “‘Umar bin Al Khattab was sitting in the place where you are sitting. He said I shall not go out until I distribute the property of The Ka’bah. I said “You will not do it.” He asked “Why?” I said “For the Apostle of Allaah(ﷺ) and Abu Bakr had seen its place and they were more in need of the property than you, but they did not take it out. He (‘Umar) stood up and went out.”

شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا : میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ ( محتاج مسلمانوں میں ) تقسیم نہ کر دوں ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، فرمایا : کیوں نہیں ، میں ضرور کروں گا ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، وہ بولے : کیوں ؟ میں نے کہا : اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی ، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا ، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 311
Hadith 2032
Chapter 663: Regarding The Wealth In The Ka'bah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ وَقَالَ مَرَّةً وَادِيَهُ وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ لِثَقِيفٍ ‏.‏

Narrated Az-Zubayr:

When we came along with the Messenger of Allah (ﷺ) from Liyyah and we were beside the lote tree, the Messenger of Allah (ﷺ) stopped at the end of al-Qarn al-Aswad opposite to it. He then looked at Nakhb or at its valley. He stopped and all the people stopped. He then said: The game of Wajj and its thorny trees are unlawful made unlawful for Allah. This was before he alighted at at-Ta'if and its fortress for Thaqif.

زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا ( اور راوی نے کبھی ( «نخبا» کے بجائے «واديه» کا لفظ کہا ) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا : ” صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں ، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں “ ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 312
Hadith 2033
Chapter 664: On Going To Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Journey should not be made(to visit any masjid) except towards three masjids:

The sacred masjid(of Makkah), this masjid of mine and Al Aqsa masjid(in Jerusalem).

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں : مسجد الحرام ، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد اقصی کے لیے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 313
Hadith 2034
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ ‏"‏ ‏.‏

‘Ali said “We wrote down nothing on the authority of the Apostle of Allaah(ﷺ) but the Qur’an and what this document contains.”. He reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ Madeenah is sacred from A’ir to Thawr so if anyone produces an innovation (in it) or gives protection to an innovator the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. The protection granted by Muslim is one (even if) the humblest of them grants it. So if anyone breaks a covenant made by a Muslim the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. If anyone attributes his manumission to people without the permission of his masters the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں ) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت ( نئی بات ) نکالے ، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل ، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے ) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا ، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل ، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 314
Hadith 2035
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِهَا وَلاَ يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلاَّ أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

The Prophet (ﷺ) said: Its (Medina's) fresh grass is not to be cut, its game is not to be driven away, and things dropped in it are to be picked up by one who publicly announces it, and it is not permissible for any man to carry weapons in it for fighting, and it is not advisable that its trees are cut except what a man cuts for the fodder of his camel.

علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے ، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے ، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے ، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 315
Hadith 2036
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا لاَ يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلاَ يُعْضَدُ إِلاَّ مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ ‏.‏

‘Adi bin Zaid said “The Apostle of Allaah(ﷺ) declared Madeenah a protected land a mail-post(three miles) from each side. Its trees are not to be beaten off or to be cut except what is taken from the Camel.

عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے ( بہ قدر ضرورت ) ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 316
Hadith 2037
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلاً يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلاَ أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ ‏.‏

Narrated Sulayman ibn AbuAbdullah:

Sulayman ibn AbuAbdullah said: I saw Sa'd ibn AbuWaqqas seized a man hunting in the sacred territory of Medina which the Messenger of Allah (ﷺ) had declared to be sacred. He took away his clothes from him. His patrons came to him and spoke to him about it, but he replied: The Messenger of Allah (ﷺ) declared this territory to be sacred, saying: If anyone catches someone hunting in it he should take away from him his clothes. So I shall not return to you a provision which the Messenger of Allah (ﷺ) has given me, but if you wish I shall pay you its price.

سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ

میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا ، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات ( ۷ ) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی ، آپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے : ” جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے “ ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 317
Hadith 2038
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ مَوْلًى، لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا، وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ - يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَىْءٌ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏

A client of Sa’ad said “Sa’ad found some slaves from the slaves of Medina cutting the trees of Medina.” So, he took away their property and said to their patrons “I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting to cut any tree of Medina”. He said “If anyone cuts any one of them, what is taken from him will belong to the one who seizes him.”

سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ

سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 318
Hadith 2039
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُخْبَطُ وَلاَ يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Prophet (ﷺ) said: The leaves should not be beaten off and the trees should not be cut in the protected land of the Messenger of Allah (ﷺ), but the leaves can be beaten off softly.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 319
Hadith 2040
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِي قُبَاءً مَاشِيًا وَرَاكِبًا زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Ibn ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) used to visit Quba on foot and riding. Ibn Numair added “and he used to offer two rak’ahs of prayer.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار ( دونوں طرح سے ) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں ” اور دو رکعت پڑھتے تھے “ ( کا اضافہ ہے ) ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 320
Hadith 2041
Chapter 666: Visiting Graves - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَىَّ إِلاَّ رَدَّ اللَّهُ عَلَىَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 321
Hadith 2042
Chapter 666: Visiting Graves - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلاَ تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 322
Hadith 2043
Chapter 666: Visiting Graves - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدِينِيُّ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ - قَالَ مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ ‏"‏ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Rabi'ah ibn al-Hudayr:

Rabi'ah ibn al-Hudayr said: I did not hear Talhah ibn Ubaydullah narrating any tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) except one tradition. I (Rabi'ah ibn AbuAbdurRahman) asked: What is that? He said: We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) who was going to visit the graves of the martyrs. When we ascended Harrah Waqim, and then descended from it, we found there some graves at the turning of the valley. We asked: Messenger of Allah, are these the graves of our brethren? He replied: Graves of our companions. When we came to the graves of martyrs, he said: These are the graves of our brethren.

ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ

میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا ، میں نے عرض کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں ، ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ “ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 323
Hadith 2044
Chapter 666: Visiting Graves - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏

Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) made his Camel kneel down at Al Batha which lies in Dhu Al Hulaifa and prayed there. Abd Allah bin ‘Umar too used to do so.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی ، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 324
Hadith 2045
Chapter 666: Visiting Graves - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسَ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ لأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَّسَ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ قَالَ الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ‏.‏

Narrated Malik:

One should not exceed al-Mu'arras when one returns to Medina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah (ﷺ) halted there at night. Abu Dawud said: I heard Muhammad b. Ishaq al-Madini say: Al-Mu'arras lies at a distance of six miles from Medina.

مالک کہتے ہیں

جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا : معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 325
Page 13 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 325 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 13 of 13
Ready to play
0:00 / 0:00