Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 11

The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj)

كتاب المناسك

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 325 hadiths in this chapter

Hadith 1771
Chapter 588: The Time Of Ihram - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ ‏.‏

Ibn `Umar said this is your al-Baida’ about which you ascribe falsehood to the Messenger of Allah (SWAS). He did not raise his voice in talbiyah but from the masjid, i.e. the mosque of Dhu al-Hulaifah.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ

یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 51
Hadith 1772
Chapter 588: The Time Of Ihram - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ‏.‏ قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فِإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ‏.‏

Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar:

AbuAbdurRahman, I saw you doing things which I did not see being done by your companions. He asked: What are they, Ibn Jurayj? He replied: I saw you touching only the two Yamani corners; and I saw you wearing shoes having no hair; I saw you dyeing in yellow colour; and I saw you wearing ihram on the eighth of Dhul-Hijjah, whereas the people had worn ihram when they sighted the moon. Abdullah ibn Umar replied: As regards the corners, I have not seen the Messenger of Allah (ﷺ) touching anything (in the Ka'bah) but the two Yamani corners. As for the tanned leather shoes, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing tanned leather shoes, and he would wear them after ablution. Therefore I like to wear them. As regards wearing yellow, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing yellow, so I like to wear with it. As regards shouting the talbiyah, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) raising his voice in talbiyah when his she-camel stood up with him on its back.

عبید بن جریج سے روایت ہے کہ

انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے ؟ انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہیں ابن جریج ؟ وہ بولے : میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں ، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے ، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں ، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے ، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے ، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں ، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے ، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں ، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 52
Hadith 1773
Chapter 588: The Time Of Ihram - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ ‏.‏

Anas said :

Messenger of Allah (SWAS) prayed four rak’ahs at Madinah and prayed two rak’ahs of afternoon prayer at Dhu-al Hulaifah. He then passed the night at Dhu-al Hulaifah till the morning came. When he rode on his mount and it stood up on its back, he raised his voice in talbiyah.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی ، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 53
Hadith 1774
Chapter 588: The Time Of Ihram - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا عَلاَ عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

The Prophet (ﷺ) offered the noon prayer, and then rode on his mount. When he came to the hill of al-Bayda', he raised his voice in talbiyah.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی ، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 54
Hadith 1775
Chapter 588: The Time Of Ihram - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَخَذَ طَرِيقَ الْفُرْعِ أَهَلَّ إِذَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَإِذَا أَخَذَ طَرِيقَ أُحُدٍ أَهَلَّ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ ‏.‏

Narrated Sa'd ibn Abi Waqqas:

When the Prophet of Allah (peace be upon him0 undertook his journey by the way of al-Far', he shouted talbiyah when his mount stood up with him on its back. But when he travelled by the way of Uhud, he raised his voice in Talbiyah when he ascended the hill of al-Bayda'.

عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرع کا راستہ ( جو مکہ کو جاتا ہے ) اختیار کرتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 55
Hadith 1776
Chapter 589: Stipulating Conditions During Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏ ‏.‏

Ibn `Abbas said:

Duba`ah, daughter of al-Zubair bin `Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah(SWAS) and said Messenger of Allah (SWAS) I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied : Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ( لگا سکتی ہو ) “ ، انہوں نے کہا : تو میں کیسے کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو ! «لبيك اللهم لبيك ، ومحلي من الأرض حيث حبستني» ” حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں ، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 56
Hadith 1777
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏

Ai’shah said :

The Messenger of Allah (SWAS) performed Hajj exclusively (without performing `Umrah in the beginning).

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 57
Hadith 1778
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَافِينَ هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ ‏"‏ فَإِنِّي لَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏"‏ وَأَمَّا أَنَا فَأُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقُوا فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْفُضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُوسَى ‏"‏ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ ‏"‏ وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ - يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ‏.‏ زَادَ مُوسَى فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَضَى اللَّهُ عُمْرَتَهَا وَحَجَّهَا ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْىٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ مُوسَى فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها ‏.‏

Ai’shah said :

We went out along with The Messenger of Allah (SWAS) when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said : Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform `Umrah should raise his voice in talbiyah for an `Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an `Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Ai’shah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah (SWAS) entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your `Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah (SWAS) commanded `Abd al-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Ka’bah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj. Hisham said : No sacrificial animal was offered during all this time. In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے ، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے “ ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا “ ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : ” رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے “ ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی ، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیوں رو رہی ہو ؟ “ ، میں نے عرض کیا : میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا عمرہ چھوڑ دو ، سر کھول لو اور کنگھی کر لو “ ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے : ” اور حج کا احرام باندھ لو “ ، اور سلیمان کی روایت میں ہے : ” اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں “ ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے ۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا ، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا ۔ ہشام کہتے ہیں : اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 58
Hadith 1779
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ‏.‏

Ai’shah wife the Prophet (SWAS) narrated we went out with the Messenger of Allah (SWAS) at the farewell pilgrimage. Some of us had put on Ihram for `Umrah and some both for Hajj and `Umrah, when the Messenger of Allah (SWAS) had put on Ihram for Hajj only.He who had put on Ihram for 'Umrah, put off Ihram after performing `Umrah and he who had worn Ihram both for Hajj and `Umrah or only for Hajj did not take it off till the tenth (of the month).

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا ، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک احرام نہیں کھولا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 59
Hadith 1780
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَحَلَّ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been narrated by Abu al-Aswad through a different chain of narrators. This version adds he who raises his voice in talbiyah for `Umrah (and wearing Ihram for it) should put off Ihram after performing `Umrah.

اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے

البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : ” رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے ( عمرہ کر کے ) احرام کھول دیا “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 60
Hadith 1781
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرُوا طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ‏.‏

Ai’shah the wife of the Prophet (SWAS) said :

We went out with the Messenger of Allah (SWAS) at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Apostel of Allah (SWAS) said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Ka’bah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah (SWAS) he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let `Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah (SWAS) sent me along with `Abd al-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed `Umrah. He said, this is `Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for `Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Ka’bah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and `Umrah performed only one circumambulation.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے “ ، چنانچہ میں مکہ آئی ، میں حائضہ تھی ، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” اپنا سر کھول لو ، کنگھی کر لو ، حج کا احرام باندھ لو ، اور عمرے کو ترک کر دو “ ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا ، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا ، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا ، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 61
Hadith 1782
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَلِكَ شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ ‏.‏

Ai’shah said :

We raised our voices in talbiyah for Hajj. When we reached Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah (SWAS) came upon me while I was weeping. He asked, why are your weeping, Ai’shah? I replied, I menstruated. Would that I had not come out for performing Hajj. He said : Glory be to Allah, this is a thing prescribed by Allah on the daughters of Adam. He said perform all the rites of Hajj but do not go round the House (the Ka’bah). When we entered Makkah, the Messenger of Allah (SWAS) said he who desires to make (his Hajj) an `Umrah may do so, except those who have sacrificial animals with them. The Messenger of Allah (SWAS) sacrificed a cow on behalf of his wives on the day of sacrifice. When the night of al-Batha came, and Ai’shah was purified she said to the Messenger of Allah (SWAS) my fellow female pilgrims will return after performing Hajj and `Umrah and I shall return after performing only Hajj? He therefore, ordered `Abd al-Rahman bin Abu Bakr who took her to al-Ta’nim. She uttered there talbiyah for `Umrah.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی ، آپ نے پوچھا : ” عائشہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ “ ، میں نے کہا : مجھے حیض آ گیا کاش میں نے ( امسال ) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی ذات پاک ہے ، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے “ ، پھر فرمایا : ” تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ “ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی ۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 62
Hadith 1783
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يُحِلَّ فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ ‏.‏

A’ishah said “We went out with the Messenger of Allah(ﷺ) and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Ka’bah). The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎ ، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 63
Hadith 1784
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْىَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ أَحْسِبُهُ قَالَ ‏"‏ وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا ‏.‏

A’ishah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad(bin Yahya) said “ I think he(’Uthman bin ‘Umar) said and I would have taken off my ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah. He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites(of Hajj)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا “ ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 64
Hadith 1785
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا فَقَالَ ‏"‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الآنَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ ‏.‏ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَجَجْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ ‏.‏

Jabir said “We went out along with the Messenger of Allah(ﷺ) raising our voices in talbiyah for Hakk alone(Ifrad) while A’ishah raised her voice in talbiyah for an ‘Umrah. When she reached Sarif, she menstruated. When we came to (Makkah) we circumambulated the Ka’bah and ran between al Safa’ and al Marwah. The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded us that those who had not brought sacrificial animals withthem should put off their ihram (after ‘Umrah). We asked “Which acts are lawful(and which not)? He replied All acts are lawful (that are permissible usually). We had therefore intercourse with our wives, used perfumes, put on our clothes. There remained only four days to perform Hajj at ‘Arafah. We then raised our voice in talbiyah (wearing Ihram for Hajj) on the eighth of Dhu al Hijjah. The Messenger of Allah(ﷺ) entered upon A’ishah and found her weeping. He said What is the matter with you? My problem is that I have menstruated, while the people have put on their ihram but I have not done so, nor did I go round the House(the Ka’bah). Now the people are proceeding for Hajj. He said This is a thing destined by Allah to the daughters of Adam. Take a bath, then raise your voice in talbiyah for Hajj(i.e, wear ihram for Hajj). She took a abtah and performed all the rites of the Hajj(lit. she stayed at all those places where the pilgrims stay). When she was purified, she circumambulated the House (the Ka’bah), and ran between al Safa’ and al Marwah. He (the Prophet) said “Now you have performed both your Hajj and your ‘Umrah. She said Messenger of Allah, I have some misgiving in my mind that I did not go round the Ka’bah when I performed Hajj (in the beginning). He said ‘Abd al Rahman (her brother), take her and have her perform ‘Umrah from Al Tan’im. This happened on the night of Al Hasbah(i.e., the fourteenth of Dhu Al Hijjah).

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں ، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں ، ہم نے کہا : کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز حلال ہے “ ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی ، خوشبو لگائی ، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں ، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا ، پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ ، وہ بولیں : مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں ، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو “ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں “ ، وہ بولیں : اللہ کے رسول ! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبدالرحمٰن ! انہیں لے جاؤ ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ “ ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 65
Hadith 1786
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ بِبَعْضِ هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلاَ تُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version has The Prophet(ﷺ) said “Raise your voice in talbiyah for Hajj and then perform Hajj, and do so all the pilgrims do, except that you should not circumambulate the Hose(the Ka’bah) and should not pray.

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے ، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» ” یعنی حج کا احرام باندھ لو “ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 66
Hadith 1787
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ خَالِصًا لاَ يُخَالِطُهُ شَىْءٌ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَحِلَّ وَقَالَ ‏"‏ لَوْلاَ هَدْيِي لَحَلَلْتُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلْ هِيَ لِلأَبَدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي ‏.‏

Jabir bin Abdullah said “We raised our voices in talbiyah along with the Apostle of Allaah(ﷺ) exclusively for Hajj, not combining anything with it. When we came to Makkah four days of Dhu al Hijjah had already passed. We the circumambulated (the Ka’bah) and ran between Al Safa’ and Al Marwah . The Apostle of Allaah(ﷺ) then commanded us to put off ihram. He said if I had not brought the sacrificial animals, I would have taken off Ihram. Suraqah bin Malik then stood up and said Apostle of Allaah , what do you think, have you provided this facility to us for this year alone or forever? The Apostle of Allaah said No, this forever and forever. Al Awza’l said I heard Ata bin Abi Rabah narrating this tradition, but I did not memorize it till I met Ibn Juraij who confirmed it for me.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا ، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا ، سعی کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا : ” اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا “ ، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! یہ ہمارا متعہ ( حج کا متعہ ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نہیں ) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ اوزاعی کہتے ہیں : میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 67
Hadith 1788
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ قَدِمُوا فَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ‏.‏

Jabir said The Apostle of Allaah(ﷺ) and his companions came to Makkah on the fourth of Dhu Al Hijjah. When they circumambulated the Ka’bah and ran between al Safa’ and al Marwah the Apostle of Allaah(ﷺ) said Change this (Hajj) into ‘Umrah, except those who have brought the sacrificial animals with them. When the eighth of Dhul Al Hijjah came, they raised their voices in talbiyah for Hall. When the tenth of Dhul Al Hijjah came, they circumambulated the Ka’bah, but did not run between al Safa’ and Al Marwah.

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد ( مکہ ) آئے ، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو “ ، پھر جب یوم الترویہ ( آٹھواں ذی الحجہ ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا ، جب یوم النحر ( دسواں ذی الحجہ ) ہوا تو وہ لوگ ( مکہ ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 68
Hadith 1789
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، - يَعْنِي الْمُعَلِّمَ - عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْىٌ إِلاَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالُوا أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ‏"‏ ‏.‏

Jabir bin Abdullah said The Apostle of Allaah(ﷺ) and his companions raised their voices in talbiyah for Hajj. No one of them had brought the sacrificial animals with them except the Prophet(ﷺ) and Talhah. Ali (may Allaah be pleased with him) had returned from Yemen and had brought sacrificial animals with him. He said I raised my voice in talbiyah for which the Apostle of Allaah (ﷺ) raised his voice. The Prophet (ﷺ) commanded his companions to change it into ‘Umrah and clip their hair after running (between Al Safa’ and Al Marwah), and then take off their ihram except those who brought the sacrificial animals with them. They remarked should we go to Mina with our penises dripping with prostatic fluid? These remarks reached the Apostle of Allaah(ﷺ). Thereupon he said “had I known before hand about my affair what I have come to know later, I would not have brought sacrificial animals. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have put off my ihram. “

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا : میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو ، تو لوگوں نے عرض کیا : کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا : ” اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا “ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 69
Hadith 1790
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْىٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ وَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُنْكَرٌ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying This is an ‘Umrah from which we have benefitted. Anyone who has brought sacrificial animal with him should take off ihram totally. ‘Umrah has been included in Hajj till the Day of Judgment. Abu Dawud said This is a munkar (uncommon) tradition. This is in fact the statement of Ibn ‘Abbas himself.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ عمرہ ہے ، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے ، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ( مرفوع حدیث ) منکر ہے ، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 70
Hadith 1791
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ وَهِيَ عُمْرَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَطَاءٍ دَخَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ خَالِصًا فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمْرَةً ‏.‏

Ibn ‘Abbas reported the Prophet(ﷺ) as saying If a man raises his voice in talbiya for Hajj, then he comes to Makkah, goes round the House(the Ka’bah) and runs between Al Safa’ and Al Marwah he may take off his ihram. That will be considered as ihram for ‘Umrah. Abu Dawud said Ibn Juraij narrated from a man on the authority of ‘Ata that the companions of the Prophet (ﷺ) entered Makkah raising their voices in talbiyah for Hajj alone, but the Prophet (ﷺ) changed it to ‘Umrah.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ

آپ نے فرمایا : ” جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 71
Hadith 1792
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، - قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى، - عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ - وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ وَلَمْ يُقَصِّرْ ثُمَّ اتَّفَقَا - وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْىِ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يَحِلَّ ‏.‏ زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) raised his voice in talbiyah for hajj. When he came (to Mecca) he went round the House (the Ka'bah) and ran between as-Safa and al-Marwah. The narrator Ibn Shawkar said: He did not clip his hair, nor did he take off his ihram due to sacrificial animals. But he commanded those who did not bring sacrificial animals with them to go round the Ka'bah, to run between as-Safa and al-Marwah, to clip their hair, and then put off their ihram. The narrator Ibn Mani' added: Or shave their heads, then take off their ihram."

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا ، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے ، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 72
Hadith 1793
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ ‏.‏

Narrated Sa'id ibn al-Musayyab:

A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) came to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him). He bore witness before him that when he (the Prophet) was suffering from a disease of which he died he heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting performing of umrah before hajj.

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 73
Hadith 1794
Chapter 590: Performing The Ifrad Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ، خَيْوَانَ بْنِ خَلْدَةَ مِمَّنْ قَرَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كَذَا وَكَذَا وَعَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالُوا أَمَّا هَذَا فَلاَ ‏.‏ فَقَالَ أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ ‏.‏

Narrated Mu'awiyah ibn AbuSufyan:

Mu'awiyah said to the Companions of the Prophet (ﷺ): Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited from doing so and so (and he prohibited from) riding on the skins of leopards? They said: Yes. He again said: You know that he prohibited combining hajj and umrah. They replied: This we do not (know). He said: This was prohibited along with other things, but you forgot.

ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ ( جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ) سے روایت ہے کہ

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، پھر معاویہ نے پوچھا : تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قران ) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے ، تو انہوں نے کہا : یہ بھی انہی ( ممنوعات ) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 74
Hadith 1795
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ‏"‏ ‏.‏

Anas bin Malik said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) uttering talbiyah(labbaik) aloud for both Hajj and ‘Umrah. He was saying in a loud voice “Labbaik for ‘Umrah and Hajj, labbaik for ‘Umrah and Hajj”.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے : «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔

In-book reference : Book 11, Hadith 75
Page 3 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 325 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 3 of 13 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00