Ibrahim bin ’Uqabah said “Kuraib told me that he asked Umamah bin Zaid saying tell me how you did in the evening when you rode behind the Apostle of Allaah(ﷺ). He said “We came to the valley where the people make their Camels kneel down to take rest at night.” The Apostle of Allaah(ﷺ) made his she Camel kneel down and he then urinated. He then called for water for ablution and performed the ablution but he did not perform minutely (but performed lightly). I asked Apostle of Allaah(ﷺ), prayer? He replied “Prayer ahead of you”. He then mounted (the Camel) till we came to Al Muzadalifah. There iqamah for the sunset prayer was called. The people then made their Camels kneel down at their places. The Camels were not unloaded as yet, iqamah for the night prayers was called and he prayed. The people then unloaded the Camels. The narrator Muhammad added in his version of the tradition How did you do when the morning came? He replied Al Fadl rode behind him and I walked on foot among the people of the Quraish who went ahead.
کریب کہتے ہیں کہ
میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا : جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا ؟ وہ بولے : ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی ، پھر پیشاب کیا ، ( زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا ، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نماز ، ( پڑھی جائے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز آگے چل کر ( پڑھیں گے ) “ ۔ اسامہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے ، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے ، ( محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں ) پھر میں نے پوچھا : صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے ، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا ۔
The Prophet then took up Usamah behind him (on the camel), and drove the camel at a quick pace. The people were beating their camels right and left, but he did not pay attention to them; he was saying: O people, preserve a quiet demeanour. He proceeded (from Arafat) when the sun had set.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
پھر ( ارکان عرفات سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے ، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے : ” لوگو ! اطمینان سے چلو “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا ۔
Hisham bin ‘Urwah reported on the authority of his father Usamah bin Zaid was asked when I was sitting along with him, how did the Apostle of Allaah(ﷺ) travel during the Farewell Pilgrimage when he proceeded from ‘Arafah to Al Muzdalifah? He replied he was travelling at a quick pace and when he found an opening he urged on his Camel. Hisham said “Nass(running or urging on the Camel) is above ‘anaq(going at a quick pace).”
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے ؟ فرمایا : تیز چال چلتے تھے ، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے ۔ ہشام کہتے ہیں : «نص» ، «عنق» سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں ۔
The Apostle of Allaah(ﷺ) returned from ‘Arafah. When he came to the mountain path , he alighted, urinated and performed the ablution, but he did not perform it completely. I said to him Prayer? He said “The prayer will be offered ahead of you.” He then mounted. When he reached Al Muzdalifah he alighted performed the ablution, performed it well. Thereafter iqamah for the prayer was called and he offered the sunset prayer. Then everyone made his Camel kneel down at his place. Iqamah was then called for night prayer and he offered it but he did not pray between them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کی روایت ہے کہ
انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے ، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا ، میں نے آپ سے عرض کیا : نماز ( کا وقت ہو گیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز آگے چل کر پڑھیں گے “ ، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا ، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ۔
The aforesaid tradition has been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version adds “Each prayer with an iqamah”. Ahmad reported on the authority of Waki’ “he offered each prayer with a single iqamah.”
اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا ۔ احمد کہتے ہیں : وکیع نے کہا : ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted to the same effect by by Al Zuhri with a different chain of narrators beginning with Ibn Hanbal on the authority of Hammad. This version adds “With an iqamah for every prayer, he did not call adhan for the first prayer and he did not offer supererogatory prayer after any of them. The narrator Makhlad said “He did not call adhan for any of them.”
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے
اس میں ہے : ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی ۔ مخلد کہتے ہیں : ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی ۔
I offered three rak'ahs of the sunset prayer and two rak'ahs of the night prayer along with Ibn Umar. Thereupon Malik ibn al-Harith said: What is this prayer? He said: I offered these prayers along with the Messenger of Allah (ﷺ) in this place with a single iqamah.
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی ، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا : یہ کون سی نماز ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں ۔
Sa’id bin Jubair and ‘Abd Allah bin Malik said “We offered the sunset and the night prayers at Al Muzdalifah along with ibn ‘Umar with one iqamah.” The narrator then narrated the rest of the tradition as reported by Ibn Kathir.
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے
وہ دونوں کہتے ہیں : ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں ، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔
Sa’id bin Jubair said “We returned along with Ibn ‘Umar and when we reached Al Muzdalifah he led us in the sunset and night prayers with one iqamah and three rak’ahs of the sunset prayer and two rak’ahs of the night prayer. When he finished the prayer Ibn ‘Umar said to us The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer in this way at this place.”
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
ہم ( عرفات سے ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے ، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء ، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا : اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑھائی تھی ۔
Salamah bin Kuhail said “I saw Sa’id bin Jubair he called the iqamah at Al Muzdalifah and offered three ra’kahs of the sunset prayer and two ra’kahs of the night prayer. He then said “I attended Ibn ‘Umar.” He did like this in this place and he (Ibn ‘Umar) said “I attended the Apostle of Allaah(ﷺ)”. He did in a similar way in this place.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں
میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت ، پھر آپ نے کہا : میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا ۔
Ash’ath bin Sulaim reported on the authority of his father “I proceeded along with Ibn ‘Umar from ‘Arafah towards Al Muzdalifah.” He was not tiring of uttering “Allaah is most great” and “There is no god but Allaah”, till we came to Al Muzdalifah. He uttered the adhan and the iqamah or ordered some person who called the adhan and the iqamah. He then led us the three rak’ahs of the sunset prayers and turned to us and said (Another) prayer. Thereafter he led us in the two rak’ahs of the night prayer. Then he called for his dinner. He (Ash’ath) said ‘Ilaj bin ‘Amr reported a tradition like that of my father on the authority of Ibn ‘Umar. Ibn ‘Umar was asked about it. He said “I prayed along with the Apostle of Allaah(ﷺ) in a similar manner.”
سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے ، جب ہم مزدلفہ آ گئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت ، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے ، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی ، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا ۔ اشعث کہتے ہیں : اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے ۔
Ibn Mas’ud said “ I never saw the Apostle of Allaah(ﷺ) observe a prayer out of its proper time except(two prayers) at Al Muzdalifah. He combined the sunset and night prayers at Al Muzdalifah and he offered the dawn prayer that day before its proper time.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے ، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎ ۔
When the morning came, the Prophet (ﷺ) stood at the mountain Quzah and said: This is Quzah, and this is a place of stationing, and the whole of al-Muzdalifah is a place of stationing. I sacrificed the animals here, and the whole of Mina is a place of sacrifice. So sacrifice in your dwellings.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( مزدلفہ میں ) جب آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” یہ قزح ہے اور یہ موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے ، اور مزدلفہ پورا موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے ، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کر لو “ ۔
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying “I halted here in ‘Arafah and the whole of ‘Arafah is a place of halting. I halted here in Al Muzdalifah and the whole of Al Muzdalifah is a place of halting. I sacrificed the animals here and the whole of Mina is a place of sacrifice. So sacrifice in your dwellings.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے ، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے ، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو “ ۔
Jabir bin ‘Abdallah reported the Apostle of Allaah (ﷺ) as saying “The whole of ‘Arafah is a place of halting, the whole of Mina is a place of sacrifice, the whole of Al Muzdalifah is a place of halting and all the passes of Makkah are a thoroughfare and a place of sacrifice.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے “ ۔
Chapter 632: Salat Al Jam' (Al-Muzdalifah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوُا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
The Arabs in the pre-Islamic period did not return from al-Muzdalifah till they saw sunlight at the mountain Thabir. The Prophet (ﷺ) opposed them and returned before the sunrise.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی ( مزدلفہ سے ) چل پڑے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) sent ahead some boys from Banu AbdulMuttalib on donkeys on the night of al-Muzdalifah. He began to pat our thighs (out of love) and said: O young! boys do not throw pebbles at the jamrah till the sun rises.
Abu Dawud said: The Arabic word al-lath means to strike softly.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے میرے چھوٹے بچو ! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «لطح» کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to send ahead the weak members of his family in darkness (to Mina), and command them not to throw pebbles at jamrahs until the sun rose.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے ۔
Chapter 633: Leaving Early From Jam' (Al-Muzdalifah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَعْنِي - عِنْدَهَا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) sent Umm Salamah on the night before the day of sacrifice and she threw pebbles at the jamrah before dawn. She hastened (to Mecca) and performed the circumambulation. That day was the one the Messenger of Allah (ﷺ) spent with her.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات ( دسویں رات ) کو ( منیٰ کی طرف ) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا ، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 633: Leaving Early From Jam' (Al-Muzdalifah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ قُلْتُ إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ . قَالَتْ إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ata' said:
A reporter reported to me about Asma' that she threw pebbles at the jamrah at night. I said: We threw pebbles (at the jamrah) at night. She said: We used to do so in the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ).
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں ، مخبر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
Chapter 633: Leaving Early From Jam' (Al-Muzdalifah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
The Messenger of Allah (ﷺ) hastened from al-Muzdalifah with a quite demeanour and ordered them (the people) to throw small pebbles and he hastened in the valley (wadi) of Muhassir.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) halted on the day of sacrifice between the jamrahs (pillars at Mina) during hajj which he performed. He asked: Which is this day? They replied: This is the day of sacrifice. He said: This is the day of greater hajj.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز ( دسویں ذی الحجہ کو ) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا : ” یہ کون سا دن ہے ؟ “ ، لوگوں نے جواب دیا : یوم النحر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی حج اکبر کا دن ہے ۱؎ “ ۔
Abu Bakr sent me among those who proclaim at Mina that no polytheist should perform Hajj after this year and no naked person should go round the House (the Ka'bah), and that the day of greater Hajj is the day of sacrifice, and the greater Hajj is the Hajj.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا ، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے ۔
The Prophet (ﷺ) gave a sermon during his hajj and said: Time has completed a cycle and assumed the form of the day when Allah created the heavens and the earth. The year contains twelve months of which four are sacred, three of them consecutive, viz. Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram and also Rajab of Mudar which comes between Jumadah and Sha'ban.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا : ” زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی ، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں : تین لگاتار ہیں ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Bakrah through a different chain of narrators.
Abu Dawud said:
Ibn 'Awn has mentioned his ('Abu Bakrah's) name and narrated this tradition: From 'Abd al-Rahman b. Abi Bakrah on the authority of Abu Bakrah.
اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے «عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة» ۔
I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj).
So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him.
The narrator said: He (the Prophet) then put a man behind him on the camel. He began to proclaim this loudly.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mahran from Sufyan in a similar way. This version adds: The Hajj, the Hajj, twice. The version narrated by Yaya b. Sa'id al-Qattan has the words: The Hajj only once.
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ عرفات میں تھے ، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے ، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی : اللہ کے رسول ! حج کیوں کر ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا : ” حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا ، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے ۔
Chapter 636: Whoever Missed 'Arafah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَوْقِفِ - يَعْنِي بِجَمْعٍ قُلْتُ جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ جَبَلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَأَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ " .
Narrated Urwah ibn Mudarris at-Ta'i:
I came to the Messenger of Allah (ﷺ) at the place of halting, that is, al-Muzdalifah. I said: I have come from the mountains of Tayy. I fatigued my mount and fatigued myself. By Allah, I found no hill (on my way) but I halted there. Have I completed my hajj? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone who offers this prayer along with us and comes over to Arafat before it by night or day will complete his hajj and he may wash away the dirt (of his body).
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے ، میں نے عرض کیا : میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں ، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا ، اور خود کو بھی تھکا دیا ، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں ، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا ، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۲؎ “ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ فَقَالَ " لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا " . وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ " وَالأَنْصَارُ هَا هُنَا " . وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ " ثُمَّ لْيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ " .
AbdurRahman ibn Mu'adh said that he heard a man from the Companions of the Prophet (ﷺ) say:
The Prophet (ﷺ) addressed the people at Mina and he made them stay in their dwellings. He then said: The Muhajirun (Emigrants) should stay here, and he made a sign to the right side of the qiblah, and the Ansar (the Helpers) here, and he made a sign to the left side of the qiblah; the people should stay around them.
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے
وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا ، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا ، آپ نے فرمایا : ” مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا ، اور انصار یہاں اتریں ، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا ، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں “ ۔
Chapter 638: What Day Should A Sermon Be Delivered In Mina ? - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ، مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالاَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى .
Ibn AbuNajih reported from his father on the authority of two men from Banu Bakr who said:
We saw the Messenger of Allah (ﷺ) addressing (the people) in the middle of the tashriq days when we were staying near his mount. This is the address of the Messenger of Allah (ﷺ) which he gave at Mina.
بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو ) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے ، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا ۔
She was mistress of a temple in pre-Islamic days. She said: The prophet (ﷺ) addressed us on the second day of sacrifice (yawm ar-ru'us) and said: Which is this day? We said: Allah and His Apostle are better aware. He said: Is this not the middle of the tashriq days?
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں
مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں ( جس میں اصنام ہوتے تھے ) ، وہ کہتی ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ ( ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ ) کو خطاب کیا اور پوچھا : ” یہ کون سا دن ہے ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے “ ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا ۔
Chapter 640: What Time Should The Sermon Be Delivered On The Day Of The Sacrifice - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ - رضى الله عنه - يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ .
Narrated Rafi' ibn Amr al-Muzani:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) addressing the people at Mina (on the day of sacrifice) when the sun rose high (i.e. in the forenoon) on a white mule, and Ali (Allah be pleased with him) was interpreting on his behalf; some people were standing and some sitting.
رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے ، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us when we were at Mina. Our ears were open and we were listening to what he was saying, while we were in our dwellings. He began to teach them the rites of hajj till he reached the injunction of throwing pebbles at the Jamrahs (pillars at Mina). He put his forefingers in his ears and said: (Throw small pebbles. He then commanded the Emigrants (Muhajirun) to station themselves. They stationed themselves before the mosque. He then commanded the Helpers (Ansar) to encamp. They encamped behind the mosque. Thereafter the people encamped.
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے ، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے ۔
We sell the property of the people; so one of us goes to Mecca and passes the night there with the property (during the stay at Mina). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pass night and day at Mina.
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ
انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 642: On Spending Nights Of Mina In Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ .
Narrated Ibn 'Umar:
Al-'Abbas sought permission from the Messenger of Allah (ﷺ) to pass the night at Mecca during the period of his stay at Mina for distributing water among the people. He gave him permission.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
'Uthman prayed four rak'ahs at Mina. 'Abd Allah (b. Mas'ud) said: I prayed two rak'ahs along with the Prophet (ﷺ) and two rak'ahs along with 'Umar. The version of Hafs added: And along with 'Uthman during the early period of his caliphate. He ('Uthman) began to offer complete prayer (i.e. four rak'ahs) later on. The version of Abu Mu'awiyah added: Then your modes of action varied. I would like to pray two rak'ahs acceptable to Allah instead of four rak'ahs.
Al-A'mash said: Mu'awiyah b. Qurrah reported to me from his teachers: 'Abd Allah (b. Mas'ud) once prayed four rak'ahs. He was told: You criticized 'Uthman but you yourself prayed four ? He replied: Dissension is evil.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں ( اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں ، پھر وہ پوری پڑھنے لگے ، ( ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں ، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں ۔ اعمش کہتے ہیں : مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں ، تو ان سے کہا گیا : آپ نے عثمان پر اعتراض کیا ، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے ؟ تو انہوں نے کہا : اختلاف برا ہے ۔
When Uthman placed his property at at-Ta'if and intended to settle there, he prayed four rak'ahs. The rulers after him followed the same practice.
زہری کہتے ہیں
جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں ، وہ کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا ۔
Uthman offered complete prayer at Mina for the sake of bedouins who attended (hajj) in large numbers that year. He led the people four rak'ahs in prayer in order to teach them that the prayer (i.e. noon or afternoon prayer) essentially contained four rak'ahs.
زہری سے روایت ہے کہ
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو ، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
I prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rak'ahs in prayer in the Farewell Pilgrimage.
Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuza'ah, and they had their houses in Mecca.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ
مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی ، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے ، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے ۔
Chapter 645: Regarding Stoning The Jimar - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ فَقَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَازْدَحَمَ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
Narrated Sulaiman b. 'Amr b. al-Ahwas:
On the authority of his mother: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles at the jamrah from the botton of wadi (valley) while he was riding (on a camel). He was uttering the takbir (Allah is most great) with each pebble. A man behind him was shading him. I asked about the man. They (the people) said: He is al-Fadl b. al-'Abbas. The people crowded. The Prophet (ﷺ) said: 'O people, do not kill each other ; when you throw pebbled at the jamrah, throw small pebbles.
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا ، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے ( یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے ) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو “ ۔
Sulaiman b. 'Amr b. Ahwas reported on the authority of his mother:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) near the Jamrat al-Aqabah (the third or last pillar) riding (on a camel) and I saw a pebble between his fingers. He threw the pebbles and the people also threw (stones at the Jamrah).
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں ، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎ ۔
Chapter 645: Regarding Stoning The Jimar - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar. He (ibn Umar) used to come (to Mina) and threw pebbles three days after the day of sacrifice walking when arriving and returning (both ways). He reported that the Prophet (ﷺ) used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎ ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast and saying: Learn your rites, for I do not know whether I am likely to perform Hajj after this occasion.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں “ ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast in the forenoon, and next when the sun had passed the meridian.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ کو ) تو وہ زوال کے بعد کی ۔
I asked Ibn 'Umar: When should I throw pebbles at the jamrah? He replied: When your imam (leader at Hajj) throws pebbles, at that time you should throw them. I repeated the question to him. Thereupon he said: We used to wait for the time when the sun passes the meridian. When the sun declined, we threw the pebbles.
وبرہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں ؟ آپ نے کہا : جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو ، میں نے پھر یہی سوال کیا ، انہوں نے کہا : ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed the obligatory circumambulation of the Ka'bah at the end of the day of sacrifice after he had offered the noon prayer. He hen returned to Mina and stayed there during the tashriq days and he threw pebbles at the jamrahs when the sun declined. He threw seven pebbles at each of the jamrahs, uttering the takbir (Allah is most great) at the time of the throwing the pebble. He stood at the first and the second jamrah, and prolonged his standing there, making supplications with humilation. He threw pebbles at the third jamrah but did not stand there.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوم النحر ) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا ، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے ، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے ، روتے ، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے ۔
On the authority of Ibn Mas'ud: When Ibn Mas'ud came to the largest jamrah, he stood with the House (the Ka'bah) on his left and Mina on his right, and he thew seven pebbles at the jamrah. Then he said: Thus he did throw to whom Surat al-Baqarah was sent down.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب وہ جمرہ کبری ( جمرہ عقبہ ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں ، اور کہا : اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ۔
On the authority of his father 'Asim: The Messenger of Allah (ﷺ) gave permission to the herdsmen of the camels not to pass night at Mina and asked them to throw pebbles on the day of sacrifice, and to throw pebbles at the jamrahs the next day and the following two days, and on the day of their return.
عاصم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منیٰ میں ) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں ، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں ، اور پھر روانگی کے دن ( تیرہویں کو ) رمی کریں گے ۔
Chapter 645: Regarding Stoning The Jimar - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَىْءٍ، مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ فَقَالَ مَا أَدْرِي أَرَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ .
AbuMijlaz said:
I asked Ibn Abbas about a thing concerning the throwing of stones at the jamrahs. He said: I do not know whether the Messenger of Allah (ﷺ) threw six or seven pebbles.
ابومجلز کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you throws pebbles at the last jamrah (Jamrat al-Aqabah), everything becomes lawful for him except women (sexual intercourse).
Abu Dawud said: This is a weak tradition. The narrator al-Hajjaj neither saw al-Zuhri nor heard tradition from him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ضعیف ہے ، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۲؎ ۔
That the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, and those who have clipped their hair. He again said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, those who have clipped their hair. He said: and those who clip their hair.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم ارحم المحلقين» ” اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور کٹوانے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم ارحم المحلقين» ” اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور کٹوانے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور کٹوانے والوں پر بھی ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) threw pebbles at the last jamrah (Jamrat al-'Aqabah) on the day of sacrifice. He then returned to his lodging at Mina. He called for a sacrificial animal which he slaughtered. He then called for a barber. He held the right side of his head and shaved it. He then began to distribute among those who were around him one or two hair each. He then held the left side of his head and shaved it. Again he said: Is Abu Talhah here ? He then gave it (the hair shaved off) to Abu Talhah.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی ، پھر آپ منیٰ میں اپنی قیام گاہ لوٹ آئے ، پھر قربانی کے جانور منگا کر انہیں ذبح کیا ، اس کے بعد حلاق ( سر مونڈنے والے کو بلایا ) ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے داہنے حصے کو پکڑا ، اور بال مونڈ دیئے ۱؎ ، پھر ایک ایک اور دو دو بال ان لوگوں میں تقسیم کئے جو آپ کے قریب تھے پھر بایاں جانب منڈوایا اور فرمایا : ” ابوطلحہ یہاں ہیں ؟ “ اور وہ سب بال ابوطلحہ کو دے دیئے ۔
The Prophet (ﷺ) was asked (about rites of Hajj) on the day of stay at Mina. He said: No harm. A man asked him: I got myself shaved before I slaughtered. He said: Slaughter, there is no harm. He again asked: The evening came but I did not throw stones at the jamrah. He replied: Throw stones now ; there is no harm.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” کوئی حرج نہیں “ ، چنانچہ ایک شخص نے پوچھا : میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذبح کر لو ، کوئی حرج نہیں “ ، دوسرے نے کہا : مجھے شام ہو گئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمی اب کر لو ، کوئی حرج نہیں ۱؎ “ ۔
By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) did not make Aisha perform umrah during Dhul-Hijjah but to discontinue the practice of the idolaters (in Arabia before Islam), for this clan of Quraysh and those who followed them used to say: When the fur of the camel abounds, and the wounds on the back of the camels are recovered and the month of Safar begins, umrah becomes lawful for one who performs umrah. They considered performing umrah unlawful till the months of Dhul-Hijjah and al-Muharram passed away.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے ، کہتے تھے : جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا ، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم ( اشہر حرم ) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے ۔
The messenger of Marwan whom he sent to Umm Ma'qil reported to me.
She said: AbuMa'qil accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) during hajj. When he came (to her) she said: You know that hajj is incumbent on me. They walked until they visited him (i.e. the Prophet) and she asked (him): Messenger of Allah, hajj is due from me, and AbuMa'qil has a camel.
AbuMa'qil said: She spoke the truth, I have dedicated it to the cause of Allah.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it to her, that is in the cause of Allah. So he gave the camel to her.
She then said: Messenger of Allah, I am a woman who has become aged and ill. Is there any action which would be sufficient for me as my hajj?
He replied: umrah performed during Ramadan is sufficient as hajj.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
مجھے مروان کے قاصد ( جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا ) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎ ، چنانچہ دونوں ( ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما ) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ام معقل نے کہا : اللہ کے رسول ! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے ؟ ابو معقل نے کہا : یہ سچ کہتی ہے ، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے ، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے “ ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا ، پھر وہ کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں عمرہ کرنا ( میرے ساتھ ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎ “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) performed the Farewell Pilgrimage, and we had a camel, AbuMa'qil dedicated it to the cause of Allah. Then we suffered from a disease, and AbuMa'qil died. The Prophet (ﷺ) went out (for hajj). When he finished the hajj, I came to him.
He said (to me): Umm Ma'qil, what prevented you from coming out for hajj along with us?
She said: We resolved (to do so), but AbuMa'qil died. We had a camel on which we could perform hajj, but AbuMa'qil had bequeathed it to the cause of Allah.
He said: Why did you not go out (for hajj) upon it, for hajj is in the cause of Allah? If you miss this hajj along with us, perform umrah during Ramadan, for it is like hajj.
She used to say: hajj is hajj, and umrah is umrah. The Messenger of Allah (ﷺ) said it to me: I do not know whether it was peculiar to me.
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے ، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے ، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام معقل ! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلنے سے روک دیا ؟ “ ، وہ بولیں : ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی ، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے ، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں ؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے ، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو ، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے “ ، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا ( یا سب کے لیے ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَمَلِكَ . فَقَالَ مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ . قَالَتْ أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلاَنٍ . قَالَ ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ قَالَتْ أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ . فَقَالَتْ أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلاَنٍ . فَقُلْتُ ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ " أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقْرِئْهَا السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي " . يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ .
Narrated Abdullah Ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) intended to perform hajj.
A woman said to her husband: Let me perform hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ).
He said: I have nothing on which I can let you perform hajj. She said: You may perform hajj on your such-and-such camel. He said: That is dedicated to the cause of Allah, the Exalted. He then came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: My wife has conveyed her greetings and the blessings of Allah to you. She has asked about performing hajj along with you. She said (to me): Let me perform hajj with the Messenger of Allah (ﷺ). I said (to her): I have nothing upon which I can let you perform hajj. She said: Let me perform hajj on your such-and-such camel. I said: That is dedicated to the cause of Allah, The Exalted.
He replied: If you let her perform hajj on it, that would be in the cause of Allah.
He said: She has also requested me to ask you: What is that action which is equivalent to performing hajj with you?
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Convey my greetings, the mercy of Allah and His blessings to her and tell her that umrah during Ramadan is equivalent to performing hajj along with me.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا ، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، وہ کہنے لگی : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ ، تو انہوں نے کہا : وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے ، اور کہا ہے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، اس نے کہا : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا “ ۔ اس نے کہا : اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے “ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَرَّتَيْنِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِ اعْتَمَرَ ثَلاَثًا سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Mujahid said:
Ibn 'Umar was asked: How many times did the Messenger of Allah (ﷺ) perform 'Umrah ? He said: Twice. 'Aishah said: Ibn 'Umar knew that the Messenger of Allah (ﷺ) performed three 'Umrahs in addition to the one he combined with the Farewell Pilgrimage.
مجاہد کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو بار ۱؎ ، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed four umrahs, viz. umrah al-Hudaybiyyah; the second is the one when they (the Companions) were agreed upon performing umrah next year; the third is umrah performed from al-Ji'ranah; the fourth is the one which he combined with his hajj.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے : ایک عمرہ حدیبیہ کا ، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا ، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎ ، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed four 'Umrahs all in Dhu al-Qa'dah except the one which he performed along with Hajj.
Abu Dawud said: From here the narrator Hudbah (b. Khalid) became certain. I heard it from Abu al-Walid , but I did nor retain: An 'Umrah, during the treaty of al-Hudaibiyyah, or from al-Hudaibiyyah ; and 'Umrat al-Qada' in Dhu al-Qa'dah, and an 'Umrah from al-Ji'ranah where he (the Prophet) distributed the booty of Hunain in Dhu al-Qa'dah, and an 'Umrah along with his Hajj.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا ، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ : ایک حدیبیہ کے زمانے کا ، یا حدیبیہ کا عمرہ ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا ، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا ۔
Hafsah, daughter of AbdurRahman ibn AbuBakr, reported on the authority of her father:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to AbdurRahman: AbdurRahman, put your sister Aisha on the back of the camel behind you and make her perform umrah from at-Tan'im. When you come down from the hillock (in at-Tan'im), she must wear (ihram for umrah), for this is an umrah accepted (by Allah).
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” عبدالرحمٰن ! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو ، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) entered al-Ji'ranah. He came to the mosque (there) and prayed as long as Allah desired; he then wore ihram. Then he rode his camel and faced Batn Sarif till he reached the way which leads to Medina. He returned from Mecca (at night to al-Ji'ranah) as if he had passed the night at Mecca.
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی ، پھر احرام باندھا ، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے ، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو ۔
Chapter 650: Tawaf Of Al-Ifadah In Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى يَعْنِي رَاجِعًا .
Narrated Ibn 'Umar:
The Prophet (ﷺ) performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah) on the day of the sacrifice ; he then offered the noon prayer at Mina when he returned.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی ( طواف سے ) لوٹ کر ۔
The night which the Messenger of Allah (ﷺ) passed with me was the one that followed the day of sacrifice. He came to me and Wahb ibn Zam'ah also visited me. A man belonging to the lineage of AbuUmayyah accompanied him. Both of them were wearing shirts.
The Messenger of Allah (ﷺ) said to Wahb: Did you perform the obligatory circumambulation (Tawaf az-Ziyarah), AbuAbdullah?
He said: No, by Allah Messenger of Allah.
He (the Prophet) said: Take off your shirt. He then took it off over his head, and his companion too took his shirt off over his head.
He then asked: And why (this), Messenger of Allah? He replied: On this day you have been allowed to take off ihram when you have thrown the stones at the jamrahs, that is, everything prohibited during the state of ihram is lawful except intercourse with a woman. If the evening comes before you go round this House (the Ka'bah) you will remain in the sacred state (i.e. ihram), just like the state in which you were before you threw stones at the jamrahs, until you perform the circumambulation of it (i.e. the Ka'bah).
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا : ” ابوعبداللہ ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ؟ “ وہ بولے : قسم اللہ کی ! نہیں اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اپنی قمیص اتار دو “ ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے : اللہ کے رسول ! ایسا کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے ، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا ، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو “ ۔
Chapter 651: Departing (From Makkah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ " .
Narrated Ibn 'Abbas:
The people used to go out (from Mecca after Hajj) by all sides. The Prophet (ﷺ) said: No one should leave (Mecca) until he performs the last circumambulation of the House (the Ka'bah).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ ہر جانب سے ( مکہ سے ) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( طواف وداع ) ہو ۱؎ “ ۔
Chapter 652: The Menstruating Woman Who Leaves After (The Tawaf Of) Al-Ifadah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ . فَقَالَ " فَلاَ إِذًا " .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned about Safiyyah, daughter of Huyayy. He was told that she had menstruated. The Messenger of Allah (ﷺ) said: She may probably detain us. They (the people) said: She has performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah). He said: If so, there is no need (of staying any longer).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا : انہیں حیض آ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو کوئی بات نہیں “ ۔
Chapter 652: The Menstruating Woman Who Leaves After (The Tawaf Of) Al-Ifadah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ، تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ تَحِيضُ قَالَ لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ . قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَرِبْتَ عَنْ يَدَيْكَ سَأَلْتَنِي عَنْ شَىْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِكَيْمَا أُخَالِفَ .
Al-Harith ibn Abdullah ibn Aws said:
I came to Umar ibn al-Khattab and asked him about a woman who has performed the (obligatory) circumambulation on the day of sacrifice, and then she menstruates. He said: She must perform the last circumambulation of the House (the Ka'bah). Al-Harith said: The Messenger of Allah (ﷺ) told me the same thing. Umar said: May your hands fall down! You asked me about a thing that you had asked the Messenger of Allah (ﷺ) so that I might oppose him.
حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کر چکی ہو ، پھر اسے حیض آ گیا ہو ؟ انہوں نے کہا : وہ آخری طواف ( طواف وداع ) کر کے جائے ( یعنی : طواف وداع کا انتظار کرے ) ، حارث نے کہا : اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا ، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ۱؎ ! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں ۔
Chapter 653: Regarding The Farewell Tawaf - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ . قَالَتْ وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
I put on ihram for umrah at at-Tan'im and I entered (Mecca) and performed my umrah as an atonement. The Messenger of Allah (ﷺ) waited for me at al-Abtah till I finished it. He commanded the people to depart. The Messenger of Allah (ﷺ) came to the House (the Ka'bah), went round it and went out (i.e. left for Medina).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے ۔
I went out along with the Prophet (ﷺ) during his last march, and he alighted at al-Muhassab.
Abu Dawud said: Ibn Bashshar did not mention that she was sent to al-Tan'im in this tradition. She said: I then came to him in the morning. He announced to his companions for departure, and he himself departed. He passed the house (the Ka'bah) before the dawn prayer, and went round it when he proceeded. He then went away facing Medina.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا ) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی ، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا ، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے ۔
AbdurRahman reported on the authority of his mother: When the Messenger of Allah (ﷺ) passed any place from the house of Ya'la,--the narrator Ubaydullah forgot its name--he faced the House (the Ka'bah) and supplicated.
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) alighted at al-Muhassab so that it might be easier for him to proceed (to Medina). It is not a sunnah (i.e. a rite of Hajj). Anyone who desires may alight there, and anyone who does not want may not alight.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے میں آسانی ہو ، یہ کوئی سنت نہیں ، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎ ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ . قَالَ مُسَدَّدٌ وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ عُثْمَانُ يَعْنِي فِي الأَبْطَحِ .
Abu Rafi’ said The Apostle of Allaah(ﷺ) did not command me to align there. But when I pitched his tent there, he alighted. The narrator Musaddad said “He (Abu Rafi’) kept watch over the luggage of the Prophet(ﷺ). The narrator ‘Uthman said That is in Al Abtah.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں ، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا ، آپ وہاں اترے تھے ۔ مسدد کی روایت میں ہے ، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔
Usamah bin Zaid said I asked Apostle of Allaah(ﷺ) where will you encamp tomorrow? (This is asked on the occasion of his Hajj). He replied “Did ‘Aqil leave any house for us?” He again said “We shall encamp in the valley (Khaif) of Banu Kinanah where the Quraish took an oath upon disbelief, that is, Al Muhassab.” The oath was that Banu Kinanah concluded a pact with the Quraish against Banu Hashim “they would have no marital relationship with them, nor would give them accommodation nor would have any commercial ties with them.”
Al Zuhri said Al Khaif means valley.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے ؟ “ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ۱؎ “ ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے ، نہ خرید و فروخت ، اور نہ انہیں پناہ دیں گے ۔ زہری کہتے ہیں : خیف وادی کا نام ہے ۔
Abu Hurairah said “Apostle of Allaah(ﷺ) said when intended to march from Mina we shall encamp tomorrow. The narrator then narrated something similar (as a previous tradition but he did not mention the opening words, nor did he mention the words “Al Khaif, Al Wadi(Khaif means Valley).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا : ” ہم وہاں کل اتریں گے “ ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا ، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں ، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi’ said “Ibn ‘Umar used to nap for a short while at Batha’ (i.e, Al Muhassab) and then enter Makkah.” He thought that Apostle of Allaah(ﷺ) used to do so.
نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Ibn ‘Umar said “The Prophet(ﷺ) offered noon, afternoon, evening and night prayers at Al Batha(i.e, Al Muhassab). He then napped for a short while and then entered Makkah. Ibn ‘Umar also used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
‘Abd Allaah bin ‘Amr bin Al ‘As said “The Apostle of Allaah(ﷺ) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina, as the people were to ask him(about the rites of Hajj). A man came and said Apostle of Allaah being ignorant, I shaved before sacrificing. The Apostle of Allaah(ﷺ) replied “Sacrifice, for no harm will come.” Another man came and said “Apostle of Allaah(ﷺ), being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles.” He replied “Throw them for no harm will come.” He (the Prophet) was not asked about anything which had been done before or after its proper time without saying “Do it, for no harm will come.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے ، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذبح کر لو کوئی حرج نہیں “ ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمی کر لو ، کوئی حرج نہیں “ ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا : ” کر ڈالو ، کوئی حرج نہیں “ ۔
Usamah bin Sharik said “I went out with the Prophet (ﷺ) to perform Hajj, and the people were coming to him. One would say “Apostle of Allaah(ﷺ) I ran between Al Safa’ and Al Marwah before going round the Ka’bah or I did something before the its proper time or did something after its proper time. He would reply “No harm will come; no harm will come except to one who defames a Muslim acting wrongfully. That is the one who will be in trouble and will perish.
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا ، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا : اللہ کے رسول ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو ، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا “ ۔
Narrated Kathir b. Kathir b. al-Muttalib b. Abi Wida'ah
From his people on the authority of his grandfather:
He saw that the Prophet (ﷺ) was praying at the place adjacent to the gate of Banu Sahm and the people were passing before him, and there was no covering (sutrah) between them. The narrator Sufyan said: There was no covering between him and the Ka'bah.
Sufyan said: Ibn Juraij reported us stating that Kathir reported on the authority of his father saying: I did not hear my father say, but I heard some of my people on the authority of my grandfather.
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎ ۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں : ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا ۔ سفیان کہتے ہیں : ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا ، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے ۔
Chapter 657: Regarding The Sanctity Of Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ " . فَقَامَ عَبَّاسٌ أَوْ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَنَا فِيهِ ابْنُ الْمُصَفَّى عَنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Hurairah said “When Allah, the Exalted, granted the conquest of Makkah to his Apostle, the Prophet(ﷺ) stood among them(the people) and praised Allaah and extolled Him. He then said, Verily Allaah stopped the Elephant from Makkah, and gave His Apostle and the believers sway upon it and it has been made lawful for me only for one hour on one day then it will remain sacred till the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be molested and the things dropped there are to be picked up only by one who publicly announces it. ‘Abbas or Al ‘Abbas suggested “Apostle of Allaah(ﷺ) except the rush(idhkir) for it is useful for our graves and our houses. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Except the rush.”
Abu Dawud said “Ibn Al Musaffa added on the authority of Al Walid Abu Shah a man from the people of the Yemen stood and said “Give me in writing, Apostle of Allaah(ﷺ)”. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Give in writing to Abu Shah. I said to Al Awza’i “What does the statement mean? Give Abu Shah in writing?” He said “This was an address which he heard from the Apostle of Allaah(ﷺ).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا ، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : ” اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا ، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا ، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کر دی گئی ، نہ وہاں ( مکہ ) کا درخت کاٹا جائے ، نہ اس کا شکار بدکایا جائے ، اور نہ وہاں کا لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کسی کے لیے حلال ہے ، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے “ ، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! سوائے اذخر کے ۱؎ ( یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے ) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوائے اذخر کے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے : تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے لکھ کر دے دیجئیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابو شاہ کو لکھ کر دے دو “ ، ( ولید کہتے ہیں ) میں نے اوزاعی سے پوچھا : «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے ، وہ بولے : یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں یہ ( منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ۱؎ “ ۔
Chapter 658: Regarding Giving Nabidh To The Muhrim To Drink - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلاَ بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَابٍ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا " . فَنَحْنُ هَكَذَا لاَ نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Bakr bin ‘Abd Allah said “A man said to Ibn ‘Abbas “What about the people of this House? They supply Nabidh to the public while their cousins provide milk, honey and mush (sawiq). Is this due to their niggardliness or need? Ibn ‘Abbas replied “This is due neither to our niggardliness nor to our need, but the Apostle of Allaah(ﷺ) (once) entered upon us on his riding beast and ‘Usamah bin Zaid was sitting behind him. The Apostle of Allaah(ﷺ) called for drink. Nabidh was brought to him and he drank from it and gave its left over to Usamah bin Zaid who drank from it. The Apostle of Allaah (ﷺ) then said “You have done a good and handsome deed and do it in a similar way . It is due to this we are doing so, we do not want to change what the Apostle of Allaah (ﷺ)had said.
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ ( کھجور کا شربت ) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے ( قریش ) دودھ ، شہد اور ستو پلاتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں ؟ ابن عباس نے کہا : نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو “ ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا ، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے ۔
Umar bin ‘Abd Al ‘Aziz asked Al Sa’ib bin Yazid “Did you hear anything relating to staying at Makkah(after the completion of the rites of Hajj)? He said “Ibn Al Hadrami told me that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “The Muhajirun(Immigrants) are allowed to stay at the Ka’bah (Makkah) for three days after the obligatory circumambulation (Tawaf Al Ziyarah or Sadr)”.
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ
انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا : کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ۱؎ “ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَبِلاَلٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى .
‘Abd Allaah bin Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) entered the Ka’bah and along with him entered Usamah bin Zaid, Uthman bin Talhah Al Hajabi and Bilal. He then closed the door and stayed there. ‘Abd Allah bin ‘Umar said “I asked Bilal when he came out What did the Apostle of Allaah(ﷺ) do (there)? He replied “He stood with a pillar on his left, two pillars on his right, and three pillars behind him. At that time the House (the Ka’bah) stood on six pillars. He then prayed.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے ، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا ، اور اس میں رکے رہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ وہ بولے : آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا ( اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators. He (‘Abd Al Rahman bin Mahdi) did not mention the words “pillars”. This version adds “He then prayed and there was a distance of three cubits between him and the qiblah.”
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں ستونوں کا ذکر نہیں ، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا “ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ . قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى .
This tradition has also been transmitted by Ibn ‘Umar through a different chain of narrators like the one narrated by Al Qa’nabi . This version has “ I forgot to ask the number of rak’ahs he offered.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ؟ ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
‘Abd Al Rahman bin Safwan said “I asked ‘Umar bin Al Khattab How did the Apostle of Allaah(ﷺ) do when he entered the Ka’bah? He said “He offered two rak’ahs of prayer.”
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ۔
‘Abbas said “When the Prophet (ﷺ) came to Makkah he refused to enter the House (the Ka’bah) for there were idols in it. He ordered to take them out and they were taken out. The statues of Abraham and Isma’il were taken out and they had arrows in their hands. Apostle of Allaah(ﷺ) said “May Allaah destroy them! By Allaah, they knew that they never cast lots by arrow. He then entered the House(the Ka’bah) and uttered the takbir (Allaah is most great) in all its sides and corners. He then came out and did not pray.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے ، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ انہیں ہلاک کرے ، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں ( ابراہیم اور اسماعیل ) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا “ ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں ، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے ۔
I liked to enter the House (the Ka'bah) and pray therein. The Messenger of Allah (ﷺ) caught me by hand and admitted me to al-Hijr. He then said: Pray in al-Hijr when you intend to enter the House (the Ka'bah), for it is a part of the House (the Ka'bah). Your people shortened it when they built the Ka'bah, and they took it out of the House.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا ، اور فرمایا : ” جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے ، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) went out from me, while he was happy, but he returned to me while he was sad. He said: I entered the Ka'bah, I know beforehand about my affair what I have come to know later I would not have entered it. I am afraid I have put my community to hardship.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا ، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ “ ۔
I said to Uthman ibn Talhah al-Hajabi): What did the Messenger of Allah (ﷺ) say to you when he called you? He said: (The Prophet said:) I forgot to order you to cover the two horns (of the lamb), for it is not advisable that there should be anything in the House (the Ka'bah) which diverts the attention of the man at prayer. Ibn as-Sarh said: The name of my maternal uncle is Musafi' ibn Shaybah.
اسلمیہ کہتی ہیں کہ
میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے “ ۔
Shaibah bin ‘Uthman said “‘Umar bin Al Khattab was sitting in the place where you are sitting. He said I shall not go out until I distribute the property of The Ka’bah. I said “You will not do it.” He asked “Why?” I said “For the Apostle of Allaah(ﷺ) and Abu Bakr had seen its place and they were more in need of the property than you, but they did not take it out. He (‘Umar) stood up and went out.”
شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا : میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ ( محتاج مسلمانوں میں ) تقسیم نہ کر دوں ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، فرمایا : کیوں نہیں ، میں ضرور کروں گا ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، وہ بولے : کیوں ؟ میں نے کہا : اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی ، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا ، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے ۔
When we came along with the Messenger of Allah (ﷺ) from Liyyah and we were beside the lote tree, the Messenger of Allah (ﷺ) stopped at the end of al-Qarn al-Aswad opposite to it. He then looked at Nakhb or at its valley. He stopped and all the people stopped. He then said: The game of Wajj and its thorny trees are unlawful made unlawful for Allah. This was before he alighted at at-Ta'if and its fortress for Thaqif.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا ( اور راوی نے کبھی ( «نخبا» کے بجائے «واديه» کا لفظ کہا ) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا : ” صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں ، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں “ ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے ۔
Chapter 664: On Going To Al-Madinah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى " .
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Journey should not be made(to visit any masjid) except towards three masjids:
The sacred masjid(of Makkah), this masjid of mine and Al Aqsa masjid(in Jerusalem).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں : مسجد الحرام ، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد اقصی کے لیے “ ۔
‘Ali said “We wrote down nothing on the authority of the Apostle of Allaah(ﷺ) but the Qur’an and what this document contains.”. He reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ Madeenah is sacred from A’ir to Thawr so if anyone produces an innovation (in it) or gives protection to an innovator the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. The protection granted by Muslim is one (even if) the humblest of them grants it. So if anyone breaks a covenant made by a Muslim the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. If anyone attributes his manumission to people without the permission of his masters the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں ) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت ( نئی بات ) نکالے ، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل ، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے ) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا ، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل ، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Its (Medina's) fresh grass is not to be cut, its game is not to be driven away, and things dropped in it are to be picked up by one who publicly announces it, and it is not permissible for any man to carry weapons in it for fighting, and it is not advisable that its trees are cut except what a man cuts for the fodder of his camel.
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے ، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے ، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے ، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے “ ۔
‘Adi bin Zaid said “The Apostle of Allaah(ﷺ) declared Madeenah a protected land a mail-post(three miles) from each side. Its trees are not to be beaten off or to be cut except what is taken from the Camel.
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے ( بہ قدر ضرورت ) ۔
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلاً يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ
" مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ " . فَلاَ أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ .
Narrated Sulayman ibn AbuAbdullah:
Sulayman ibn AbuAbdullah said: I saw Sa'd ibn AbuWaqqas seized a man hunting in the sacred territory of Medina which the Messenger of Allah (ﷺ) had declared to be sacred. He took away his clothes from him. His patrons came to him and spoke to him about it, but he replied: The Messenger of Allah (ﷺ) declared this territory to be sacred, saying: If anyone catches someone hunting in it he should take away from him his clothes. So I shall not return to you a provision which the Messenger of Allah (ﷺ) has given me, but if you wish I shall pay you its price.
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا ، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات ( ۷ ) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی ، آپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے : ” جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے “ ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا ۔
A client of Sa’ad said “Sa’ad found some slaves from the slaves of Medina cutting the trees of Medina.” So, he took away their property and said to their patrons “I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting to cut any tree of Medina”. He said “If anyone cuts any one of them, what is taken from him will belong to the one who seizes him.”
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ
سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎ “ ۔
Chapter 665: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ يُخْبَطُ وَلاَ يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا " .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
The Prophet (ﷺ) said: The leaves should not be beaten off and the trees should not be cut in the protected land of the Messenger of Allah (ﷺ), but the leaves can be beaten off softly.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا “ ۔
Rabi'ah ibn al-Hudayr said: I did not hear Talhah ibn Ubaydullah narrating any tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) except one tradition. I (Rabi'ah ibn AbuAbdurRahman) asked: What is that? He said: We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) who was going to visit the graves of the martyrs. When we ascended Harrah Waqim, and then descended from it, we found there some graves at the turning of the valley. We asked: Messenger of Allah, are these the graves of our brethren? He replied: Graves of our companions. When we came to the graves of martyrs, he said: These are the graves of our brethren.
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ
میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا ، میں نے عرض کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں ، ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ “ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ “ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) made his Camel kneel down at Al Batha which lies in Dhu Al Hulaifa and prayed there. Abd Allah bin ‘Umar too used to do so.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی ، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
One should not exceed al-Mu'arras when one returns to Medina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah (ﷺ) halted there at night.
Abu Dawud said: I heard Muhammad b. Ishaq al-Madini say: Al-Mu'arras lies at a distance of six miles from Medina.
مالک کہتے ہیں
جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا : معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ۔