Anas said The Prophet(ﷺ) passed the night at Dhu al Hulaifah till the morning came. He then rode (on his she Camel) which stood up with him on her back. When he reached al Baida, he praied Allaah, glorified Him and expressed His greatness. He then raised his voice in talbiyah for Hajj and ‘Umrah. The people too raised their voices in talbiyah for both of them. When we came (to Makkah), he ordered the people to take off their ihram and they did so. When the eight of Dhu Al Hijjah came, they again raised their voices in talbiyah for Hajj (i.e., wore ihram for Hajj). The Apostle of Allaah(ﷺ) sacrificed seven Camels standing with his own hand.
Abu Dawud said The version narrated by Anas alone has the words. He began with the praise, glorification and exaltation of Allaah, then he raised his voice in talbiyah for Hajj.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید ، تسبیح اور تکبیر بیان کی ، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا ، پھر جب ہم لوگ ( مکہ ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ( احرام کھولنے کا ) حکم دیا ، انہوں نے احرام کھول دیا ، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله ، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْيَمَنِ قَالَ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ فَاطِمَةَ - رضى الله عنها - قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَقَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ مَا لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " كَيْفَ صَنَعْتَ " . فَقَالَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْىَ وَقَرَنْتُ " . قَالَ فَقَالَ لِي " انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْهَا بَضْعَةً " .
Narrated Al-Bara' ibn Azib:
I was with Ali (may Allah be pleased with him) when the Messenger of Allah (ﷺ) appointed him to be the governor of the Yemen. I collected some ounces of gold during my stay with him.
When Ali returned from the Yemen to the Messenger of Allah (ﷺ) he said: I found that Fatimah had put on coloured clothes and the smell of the perfume she had used was pervading the house. (He expressed his amazement at the use of coloured clothes and perfume.)
She said: What is wrong with you? The Messenger of Allah (ﷺ) has ordered his companions to put off their ihram and they did so.
Ali said: I said to her: I raised my voice in talbiyah for which the Prophet (ﷺ) raised his voice (i.e. I wore ihram for qiran). Then I came to the Prophet (ﷺ).
He asked (me): How did you do? I replied: I raised my voice in talbiyah, for which the Prophet (ﷺ) raised his voice. He said: I have brought the sacrificial animals with me and combined umrah and hajj. He said to me: Sacrifice sixty-seven or sixty-six camels (for me) and withhold for yourself thirty-three or thirty-four, and withhold a piece (of flesh) for me from every camel.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا ، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ ( وہاں ) کئی اوقیہ سونا ملا ، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے ، وہ کہنے لگیں : آپ کو کیا ہو گیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے ، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے فاطمہ سے کہا : میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا : ” تم نے کیا نیت کی ہے ؟ “ ، میں نے کہا : میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم سڑسٹھ ( ۶۷ ) ۱؎ یا چھیاسٹھ ( ۶۶ ) اونٹ ( میری طرف سے ) نحر کرو اور تینتیس ( ۳۳ ) یا چونتیس ( ۳۴ ) اپنے لیے روک لو ، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو “ ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ الصُّبَىُّ بْنُ مَعْبَدٍ أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا . فَقَالَ عُمَرُ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
As-Subayy ibn Ma'bad said: I raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. umrah and hajj). Thereupon Umar said: You were guided to the practice (sunnah) of your Prophet (ﷺ).
ابووائل کہتے ہیں کہ
صبی بن معبد سے کہا : میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی ۔
I was a Christian Bedouin; then I embraced Islam. I came to a man of my tribe, who was called Hudhaym ibn Thurmulah. I said to him. O brother, I am eager to wage war in the cause of Allah (i.e. jihad), and I find that both hajj and umrah are due from me. How can I combine them?
He said: Combine them and sacrifice the animal made easily available for you. I, therefore, raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. umrah and hajj). When I reached al-Udhayb, Salman ibn Rabi'ah and Zayd ibn Suhan met me while I was raising my voice in talbiyah for both of them.
One of them said to the other: This (man) does not have any more understanding than his camel. Thereupon it was as if a mountain fell on me.
I came to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) and said to him: Commander of the Faithful, I was a Christian Bedouin, and I have embraced Islam. I am eager to wage war in the cause of Allah (jihad), and I found that both hajj and umrah were due from me. I came to a man of my tribe who said to me: Combine both of them and sacrifice the animal easily available for you. I have raised my voice in talbiyah for both of them.
Umar thereupon said to me: You have been guided to the practice (sunnah) of your Prophet) (ﷺ).
ابووائل کہتے ہیں کہ
صبی بن معبد نے عرض کیا کہ میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا : ارے میاں ! میں جہاد کا حریص ہوں ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں ، تو میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں ، اس نے کہا : دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو ، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا ، پھر جب میں مقام عذیب پر آیا تو میری ملاقات سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو ، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان سے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میں ایک نصرانی بدو تھا ، میں نے اسلام قبول کیا ، میں جہاد کا خواہشمند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں ، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو ، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق ملی ۔
Umar bin Al Khattab heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say Someone came to me at night from Allaah the Exalted. The narrator said When he was staying at ‘Aqiq said Pray in his blessed valley. Then he said ‘Umrah has been included in Hajj.
Abu Dawud said Al Walid bin Musilm and ‘Umar bin Abd Al Wahid narrated in this version from Al Auza’I the words “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
Abu Dawud said Ali bin Al Mubarak has also narrated similarly from Yahya bin said Abi Kathir in this version “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے ) اور کہنے لگا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھو ، اور کہا : عمرہ حج میں شامل ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو ! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے ۔
Ar-Rabi' ibn Saburah said on the authority of his father (Saburah): We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) till we reached Usfan, Suraqah ibn Malik al-Mudlaji said to him: Messenger of Allah, explain to us like the people as if they were born today. He said: Allah, the Exalted, has included this umrah in your hajj. When you come (to Mecca), and he who goes round the House (the Ka'bah), and runs between as-Safa and al-Marwah, is allowed to take off ihram except he who has brought the sacrificial animals with him.
سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا : اللہ کے رسول ! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں ( بالکل واضح ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کر دیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آ جاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو “ ۔
Ibn ‘Abbas said that Mu’awiyah reported to him I clipped some hair of the Prophet’s(ﷺ) head with a broad iron arrowhead at Al Marwah; or (he said) I saw him that the hair of his head was clipped with a broad iron arrowhead at Al Marwah.
The narrator Ibn Khallad said in his version “Mu’awiyah said” and not the word “reported”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ، وہ کہتے ہیں : میں نے مروہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے ، ( یا یوں ہے ) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ۱؎ ۔
do you not know that I clipped the hair of the head of the Messenger of Allah (ﷺ) with a broad iron arrowhead at al-Marwah? Al-Hasan added in his version: "during his hajj."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے ۔ حسن کی روایت میں «لحجته» ( آپ کے حج میں ) ہے ۔
Chapter 591: Regarding The Qiran Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، { عَنْ جَدِّي، } عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ
" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لَهُ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ النَّاسُ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
‘Abd Allah bin Umar said At the Farewell Pilgrimage the Apostle of Allaah(ﷺ) put on ihram first for ‘Umrah and afterwards for Hajj and drove the sacrificial animals along with him from Dhu Al Hulaifah. The Apostle of Allaah(ﷺ) first raised his voice in talbiyah for ‘Umrah and afterwards he did so for Hajj; and the people along with the Apostle of Allaah(ﷺ) did it first for ‘Umrah and afterwards for Hajj. Some of the people had brought sacrificial animals and others had not, so when the Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah , he said to the people. Those of you who have brought sacrificial animals must not treat as lawful anything which has become unlawful for you till you complete your Hajj; but those of you who have not brought sacrificial animals should go round the House(Ka’bah) and run between Al Safa’ and Al Marwah, clip their hair, put off ihram, and afterwards raise their voice in talbiyah for Hajj and bring sacrificial animals. Those who cannot get sacrificial animals should fast three days during Hajj and seven days when they return to their families. The Apostle of Allaah(ﷺ) then performed circumambulation when he came to Makkah first touching the corner then running during three circuits out of seven and walking during four and when he had finished his circumambulation of the House (Ka’bah) he prayed two rak’ahs at Maqam Ibrahim, then giving the salutation and departing he went to Al Safa’ and ran seven times between Al Safa’ and Al Marwah. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful for him till he had completed his Hajj, sacrificed his animals on the day of sacrifice, went quickly and performed the circumambulation of the House(the Ka’bah), after which all that had been unlawful became lawful for him. Those people who had brought sacrificial animals did as the Apostle of Allaah(ﷺ) did.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے ، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا ( یعنی پہلے «لبيك بعمرة» کہا پھر «لبيك بحجة» کہا ) ۱؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے ، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا : ” تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لیے ( احرام کی وجہ سے ) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کر لے ، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہیئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے ، صفا و مروہ کی سعی کرے ، بال کتروائے اور حلال ہو جائے ، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ جائے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا ، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا ، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال ، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا و مروہ میں سات بار سعی کی ، پھر ( آپ کے لیے محرم ہونے کی وجہ سے ) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنا ہدی نحر کر دیا ، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔
Hafsah, wife of the Prophet (ﷺ) said Apostle of Allaah(ﷺ), how is it that the people have put off their ihram and you did not put off your ihram after your ‘Umrah. He said I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal, so I shall not put off my ihram till I sacrifice my sacrificial animals.
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں “ ۔
Abu Dharr used to say about a person who makes the intention of Hajj but he repeal it for the ‘Umrah (that will not be valid). This cancellation of hajj for ‘Umrah was specially meant for the people who accompanied the Apostle of Allaah(ﷺ).
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ
ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے : یہ صرف اسی قافلہ کے لیے ( مخصوص ) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎ ۔
I asked: Messenger of Allah, is the (command of) cancelling hajj meant exclusively for us, or for others too? He replied: No, this is meant exclusively for you.
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے “ ۔
‘Abd Allah bin Abbas said Al Fadl bin Abbas was riding the Camel behind the Apostle of Allaah(ﷺ). A woman of the tribe of Khath’am came seeking his (the Prophet’s) decision (about a problem relating to Hajj). Al Fadl began to look at her and she too began to look at him. The Apostle of Allaah(ﷺ) would turn the face of Fadl to the other side. She said Apostle of Allaah(ﷺ) Allaah’s commandment that His servants should perform Hajj has come when my father is an old man and is unable to sit firmly on a Camel. May I perform Hajj on his behalf? He said yes, That was at the Farewell Pilgrimage.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر ( عائد کردہ ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں ، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا ۔
A man of Banu Amir said: Messenger of Allah, my father is very old, he cannot perform hajj and umrah himself nor can be ride on a mount. He said: Perform hajj and umrah on behalf of your father.
ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو “ ۔
The Prophet (ﷺ) heard a man say: Labbayk (always ready to obey) on behalf of Shubrumah. He asked: Who is Shubrumah? He replied: A brother or relative of mine. He asked: Have you performed hajj on your own behalf? He said: No. He said: perform hajj on your own behalf, then perform it on behalf of Shubrumah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا : «لبيك عن شبرمة» ” حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” شبرمہ کون ہے ؟ “ ، اس نے کہا : میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے اپنا حج کر لیا ہے ؟ “ ، اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے اپنا حج کرو پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا “ ۔
Ibn ‘Umar said Talbiyah uttered by the Apostle of Allaah(ﷺ) was Labbaik(always ready to obey), O Allaah labbaik, labbaik; Thou hast no partner, praise and grace are Thine, and the Dominion, Thou hast no partner. The narrator said ‘Abd Allaah bin ‘Umar used to add to his talbiyah Labbaik, labbaik, labbaik wa sa’daik(give me blessing after blessing) and good is Thy hands, desire and actions are directed towards Thee.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا : «لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك والملك ، لا شريك لك» ” حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، حمد و ستائش ، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل» ” حاضر ہوں تیری خدمت میں ، حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، نیک بختی حاصل کرتا ہوں ، خیر تیرے ہاتھ میں ہے ، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے “ ۔
Chapter 594: The Procedure Of The Talbiyah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ
" ذَا الْمَعَارِجِ " . وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلاَمِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ فَلاَ يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
The Messenger of Allah (ﷺ) raised his voice in talbiyah; he then mentioned the wordings of talbiyah like the tradition narrated by Ibn Umar. The people used to add the words dhal-ma'arij (the Possessor of ladders) and similar other words (to talbiyah) while the Prophet (ﷺ) heard them utter these words, but he did not say anything to them.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا : لوگ ( اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں ) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎ ۔
Chapter 594: The Procedure Of The Talbiyah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَتَانِي جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلاَلِ - أَوْ قَالَ - بِالتَّلْبِيَةِ " . يُرِيدُ أَحَدَهُمَا .
Narrated as-Sa'ib al-Ansari:
Khalid ibn as-Sa'ib al-Ansari on his father's authority reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Gabriel came to me and commanded me to order my Companions to raise their voices in talbiyah.
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں “ ۲؎ ۔
‘Abd Allah bin Umar said We proceeded along with the Apostle of Allaah(ﷺ) from Mina to ‘Arafat, some of us were uttering talbiyah and the others were shouting “Allaah is most great.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے ۔
The Prophet (ﷺ) said: A person who performs umrah should shout talbiyah till he touches the Black Stone.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman and Hammam from 'Ata on the authority of Ibn 'Abbas as his own statement (i.e. the tradition was not attributed to the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے ، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
Chapter 597: The One In Ihram Who Disciplines His Slave - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلْنَا فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحِدَةً مَعَ غُلاَمٍ لأَبِي بَكْرٍ فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ قَالَ أَيْنَ بَعِيرُكَ قَالَ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ . قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ قَالَ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَسَّمُ وَيَقُولُ " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ " . قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَنْ يَقُولَ " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ " . وَيَتَبَسَّمُ .
Narrated Asma' bint AbuBakr:
We came out for performing hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ). When we reached al-Araj, the Messenger of Allah (ﷺ) alighted and we also alighted. Aisha sat beside the Messenger of Allah (ﷺ) and I sat beside my father (AbuBakr). The equipment and personal effects of AbuBakr and of the Messenger of Allah (ﷺ) were placed with AbuBakr's slave on a camel. AbuBakr was sitting and waiting for his arrival. He arrived but he had no camel with him. He asked:
Where is your camel? He replied: I lost it last night. AbuBakr said: There was only one camel, even that you have lost. He then began to beat him while the Messenger of Allah (ﷺ) was smiling and saying: Look at this man who is in the sacred state (putting on ihram), what is he doing?
Ibn AbuRizmah said: The Messenger of Allah (ﷺ) spoke nothing except the words: Look at this man who is in the sacred state (wearing ihram), what is he doing? He was smiling (when he uttered these words).
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلے ، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، ہم بھی اترے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی ۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا ، انہوں نے پوچھا : تیرا اونٹ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا ، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ “ ( ابن ابی رزمہ نے کہا ) ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) when he was at al-Ji'ranah. He was wearing perfume or the mark of saffron was on him and he was wearing a tunic.
He said: Messenger of Allah, what do you command me to do while performing my Umrah. In the meantime, Allah, the Exalted, sent a revelation to the Prophet (ﷺ).
When he (the Prophet) came to himself gradually, he asked: Where is the man who asking about umrah? (When the man came) he (the Prophet) said: Wash the perfume which is on you, or he said: (Wash) the mark of saffron (the narrator is doubtful), take off the tunic, then do in your umrah as you do in your hajj.
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ جعرانہ میں تھے ، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا ، پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں ؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی ، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا : ” عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے ؟ “ فرمایا : ” خلوق کا نشان ، یا زردی کا نشان دھو ڈالو ، جبہ اتار دو ، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو “ ۔
This tradition has also been narrated by Ya’la bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Prophet (ﷺ) said to him “Take off your tunic”. He then took it off from his head. The narrator then narrated the rest of the tradition.
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا جبہ اتار دو “ ، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا ، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔