Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 9

Zakat (Kitab Al-Zakat)

كتاب الزكاة

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 145 hadiths in this chapter

Hadith 1631
Chapter 543: To Whom Zakat Is To Be Paid And The Definition Of A Wealthy Person - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالأُكْلَةُ وَالأُكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلاَ يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :

The poor man(miskin) is not one who is admitted (by the people) with one or two dates or with one or two morsels but is one, who does not beg anything from his people and is not taken notice of so that alms may be given to him.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے ، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو ، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 76
Hadith 1632
Chapter 543: To Whom Zakat Is To Be Paid And The Definition Of A Wealthy Person - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ قَالَ ‏"‏ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ وَلاَ يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ ‏"‏ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لاَ يَسْأَلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ جَعَلاَ الْمَحْرُومَ مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Messenger of Allah (ﷺ) said something similar as mentioned in the preceding tradition. This version adds: But the poor man (miskin) who abstains from begging from the people is one (according to the version of Musaddad who does not get enough so that he may not beg from the people, nor is his need known to the people, so that alms be given to him. This is the one who has been deprived. Musaddad did not mention the words "one who avoids begging from the people." Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad bin Thawr and 'Abd al-Razzaq on the authority of Ma'mar. They mentioned that the word "deprived" is the statement of al-Zuhri, and this is more sound.

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے

اس میں ہے : لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے ، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ ( مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے ، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے ، اسی کو محروم کہتے ہیں ، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 77
Hadith 1633
Chapter 543: To Whom Zakat Is To Be Paid And The Definition Of A Wealthy Person - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلاَنِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقْسِمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلاَهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلاَ حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلاَ لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar:

Two men informed me that they went to the Prophet (ﷺ) when he was at the Farewell Pilgrimage while he was distributing the sadaqah and asked him for some of it. He looked us up and down, and seeing that we were robust, he said: If you wish, I shall give you something, but there is nothing spare in it for a rich man or for one who is strong and able to earn a living.

عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے ، انہوں نے بھی آپ سے مانگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی ، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا : ” اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 78
Hadith 1634
Chapter 543: To Whom Zakat Is To Be Paid And The Definition Of A Wealthy Person - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الأَنْبَارِيُّ الْخُتَّلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ ‏"‏ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَالأَحَادِيثُ الأُخَرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْضُهَا ‏"‏ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَبَعْضُهَا ‏"‏ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ إِنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لاَ تَحِلُّ لِقَوِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr :

The Prophet (ﷺ) said: Sadaqah may not be given to a rich man or to one who has strength and is sound in limbs. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan from Sa'd bin Ibrahim like the tradition narrated by Ibrahim. The version of Shu'bah from Sa'd has: "for a man who has strength and is robust." The other version of this tradition from the Prophet (ﷺ) have the words "for a man who has strength and is robust." Others have "for a man who has strength and is sound in limbs." 'Ata bin Zuhair said that he had met 'Abd Allah bin 'Amr who said: "Sadaqah is not lawful for a strong man nor for a man who has strength and is sound in limbs."

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے ( حلال ہے ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے ، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں ۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا : «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 79
Hadith 1635
Chapter 544: The Rich Person Who Is Allowed To Accept Sadaqah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ata ibn Yasar:

The Prophet (ﷺ) said: Sadaqah may not be given to rich man, with the exception of five classes: One who fights in Allah's path, or who collects it, or a debtor, or a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour who has been given sadaqah and gives a present to the rich man.

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے ، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے ، یا مقروض کے لیے ، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو ، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 80
Hadith 1636
Chapter 544: The Rich Person Who Is Allowed To Accept Sadaqah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الثَّبْتُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by abu-Said al-Khudri to the same effect to a different chain of narrators, attributing it to the Messenger of Allah (May peace be upon him). Abu-Dawud said :

Ibn ‘Uyainah reported from Zaid, from whom Malik narrated and Thwari narrated from Zaid that an authentic narrator reported from the Messenger of Allah (May peace be upon him)

اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے

ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 81
Hadith 1637
Chapter 544: The Rich Person Who Is Allowed To Accept Sadaqah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ فِرَاسٌ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏

Abu-Said reported :

Messenger of Allah (May peace be upon him) said : Sadaqah is not lawful for a rich person except what comes as a result of Jihad or what a poor neighbor gifts you out of the sadaqah given to him, or he entertains you in a feast. Abu-Dawud said : This has been transmitted by Abu- Said through a different chain of narrators in a similar way.

ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے ، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 82
Hadith 1638
Chapter 545: How Much Zakat Can Be Given To A Single Person - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ - يَعْنِي دِيَةَ الأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ ‏.‏

Basheer b. Yasar said that a man from the Ansar called Sahi b. abu-Hatmah told him that Messenger of Allah (May peace be upon him) gave one Hundred camels to him a blood-wit from among the camels of sadaqah, i.e a blood-wit for the Ansari who was killed at Khaibar.

بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ

انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 83
Hadith 1639
Chapter 546: Situations Where Begging Is Allowed And Where It Is Not Allowed - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Samurah ibn Jundub:

The Prophet (ﷺ) said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary.

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے ، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 84
Hadith 1640
Chapter 546: Situations Where Begging Is Allowed And Where It Is Not Allowed - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ، قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - ثُمَّ يُمْسِكُ وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ‏"‏ ‏.‏

Qabisah b. Mukhiriq al-Hilali said :

I became a guarantor for a payment, and I came to Messenger of Allah (May peace be upon him). He said: Wait till I receive the sadaqah and I shall order it to be given to you. He then said : Begging, Qabisah, is allowable only to one of three classes: a man who has become a guarantor for a payment to whom begging is allowed till he gets it, after which he must stop (begging); a man who has been stricken by a calamity and it destroys his property to whom begging is allowed till he gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence); and a man who has been smitten by poverty, about whom three intelligent members of his people confirm by saying: So and so has been smitten by poverty, to such a person begging is allowed till be gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence), after which he must stop (begging). Any other reason for begging, Qabisah, is forbidden, and one who engages in such consumes it as a thing which is forbidden.

قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں ایک قرضے کا ضامن ہو گیا ، چنانچہ ( مانگنے کے لے ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : ” قبیصہ ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آ جائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں “ ، پھر فرمایا : ” قبیصہ ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں : ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑ گیا ہو ، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے ، اس کے بعد اس سے باز رہے ، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو ، جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو ، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کر سکے ، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے ، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کر سکے ، اس کے بعد اس سے باز آ جائے ، اے قبیصہ ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے ، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 85
Hadith 1641
Chapter 546: Situations Where Begging Is Allowed And Where It Is Not Allowed - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَخْضَرِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا فِي بَيْتِكَ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ ‏.‏ فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ وَقَالَ ‏"‏ اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُودًا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلاَ أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

A man of the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا ، آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے ؟ “ ، بولا : کیوں نہیں ، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ دونوں میرے پاس لے آؤ “ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا : ” یہ دونوں کون خریدے گا ؟ “ ، ایک آدمی بولا : انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے ؟ “ ، دو بار یا تین بار ، تو ایک شخص بولا : میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا : ” ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ “ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا : ” جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں “ ، چنانچہ وہ شخص گیا ، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا ، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا ، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو ، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے : ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو ، خاک میں لوٹتا ہو ، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو ، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 86
Hadith 1642
Chapter 547: Disapproval Of Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الأَمِينُ، أَمَّا هُوَ إِلَىَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ قُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاَثًا فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا ‏"‏ ‏.‏ وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً قَالَ ‏"‏ وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ هِشَامٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ سَعِيدٌ ‏.‏

Awf b. Malik said :

We were with Messenger of Allah (May peace be upon him), seven or eight or nine. He said : Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah (May peace be upon him), and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said : We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly : And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said : The version of Hisham was not narrated by anyone except Sa'id.

ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ

مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم سات ، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے ؟ “ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے ، ہم نے کہا : ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی ، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں ؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے ، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور ( حکم ) سنو گے اور اطاعت کرو گے “ ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی ، فرمایا : ” لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے “ ، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 87
Hadith 1643
Chapter 547: Disapproval Of Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ وَكَانَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَكَفَّلَ لِي أَنْ لاَ يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا وَأَتَكَفَّلَ لَهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ثَوْبَانُ أَنَا ‏.‏ فَكَانَ لاَ يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا ‏.‏

Thawban, the client of the Messenger of Allah (May peace be upon him), reported him as saying :

If anyone guarantees me that he will not beg from people, I will guarantee him Paradise. Thawban said : I (will not beg). He never asked anyone for anything.

ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے ، کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں ؟ “ ، ثوبان نے کہا : میں ( ضمانت دیتا ہوں ) ، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 88
Hadith 1644
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ ‏ "‏ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Said al-Khudri said :

Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said :What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا ، انہوں نے پھر مانگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا ، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا ، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا ، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے ، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے ، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے ، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 89
Hadith 1645
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

The Prophet (ﷺ) said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later.

ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا ، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 90
Hadith 1646
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وَإِنْ كُنْتَ سَائِلاً لاَ بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ibn al-Firasi:

Al-Firasi asked the Messenger of Allah (ﷺ): May I beg, Messenger of Allah? The Prophet (ﷺ) said: No, but if there is no escape from it, beg from the upright.

ابن الفراسی سے روایت ہے کہ

فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ! اللہ کے رسول ! کیا میں سوال کروں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 91
Hadith 1647
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ - رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ‏.‏ قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏

Ibn al-Saidi said :

Umar employed me to collect the sadaqah. When I finished doing so and gave it to him, he ordered payment to be given to me. I said: I did only for Allah’s sake, and my reward will come from Allah. He said: Take what you are given, for I acted (as a collector) during the time of the Messenger of Allah (May peace be upon him) and he assigned me a payment. Thereupon, I said the same kind of thing as you have said, to which Messenger of Allah (May peace be upon him) said: When you are given something without asking for it, you should use it for your own purpose and as sadaqah.

ابن ساعدی کہتے ہیں کہ

عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے ( اجرت ) کا حکم دیا ، میں نے عرض کیا : میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو ، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 92
Hadith 1648
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَكْثَرُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ‏"‏ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَاحِدٌ عَنْ حَمَّادٍ ‏"‏ الْمُتَعَفِّفَةُ ‏"‏ ‏.‏

Abd Allah b. ‘Umar reported that the Messenger of Allah (May peace be upon him) said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging :

the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said : The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator `Abd al-Warith said in his version : `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad b. Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows.” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا ، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے ، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎ ، عبدالوارث نے کہا : «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں : «اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 93
Hadith 1649
Chapter 548: On Abstinence From Begging - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَيْدِي ثَلاَثَةٌ فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلاَ تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Malik ibn Nadlah:

The Prophet (ﷺ) said: Hands are of three types: Allah's hand is the upper one; the bestower's hand is the one near it; the beggar's hand is the lower one. So bestow what is surplus, and do not submit yourself to the demand of your soul.

مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاتھ تین طرح کے ہیں : اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے ، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے ، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 94
Hadith 1650
Chapter 549: On Giving Sadaqah To Banu Hashim - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuRafi':

The Prophet (ﷺ) sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to AbuRafi': Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet (ﷺ) and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them.

ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں ، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کا غلام انہیں ۱؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 95
Hadith 1651
Chapter 549: On Giving Sadaqah To Banu Hashim - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ الْعَائِرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلاَّ مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ‏.‏

Anas said :

The Messenger of Allah (May peace be upon him) came upon a date on the road; he would not take it for fear of being a part of the sadaqah.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 96
Hadith 1652
Chapter 549: On Giving Sadaqah To Banu Hashim - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكَلْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا ‏.‏

Anas said:

Messenger of Allah (May peace be upon him) found a date and said: Were it not that I fear it may be part of the sadaqah, I would eat it.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور ( پڑی ) پائی تو فرمایا : ” اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 97
Hadith 1653
Chapter 549: On Giving Sadaqah To Banu Hashim - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

My father sent me to the Prophet (ﷺ) to take the camels which he had given him from among those of sadaqah.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 98
Hadith 1654
Chapter 549: On Giving Sadaqah To Banu Hashim - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ زَادَ أَبِي يُبْدِلُهَا لَهُ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators in a similar manner. This version adds :

“My father exchanged them for him”.

اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے

البتہ اس میں ( ابوعبیدہ نے ) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 99
Hadith 1655
Chapter 550: A Poor Man Can Give A Gift From The Sadaqah To A Rich Man - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَحْمٍ قَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا شَىْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

Anas said when some meat was brought to the Prophet (SAWS), he asked What is this? He was told this is a thing (meat), which was given as sadaqah to Barirah. Thereupon, he said it is sadaqah for her and a gift to us.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا ، آپ نے پوچھا : ” یہ گوشت کیسا ہے ؟ “ ، لوگوں نے عرض کیا : یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس ( بریرہ ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ( بریرہ کی طرف سے ) ہدیہ ہے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 100
Page 4 of 6

Showing 25 hadiths on this page (Total: 145 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 4 of 6 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00