Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 9

Zakat (Kitab Al-Zakat)

كتاب الزكاة

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 145 hadiths in this chapter

Hadith 1656
Chapter 551: On A Person Who Gives The Sadaqah And He Inherits It Later On - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بُرَيْدَةَ أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ‏"‏ ‏.‏

Buraidah said A woman came to the Messenger of Allah (SAWS) and said I gave a slave girl as sadaqah to my mother who has now died and has left that slave girl. He said your reward is sure and the inheritance has given her back to you.

بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی ، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا اجر پورا ہو گیا ، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 101
Hadith 1657
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَارِيَةَ الدَّلْوِ وَالْقِدْرِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

During the time of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to consider ma'un (this of daily use) lending a bucket and cooking-pot.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو «ماعون» ۱؎ میں شمار کرتے تھے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 102
Hadith 1658
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلاَّ جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported that Messenger of Allah (SWAS) as saying If any owner of treasure (gold and silver) does not pay what is due on it, Allah will make it heated in the Hell fire on the Day of Judgment, and his side, forehead and back will be cauterized with it until Allah gives His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years of your count and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner does not pay zakat on them, the sheep wilkl appear on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner of camels does not pay what is due on them, they will appear in on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی ، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی ، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہو گی یا جہنم کی طرف ۔ ( اسی طرح ) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی ، جتنی وہ تھیں ، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا ، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی ، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہو گی اور نہ ایسی ہو گی جسے سینگ ہی نہ ہو ، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری ( مارنے کے لیے ) لوٹائی جائے گی ( یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا ) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی ، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔ ( اسی طرح ) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا ، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے ، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو ( روندنے کے لیے ) پھر لوٹایا جائے گا ، ( یہ عمل چلتا رہے گا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی ، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 103
Hadith 1659
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ فِي قِصَّةِ الإِبِلِ بَعْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ‏"‏ ‏.‏

The above mentioned tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet (SAWS). This version adds after the words “does not pay what is due on them” in the description of the camels the words “ One thing which is due being to milk them when they come down to drink water.”

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے

البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «لا يؤدي حقها ‏"‏ ‏.‏ قال ‏"‏ ومن حقها حلبها يوم وردها» کا جملہ بھی ہے ( یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے ( گھاٹ پر ) آئیں تو ان کو دوہے ) ، ( اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے ) ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 104
Hadith 1660
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ فَقَالَ لَهُ - يَعْنِي لأَبِي هُرَيْرَةَ - فَمَا حَقُّ الإِبِلِ قَالَ تُعْطِي الْكَرِيمَةَ وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ وَتَسْقِي اللَّبَنَ ‏.‏

Narrated Abu Hurayrah:

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying something similar to this tradition. He (the narrator) said to AbuHurayrah: What is due on camels? He replied: That you should give the best of your camels (in the path of Allah), that you lend a milch she-camel, you lend your mount for riding, that you lend the stallion for covering, and that you give the milk (to the people) for drinking.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو ، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو ، سواری کے لیے جانور دو ، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 105
Hadith 1661
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الإِبِلِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ ‏ "‏ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا ‏"‏ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by ‘Ubaid bin ‘ Umair through a different chain of narrators. This version goes:

A man asked: Messenger of Allah (ﷺ), what is due on camels? He replied in a similar way. This version adds "and to lend its udders.”

عبید بن عمر کہتے ہیں کہ

ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» ( اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا ) ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 106
Hadith 1662
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَادِّ عَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ ‏.‏

Jabir bin ‘Abdallah said The bProphet (SWAS) commanded that he who plucks ten wasqs of dates from date palms should hang a bunch of dates in the mosque for the poor

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 107
Hadith 1663
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يَصْرِفُهَا يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ زَادَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لاَ حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ ‏.‏

Abu Sa’id al-Khudri said While we were traveling along with the Messenger of Allah (ﷺ) a man came to him on his she camel, and began to drive her right and left. The Messenger of Allah (ﷺ) said he who has a spare riding beast should give it to him who has no riding beast; and he who has surplus equipment should give it to who has no equipment. We thought that none of us had a right in surplus property.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس کوئی فاضل ( ضرورت سے زائد ) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو ، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو ، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 108
Hadith 1664
Chapter 552: The Rights Relating To Property - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ‏}‏ قَالَ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ - رضى الله عنه أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ ‏.‏ فَانْطَلَقَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الآيَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلاَّ لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَكَبَّرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

When this verse was revealed: "And those who hoard gold and silver," the Muslims were grieved about it. Umar said: I shall dispel your care. He, therefore, went and said: Prophet of Allah, your Companions were grieved by this verse. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has made zakat obligatory simply to purify your remaining property, and He made inheritances obligatory that they might come to those who survive you. Umar then said: Allah is most great. He then said to him: Let me inform you about the best a man hoards; it is a virtuous woman who pleases him when he looks at her, obeys him when he gives her a command, and guards his interests when he is away from her.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

جب آیت کریمہ «والذين يكنزون الذهب والفضة» نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں ، چنانچہ وہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) گئے اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہو جائیں ( جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے ) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے ؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 109
Hadith 1665
Chapter 553: The Right Of A Beggar - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn Abu Talib:

The Prophet (ﷺ) said: A beggar has the right though he may be riding (a horse).

حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 110
Hadith 1666
Chapter 553: The Right Of A Beggar - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، قَالَ رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏

The above mentioned tradition has also been transmitted by 'Ali through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet(ﷺ).

اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی

اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 111
Hadith 1667
Chapter 553: The Right Of A Beggar - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ، مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلاَّ ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Umm Bujayd:

She took the oath of allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) and said to him: Messenger of Allah, a poor man stands at my door, but I find nothing to give him. The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: If you do not find anything to give him, put something in his hand, even though it should be a burnt hoof.

ام بجید رضی اللہ عنہا یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، وہ کہتی ہیں

میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 112
Hadith 1668
Chapter 554: The Giving Of Sadaqah (Alms) To Non Muslims - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَىَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ ‏"‏ ‏.‏

Asma‘ said My mother came to me seeking some act of kindness from me during the treaty of the Quraish (at Hudaibiyyah). While she hated Islam and she was a polytheist. I said Messenger of Allah (ﷺ), my mother has come to me while she hates Islam and she is a disbeliever. May I do an act of kindness to her? He replied Yes, do an act of kindness to her.

اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں ، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 113
Hadith 1669
Chapter 555: Things Which Should Not Be Refused When Asked For - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، - رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ عَنْ أَبِيهَا، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ الْمَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ الْمِلْحُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏

Buhaysah reported on the authority of his father:

My father sought permission from the Prophet (ﷺ). (When permission was granted and he came near him) he lifted his shirt, and began to kiss him and embrace him (out of love for him). He asked: Messenger of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Water. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He said: To do good is better for you.

بہیسہ اپنے والد ( عمیر ) کہتی ہیں کہ

میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آپ کے پاس آنے کی ) اجازت طلب کی ، ( اجازت دے دی تو وہ آئے ) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے ( یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے ، پھر انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی “ ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نمک “ ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے ( یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو ) “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 114
Hadith 1670
Chapter 556: Begging In The Mosques - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ ‏.‏

‘Abd al-Rahman bin Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said The Messenger of Allah (ﷺ) asked Is there anyone of you who provided food to a poor man today? Abu Bakr said I entered the mosque where a beggar was begging ; I found a piece of bread in the hand of ‘Abdal-Rahman which I took and gave it to him

عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو ؟ “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے ، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 115
Hadith 1671
Chapter 557: Repugnance Of Begging In The Name Of Allah, The Exalted - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقِلَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلاَّ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Prophet (ﷺ) said: Nothing but Paradise must be begged for Allah's sake.

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 116
Hadith 1672
Chapter 558: On Giving A Person Who Begs In The Name Of Allah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Prophet (ﷺ) said: If anyone seeks protection in Allah's name, grant him protection; if anyone begs in Allah's name, give him something; if anyone gives you an invitation, accept it; and if anyone does you a kindness, recompense him; but if you have not the means to do so, pray for him until you feel that you have compensated him.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو ، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو ، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو ، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو ، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 117
Hadith 1673
Chapter 559: On Giving All The Property As Sadaqah By A Mam - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الأَيْسَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah Al-Ansari:

While we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) a man brought him some gold equal in weight to an egg, and said: Messenger of Allah, I have got this from a mine; take it; it is sadaqah. I have no more than this. The Messenger of Allah (ﷺ) turned his attention from him. Then he came to him from his right side and repeated the same words. But he (the Prophet) turned his attention from him. He then came to him from his left side and repeated the same words. But he (again) turned his attention from him. He then came to him from behind. The Messenger of Allah (ﷺ) took it and threw it away. Had it hit him, it would have hurt him or wounded him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: One of you brings all that he possesses and says: This is sadaqah. Then he sits down and spreads his hand before the people. The best sadaqah is that which leaves a competence.

جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے ، آپ اسے لے لیجئے ، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا ، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا ، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا ، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا ، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے : یہ صدقہ ہے ، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 118
Hadith 1674
Chapter 559: On Giving All The Property As Sadaqah By A Mam - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ ‏ "‏ خُذْ عَنَّا مَالَكَ لاَ حَاجَةَ لَنَا بِهِ ‏"‏ ‏.‏

The above mentioned tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators to the same effect. This version adds "have your property with you from us. We have no need of it."

اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے

البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : «خذ عنا مالك لا حاجة لنا به» ” اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 119
Hadith 1675
Chapter 559: On Giving All The Property As Sadaqah By A Mam - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ وَقَالَ ‏ "‏ خُذْ ثَوْبَكَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Sa'id al-Khudri:

A man entered the mosque. The Prophet (ﷺ) commanded the people to throw their clothes as sadaqah. Thereupon they threw their clothes (as sadaqah). He then asked him to take two clothes from them. He reprimanded him and said: Take your clothe.

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے ( بطور صدقہ ) ڈال دیں ، انہوں نے ڈال دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں ( کے دیئے جانے ) کا حکم دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا ، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : ” اپنے کپڑے لے لو ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 120
Hadith 1676
Chapter 559: On Giving All The Property As Sadaqah By A Mam - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying The best sadaqah is that which leaves a competence ; and begin with those for whom you are responsible.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا ( یوں فرمایا ) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 121
Hadith 1677
Chapter 560: Concession For Giving All The Property As Sadaqah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported I asked Messenger of Allah (ﷺ), What kind of sadaqah is most excellent? He replied What a man with little property can afford to give; and begin with those for whom you are responsible.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو “ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 122
Hadith 1678
Chapter 560: Concession For Giving All The Property As Sadaqah - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالاً عِنْدِي فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ قُلْتُ لاَ أُسَابِقُكَ إِلَى شَىْءٍ أَبَدًا ‏.‏

Narrated Umar ibn al-Khattab:

The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us one day to give sadaqah. At that time I had some property. I said: Today I shall surpass AbuBakr if I surpass him any day. I, therefore, brought half my property. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: What did you leave for your family? I replied: The same amount. AbuBakr brought all that he had with him. The Messenger of Allah (ﷺ) asked him: What did you leave for your family? He replied: I left Allah and His Apostle for them. I said: I shall never compete you in anything.

اسلم کہتے ہیں کہ

میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں ، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی ، میں نے کہا : اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا ، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : اسی قدر یعنی آدھا مال ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎ ، تب میں نے ( دل میں ) کہا : میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 123
Hadith 1679
Chapter 561: On The Excellence Of Supplying Drinking Water - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ قَالَ ‏ "‏ الْمَاءُ ‏"‏ ‏.‏

Sa’id reported Sa’d came to the Prophet (SWAS) and asked him Which sadaqah do you like most? He replied Water.

سعد بن عبادہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ( کا صدقہ ) “ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 124
Hadith 1680
Chapter 561: On The Excellence Of Supplying Drinking Water - كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏

The above mentioned tradition has also been narrated by Sa’d bin ‘Ubadah from the Prophet (ﷺ) in the same manner.

اس سند سے بھی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

In-book reference : Book 9, Hadith 125
Page 5 of 6

Showing 25 hadiths on this page (Total: 145 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 5 of 6 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00