Chapter 534: When Palm-Trees Are To Be Estimated - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ فَيَخْرِصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Describing the conquest of Khaybar Aisha said: The Prophet (ﷺ) used to send Abdullah ibn Rawahah to the Jews of Khaybar, and he would make an estimate of the palm trees when the fruit was in good condition before any of it was eaten.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تو وہ کھجور کو اس وقت اندازہ لگاتے جب وہ پکنے کے قریب ہو جاتی قبل اس کے کہ وہ کھائی جا سکے ۱؎ ۔
Abu Umamah bin Sahl reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to accept ja'rur and habiq dates as zakat. Az-Zuhri said: These are two kinds of the dates of Medina.
Abu Dawud said: This has also been transmited by Abu al-Walid from Sulaiman bin Kathir from Az-Zuhri.
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع ۱؎ فرمایا ، زہری کہتے ہیں : یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us in the mosque, and he had a stick in his hand. A man hung there a bunch of hashaf. He struck the bunch with the stick, and said: If the owner of this sadaqah (alms) wishes to give a better one than it, he would give. The owner of this sadaqah will eat hashaf on the Day of Judgment.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا : ” اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا “ ، پھر فرمایا : ” یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» ( خراب قسم کی کھجور ) کھائے گا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) prescribed the sadaqah (alms) relating to the breaking of the fast as a purification of the fasting from empty and obscene talk and as food for the poor. If anyone pays it before the prayer (of 'Id), it will be accepted as zakat. If anyone pays it after the prayer, that will be a sadaqah like other sadaqahs (alms).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے ، لہٰذا جو اسے ( عید کی ) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) commanded us that the end of Ramadan when the fasting is closed sadaqah(alms) should be paid before the people went to prayer. ‘Abd Allah b. ‘Umar used to pay it one or two days before.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے ، راوی کہتے ہیں : چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) prescribed as zakat payable by slave and freeman, male and female, among the muslims on closing the fast of Ramadan one sa of dried dates or one sa’ of barley. (This tradition was read out byu ‘Abd Allah b. Maslamah to Malik)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے ، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر ، مرد اور عورت پر ( فرض ) ہے ۔
The Messenger of Allah(ﷺ)prescribed the sadaqah at the end of Ramadan one sa’. The narrator then transmitted the tradition like the one narrated by Malik. This version adds : “Young and old. He gave command that this should be paid before the people went out to prayers.”
Abu Dawud said : ‘Abd Allah al-‘Umari narrated it from Nafi’ through his chain : “on every Muslim.” The version of Sa’id al-Jumahi has : “Among the Muslims.” The well-known version transmitted by ‘Ubaid Allah does not mention the words “among the Muslims”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا ، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی ، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ” ہر چھوٹے اور بڑے پر ( صدقہ فطر واجب ہے ) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا ) کا اضافہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں ( یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے ) ۱؎ اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ ( عمری ) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) prescribed sadaqah at the end of Ramadan one sa’ of barley and dried dates, payable by young and old freeman and slave. The version of Musa adds : “ male and female”.
Abu Dawud said : the words “male and female” narrated, by Ayyub and ‘Abd Allah al Umar were narrated in their version on the authority of Nafi’.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے ۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ ) ذکر کئے ہیں ۔
The people during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) used to bring forth the sadaqah at the end of Ramadan when closing the fast one sa' of barley whose straw is removed, or of raisins. Abdullah said: When Umar (Allah be pleased with him) succeeded, and the wheat became abundant, Umar prescribed half a sa' of wheat instead of all these things.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو ، یا انگور نکالتے تھے ، جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع ( صدقہ فطر ) مقرر کیا ۔
Abd’ Allah(b. 'Umar) said “The people then began to pay half a sa’ of wheat later on. The narrator said :
'Abd Allah (b. Umar) use to pay dried dates as sadaqah one year the people of Medina lacked dried dates, hence he paid barley.
نافع کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا ، عبداللہ ( ایک صاع ) کھجور ہی دیا کرتے تھے ، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا ۔
When the Messenger of Allah(May peace be upon him) lived among us, we use to bring forth zakat, on closing the fast of Ramadan one sa’ of grain or of cheese, or of barley, or of dried dates, or of raisens, payable by every young and old freeman and slave. We continued to pay this till mu-awayah came to perform Haj or Umra and he spoke to the people on the pulpit. What he said to the people was : I think that Mudds of the wheat of syrria is equivalent to one sa’ of dried dates. So the people adopted it. Abu sa’id said : But I continued to pay one sa’ of wheat as long as I lived on.
Abu Dawud said : this tradition has also been transmitted by Abu sa’id through a different chain of narrators to the same effect. A man has narrated in this version from Ibn-Ulayyah one sa’ of wheat.
But this version is not guarded.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے ، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے ، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے ، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں ، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی : میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں ، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا ، اور ابوسعید نے کہا : لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے ، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے ، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے ، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Sa’id through a different chain of narrators.
This version adds :
“Half a sa’ of wheat “. But this is a misunderstanding on the part of muawayah b. Hisham and of those who narrated from him.
اس سند سے اسماعیل ( اسماعیل ابن علیہ ) سے یہی حدیث ( نمبر : ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے ) مروی ہے
اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے ، ثوری نے زید بن اسلم سے ، زیدی اسلم نے عیاض سے ، عیاض نے ابوسعید سے «نصف صاع من بُرٍّ» نقل کیا ہے ، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے ۔
I shall always pay one sa'. We used to pay during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) one sa' of dried dates or of barley, or of cheese, or of raisins. This is the version of Yahya. Sufyan added in his version: "or one sa' of flour." The narrator Hamid (ibn Yahya) said: The people objected to this (addition); Sufyan then left it.
Abu Dawud said: This addition is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا ، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور ، یا جو ، یا پنیر ، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے ۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے ، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : یا ایک صاع آٹے کا ، حامد کہتے ہیں : لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی ، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے ۔
'Abd Allah b. Tha'labah or Tha'labah bin 'Abd Allah bin Abu Su'air reported on his father's authority that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
One sa' of wheat is to be taken from every two, young or old, freeman or slave, male or female. Those of you who are rich will be purified by Allah, and those of you who are poor will have more than they gave returned by Him to them. Sulayman added in his version: "rich or poor"
عبداللہ بن ابوصعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے ( ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع ) چھوٹے ہوں یا بڑے ، آزاد ہوں یا غلام ، مرد ہوں یا عورت ، رہا تم میں جو غنی ہے ، اللہ اسے پاک کر دے گا ، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا ، جتنا اس نے دیا ہے “ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں «غنيٍ أو فقيرٍ» کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔
'Abd Allah bin Tha'labah ibn Su'ayr reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood and gave a sermon; he commanded to give sadaqah, at the end of Ramadan when the fasting is closed, one sa' of dried dates or of barley payable by every person. The narrator Ali added in his version: "or one sa' of wheat to be taken from every two." Both the chains of narrators are then agreed upon the version: "payable by young and old, freeman and slave."
ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا ۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں «أو صاع بر أو قمح بين اثنين» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا ) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں : ” چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے “ ۔
Abd Allah b. Tha’labah said (the narrator Ahmad b. salih said :
He, i.e “Abd al-Razzaq, said : He is ‘Adawl. Abu Dawud said : Ahmed b. Salih said : He is ‘Adhri): The Messenger of Allah (May peace be upon him) delivered a speech before the closing fast (‘Id) by two days. He then transmitted the tradition like that of al Muqri (‘Abd Allah b. Yazid).
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ
ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا ، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا ۔
Ibn Abbas preached towards the end of Ramadan on the pulpit (in the mosque) of al-Basrah. He said: Bring forth the sadaqah relating to your fast. The people, as it were, could not understand. Which of the people of Medina are present here? Stand for your brethren, and teach them, for they do not know.
The Messenger of Allah (ﷺ) prescribed this sadaqah as one sa' of dried dates or barley, or half a sa' of wheat payable by every freeman or slave, male or female, young or old. When Ali came (to Basrah), he found that price had come down. He said: Allah has given prosperity to you, so give one sa' of everything (as sadaqah).
The narrator Humayd said: Al-Hasan maintained that the sadaqah at the end of Ramadan was due on a person who fasted.
حسن کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا : ” اپنے روزے کا صدقہ نکالو “ ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا : ” اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں ؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع ، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام ، مرد ، عورت ، چھوٹے اور بڑے پر “ ، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کر دی ہے ، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے “ ۔ حمید کہتے ہیں : حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں ۔
Chapter 541: Payment Of Zakat In Advance Before It Falls Due - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهِيَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا " . ثُمَّ قَالَ " أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الأَبِ " . أَوْ " صِنْوُ أَبِيهِ " .
Abu Hurairah said :
The Prophet(ﷺ) sent Umar b. al-Khattab to collect sadaqa (All the people paid the zakat but ibn-jamil, Khalid b. al-walid and al-abbas refused. So the Messenger of Allah(ﷺ) said : Ibn-jamil is not (so much) objecting, but he was poor and Allah enriched him. As for Khalid b. Walid, you are wronging him, for he has kept back his courts of mail and weapons to use them in Allah’s path. As for al-Abbas, the uncle of the Messenger of Allah(May peace be upon him), I shall be responsible for it and an equal amount along with it. Then he said did you not know(Umar) that a man’s paternal uncle is of the same stock as the father or his father?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل ، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم نے ( زکاۃ دینے سے ) انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کر دیا ، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو ، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں ۱؎ ، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہے ۲؎ “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے “ ۔ راوی کو شک ہے «صنو الأب» کہا ، یا «صنو أبيه» کہا ۔
Chapter 541: Payment Of Zakat In Advance Before It Falls Due - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَرَّةً فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
Al-Abbas asked the Prophet (ﷺ) about paying the sadaqah (his zakat) in advance before it became due, and he gave permission to do that.
Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hushaim through a different chain of narrators. The version of Hushaim is more sound.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ جلدی ( یعنی سال گزرنے سے پہلے ) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی ۔ راوی نے ایک بار «فرخص له في ذلك» کے بجائے «فأذن له في ذلك» روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے ، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے ، ( یعنی : اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے ) ۔
Chapter 542: Transfer Of Zakat Of One City To Another City - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ، مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ زِيَادًا، أَوْ بَعْضَ الأُمَرَاءِ بَعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ لِعِمْرَانَ أَيْنَ الْمَالُ قَالَ وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي أَخَذْنَاهَا مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَضَعْنَاهَا حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibrahim ibn Ata, the client of Imran ibn Husayn, reported on the authority of his father:
Ziyad, or some other governor, sent Imran ibn Husayn to collect sadaqah (i.e. zakat). When he returned, he asked Imran: Where is the property? He replied: Did you send me to bring the property? We collected it from where we used to collect in the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), and we spent it where we used to spend during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).
عطا کہتے ہیں
زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا ، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا : مال کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا ؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لیتے تھے ، اور اس کو صرف کر دیا جہاں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صرف کرتے تھے ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: He who begs (from people) when he is affluent will come on the Day of Resurrection with scrapes, scratchings, or lacerations on his face. He was asked: What constitutes affluence, Messenger of Allah? He replied:It is fifty dirhams or its value in gold.
The narrator Yahya said: Abdullah ibn Sufyan said to Sufyan: I remember that Shu'bah does not narrate from Hakim ibn Jubayr. Sufyan said: Zubayr transmitted to us this tradition from Muhammad ibn AbdurRahman ibn Yazid.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے “ ، لوگوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں “ ۔ یحییٰ کہتے ہیں : عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا : مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ۱؎ تو سفیان نے کہا : ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے ۔
Chapter 543: To Whom Zakat Is To Be Paid And The Definition Of A Wealthy Person - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي، بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلاً يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " . فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَغْضَبُ عَلَىَّ أَنْ لاَ أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ الأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقِحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا . قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ أَوْ زَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ - أَوْ كَمَا قَالَ - حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ .
‘Ata’ b. Yasar said :
A man from Banu Asad said : I and my family alighted at Baqi al-Gharqad. My wife said to me : Go the Messenger of Allah(ﷺ) and beg something from him for our eating, and made a mention of there need. So I went to the Messenger of Allah(May peace be upon him). I found with a man who was begging from him and he was saying to him: I have nothing to give you. The man turned away from him in anger while he was saying: By my life, you give anyone you wish. The Messenger of Allah(May peace be upon him) said : He’s anger with me, for I have nothing to give him. If any of you begs when he has an Uqiyah or its equivalent, he has begged immoderately. The man of Banu Asad said : So I said : The she camel of ours is better than an uqiyah, while an uqiyah is equivalent to 40 Dirhams. I therefore returned and did not beg from him. Afterwards some barley and raisins where brought to the Messenger of Allah (May peace be upon him). He gave us a share from them (or as he reported)till Allah, the Exalted, made us self-sufficient(i.e well off).
Abu Dawud said: Al-Thawri narrated it as Malik narrated.
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ
میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے ، میری بیوی نے مجھ سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں ، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا ، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے : میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں ، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم ، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے ، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( چالیس درہم ) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ۱؎ “ ، اسدی کہتے ہیں : میں نے ( اپنے جی میں ) کہا : ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے ، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے ، وہ کہتے ہیں : چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقی آیا ، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا ، «أو كما قال» یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone begs when he has something equivalent to an uqiyah in value, he has begged immoderately. So I said: My she-camel, Yaqutah, is better than an uqiyah. The version of Hisham goes: "better than forty dirhams. So I returned and did not beg anything from him." Hisham added in his version: "An uqiyah during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was equivalent to forty dirhams."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا “ ، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا : میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے ۔ ( ہشام کی روایت میں ہے : چالیس درہم سے بہتر ہے ) ، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎ ۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا ۔
Uyaynah ibn Hisn and Aqra' ibn Habis came to the Messenger of Allah (ﷺ). They begged from him. He commanded to give them what they begged. He ordered Mu'awiyah to write a document to give what they begged. Aqra' took his document, wrapped it in his turban, and went away.
As for Uyaynah, he took his document and came to the Prophet (ﷺ) at his home, and said to him: Muhammad, do you see me? I am taking a document to my people, but I do not know what it contains, just like the document of al-Mutalammis. Mu'awiyah informed the Messenger of Allah (ﷺ) of his statement.
Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who begs (from people) when he has sufficient is simply asking for a large amount of Hell-fire. (An-Nufayl (a transmitter) said elsewhere: "embers of Hell".)
They asked: Messenger of Allah, what is a sufficiency? (Elsewhere an-Nufayl said: What is a sufficiency which makes begging unfitting?)
He replied: It is that which would provide a morning and an evening meal. (Elsewhere an-Nufayl said: It is when one has enough for a day and night, or for a night and a day.) He (an-Nufayl) narrated to us this tradition briefly in the words that I have mentioned.
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے ، انہوں نے آپ سے مانگا ، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے ، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : محمد ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو ، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو ؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے “ ۔ ( ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے ” جہنم کی آگ “ کے بجائے ” جہنم کا انگارہ “ کہا ہے ) ۔ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے ؟ ( نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا : غنی کیا ہے ، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے “ ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا : اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو ، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے ۔
I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and swore allegiance to him, and after telling a long story he said: Then a man came to him and said: Give me some of the sadaqah (alms). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah is not pleased with a Prophet's or anyone else's decision about sadaqat till He has given a decision about them Himself. He has divided those entitled to them into eight categories, so if you come within those categories, I shall give you what you desire.
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی ، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی ، اس میں انہوں نے کہا : آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : مجھے صدقے میں سے دیجئیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا “ ۔