Sa'd asked: Messenger of Allah, Umm Sa'd has died; what form of sadaqah is best? He replied: Water (is best). He dug a well and said: It is for Umm Sa'd.
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ام سعد ( میری ماں ) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی “ ۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : یہ ام سعد ۱؎ کا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: If any Muslim clothes a Muslim when he is naked, Allah will clothe him with some green garments of Paradise; if any Muslim feeds a Muslim when he is hungry, Allah will feed him with some of the fruits of Paradise; and if any Muslim gives a Muslim drink when he is thirsty, Allah will give him some of the pure wine which is sealed to drink.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا ، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے ( جنت کی ) مہربند شراب پلائے گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: There are forty characteristics; the highest of them is to give a goat on loan (for benefiting from its milk). If any man carries out any of those characteristics with the hope of getting a reward and testifying to the promise for it, Allah will admit him to Paradise for it.
Abu Dawud said: In the version of Musaddad, Hassan said: So we counted other characteristics than lending the goat: to return the greeting, to respond to sneezing, and remove things which cause annoyance to the people from their path, and similar other things. We could not reach fifteen characteristics.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے ، جو کوئی بھی ان میں سے کسی ( خصلت نیک کام ) کو ثواب کی امید سے اور ( اللہ کی طرف سے ) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں : ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا ، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔
Abu Musa reported The Messenger of Allah (ﷺ) as saying The faithful trustee who gives what he is commanded completely and in full with a good will, and delivers it to the one whom he was told to give it, is one of the two who gives sadaqah.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے “ ۔
Chapter 564: Sadaqah Given By A Woman From Her Husband's Property - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ " .
A’ishah reported The Messenger of Allah (ﷺ) as saying When a woman gives (some of the property) from her husband’s house, not wasting it, she will have her reward for what she has spent, and her husband will have his for what he earned. The said applies to a trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا “ ۔
Sa’d said When the Messenger of Allah (SWAS) took the oath of allegiance from woman, a woman of high rank, who seemed to be one of the women of Mudar, rose and said Prophet of Allah (SWAS), we are dependant on our parents, our sons. (Abu Dawud said I think (this version) has the word “ and our husbands”. ) So what part of their property can be spent lawfully? He said Fresh food which you eat and give as a present.
Abu Dawud said The Arabic word ratb means bread, vegetables and fresh dates.
Abu Dawud said Al-Thawri transmitted from Yunus in a similar manner.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی : اللہ کے نبی ! ہم ( عورتیں ) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا ( یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں ) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے ( کہ ہم خرچ کریں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «رطب» روٹی ، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
Abu Hurairah reported The Messenger of Allah (ﷺ) as saying When a woman gives something her husband has earned without being commanded by him to do so, she has half his reward.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس ( شوہر ) کا آدھا ثواب ملے گا ۱؎ “ ۔
‘Ata said Abu Hurairah was asked Whether a woman could give sadaqah from the house (property) of her husband. He replied `No’. She can give it from her maintenance. The reward will be divided between them. It is not lawful for her to give sadaqah from her husband’s property without his permission.
Abu Dawud said This version weakens the version narrated by Hammam (bin Munabbih).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان سے کسی نے پوچھا ، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں ( میاں بیوی ) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمام کی ( پچھلی ) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ۱؎ ۔
Anas said When the verse “You will never attain righteousness until you give freely of what you love" came down, Abu Talhah said Messenger of Allah (ﷺ), I think our Lord asks us for our property. I call you as witness that I dedicate my land at Ariha ‘to Him’. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him Divide it among your nearest relatives. So he divided it among Hassan bin Thabit and Ubayy bin Ka’b.
Abu Dawud said I have been gold by an Ansari Muhammad bin ‘Abdallah that the name of Abu Talhah is Zaid bin Sahal bin al-Aswad bin Haram bin ‘Amar bin Zaid bin Manat bin ‘Adi bin ‘Amr bin Malik bin al-Najjar; and Hassan bin Tabit is son of al-Mundhir in al-Haram. Thus both of them (Abu Talhah and Hassan) have their common link in Haram who is the third great grandfather. Ubbay bin Ka’b is son of Qais bin ‘Atik bin Zaid bin Mu’awiyah bin ‘Amr bin Malik bin al-Najjar. Thus the common tie between Hassan, Abu Talhah and Ubbay is ‘Amr (bin Malik). The Ansari said between Ubbay and Abi Talhah there are six great grandfathers.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے ، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو “ ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام : زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے ، اور حسان : ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں ، اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ ( پردادا ) ہیں ، اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار ، اس طرح عمرو : حسان ، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں ، انصاری ( محمد بن عبداللہ ) کہتے ہیں : ابی رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے ۔
Chapter 565: On Doing Kindness To Near Relatives - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ
" آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ " .
Maimunah, wife of the Probhet (ﷺ) said :
I had a slave girl and I set her free. When the Prophet (ﷺ) entered upon me, I informed him (of this). He said : May Allah give reward for it; if you had given her to your maternal uncles, it would have increased your reward
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میری ایک لونڈی تھی ، میں نے اسے آزاد کر دیا ، میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے ، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی “ ۔
The Prophet (ﷺ) commanded to give sadaqah. A man said: Messenger of Allah, I have a dinar. He said: Spend it on yourself. He again said: I have another. He said: Spend it on your children. He again said: I have another. He said: Spend it on your wife. He again said: I have another. He said: Spend it on your servant. He finally said: I have another. He replied: You know best (what to do with it).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک دینار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے کام میں لے آؤ “ ، تو اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے بیٹے کو دے دو “ ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنی بیوی کو دے دو “ ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے خادم کو دے دو “ ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو ( کہ کسے دیا جائے ) “ ۔
Chapter 565: On Doing Kindness To Near Relatives - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ " .
`Abd Allah bin ‘Amr reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :
It is sufficient sin for a man that he neglects him whom he maintains.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ۱؎ “ ۔
Anas reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :
Anyone who is pleased that his sustenance is expanded and his age extended should do kindness to his near relatives.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے ( یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے ) “ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah the Exalted has said: I am Compassionate, and this has been derived from mercy. I have derived its name from My name. If anyone joins it, I shall join him, and if anyone cuts it off, I shall cut him off.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : میں رحمن ہوں اور «رَحِم» ( ناتا ) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے ، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا ، میں اسے کاٹ دوں گا “ ۔
Chapter 565: On Doing Kindness To Near Relatives - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ الرَّدَّادَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ .
The above mentioned tradition has also been narrated by `Abd al-Rahman bin ‘Awf from the Messenger of Allah (SWAS) through a different chain of narrators to the same effect.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے ۔
Chapter 565: On Doing Kindness To Near Relatives - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَالْحَسَنُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ هُوَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا " .
Abd Allah bin `Amr said :
(Sufyan said : The version of the narrator Sulaiman does not go back to The Prophet (SAWS). Fitr and al-Hasan reported from him ) : The Messenger of Allah (SAWS) said : One who compensates is not a man who unites relationship : but the man who unites relationship is the one who joins it when the relationship is cut off.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا : ” بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے ، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے “ ۔
I said : Messenger of Allah(SAWS), I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said : Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں ، کیا میں اس میں سے دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے “ ۔
Aisha counted a number of indigents. AbuDawud said: The other version has: She counted a number of sadaqahs. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give and do not calculate, so calculation will be made against you.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا ( ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں «عدة من صدقة» ( کئی صدقوں کا ذکر ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے “ ۔