Nafi' ibn Alqamah appointed my father as charge d'affaires of his tribe, and commanded him to collect sadaqah (zakat) from them. My father sent me to a group of them; so I came to an aged man called Sa'r ibn Disam
I said: My father has sent me to you to collect zakat from you. He asked: What kind of animals will you take, my nephew? I replied: We shall select the sheep and examine their udders. He said: My nephew, I shall narrate a tradition to you. I lived on one of these steppes during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) along with my sheep. Two people riding a camel came to me.
They said to me: We are messengers of the Messenger of Allah (ﷺ), sent to you so that you may pay the sadaqah (zakat) on your sheep.
I asked: What is due from me for them?
They said: One goat. I went to a goat which I knew was full of milk and fat, and I brought it to them.
They said: This is a pregnant goat. The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited us to accept a pregnant goat.
I asked: What will you take then? They said: A goat in its second year or a goat in its third year. I then went to a goat which had not given birth to any kid, but it was going to do so. I brought it to them.
They said: Give it to us. They took it on the camel and went away.
Abu Dawud said: Abu 'Asim transmitted this tradition from Zakariyya. He said: Muslim bin Shu'bah is a narrator in the chain of this tradition as reported by the narrator Rawh.
مسلم بن ثفنہ یشکری ۱؎ کہتے ہیں
نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا ، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا ، چنانچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا ، جس کا نام سعر بن دیسم تھا ، میں نے کہا : مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے ، وہ بولے : بھتیجے ! تم کس قسم کے جانور لو گے ؟ میں نے کہا : ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے ، انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں : میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا ، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں ، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو ، میں نے کہا : مجھے کیا دینا ہو گا ؟ انہوں نے کہا : ایک بکری ، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا ، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی ، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی ، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا ، انہوں نے کہا : یہ بکری پیٹ والی ( حاملہ ) ہے ، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے ، پھر میں نے کہا : تم کیا لو گے ؟ انہوں نے کہا : ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہو گئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہو گئی ہو ، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا ، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا : اسے ہم نے لے لیا ، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کر لیے چلے گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے ، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا ۔
This tradition has also been narrated by Zakariyya bin Ishaq through his chain of narrators. In this version Mulsim bin Shu'bah said:
Shafi' means a goat which has a baby in its womb.
Abu Dawud said: I read in a document possessed by Abdullah ibn Salim at Hims: Abdullah ibn Mu'awiyah al-Ghadiri reported the Prophet (ﷺ) as saying: He who performs three things will have the taste of the faith. (They are:) One who worships Allah alone and one believes that there is no god but Allah; and one who pays the zakat on his property agreeably every year. One should not give an aged animal, nor one suffering from itch or ailing, and one most condemned, but one should give animals of medium quality, for Allah did not demand from you the best of your animals, nor did He command you to give the animals of worst quality.
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے
اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو ۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں ، روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا : جو صرف اللہ کی عبادت کرے ، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے ، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے ، اور زکاۃ میں بوڑھا ، خارشتی ، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے ، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) commissioned me as a collector of zakat. I visited a man. When he had collected his property of camels, I found that a she-camel in her second year was due from him.
I said to him: Pay a she-camel in her second year, for she is to be paid as sadaqah (zakat) by you.
He said: That one is not worthy of milking and riding. Here is another she-camel which is young, grand and fat. So take it.
I said to him: I shall not take an animal for which I have not been commanded. The Messenger of Allah (ﷺ) is here near to you. If you like, go to him, and present to him what you presented to me. Do that; if he accepts it from you, I shall accept it; if he rejects it, I shall reject it.
He said: I shall do it. He accompanied me and took with him the she-camel which he had presented to me. We came to the Messenger of Allah (ﷺ). He said to him: Prophet of Allah, your messenger came to me to collect zakat on my property. By Allah, neither the Messenger of Allah nor his messenger has ever seen my property before. I gathered my property (camels), and he estimated that a she-camel in her second year would be payable by me. But that has neither milk nor is it worth riding. So I presented to him a grand young she-camel for acceptance as zakat. But he has refused to take her. Look, she is here; I have brought her to you, Messenger of Allah. Take her.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: That is what is due from you. If you give voluntarily a better (animal) Allah will give a reward to you for it. We accept her from you.
She is here, Messenger of Allah; I have brought her to you. So take her. The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered me to take possession of it, and he prayed for a blessing on his property.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا ، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی ، میں نے اس سے کہا : ایک بنت مخاض دو ، یہی تمہاری زکاۃ ہے ، وہ بولا : بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ ( اس پر ) سواری کی جا سکے ، یہ لو ایک اونٹنی جوان ، بڑی اور موٹی ، میں نے اس سے کہا : میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں ، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے ، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا ، اس نے کہا : ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی ، لے کر میرے ساتھ چلا ، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے نبی ! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا ، قسم اللہ کی ! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے ، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا : تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے ، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی ، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں ، اللہ کے رسول ! اسے لے لیجئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے ، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے “ ، وہ شخص بولا : اے اللہ کے رسول ! اسے لے لیجئے ، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی ۔
said When the Messenger of Allah(ﷺ) sent Mu’adh to Yemen, he said to him You are going to a people who are people of the book. So call them to bear witness that there is no diety but Allah, and that I am the Messenger of Allah. If they obey you in this respect, tell them that Allah has prescribed five prayers on them every day and night. If they obey you in this regard tell them that Allah has prescribed sadaqah(zakat) on their property and returned it to their poor. If they obey you in this respect, do not take the best of their property. Beware of the curse of the oppressed, for there is no curtain between it and Allah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا : ” تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو ، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی ، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں “ ۔
(Ibn Ubayd said in the version of his tradition that his name was not Bashir, but (it was) the Messenger of Allah (ﷺ) (who had) named him Bashir)
We said: (to the Messenger of Allah): The collectors of sadaqah collect more than is due; can we hide our property to that proportion? He replied: "No."
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
( ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں : ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا ) وہ کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپا لیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Ayyub through a different chain of narrators to the same effect. This version adds We said Messenger of Allah(ﷺ) the collectors of sadaqah collect more than is due from us.
Abu Dawud said ‘Abd Al Razzaq narrated this tradition from Ma’mar attributing it to the Prophet(ﷺ).
اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
مگر اس میں ہے ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: Riders who are objects of dislike to you will come to you, but you must welcome them when they come to you, and give them a free hand regarding what they desire. If they are just, they will receive credit for it, but if they are unjust, they will be held responsible. Please them, for the perfection of your zakat consists in their good pleasure, and let them ask a blessing for you .
Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Ghusn is Thabit bin Qais bin Ghusn.
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے ، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں ، اسے لینے دو ، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا ، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو ، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں “ ۔
Jabir bin ‘Abdallah told of some people, meaning nomadic Arabs, who came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said Collectors of zakat come to us and act unjustly. He said please those who collect the sadaqah from you. They asked Even if they wrong us, Messenger of Allah? He replied Please those who collect sadaqah from you.
The version of ‘Uthman adds “Even if you are wronged”. Abu Kamil said in this version “Jarir said No collector of zakat returned from me since I heard this from the Messenger of Allah(ﷺ), but he was pleased with me.”
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، انہوں نے پوچھا : اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے ” اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں “ ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں : جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا ، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا ۔
My father was one of those Companions who took the oath of allegiance at the hand of the Prophet (ﷺ) beneath the tree. The Prophet (ﷺ) said when the people brought him their sadaqah : O Allah, bless the family of so and so. When my father brought him his sadaqah he said O Allah bless the family of Abu Awfa.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے والد ( ابواوفی ) اصحاب شجرہ ۱؎ میں سے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے : اے اللہ ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما ، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ۲؎ “ ۔
Chapter 527: On The Place Where Zakat Is To Be Paid - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلاَّ فِي دُورِهِمْ " .
'Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported the Prophet (ﷺ) as saying:
There is to be no collecting of sadaqah (zakat) from a distance, nor must people who own property remove it far away, and their sadaqahs are to be received in their dwelling.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہ «جلب» صحیح ہے نہ «جنب» لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ۱؎ ۔
Explaining the meaning of Jalab and janab Muhammad bin Ishaq said The meaning of jalab said is that the zakat of animals should be collected at their places (dwellings), and they (animals) should not be pulled to the collector of zakat. The meaning of janab is that the animals are removed at a distance (from the collector). The owners of the animals should do so. The collector of zakat should not stay at a distance from the places of the people who bring their animals to him. The zakat should be collected in its place.
محمد بن اسحاق سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں ، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے : وہ کہتے ہیں : «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎ ۔
Chapter 528: On A Person Who Buys His Zakat After Its Payment - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ
" لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
Narrated ‘Abdallah bin Umar :
‘Umar bin Al Khattab gave a horse as alms in the way of Allah. He then found it being sold, and intended to buy it. So he asked the Messenger of Allah (ﷺ) about this. He said Do not buy it, and do not take back your sadaqah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا ، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مت خریدو ، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ “ ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) as saying A tenth is payable on what is watered by rain or rivers or brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کھیت کو آسمان یا دریا یا چشمے کا پانی سینچے یا زمین کی تری پہنچے ، اس میں سے پیداوار کا دسواں حصہ لیا جائے گا اور جس کھیتی کی سینچائی رہٹ اور جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ لیا جائے گا “ ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) as saying A tenth is payable on what is watered by rivers and brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو ، اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے “ ۔
Waki’ said Ba’l means the agricultural crop which grows by the rain water. Ibn Al Aswad said and Yahya, that is, Ibn Adam said I asked Abu Iyas al Asadi (about this word ba’l). He replied What is watered by rain.
وکیع کہتے ہیں
«بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے ( بارش ) اگتی ہو ، ابن اسود کہتے ہیں : یحییٰ ( یعنی ابن آدم ) کہتے ہیں : میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو ، نضر بن شمیل کہتے ہیں : «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) sent him to the Yemen, he said (to him): Collect corn from the corn, sheep from the sheep, camel from the camels, and cow from the cows.
Abu Dawud said: In Egypt I saw a cucumber thirteen spans in length and a citron cut into two pieces loaded on a camel like two loads.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا : ” غلہ میں سے غلہ لو ، بکریوں میں سے بکری ، اونٹوں میں سے اونٹ اور گایوں میں سے گائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے مصر میں ایک ککڑی کو بالشت سے ناپا تو وہ تیرہ بالشت کی تھی اور ایک سنترہ دیکھا جو ایک اونٹ پر لدا ہوا تھا ، اس کے دو ٹکڑے کاٹ کر دو بوجھ کے مثل کر دیئے گئے تھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ هِلاَلٌ - أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَكَانَ سَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ الْوَادِي فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ عُمَرُ رضى الله عنه إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ لَهُ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلاَّ فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ يَشَاءُ .
'Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:
Hilal, a man from the tribe of Banu Mat'an brought a tenth of honey which he possessed in beehives to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked him (the apostle of Allah) to give the wood known as Salabah as a protected (or restricted) land.
The Messenger of Allah (ﷺ) gave him that wood as a protected land.
When Umar ibn al-Khattab succeeded, Sufyan ibn Wahb wrote to Umar asking him about this wood. Umar ibn al-Khattab wrote to him: If he (Hilal) pays you the tithe on honey what he used to pay to the Messenger of Allah (ﷺ), leave the protected land of Salabah in his possession; otherwise those bees are like those of any wood; anyone can take the honey as he likes.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر ( دسواں حصہ ) لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا ، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے ، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( جواب میں ) لکھا ” اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں ، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں ، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے ۔
'Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:
That was Banu Shababah, a sub-clan of the tribe Fahm. The narrator then transmitted the tradition something similar. He added:(They used to pay) one bag (of honey) out of ten bags. Sufyan ibn Abdullah ath-Thaqafi gave them two woods as protected lands. They used to give as much honey (as zakat) as they gave to the Messenger of Allah (ﷺ). He (Sufyan) used to protect their woods.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے ، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا : ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے ۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں : وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے ، اور مزید کہتے ہیں : تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا ۔
‘Amr bin Shu’aib said on the authority of his father that his grandfather reported a sub clan of Fahm. He then narrated the tradition like that of the narrator Al Mughirah. This version has “(They used to give) sadaqah out of ten bags (of honey).” He also added “Two woods of theirs”.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے
اس میں «إن شبابة بطن من فهم» کے بجائے «إن بطنا من فهم» ہے اور «من كل عشر قرب قربة» کے بجائے «من عشر قرب قربة» اور «لهم وادييهم» کے بجائے «واديين لهم» ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded to estimate vines (for collecting zakat) as palm-trees are estimated. The zakat is to be paid in raisins as the zakat on palm trees is paid in dried dates.
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا جیسے درخت پر کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکاۃ اس وقت لی جائے جب وہ خشک ہو جائیں جیسے کھجور کی زکاۃ سوکھنے پر لی جاتی ہے ۔
Sahl ibn Abu Hathmah came to our gathering. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) commanding us said: When you estimate take them leaving a third, and if you do not leave or find a third, leave a quarter.
عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے ، انہوں نے کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا ، اس کی زکاۃ نہیں لے گا ۔