Ma'iz ibn Malik came to the Prophet (ﷺ) and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. He (the Prophet) said: You have testified to yourself four times. Take him away and stone him to death.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا ، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی ، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو “ ۔
The Prophet (ﷺ) said to Ma'iz ibn Malik: Perhaps you kissed, or squeezed, or looked. He said: No. He then said: Did you have intercourse with her? He said: Yes. On the (reply) he (the Prophet) gave order that he should be stoned to death. The narrator did not mention "on the authority of Ibn 'Abbas". This is Wahb's version.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا ، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا ، یا دیکھا ہو گا ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، ایسا نہیں ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا ۔
A man of the tribe of Aslam came to the Prophet (ﷺ) and testified four times against himself that he had had illicit intercourse with a woman, while all the time the Prophet (ﷺ) was turning away from him.
Then when he confessed a fifth time, he turned round and asked: Did you have intercourse with her? He replied: Yes. He asked: Have you done it so that your sexual organ penetrated hers? He replied: Yes. He asked: Have you done it like a collyrium stick when enclosed in its case and a rope in a well? He replied: Yes. He asked: Do you know what fornication is? He replied: Yes. I have done with her unlawfully what a man may lawfully do with his wife.
He then asked: What do you want from what you have said? He said: I want you to purify me. So he gave orders regarding him and he was stoned to death. Then the Prophet (ﷺ) heard one of his companions saying to another: Look at this man whose fault was concealed by Allah but who would not leave the matter alone, so that he was stoned like a dog. He said nothing to them but walked on for a time till he came to the corpse of an ass with its legs in the air.
He asked: Where are so and so? They said: Here we are, Messenger of Allah (ﷺ)! He said: Go down and eat some of this ass's corpse. They replied: Messenger of Allah! Who can eat any of this? He said: The dishonour you have just shown to your brother is more serious than eating some of it. By Him in Whose hand my soul is, he is now among the rivers of Paradise and plunging into them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے ، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا “ بولا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں ، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے “ اس نے کہا : ہاں ایسے ہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے ، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اچھا ، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے ؟ “ اس نے کہا : میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے ، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا ، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو ، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی ، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے ، اور تھوڑی دیر چلتے رہے ، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ “ وہ دونوں بولے : ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ “ ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا گوشت کون کھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے “ ۔
A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurrairah through a different chain of narrators. This version adds:
The narrator Hasan b. “All said: The transmitters have differed in the wordings (of this tradition) reported to me. Some said: He (Ma’iz) was tied to a tree, and others said: He was made to stand.
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے
اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے ( میدان میں ) کھڑا کر دیا گیا تھا ۔
Chapter 24: Stoning of Ma'iz bin Malik - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
Jabir b. ‘Abd Allah said:
A man of the tribe of Asalam came to the Messenger of Allah (ﷺ) and made confession of fornication. He (the prophet) turned away from him. When he testified against him four times, the Prophet (ﷺ) said: Are you mad? He said: No. he asked: Are you married? He replied: Yes. The Prophet (ﷺ) then commanded regarding him and he was stoned in the place of prayer. Then when the stones hurt him, he fled, but was overtaken and stoned to death. The Prophet (ﷺ) then spoke well of him and did not pray over him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا ، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا ، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تجھے جنون ہے ؟ “ اس نے کہا : ایسی کوئی بات نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو شادی شدہ ہے “ اس نے کہا : ہاں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا ، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا ، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے ، پھر پکڑ لیے گئے ، اور پتھروں سے مارے گئے ، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔
When the Prophet (May peace e upon him) commanded to stone Ma’iz b. Malik, we took him out to Baql. I swear by Allah, we did not tie him, nor did we dig a pit for him. But he was standing before us. The narrator Abu Kamil said: So we threw at him bones, clods of mud and pieces of earthenware. He ran away and we ran after him till he came to a side of the Harrah. He stood there before us and we threw at him big stones of the Harrah until he died. He (the Prophet) did not ask forgiveness for him, nor did he speak ill of him.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے ، قسم اللہ کی ! نہ ہم نے انہیں باندھا ، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا ، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے ، ہم نے انہیں ہڈیوں ، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا ، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے ، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے ، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی ، اور نہ ہی انہیں برا کہا ۔
A man came to Prophet (ﷺ). He then mentioned a similar tradition but not completely. This version has: People began to speak ill of him but he (the Prophet) forbade them. Then they began to ask forgiveness from him, but he forbade them by saying. He is a man who had committed a sin. Allah will call him to account himself.
ابونضرہ سے روایت ہے
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آگے اسی جیسی روایت ہے ، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے : لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے ، تو آپ نے انہیں منع فرمایا ، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا ، اور فرمایا : ” وہ ایک شخص تھا جس نے گناہ کیا ، اب اللہ اس سے سمجھ لے گا ( چاہے گا تو معاف کر دے ورنہ اسے سزا دے گا تم کیوں دخل دیتے ہو ) “ ۔
We, the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), used to talk mutually: Would that al-Ghamidiyyah and Ma'iz ibn Malik had withdrawn after their confession; or he said: Had they not withdrawn after their confession, he would not have pursued them (for punishment). He had them stoned after the fourth (confession).
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ۱؎ اور ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے ، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے ( اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا ) ۔
I was working in the market. A woman passed carrying a child. The people rushed towards her, and I also rushed along with them.
I then went to the Prophet (ﷺ) while he was asking: Who is the father of this (child) who is with you? She remained silent.
A young man by her side said: I am his father, Messenger of Allah!
He then turned towards her and asked: Who is the father of this child with you?
The young man said: I am his father, Messenger of Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) then looked at some of those who were around him and asked them about him. They said: We only know good (about him).
The Prophet (ﷺ) said to him: Are you married? He said: Yes. So he gave orders regarding him and he was stoned to death.
He (the narrator) said: We took him out, dug a pit for him and put him in it. We then threw stones at him until he died. A man then came asking about the man who was stoned.
We brought him to the Prophet (ﷺ) and said: This man has come asking about the wicked man.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: He is more agreeable than the fragrance of musk in the eyes of Allah. The man was his father. We then helped him in washing, shrouding and burying him. (The narrator said:) I do not know whether he said or did not say "in praying over him." This is the tradition of Abdah, and it is more accurate.
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ
ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے : ” اس بچہ کا باپ کون ہے ؟ “ وہ عورت چپ تھی ، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے ، اور پوچھا : ” اس بچے کا باپ کون ہے ؟ “ تو نوجوان نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا ، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے ؟ تو لوگوں نے کہا : ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم شادی شدہ ہو ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا ، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، اتنے میں ایک شخص آیا ، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا ، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ہم نے کہا : یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ” اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی ( مدد کی ) کہا یا نہیں “ یہ عبدہ کی روایت ہے ، اور زیادہ کامل ہے ۔
Chapter 24: Stoning of Ma'iz bin Malik - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا .
Narrated Sahl ibn Sa'd:
A man came to the Prophet (ﷺ) and confessed before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah (ﷺ) sent for the woman and asked her about it. But she denied that she had committed fornication. So he inflicted the prescribed punishment of flogging on him, and let her go.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا ، زنا کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا ، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی ، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا ۔
A man committed fornication with a woman. So the Messenger of Allah (ﷺ) ordered regarding him and the prescribed punishment of flogging was inflicted on him. He was then informed that he was married. So he commanded regarding him and he was stoned to death.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad b. Bakr al-Barsani from Ibn Juraij as a statement of Jabir, and Abu 'Asim has transmitted it from Ibn Juraid similar to that of Ibn Wahb. He did not mention the Prophet (ﷺ). But he said: A man committed fornication, but did not know that he was married ; so he was flogged. It was then known that he was married, so he was stoned to death.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے ، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے ، اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا ، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا ، تو اسے کوڑے مارے گئے ، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا ۔
A man committed fornication with a woman. It was not known that he was married. So he was flogged. It was then known that he was married, so he was stoned to death.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے ، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا ۔
Chapter 25: Regarding the woman of Juhainah whom the prophet (pbuh) ordered to be stoned - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ هِشَامًا الدَّسْتَوَائِيَّ، وَأَبَانَ بْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَاهُمُ - الْمَعْنَى، - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً، - قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ - أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حُبْلَى . فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلِيًّا لَهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَجِئْ بِهَا " . فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَصَلَّوْا عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا " . لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبَانَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا .
Narrated Imran ibn Husayn:
A woman belonging to the tribe of Juhaynah (according to the version of Aban) came to the Prophet (ﷺ) and said that she had committed fornication and that she was pregnant. The Messenger of Allah (ﷺ) called her guardian.
Then the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Be good to her, and when she bears a child, bring her (to me). When she gave birth to the child, he brought her (to him). The Prophet (ﷺ) gave orders regarding her, and her clothes were tied to her. He then commanded regarding her and she was stoned to death. He commanded the people (to pray) and they prayed over her.
Thereupon Umar said: Are you praying over her, Messenger of Allah, when she has committed fornication?
He said: By Him in Whose hand my soul is, she has repented to such an extent that if it were divided among the seventy people of Medina, it would have been enough for them all. And what do you find better than the fact that she gave her life.
Aban did not say in his version: Then her clothes were tied to her.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا ، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا ، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا “ چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی ، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی ، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ؟ “ ۔ ابان کی روایت میں ” اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے “ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
A woman of Ghamid came to the Prophet (ﷺ) and said: I have committed fornication. He said: Go back. She returned, and on the next day she came to him again, and said: Perhaps you want to send me back as you did to Ma’iz b. Malik. I swear by Allah, I am pregnant. He said to her: Go back. She then returned and came to him the next day. He said to her: Go back until you give birth to a child. She then returned. When she gave birth to a child, she brought the child to him, and said: Here it is! I have given birth to it. He said: Go back, and suckle him until you wean him. When she had weaned him, she brought him (the boy) to him with something in his hand which he was eating. The boy was then given to a certain man of the Muslims and he (the Prophet) commanded regarding her. So a pit was dug for her, and he gave orders about her and she was stoned to death. Khalid was one of those who were throwing stones at her. He threw a stone at her. When a drop blood fell on his cheeks, he abused her. The Prophet (ﷺ) said to him: Gently, Khalid. By Him in whose hand my soul is, she has reported to such an extent that if one who wrongfully takes extra tax were to repent to a like extent, he would be forgiven. Then giving command regarding her, prayed over her and she was buried.
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا : میں نے زنا کر لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واپس جاؤ “ ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی ، دوسرے دن وہ پھر آئی ، اور کہنے لگی : شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں ، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ “ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی ، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا “ چنانچہ وہ چلی گئی ، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی ، اور کہا : اسے میں جن چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو “ دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی ، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا ، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے ، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے ، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے ، تو وہ رجم کر دی گئی ۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے ، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی “ ، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا ۔
I heard an old man who transmitted from Abu Bakrah on this father's authority that the Prophet (ﷺ) had a woman stoned and a pit was dug up to her breasts.
Abu Dawud said: A man made me understand it from 'Uthman (b. Abi Shaibah)
Abu Dawud said: Al-Ghassani said: Juhainah, Ghamid and Bariq as the same.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے ۔
A similar tradition has been transmitted by Zakariya b. Salim through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet) then threw a pebble like a gram at her. He then said: Throw at her and avoid her face. When se died, he took her out and prayed over her. About repentance he said similar to the tradition on Buraidah.
ابوداؤد کہتے ہیں
مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے ، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا “ پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا ، پھر اس پر نماز پڑھی ، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے ۔
Two men brought a dispute before the Messenger of Allah (ﷺ). One of them said: Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, Messenger of Allah! The other who had more understanding said: Yes, Messenger of Allah! Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, and allow me to speak. He (the Prophet) said: Speak, He then said: My son who was a hired servant with this(man) committed fornication with his wife, and when I was told that my son must be stoned to death, I ransomed him with a hundred sheep and a slave girl of mine; but when I asked the learned, they told me that my son should receive a hundred lashes and be banished for a year, and that stoning to death applied only to man’s wife. The apostle of Allah (ﷺ) replied: By him in whose hand my soul is, I shall certainly pronounce judgment between you in accordance with Allah’s Book. Your sheep and your slave girl must be returned to you, and your son shall receive a hundred lashes and be banished for a year. And he commanded Unias al-Aslami go to that man’s wife, and if she confessed, he should stone her to death. She confessed and he stoned her.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ
دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، ان میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے ، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا : ہاں ، اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے ، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” اچھا کہو “ اس نے کہنا شروع کیا : میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا ، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے ، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی ، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا ، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی “ اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے ، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا ، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں ، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں ، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا ، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔
some jews came to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned to him that a man and a women of their number had committed fornication. The Messenger of Allah (ﷺ) asked them: What do you find in the Torah about stoning? They replied: We disgrace them and they should be flogged. ‘Abd Allah b. Salam said: You lie; it contains (instruction for) stoning. So they brought the Torah and spread it out, and one of them put his hand over the verse of stoning and read what preceded it and what followed it. ‘Abd Allah b. Salam said to him: Lift your hand. When he did so, the verse of stoning was seen to be in it. They then said: He has spoken the truth, Muhammad, the verse of stoning is in it. The Messenger of Allah (ﷺ) then gave command regarding them, and they were stoned to death. ‘Abd Allah b. ‘Umar said: I saw the man leaning on the woman protecting her from the stones.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کر لیا ہے ، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو ؟ “ تو ان لوگوں نے کہا : ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں ، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ جھوٹ کہتے ہو ، اس میں تو رجم کا حکم ہے ، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے ، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا ، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا ، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی ، تو وہ کہنے لگے : صحیح ہے اے محمد ! اس میں رجم کی آیت موجود ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا ، چنانچہ وہ دونوں رجم کر دیے گئے ۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں : میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا ۔
Chapter 26: The stoning of the two jews - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيٍّ قَدْ حُمِّمَ وَجْهُهُ وَهُوَ يُطَافُ بِهِ فَنَاشَدَهُمْ مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِهِمْ قَالَ فَأَحَالُوهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَنَشَدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . فَقَالَ الرَّجْمُ وَلَكِنْ ظَهَرَ الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا فَكَرِهْنَا أَنْ يُتْرَكَ الشَّرِيفُ وَيُقَامَ عَلَى مَنْ دُونَهُ فَوَضَعْنَا هَذَا عَنَّا . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا مَا أَمَاتُوا مِنْ كِتَابِكَ " .
Al-Bara’ b. Azib said:
The people passed by the Messenger of Allah (ﷺ) with a jew whose face blackened with charcoal and he was being taken around. He adjured them by Allah and asked: What is the prescribed punishment for a fornicator in your Divine book? He (the narrator) said: They referred him to a man of them. The Prophet (ﷺ) adjured him and asked: What is the punishment for a fornication in your Divine Book? He replied: Stoning. But fornication spread among our people of rank, so we disliked that a person of rank should be left alone and the punishment be inflicted on one who is lower in rank than him. So we suspended it for us. The Messenger of Allah (ﷺ) then commanded regarding him and he was stoned to death. He then said: O Allah! I am the first to give life to a command of Thy Book which they had killed.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ تو اس نے کہا : رجم ہے ، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا ، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے ، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا “ ۔
The people passed by the Messenger of Allah (ﷺ) with a Jew who was blackened with charcoal and who was being flogged.
He called them and said: Is this the prescribed punishment for a fornicator?
They said: Yes. He then called on a learned man among them and asked him: I adjure you by Allah Who revealed the Torah to Moses, do you find this prescribed punishment for a fornicator in your divine Book?
He said: By Allah, no. If you had not adjured me about this, I should not have informed you. We find stoning to be prescribed punishment for a fornicator in our Divine Book. But it (fornication) became frequent in our people of rank; so when we seized a person of rank, we left him alone, and when we seized a weak person, we inflicted the prescribed punishment on him. So we said: Come, let us agree on something which may be enforced equally on people of higher and lower rank. So we agreed to blacken the face of a criminal with charcoal, and flog him, and we abandoned stoning.
The Messenger of Allah (ﷺ) then said: O Allah, I am the first to give life to Thy command which they have killed. So he commanded regarding him (the Jew) and he was stoned to death.
Allah Most High then sent down: "O Apostle, let not those who race one another into unbelief, make thee grieve..." up to "They say: If you are given this, take it, but if not, beware!...." up to "And if any do fail to judge by (the light of) what Allah hath revealed, they are (no better than) unbelievers," about Jews, up to "And if any do fail to judge by (the right of) what Allah hath revealed, they are no better than) wrong-doers" about Jews: and revealed the verses up to "And if any do fail to judge by (the light of) what Allah hath revealed, they are (no better than) those who rebel." About this he said: This whole verse was revealed about the infidels.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی ، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا : کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا : ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں ، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا : نہیں ، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا ، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے ، لیکن جب ہمارے معزز اور شریف لوگوں میں اس کا کثرت سے رواج ہو گیا تو جب ہم کسی معزز شخص کو اس جرم میں پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کرتے تھے ، پھر ہم نے کہا : آؤ ہم تم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے شریف اور کم حیثیت دونوں پر جاری کریں گے ، تو ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے پر اتفاق کر لیا ، اور رجم کو چھوڑ دیا ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے ، جبکہ ان لوگوں نے اسے ختم کر دیا تھا “ پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا ، اس پر اللہ نے یہ آیت «يا أيها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر» سے «يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا» ” اے رسول ! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھئیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں ، خواہ وہ ان ( منافقوں ) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن حقیقتاً ان کے دل میں ایمان نہیں ، اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں ، اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے ، وہ کلمات کے اصلی موقع کو چھوڑ کر انہیں متغیر کر دیا کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرنا ، اور یہ حکم دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا “ ( سورۃ المائدہ : ۴۱ ) تک ، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» ” ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے ، یہودیوں میں اس تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء ( علیہم السلام ) اور اہل اللہ ، اور علماء فیصلہ کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا ۔ اور اس پر اقراری گواہ تھے اب چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو ، اور صرف میرا ڈر رکھو ، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو ، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ ( پورے اور پختہ ) کافر ہیں “ ( سورۃ المائدہ : ۴۴ ) تک ، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» ” اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان ، اور آنکھ کے بدلے آنکھ ، اور ناک کے بدلے ناک ، اور کان کے بدلے کان ، اور دانت کے بدلے دانت ، اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے ، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے ، اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے مطابق حکم نہ کریں ، وہی لوگ ظالم ہیں ( سورۃ المائدہ : ۴۵ ) تک یہود کے متعلق اتاری ، نیز «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون» ” اور انجیل والوں کو بھی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں ، اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ ( بدکار ) فاسق ہیں “ ( سورۃ المائدہ : ۴۷ ) تک اتاری ۔ یہ ساری آیتیں کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہیں ۔
A group of Jews came and invited the Messenger of Allah (ﷺ) to Quff. So he visited them in their school.
They said: AbulQasim, one of our men has committed fornication with a woman; so pronounce judgment upon them. They placed a cushion for the Messenger of Allah (ﷺ) who sat on it and said: Bring the Torah. It was then brought. He then withdrew the cushion from beneath him and placed the Torah on it saying: I believed in thee and in Him Who revealed thee.
He then said: Bring me one who is learned among you. Then a young man was brought. The transmitter then mentioned the rest of the tradition of stoning similar to the one transmitted by Malik from Nafi'(No. 4431).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر قف ۱؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس ( مدرسہ ) میں آئے تو وہ کہنے لگے : ابوالقاسم ! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے ، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے ، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا ، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” میرے پاس تورات لاؤ “ چنانچہ وہ لائی گئی ، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا ، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا : ” میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے “ پھر آپ نے فرمایا : ” جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ “ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے ۔
(This is Ma'mar's version which is more accurate.) A man and a woman of the Jews committed fornication.
Some of them said to the others: Let us go to this Prophet, for he has been sent with an easy law. If he gives a judgment lighter than stoning, we shall accept it, and argue about it with Allah, saying: It is a judgment of one of your prophets. So they came to the Prophet (ﷺ) who was sitting in the mosque among his companions.
They said: AbulQasim, what do you think about a man and a woman who committed fornication? He did not speak to them a word till he went to their school.
He stood at the gate and said: I adjure you by Allah Who revealed the Torah to Moses, what (punishment) do you find in the Torah for a person who commits fornication, if he is married?
They said: He shall be blackened with charcoal, taken round a donkey among the people, and flogged. A young man among them kept silent.
When the Prophet (ﷺ) emphatically adjured him, he said: By Allah, since you have adjured us (we inform you that) we find stoning in the Torah (is the punishment for fornication).
The Prophet (ﷺ) said: So when did you lessen the severity of Allah's command? He said:
A relative of one of our kings had committed fornication, but his stoning was suspended. Then a man of a family of common people committed fornication. He was to have been stoned, but his people intervened and said: Our man shall not be stoned until you bring your man and stone him. So they made a compromise on this punishment between them.
The Prophet (ﷺ) said: So I decide in accordance with what the Torah says. He then commanded regarding them and they were stoned to death.
Az-Zuhri said: We have been informed that this verse was revealed about them: "It was We Who revealed the Law (to Moses): therein was guidance and light. By its standard have been judged the Jews, by the Prophet who bowed (as in Islam) to Allah's will.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے : ہم سب اس نبی کے پاس چلیں کیونکہ وہ تخفیف و آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے ، اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے مان لیں گے ، اور اسے اللہ کے سامنے دلیل بنائیں گے ، ہم کہیں گے کہ یہ تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کا فتویٰ ہے ، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ مسجد نبوی میں اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اور پوچھنے لگے : آپ اس مرد اور عورت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے زنا کیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا جب تک کہ آپ ان کے مدرسہ میں نہیں آ گئے ، پھر مدرسہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے بتاؤ تم تورات میں اس شخص کا کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے ؟ “ لوگوں نے کہا : اس کا منہ کالا کیا جائے گا ، اسے گدھے پر بٹھا کر پھرایا جائے گا ، اور کوڑے لگائے جائیں گے ( «تَجبیہ» یہ ہے کہ مرد اور عورت کو گدھے پر اس طرح سوار کیا جائے کہ ان کی گدی ایک دوسرے کے مقابل میں ہو ، اور انہیں پھرایا جائے ) ان میں کا ایک نوجوان چپ رہا ، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش دیکھا تو اس سے سخت قسم دلا کر پوچھا ، تو اس نے اللہ کا نام لے کر کہا : جب آپ نے ہمیں قسم دلائی ہے تو صحیح یہی ہے کہ تورات میں ایسے شخص کا حکم رجم ہے ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر کب سے تم لوگوں نے اللہ کے اس حکم کو چھوڑ رکھا ہے ؟ “ تو اس نے بتایا : ہمارے بادشاہوں میں ایک بادشاہ کے کسی رشتہ دار نے زنا کیا تو اس نے اسے رجم نہیں کیا ، پھر ایک عام شخص نے زنا کیا ، تو بادشاہ نے اسے رجم کرنا چاہا تو اس کی قوم کے لوگ آڑے آ گئے ، اور کہنے لگے : ہمارے آدمی کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ آپ اپنے آدمی کو لا کر رجم نہ کر دیں ، چنانچہ اس سزا پر لوگوں نے آپس میں مصالحت کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے “ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ زہری کہتے ہیں : ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آیت کریمہ «إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا» ” ہم نے تورات نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اللہ کے ماننے والے انبیاء کرام اسی سے فیصلہ کرتے تھے “ ( المائدہ : ۴۴ ) انہیں کے بارے میں اتری ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں میں سے تھے ۔