Ibn Abbas said: A lunatic woman passed by Ali ibn AbuTalib. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as Uthman mentioned. This version has: Do you not remember that the Messenger of Allah (ﷺ) has said: There are three whose actions are not recorded: a lunatic whose mind is deranged till he is restored to consciousness, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty?
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا ، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے ، اس میں ہے : کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے “ تو عمر رضی اللہ عنہ بولے : تم نے سچ کہا ، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ۔
AbuZubyan said: A woman who had committed adultery was brought to Umar. He gave orders that she should be stoned.
Ali passed by just then. He seized her and let her go. Umar was informed of it. He said: Ask Ali to come to me. Ali came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy.
Umar said: I do not know. Ali said: I do not know.
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا ، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : امیر المؤمنین ! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے “ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے ، فلاں قوم کی ہے ، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی ، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی ۔
Chapter 16: If an insane person steals or commits a crime that is subject to a had - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلِيٍّ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَادَ فِيهِ " وَالْخَرِفِ " .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
The Prophet (ﷺ) said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, a boy till he reaches puberty, and a lunatic till he comes to reason.
Abu Dawud said: Ibn Juraij has transmitted it from Al-Qasim b. Yazid on the authority of 'Ali from the Prophet (ﷺ). This version adds: "and an old man who is feeble-minded."
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے ، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اس میں ” کھوسٹ بوڑھے “ کا اضافہ ہے ۔
I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ
بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے ، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے ۔
He was presented before the prophet (ﷺ) on the day of Uhd when he was fourteen years old, but he did not allow him (to participate in the battle). He was again presented before him on the day of Khandaq when he was fifteen years old, Then he allowed him.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی ، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
Junadah ibn AbuUmayyah said: We were with Busr ibn Artat on the sea (on an expedition). A thief called Misdar who had stolen a bukhti she-camel was brought. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Hands are not to be cut off during a warlike expedition. Had it not been so, I would have cut it off.
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ
ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا “ اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: O AbuDharr: I replied: At your service and at your pleasure, Messenger of Allah! He said: how will you do when death smites people, and a house, meaning a grave, will cost as much as a slave. I said: Allah and His Apostle know best, or he said: What Allah and His Apostle choose for me. He said: Show endurance, or he said: You may show endurance.
Abu Dawud said: Hammad b. Abi Sulaiman said: The hand of one who rifles a grave should be cut off because he had entered the deceased's house.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! “ میں نے کہا : حاضر ہوں ، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے ، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر کو لازم پکڑنا “ یا فرمایا : ” اس دن صبر کرنا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے ۔
A thief was brought to the Prophet (ﷺ). He said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his hand. So his (right) hand was cut off. He was brought a second time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his foot.
So his (left) foot was cut off.
He was brought a third time and he said: Kill him.
The people said: He has committed theft, Messenger of Allah!
So he said: Cut off his hand. (So his (left) hand was cut off.)
He was brought a fourth time and he said: Kill him.
The people said: He has committed theft, Messenger of Allah!
So he said: Cut off his foot. So his (right) foot was cut off.
He was brought a fifth time and he said: Kill him.
So we took him away and killed him. We then dragged him and cast him into a well and threw stones over him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا ہاتھ کاٹ دو “ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ لوگوں نے پھر یہی کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری ہی کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو “ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو قتل کر دو “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو “ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا ، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا ، اور اس پر پتھر مارے ۔
We asked Fadalah b. 'Ubaid about the hanging the (amputated) hand on the neck of a thief whether it was a sunnan. He said: A thief was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and his hand was cut off. Thereafter he commanded for it, and it was hung on his neck.
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ
میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے ؟ تو آپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا ۔
The Qur’anic verse goes: “If any of your woman are guilty of lewdness, take the evidence of four (reliable) witnesses from amongst you against them, and if they testify, Confine them to houses until death do chain them or Allah ordains for them some (other) way. Allah then mentioned man after woman and combined them in another verse : “If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, leave them alone. This command was abrogated by the verse relating to flogging : “The woman and the man guilty of adultery or fornication – flog each of them with one hundred stripes.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ” تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے “ ( سورۃ النساء : ۱۵ ) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا ، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا : «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» ” تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو “ ( سورۃ النساء : ۱۶ ) ، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» ” زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو “ ( سورۃ النور : ۲ ) منسوخ کر دی گئی ۔
“Apponting a way in the verse (iv.15) means prescribed punishment.
Sufiyan said: “Punish them “refers to unmarried, and “confine them to houses” refers to the women who are married.
مجاہد کہتے ہیں کہ
«سبیل» سے مراد حد ہے ۔ سفیان کہتے ہیں : «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے ، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں ۔
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:
Receive my teachings, receive my teachings. Allah has appointed a way for those women. If the parties have been married, they shall receive a hundred lashes and stoned to death. If the parties are unmarried, they shall receive a hundred lashes and banished for a year.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے “ ۔
The tradition mentioned above (No. 4401) has also been transmitted by Ubadah ibn as-Samit through a different chain of narrators.
This version has: The people said to Sa'd ibn Ubadah: AbuThabit, the prescribed punishments have been revealed: if you find a man with your wife, what will you do?
He said: I shall strike them with a sword so much that they become silent (i.e. die). Should I go and gather four witnesses? Until that (time) the need would be fulfilled.
So they went away and gathered with the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah! did you not see AbuThabit. He said so-and-so.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The sword is a sufficient witness. He then said: No, no, a furious and a jealous man may follow this course.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Waki' from al-Fadl b. Dilham from al-Hasan, from Qabisah b. Huraith, from Salamah b. al-Muhabbaq, from the Prophet (ﷺ). And this is the chain of the tradition narrated by Ibn al-Muhabbaq to the effect that a man had sexual intercourse with a slave girl of his wife.
Abu Dawud said: Al-Fadl b. Dilham was not the memoriser of traditions. He was a butcher in Wasit.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ
کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا : اے ابوثابت ! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں ، انہوں نے کہا : ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا ، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا ، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، نہیں ، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور ، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر ( بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر ) اسے قتل نہ کر ڈالیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے ، فضل نے حسن سے ، حسن نے قبیصہ بن حریث سے ، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے ، وہ واسط میں ایک قصاب تھے ۔
‘Umar b. al-Khattab gave an address saying: Allah sent Muhammad (ﷺ) with truth and sent down the Books of him, and the verse of stoning was included in what He sent down to him. We read it and memorized it. The Messenger of Allah (ﷺ) had people stoned to death and we have done it also since his death. I am afraid the people might say with the passage of time: We do not find the verse of stoning in the Books of Allah, and thus they stray by abandoning a duty which Allah had received. Stoning is a duty laid down (by Allah) for married men and women who commit fornication when proof is established, or if there is pregnancy, or a confession. I swear by Allah, had it not been so that the people might say: ‘Umar made an addition to Allah’s Book, I would have written it (there).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا : اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے ، ہم نے اسے پڑھا ، اور یاد رکھا ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے ، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے ، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم ( سنگسار ) کرنا برحق ہے ، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو ، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے ، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا ۔
Yazid ibn Nu'aym ibn Huzzal, on his father's authority said: Ma'iz ibn Malik was an orphan under the protection of my father. He had illegal sexual intercourse with a slave-girl belonging to a clan. My father said to him: Go to the Messenger of Allah (ﷺ) and inform him of what you have done, for he may perhaps ask Allah for your forgiveness. His purpose in that was simply a hope that it might be a way of escape for him.
So he went to him and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (the Prophet) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (again) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah.
When he uttered it four times, the Messenger of Allah (ﷺ) said: You have said it four times. With whom did you commit it?
He replied: With so and so. He asked: Did you lie down with her? He replied: Yes. He asked: Had your skin been in contact with hers? He replied. Yes. He asked: Did you have intercourse with her? He said: Yes. So he (the Prophet) gave orders that he should be stoned to death. He was then taken out to the Harrah, and while he was being stoned he felt the effect of the stones and could not bear it and fled. But Abdullah ibn Unays encountered him when those who had been stoning him could not catch up with him. He threw the bone of a camel's foreleg at him, which hit him and killed him. They then went to the Prophet (ﷺ) and reported it to him.
He said: Why did you not leave him alone. Perhaps he might have repented and been forgiven by Allah.
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا ، ان سے میرے والد نے کہا : جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو ، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے ، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے ؟ “ ماعز نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اس سے چمٹے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا ، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا ، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے ، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے ، ان کے ساتھی تھک چکے تھے ، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ان سے اسے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎ ، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا “ ۔
Chapter 24: Stoning of Ma'iz bin Malik - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرْتُ لِعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قِصَّةَ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ذَلِكَ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ " . مَنْ شِئْتُمْ مِنْ رِجَالِ أَسْلَمَ مِمَّنْ لاَ أَتَّهِمُ . قَالَ وَلَمْ أَعْرِفْ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَجِئْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَسْلَمَ يُحَدِّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمْ حِينَ ذَكَرُوا لَهُ جَزَعَ مَاعِزٍ مِنَ الْحِجَارَةِ حِينَ أَصَابَتْهُ " أَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ " . وَمَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ إِنَّا لَمَّا خَرَجْنَا بِهِ فَرَجَمْنَاهُ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ صَرَخَ بِنَا يَا قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ قَاتِلِي فَلَمْ نَنْزِعْ عَنْهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخْبَرْنَاهُ قَالَ " فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ وَجِئْتُمُونِي بِهِ " . لِيَسْتَثْبِتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُ فَأَمَّا لِتَرْكِ حَدٍّ فَلاَ قَالَ فَعَرَفْتُ وَجْهَ الْحَدِيثِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
Muhammad ibn Ishaq said: I mentioned the story of Ma'iz ibn Malik to Asim ibn Umar ibn Qatadah. He said to me: Hasan ibn Muhammad ibn Ali ibn AbuTalib said to me: Some men of the tribe of Aslam whom I do not blame and whom you like have transmitted to me the saying of the Messenger of Allah (ﷺ): Why did you not leave him alone?
He said: But I did not understand this tradition. So I went to Jabir ibn Abdullah and said (to him): Some men of the tribe of Aslam narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) said when they mentioned to him the anxiety of Ma'iz when the stones hurt him: "Why did you not leave him alone?' But I do not know this tradition.
He said: My cousin, I know this tradition more than the people. I was one of those who had stoned the man. When we came out with him, stoned him and he felt the effect of the stones, he cried: O people! return me to the Messenger of Allah (ﷺ). My people killed me and deceived me; they told me that the Messenger of Allah (ﷺ) would not kill me. We did not keep away from him till we killed him. When we returned to the Messenger of Allah (ﷺ) we informed him of it.
He said: Why did you not leave him alone and bring him to me? and he said this so that the Messenger of Allah (ﷺ) might ascertain it from him. But he did not say this to abandon the prescribed punishment. He said: I then understood the intent of the tradition.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ
میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں : مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے ، حسن کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی ، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا “ یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی ، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : بھتیجے ! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں ، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے : لوگو ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو ، میری قوم نے مجھے مار ڈالا ، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے ، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے ، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں ، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ، میرے پاس لے آتے “ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے ، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے ، اور حد قائم نہ کرتے ، وہ کہتے ہیں : تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا ۔
Ma'iz ibn Malik came to the Prophet (ﷺ) and said that he had committed fornication and he (the Prophet) turned away from him. He repeated it many times, but he (the Prophet) turned away from him. He asked his people: Is he mad? They replied: There is no defect in him. He asked: Have you done it with her? He replied: Yes. so he ordered that he should be stoned to death. He was taken out and stoned to death, and he (the Prophet) did not pray over him.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے ، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا ، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے ، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا : ” کیا یہ دیوانہ تو نہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ایسی کوئی بات نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : ہاں واقعی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا ، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا ، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی ۔
I saw Ma’iz b. Malik when he was brought to the Prophet (ﷺ). He was a small and muscular man. He did not wear the loose outer garment. He made confession about him four times that he committed fornication. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Perhaps you kissed her. He said that this most discarded man has committed fornication. He said: So he had him stoned to death and gave an address, saying: Beware, whenever we go out on an expedition in the path of Allah, one of them (I.e. the people) lags behind with a bleating sound like that of a he-goat, and gives modicum of his milk(i.e. sperm) to one of the women. If Allah gives control over any of them, I shall deter him from them (i.e. women) by punishing him severely.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے ، ان کے جسم پر چادر نہ تھی ، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا ، پھر خطبہ دیا ، اور فرمایا : ” آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے ، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان ( جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے ) تو سن لو ! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا ( یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی ) “ ۔
I heard this tradition from Jabir b. Samurah. But the first version is more perfect. This version has: He repeated twice, Simak said: I narrated to Sa’id b. Jubair. He said: He repeated it four times.
سماک کہتے ہیں
میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے ، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا ، سماک کہتے ہیں : میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ” آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) asked Ma’iz b. Malik : Is what I have heard about you is true? He said: What have you heard about me? He said: I have heard that you have had intercourse with a girl belonging to the family of so and so. He said: Yes. He then testified four times. He (The prophet) then gave order regarding him and he was stoned to death.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے ؟ “ وہ بولے : میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر چار بار اس کی گواہی دی ، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے ۔