A man and a woman of the Jews who were married committed fornication at the time when the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina. Stoning was a prescribed punishment for them in accordance with the Torah, but they abandoned it and followed tajbiyyah, meaning, the man was beaten a hundred times with a rope painted with tar and was seated on a donkey with his face towards the tail of the donkey. Their rabbis then assembled and sent some people to the Messenger of Allah (ﷺ). They said to them: Ask him about the prescribed punishment for fornication. The transmitter then mentioned the rest of the tradition. They version adds: They were not the followers of his religion, and he (the prophet) was to pronounce judgment between them. So he was given a choice in this verse:”If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا ، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا ، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا ، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا ، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو ، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ” اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو ( سورۃ المائدہ : ۴۲ ) ۔
The Jews brought a man and a woman of them who had committed fornication. He said: Bring me two learned men or yours. So they brought the two sons of Suriya. He adjured them and said: How do you think about the matter if these two persons bear witness to the effect that they have seen his sexual organ in her female organ (penetrated) like a collyrium stick when enclosed in its case, they will be stoned to death. He asked: What is there which prevents you from stoning them: They replied : Our rule has gone, so we disapproved of killing. The Messenger of Allah (ﷺ) then called four witnesses. They brought four witnesses. Who testified that they had seen his sexual organ (penetrated) in her female organ like a collyrium stick when enclosed in its case. The Prophet (ﷺ) then gave orders for stoning them.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ “ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا : ” تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو ؟ “ ان دونوں نے کہا : ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا ، وہ چار گواہ لے کر آئے ، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا ۔
Chapter 26: The stoning of the two jews - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا .
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim and al-Sha’bi from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. But this version does not mention the words:
He called the witnesses who testified.
ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے
وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ نے گواہوں کو بلایا ، اور انہوں نے گواہی دی ۔
while I was wandering in search of my camels which had strayed, a caravan or some horsemen carrying a standard came forward. The bedouin began to go round me for my position with the Prophet (ﷺ). They came to a domed structure, took out a man from it, and struck his neck. I asked about him. They told me that he had married his father's wife.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے ، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا ، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے ، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے ، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی ، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی ۔
I met my uncle who was carrying a standard. I asked him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who has married his father's wife. He has ordered me to cut off his head and take his property.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے ، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں ۔
Habib ibn Salim said: A man called AbdurRahman ibn Hunayn had intercourse with his wife's slave-girl. The matter was brought to an-Nu'man ibn Bashir who was the Governor of Kufah. He said: I shall decide between you in accordance with the decision of the Messenger of Allah (ﷺ). If she made her lawful for you, I shall flog you one hundred lashes. If she did not make her lawful for you, I shall stone you to death. So they found that she had made her lawful for him. He, therefore, flogged him one hundred lashes.
Qatadah said: I wrote to Habib b. Salim; so he wrote this (tradition) to me.
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی ، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا ، تو انہوں نے کہا : میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا ، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا ، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا ، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی ۔
The Prophet (ﷺ) said: about a man who had (unlawful) intercourse with his wife's slave girl: If she made her lawful for him, he will be flogged one hundred lashes; if she did not make her lawful for him, I shall stone him.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو : ” اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں ، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) made a decision about a man who had intercourse with his wife's slave-girl as follows. If he forced her, she is free, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her; if she asked him to have intercourse voluntarily, she will belong to him, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Yunus b. 'Ubaid, 'Amr b. Dinar, Mansur b. Zadhan and Salam from al-Hasan to the same effect. But yunus and Mansur did not mention Qabisah.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے ، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی ، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۱؎ ۔
Chapter 28: A man who commits zina with his wife's slave woman - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا .
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq:
A similar tradition (to the No. 4445) has also been transmitted by Salamah ibn al-Muhabbaq from the Prophet (ﷺ).
This version has: If she asked her to have intercourse with her voluntarily, then she and a similar slave-girl would be given to her mistress from his property.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ
اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو ، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی ۔
The Prophet (ﷺ) said: If you find anyone doing as Lot's people did, kill the one who does it, and the one to whom it is done.
Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Sulaiman b. Bilal from 'Amr b. Abi 'Umar. And 'Abbad b. Mansur transmitted it from 'Ikrimah on the authority of Ibn 'Abbas who transmitted it from the Prophet (ﷺ). It has also been transmitted by Ibn Juraij from Ibrahim from Dawud b. Al-Husain from 'Ikrimah on the authority of Ibn 'Abbas who transmitted it from the Prophet (ﷺ).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو “ ۔
If a man who is not married is seized committing sodomy, he will be stoned to death.
Abu Dawud said: The tradition of 'Asim proved the tradition of 'Amir b. Abi 'Amr as weak.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے
کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone has sexual intercourse with an animal, kill him and kill it along with him. I (Ikrimah) said: I asked him (Ibn Abbas): What offence can be attributed to the animal/ He replied: I think he (the Prophet) disapproved of its flesh being eaten when such a thing had been done to it.
Abu Dawud said: This is not a strong tradition.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو “ ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے پوچھا : اس چوپایہ کا کیا جرم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ۔
'Asim reported from Abu Razin on the authority of Ibn 'Abbas saying:
There is no prescribed punishment for one who has sexual intercourse with an animal.
Abu Dawud said: 'Ata is also so. Al Hakam said: I think he should be flogged, but the number should not reach the one of the prescribed punishment. Al-Hasan said: He is like a fornicator.
Abu Dawud said: THe tradition of 'Asim proves the tradition of 'Amr b. Abi 'Amr as weak.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے کہا ہے ۔ اور حکم کہتے ہیں : میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں ، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں ۔ اور حسن کہتے ہیں : وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎ ۔
Chapter 31: If the man confess to zina but the woman does not - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا .
Narrated Sahl ibn Sa'd:
A man came to the Prophet (ﷺ) and made acknowledgment before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah (ﷺ) sent someone to the woman and he asked her about it. She denied that she had committed fornication. So he gave him the prescribed punishment of lashes and left her.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے ، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا ، اور اس سے اس بارے میں پوچھا ، اس نے انکار کیا ، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے ، اور عورت کو چھوڑ دیا ۔
A man of Bakr ibn Layth came to the Prophet (ﷺ) and made confession four times that he had committed fornication with a woman, so he had a hundred lashes administered to him. The man had not been married. He then asked him to produce proof against the woman, and she said: I swear by Allah, Messenger of Allah, that he has lied. Then he was given the punishment of eighty lashes of falsehood.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے ، وہ کنوارا تھا ، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا : قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے ، اللہ کے رسول ! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی ( ۸۰ ) کوڑے لگائے ۔
Chapter 32: A man who does something less than intercourse with a woman, and repents before he is arrested by the imam. - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، قَالاَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَأَقِمْ عَلَىَّ مَا شِئْتَ . فَقَالَ عُمَرُ قَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْكَ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَدَعَاهُ فَتَلاَ عَلَيْهِ { وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً فَقَالَ " بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " .
‘Abd Allah (b. Mas’ud) said:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I contacted directly a women at the furthest part of the city (i.e., Medina), and I did with her everything except sexual intercourse. So here I am; inflict any punishment you wish. Thereupon ‘Umar said: Allah has concealed your fault; it would have been better if you also had concealed it yourself. The Prophet (ﷺ) sent a men after him. (When he came) he recited the verse: “And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night. . .” up to the end of the verse. A man from the people got up and asked: Is it particular to him, Messenger of Allah, or for the people in general? He replied: It is all the people.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا ، لیکن جماع نہیں کیا ، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، تو وہ شخص چلا گیا ، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا ، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» ” دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی “ ۔ ( ھود : ۱۱۴ ) ۱؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے ، یا سارے لوگوں کے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سارے لوگوں کے لیے ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a slave-woman who commits fornication, and she is not married: If she commits fornication, flog her: if she commits fornication again flog her; if only for a rope of hair (dafir).
Ibn Shihab: I do not know whether he (the Prophet) said it is a third or a fourth time.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو ( تو اس کا کیا حکم ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو ، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا : یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی ” رسی “ کے ہیں ۔
When the slave-woman of any of you commits fornication, he should inflict the prescribed punishment on her, but not hurl reproaches at her. This is to be done up to three times. If she a fourth time, he should flog her, and sell her even if only for a rope of hair.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے ، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے ، ایسا وہ تین بار کرے ، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے “ ۔
This tradition has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ). This version has:
He said each time: He should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, but not Hurl reproaches at her. He said a fourth time: If she does it again, he should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, and then should sell her even if only for a rope of hair.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ، اس میں ہے کہ
ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ۱؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے ، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے ، اور چوتھی بار میں فرمایا : اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے ، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے ، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو ۔
Chapter 34: Carrying out hadd (punishment) on a man who is sick - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَىَّ . فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلاَّ جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً .
Narrated Abu Umamah b. Sahl Hunaif:
AbuUmamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah (ﷺ) told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i.e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it.
He said: Ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me.
So they mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ) saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him to you, his bones will disintegrate. He is only skin and bone. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to take one hundred twigs and strike him once.
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا ، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا ، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی ، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو ، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے ، جو میرے پاس آئی تھی ، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا ، اور کہا : ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے ، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں ، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں ، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں ۔
A slave-girl belonging to the house of the Messenger of Allah (ﷺ) committed fornication. He (the Prophet) said: Rush up, Ali, and inflict the prescribed punishment on her. I then hurried up, and saw that blood was flowing from her, and did not stop. So I came to him and he said: Have you finished inflicting (punishment on her)? I said: I went to her while her blood was flowing. He said: Leave her alone till her bleeding stops; then inflict the prescribed punishment on her. And inflict the prescribed punishment on those whom your right hands possess (i.e. slaves).
Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Ahwas from 'Abd al-A'la, and also by Shu'bah from 'Abd al-A'la. This version has: He said: Do not give her beating until she gives birth to a child. But the former (version) is sounder.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا : ” علی ! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو “ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے ، رکتا ہی نہیں ، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” علی ! کیا حد لگا کر آ گئے ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا بند ہونے تک رکے رہو ، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے ، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے “ لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے ۔
When my vindication came down, the Prophet (ﷺ) mounted the pulpit and mentioned that, and recited the Qur'an. Then when he came down from the pulpit he ordered regarding the two men and the woman, and they were given the prescribed punishment.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ نے اس کا ذکر کیا ، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی ، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا ۔
The tradition mentioned above (No. 4459) has also been transmitted by Muhammad ibn Ishaq through a different chain of narrators. But he did not mention Aisha.
This version has:
He (the Prophet) commanded regarding the two men and the woman who spoke obscenity were Hassan ibn Thabit and Mistah ibn Uthathah. An-Nufayl said: It is said that the woman was Hammah daughter of Jahsh.
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے : آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی ( کوڑے لگانے کا ) حکم دیا ، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں : اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں ۔