Chapter 36: Regarding the hadd (punishment) for drinking khamr - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ وَقَالَ
" أَفَعَلَهَا " . وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَىْءٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ هَذَا .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Prophet (ﷺ) did not prescribe any punishment for drinking wine. Ibn Abbas said: A man who had drunk wine and become intoxicated was found staggering on the road, so he was taken to the Prophet (ﷺ). When he was opposite al-Abbas's house, he escaped, and going in to al-Abbas, he grasped hold of him. When that was mentioned to the Prophet (ﷺ), he laughed and said: Did he do that? and he gave no command regarding him.
Abu Dawud said: This tradition of al-Hasan b. 'Ali has been transmitted only by the people of Medina.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا ، اور ان سے چمٹ گیا ، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے ، اور صرف اتنا فرمایا : ” کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ “ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں ۔
Chapter 36: Regarding the hadd (punishment) for drinking khamr - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ " اضْرِبُوهُ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولُوا هَكَذَا لاَ تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ " .
Abu Hurairah said:
When a man who had drunk wine was brought to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: Beat him. Abu Hurairah said: Some struck him with their hands, some with their garment. When he turned his face, some people said: Allah put you shame! The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not say like that and help the devil to get power over him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے مارو “ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے ، کسی نے جوتے سے ، اور کسی نے کپڑے سے ، اسے مارا ، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا : اللہ تجھے رسوا کرے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو “ ۔
Chapter 36: Regarding the hadd (punishment) for drinking khamr - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ بَعْدَ الضَّرْبِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " بَكِّتُوهُ " . فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَرْسَلُوهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ " وَلَكِنْ قُولُوا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " . وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn al- Had through a different chain of narrators to the same effect. He said after the word “beating”:
The Messenger of Allah (ﷺ) then said to his Companions: Reproach him, and they faced him and said: You have not respected Allah, you have not feared Allah and you have not shown shame before the Messenger of Allah (ﷺ). Then they released him. Some have also added similar words.
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ
اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ “ ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے : ” نہ تو تو اللہ سے ڈرا ، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا “ پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ، اور اس کے آخر میں ہے : ” لیکن یوں کہو : اے اللہ اس کو بخش دے ، اس پر ر حم فرما “ کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے ۔
Chapter 36: Regarding the hadd (punishment) for drinking khamr - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَرْبَعِينَ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ النَّاسَ قَدْ دَنَوْا مِنَ الرِّيفِ - وَقَالَ مُسَدَّدٌ مِنَ الْقُرَى وَالرِّيفِ - فَمَا تَرَوْنَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ نَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ . فَجَلَدَ فِيهِ ثَمَانِينَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ جَلَدَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ أَرْبَعِينَ . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ضَرَبَ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الأَرْبَعِينَ .
Anas b. Malik said:
The Prophet (ﷺ) gave a beating with palm-branches and sandals for drinking wine and Abu Bakr gave lashes. When ‘Umar came to power, he called upon people and said to them: The people are living now near watering placing, and, according to Musaddad’s version, “near villages and watering places, so what do you say about the punishment for (drinking) wine? ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf said: We think that you should prescribe the lightest punishment. So he fixed eight lashes for it.
Abu Dawud said: It has also been transmitted by Ibn Al 'Arubah from Qatadah from the Prophet (ﷺ) to the effect that he gave a beating forty times with palm branches and sandals. And Shu'bah narrated it from Qatadah on the authority of Anas from Prophet (ﷺ). This version has: He gave a beating with two palm-branches about forty times.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے ، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا ، اور ان سے کہا : لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں ( اور مسدد کی روایت میں ہے ) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں ( یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں ) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا : ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں ، چنانچہ اسی ( ۸۰ ) کوڑے مارنے کا حکم ہوا ( کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں ۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے ، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں ۔
Hudayn ibn al-Mundhir ar-Ruqashi, who was AbuSasan, said:
I was present with Uthman ibn Affan when al-Walid ibn Uqbah was brought to him. Humran and another man bore witness against him (for drinking wine). One of them testified that he had seen him drinking wine, and the other testified that he had seen him vomiting it.
Uthman said: He could not vomit it, unless he did not drink it. He said to Ali: Inflict the prescribed punishment on him. Ali said to al-Hasan: Inflict the prescribed punishment on him.
Al-Hasan said: He who has enjoyed its pleasure should also bear its burden. So Ali said to Abdullah ibn Ja'far: Inflict the prescribed punishment on him. He took a whip and struck him with it while Ali was counting.
When he reached (struck) forty (lashes), he said: It is sufficient. The Prophet (ﷺ) gave forty lashes. I think he also said: "And AbuBakr gave forty lashes, and Uthman eighty. This is all sunnah (standard practice). And this is dearer to me."
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ
میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا ، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی ، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے ، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے ( شراب ) قے کرتے دیکھا ہے ، تو عثمان نے کہا : جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا ، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو حسن نے کہا : جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا ، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے ، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بس کافی ہے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں ، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ، اور سب سنت ہے ، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) and AbuBakr gave forty lashes for drinking wine and Umar made it eighty. And all this is sunnah, the model and standard practice.
Abu Dawud said: Al-Asma'i explaning the maxim, "He who enjoys its cold should bear its heat," said: He who enjoys the easy if it should also take the responsibility of the hard of it.
Abu Dawud said: Hudain b. al-Mundhir Abu Sasan was the leader of his tribe.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے ، اور یہ سب سنت ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی کہتے ہیں : «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان ۔
The Prophet (ﷺ) said: If they (the people) drink wine, flog them, again if they drink it, flog them. Again if they drink it, kill them.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn ‘Umar through a different chain of narrators to the same effect. This version has :
I think he said for the fifth time: If he drinks it, kill him.
Abu Dawud said: And similarly the word “a fifth time” occurs in the tradition of Abu Ghutaif.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا ہے ، اس میں یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچویں بار میں فرمایا : ” پھر اگر وہ پئے تو اسے قتل کر دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوغطیف کی روایت میں پانچویں بار کا ذکر ہے ۔
Chapter 37: One who drinks khamr repeatedly - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا حَدِيثُ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ شَرِبُوا الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُمْ " . وَكَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالشَّرِيدِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ الْجَدَلِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ " .
Narrated AbuHurayrah:
The Prophet (ﷺ) said: If he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him if he does it again a fourth time, kill him.
Abu Dawud said: And there is a similar tradition of Umar ibn AbuSalamah, from his father, on the authority of AbuHurayrah, from the Prophet (ﷺ): If he drinks wine, flog him if he does it so again, a fourth time, kill him.
Abu Dawud said: And there is similar tradition of Suhail from Abu Salih on the authority of Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ): It they drink a fourth time, kill them. And there is similar tradition of Ibn Abi Nu'm on the authority of Ibn 'Umar from Prophet (ﷺ). There is also similar tradition of 'Abd Allah b. 'Amr from the Prophet (ﷺ), and from Sharid from the Prophet (ﷺ). And in the tradition of al-Jadli from Mu'awiyah, the Prophet (ﷺ) said: If he does so again third or fourth time, kill him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شرابی جب نشہ سے مست ہو جائے تو اسے کوڑے مارو ، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو ، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو ، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو “ ۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور شرید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت بھی ہے ، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone drinks wine, flog him; if he repeats it, flog him, and if he repeats it, flog him. If he does it again a third or a fourth time, kill him. A man who had drunk wine was brought (to him) and he gave him lashes. He was again brought to him, and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. The punishment of killing (for drinking) was repealed, and a concession was allowed.
Sufyan said: Al-Zuhri transmitted this tradition when Mansur b. al-Mu'tamir amd Mukhawwal b. Rashid were present with him. He said to them: Take this tradition as a present to the people of Iraq.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Sharid b. Suwaid, Sharahbil b. Aws, 'Abd Allah b. 'Amr, 'Abd Allah b. 'Umar, Abu Ghutaif al-Kindi, and Abu Salamah b. 'Abd al-Rahman from Abu Hurairah.
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو “ تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی ، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے ، پھر اسے لایا گیا ، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے ، پھر اسے لایا گیا ، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے ، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے ، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی ۔ سفیان کہتے ہیں : زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا : تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو شرید بن سوید ، شرحبیل بن اوس ، عبداللہ بن عمرو ، عبداللہ بن عمر ، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے ۔
Chapter 37: One who drinks khamr repeatedly - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ لاَ أَدِي - أَوْ مَا كُنْتُ لأَدِيَ - مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلاَّ شَارِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ .
’Ali said:
I shall not pay blood-money or (he said) : I am not going to pay blood-money for him on whom I inflicted the prescribed punishment except for the one who drank wine, for the Messenger of Allah (ﷺ) did not prescribe anything definite. It is a thing which we have decided (by agreement) ourselves.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا ، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے ، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے ۔
I can still picture myself looking at the Messenger of Allah (ﷺ) who was among the camps of the Companions seeking the camp of Khalid ibn al-Walid, when a man who had drunk wine was brought before him. He asked the people: Beat him. Some struck him with sandals, some with sticks and some with fresh branches of the palm-tree (mitakhah). Ibn Wahb said: This (mitakhah) means green palm fronds. Then the apostle of Allah (ﷺ) took some dust from the ground and threw it on his face.
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے ، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا : ” اسے مارو “ ، تو کسی نے جوتے سے ، کسی نے چھڑی سے ، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا ( ابن وہب کہتے ہیں ) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی ۔
A man who had drunk wine was brought before the Prophet (ﷺ) when he was in Hunayn. He threw some dust on his face. He then ordered his Companions and they beat him with their sandals and whatever they had in their hands. He then said to them: Leave him, and they left him. The Messenger of Allah (ﷺ) then died, and AbuBakr gave forty lashes for drinking wine, and then Umar in the beginning of his Caliphate inflicted forty stripes and at the end of his Caliphate he inflicted eighty stripes. Uthman (after him) inflicted both punishments, eighty and forty stripes, and finally Mu'awiyah established eighty stripes.
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا ، اور آپ حنین میں تھے ، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی ، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے ، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا ، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے : ” بس کرو ، بس کرو “ تب لوگوں نے اسے چھوڑا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے ، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) on the morning of the conquest of Mecca when I was a young boy. He was walking among the people, seeking the camp of Khalid ibn al-Walid. A man who had drunk wine was brought (before him) and he ordered them (to beat him). So they beat him with what they had in their hands. Some struck him with whips, some with sticks and some with sandals. The Messenger of Allah (ﷺ) threw some dust on his face.
When a man who had drunk wine was brought before AbuBakr, he asked them (i.e. the people) about the number of beatings which they gave him. They numbered it forty. So AbuBakr gave him forty lashes.
When Umar came to power, Khalid ibn al-Walid wrote to him: The people have become addicted to drinking wine and they look down upon the prescribed punishment and its penalty.
He said: They are with you, ask them. The immigrants who embraced Islam in the beginning were with him. He asked them and they agreed on the fact that (a drunkard) should be given eighty lashes.
Ali said: When a man drinks wine, he tells lies. I, therefore, think that he should be prescribed punishment that is prescribed for telling lies..
Abu Dawud said: 'Uqail b. Khalid included in the chain of this tradition: "Abd Allah b. Abd al-Rahman b. al-Azhar from his father" between al-Zuhri and Ibn al-Azhar.
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ
میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا ، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا ، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا ، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا ، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی ، کسی نے اسے کوڑے سے ، کسی نے لاٹھی سے ، کسی نے جوتے سے پیٹا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی ، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی ، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں ، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے ، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے ۔