The Prophet (ﷺ) said: Forgive the infliction of prescribed penalties among yourselves, for any prescribed penalty of which I hear must be carried out.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حدود کو آپس میں نظر انداز کرو ، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی “ ( اسے معاف نہیں کیا جا سکتا ) ۔
Ma'iz came to the Prophet (ﷺ) and admitted (having committed adultery) four times in his presence so he ordered him to be stoned to death, but said to Huzzal: If you had covered him with your garment, it would have been better for you.
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا ، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا ، اور ہزال ( جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا ) سے کہا : ” اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا “ ۔
When a woman went out in the time of the Prophet (ﷺ) for prayer, a man attacked her and overpowered (raped) her.
She shouted and he went off, and when a man came by, she said: That (man) did such and such to me. And when a company of the Emigrants came by, she said: That man did such and such to me. They went and seized the man whom they thought had had intercourse with her and brought him to her.
She said: Yes, this is he. Then they brought him to the Messenger of Allah (ﷺ).
When he (the Prophet) was about to pass sentence, the man who (actually) had assaulted her stood up and said: Messenger of Allah, I am the man who did it to her.
He (the Prophet) said to her: Go away, for Allah has forgiven you. But he told the man some good words (AbuDawud said: meaning the man who was seized), and of the man who had had intercourse with her, he said: Stone him to death.
He also said: He has repented to such an extent that if the people of Medina had repented similarly, it would have been accepted from them.
Abu Dawud said: Asbat bin Nasr has also transmitted it from Simak.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا ، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی ، وہ جا چکا تھا ، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس ( فلاں ) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے ، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے ، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے ، اور اسے لے کر آئے ، تو اس نے کہا : ہاں اسی نے کیا ہے ، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا ( کہ اس پر حد جاری کی جائے ) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : ” تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ( کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا ) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد وہ آدمی ہے ( ناحق ) جو پکڑا گیا تھا ، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا : ” اس کو رجم کر دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے “ ۔
Chapter 8: Prompting with regard to hadd - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ " . قَالَ بَلَى . فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ " اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated AbuUmayyah al-Makhzumi:
A thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Prophet (ﷺ), but no good were found with him. The Messenger of Allah (ﷺ), said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He (the Prophet) then said: O Allah, accept his repentance.
Abu Dawud said: It has been transmitted by 'Amr b. Asim, from Hammam, from Ishaq b. 'Abd Allah from Abu Ummayyah, a man of the Ansar from the Prophet (ﷺ).
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا ، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے “ اس نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور چرایا ہے ، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا ، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا ، اور اسے لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اللہ سے مغفرت طلب کرو ، اور اس سے توبہ کرو “ اس نے کہا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو آپ نے تین بار فرمایا : ” اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے ، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے ، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے ۔
A man came to the prophet (ﷺ) and said : Messenger of Allah ! I have committed a crime which involves prescribed punishment so inflict it on me . He said : Have you not performed ablution when you came? He said : Yes, He said: Have you not prayed with us when we prayed ? He said : Yes .He then said : Go off, for Allah, the Exalted, forgave you.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا “ ۔
Some goods of the people of Kila' were stolen. They accused some men of the weavers (of theft). They came to an-Nu'man ibn Bashir, the companion of the Prophet (ﷺ). He confined them for some days and then set them free.
They came to an-Nu'man and said: You have set them free without beating and investigation. An-Nu'man said: What do you want? You want me to beat them. If your goods are found with them, then it is all right; otherwise, I shall take (retaliation) from your back as I have taken from their backs. They asked: Is this your decision? He said: This is the decision of Allah and His Apostle (ﷺ).
Abu Dawud said: By this statement he frightened them ; that is, beating is not necessary except after acknowledgement.
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ
کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے ، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا ، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا ، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں ، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا ، تو انہوں نے پوچھا : یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا ، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎ ۔
Chapter 11: For what the hand of a thief is to be cut off - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا .
‘A’ishah reported the prophet (ﷺ) as saying :
A thief’s hand should be cut off for a quarter of a dinar and upwards.
Ahmed b. Salih said: The amputation (of a thief’s hand) is for a quarter of a dinar and upwards.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چور کا ہاتھ چوتھائی دینار ، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے “ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) had a man's hand cut off for (stealing) a shield whose price was a dinar or ten dirhams.
Abu Dawud said: Muhammad bin Salamah and Sa'dan bin Yahya have transmitted it from Ibn Ishaq through his chain of narrators.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے ( چرانے پر ) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی ۔
Muhammad ibn Yahya ibn Hibban said: A slave stole a plant of a palm-tree from the orchard of a man and planted it in the orchard of his master. The owner of the plant went out in search of the plant and he found it. He solicited help against the slave from Marwan ibn al-Hakam who was the Governor of Medina at that time. Marwan confined the slave and intended to cut off his hand. The slave's master went to Rafi' ibn Khadij and asked him about it.
He told him that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree.
The man then said: Marwan has seized my slave and wants to cut off his hand. I wish you to go with me to him and tell him that which you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). So Rafi' ibn Khadij went with him and came to Marwan ibn al-Hakam.
Rafi' said to him: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree. So Marwan gave orders to release the slave and then he was released.
Abu Dawud said: Kathar means pith of the palm-tree.
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ
ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا ، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے ( ایک باغ میں لگا ) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” پھل اور جمار ( کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا ) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا “ تو اس شخص نے کہا : مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے ، اور مروان کے پاس آئے ، اور ان سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” پھل اور گابھا کے ( چرانے میں ) ہاتھ نہیں کٹے گا “ مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا ، چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «کثر» کے معنیٰ «جمار» کے ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about fruit which was bung up and said: If a needy person takes some with his mouth and does not take a supply away in his garment, there is nothing on him, but he who carries any of it is to be fined twice the value and punished, and he who steals any of it after it has been put in the place where dates are dried to have his hand cut off if their value reaches the value of a shield. If he steals a thing less in value than it, he is to be find twice the value and punished.
Abu Dawud said: Jarin means the place where dates are dried.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا ، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Cutting of hand is not to be inflicted on one who plunders, but he who plunders conspicuously does not belong to us.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۱؎ ، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں “ ۔
Chapter 13: Cutting off the hand for snatching and treachery - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ زَادَ
" وَلاَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version adds :
Cutting of the hand is not be inflicted on one who snatches something.
Abu Dawud said : Ibn Juraij did not hear these two traditions from Abu al-Zubair, I have been informed by Ahmad. B. Hanbal saving : Ibn Juraij heard them from Yasin al-Zayyat.
Aby Dawud said: Al-Mughirah b. Muslim has transmitted it from Abu al-Zubair from Jabir From the prophet(ﷺ).
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
اس میں اتنا اضافہ ہے ” اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔
I was sleeping in the mosque on a cloak mine whose price was thirty dirhams. A man came and pinched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: Do you cut off only for thirty dirhams ? I sell it to him and make the payment of its price a loan ? He said: Why did you not do so before bringing him to me ?
Abu Dawud said: Za'idah has also transmitted it from Simak from Ju'ayd ibn Hujayr. He said: Safwan slept. Mujahid and Tawus said: While he was sleeping a thief came and stole the cloak from beneath his head. The version of AbuSalamah ibn AbdurRahman has: He snatched it away from beneath his head and he awoke. He cried and he (the thief) was seized. Az-Zuhri narrated from Safwan ibn Abdullah. His version has: He slept in the mosque and used his cloak as pillow. A thief came and took his cloak. The thief was seized and brought to the Prophet (ﷺ).
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں مسجد میں سویا ہوا تھا ، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی ، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا ، لیکن وہ پکڑ لیا گیا ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے ، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے ؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں ، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کر لیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زائدہ نے سماک سے ، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے : ” صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا “ ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا ، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی ۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا ، تو وہ جاگ گئے ، اور چلائے ، اور وہ پکڑ لیا گیا ۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا ، اتنے میں ایک چور آیا ، اور اس نے ان کی چادر چرا لی ، تو اسے پکڑ لیا گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ۔
A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet (ﷺ) gave orders and her hand was cut off.
Abu Dawud said: Juwairiyyah has transmitted it from Nafi from Ibn ‘Umar or from Safiyyah daughter of Abu ‘Ubaid. This version adds: The prophet (ﷺ) got up and gave an address saying : Is there any woman who repents to Allah, the Exalted, and to his Apostle? He said it three times, That( woman) was present there but she did not get up and speak. Ibn Ghunj transmitted it from Nafi from Safiyyah daughter of Abu ‘Ubaid. This version has : He witnessed to her.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی ( مانگ کر ) لے کر مکر جایا کرتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے جویریہ نے نافع سے ، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے ، اور آپ نے تین بار فرمایا : ” کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے ؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی “ ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے ، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی ۔
Chapter 15: Cutting off the hand for a loan if he denies borrowing it - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتِ اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ - تَعْنِي - حُلِيًّا عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلاَ تُعْرَفُ هِيَ فَبَاعَتْهُ فَأُخِذَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
A woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Prophet (ﷺ). He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Usamah interceded and of her the Messenger of Allah (ﷺ) said whatever he said.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ
عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی ، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا ۔
Chapter 15: Cutting off the hand for a loan if he denies borrowing it - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ زَادَ فَقَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهَا .
‘A’ishah said :
A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them. The prophet (ﷺ) gave orders that her hand should be cut off. He (the narrator) then narrated the tradition similar to the one transmitted by Qutaibah from al-Laith from Ibn Shahib. This version adds: The prophet(ﷺ) had her hand cut off.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی ( مانگ کر ) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے ، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا ۔
Chapter 16: If an insane person steals or commits a crime that is subject to a had - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَكْبَرَ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, an idiot till he is restored to reason, and a boy till he reaches puberty.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے “ ۔
Ibn Abbas said: A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar. He consulted the people and ordered that she should be stoned.
Ali ibn AbuTalib passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar has given orders that she should be stoned.
He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty?
He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned?
He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا ، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا ، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے واپس لے چلو ، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، کہا : کیوں نہیں ؟ ضرور معلوم ہے ، تو بولے : پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے ؟ بولے : کوئی بات نہیں ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر اسے چھوڑیئے ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎ ۔