There were three times at which the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid us to pray or bury our dead - when the sun begins to rise till it is fully up, when the sun is at its height midway till it passes the meridian, and when the sun draws near to setting till it sets, or as he said.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے : ایک تو جب سورج چمکتا ہوا نکلے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے ، دوسرے جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور تیسرے جب سورج ڈوبنے لگے یہاں تک کہ ڈوب جائے یا اسی طرح کچھ فرمایا ۔
Ammar client of al-Harith ibn Nawfal told me that he attended the funeral of Umm Kulthum, and her son. The body of the boy was placed near the imam. I objected to it. Among the people there were Ibn Abbas, AbuSa'id al-Khudri, AbuQatadah and AbuHurayrah. They said: This is the sunnah (established practice of the Prophet).
حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ
وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام کے قریب رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس ، ابو سعید خدری ، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا : سنت یہی ہے ( یعنی پہلے لڑکے کو رکھنا پھر عورت کو ) ۔
Chapter 1186: Where Should The Imam Stand In Relation To The Deceased When Offering The Funeral Prayer ? - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ قَالُوا جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ فَتَبِعْتُهَا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ قَالُوا هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَأَنَا خَلْفَهُ لاَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ فَقَالُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الأَنْصَارِيَّةُ فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلاَتِهِ عَلَى الرَّجُلِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ الْعَلاَءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلاَتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيَحْطِمُنَا فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ عَلَىَّ نَذْرًا إِنْ جَاءَ اللَّهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَحْطِمُنَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجِيءَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ . فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُبَايِعُهُ لِيَفِيَ الآخَرُ بِنَذْرِهِ . قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لاَ يَصْنَعُ شَيْئًا بَايَعَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذْرِي . فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلاَّ لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَوْمَضْتَ إِلَىَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ " . قَالَ أَبُو غَالِبٍ فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ فَكَانَ الإِمَامُ يَقُومُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . نَسَخَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَفَاءَ بِالنَّذْرِ فِي قَتْلِهِ بِقَوْلِهِ إِنِّي قَدْ تُبْتُ .
Nafi' AbuGhalib said:
I was in the Sikkat al-Mirbad. A bier passed and a large number of people were accompanying it.
They said: Bier of Abdullah ibn Umayr. So I followed it. Suddenly I saw a man, who had a thin garment on riding his small mule. He had a piece of cloth on his head to protect himself from the sun. I asked: Who is this important man? People said: This is Anas ibn Malik.
When the bier was placed, Anas stood and led the funeral prayer over him while I was just behind him, and there was no obstruction between me and him. He stood near his head, and uttered four takbirs (Allah is Most Great). He neither lengthened the prayer nor hurried it. He then went to sit down. They said: AbuHamzah, (here is the bier of) an Ansari woman. They brought her near him and there was a green cupola-shaped structure over her bier. He stood opposite her hips and led the funeral prayer over her as he had led it over the man. He then sat down.
Al-Ala' ibn Ziyad asked: AbuHamzah, did the Messenger of Allah (ﷺ) say the funeral prayer over the dead as you have done, uttering four takbirs (Allah is Most Great) over her, and standing opposite the head of a man and the hips of a woman?
He replied: Yes. He asked: AbuHamzah, did you fight with the Messenger of Allah? He replied: Yes. I fought with him in the battle of Hunayn. The polytheists came out and invaded us so severely that we saw our horses behind our backs. Among the people (i.e. the unbelievers) there was a man who was attacking us, and striking and wounding us (with his sword). Allah then defeated them. They were then brought and began to take the oath of allegiance to him for Islam.
A man from among the companions of the Prophet (ﷺ) said: I make a vow to myself that if Allah brings the man who was striking us (with his sword) that day, I shall behead him. The Messenger of Allah (ﷺ) kept silent and the man was brought (as a captive).
When he saw the Messenger of Allah (ﷺ), he said: Messenger of Allah, I have repented to Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) stopped (for a while) receiving his oath of allegiance, so that the other man might fulfil his vow. But the man began to wait for the order of the Messenger of Allah (ﷺ) for his murder. He was afraid of the Messenger of Allah (ﷺ) to kill him. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that he did not do anything, he received his oath of allegiance. The man said: Messenger of Allah, what about my vow? He said: I stopped (receiving his oath of allegiance) today so that you might fulfil your vow. He said: Messenger of Allah, why did you not give any signal to me? The Prophet (ﷺ) said: It is not worthy of a Prophet to give a signal.
AbuGhalib said: I asked (the people) about Anas standing opposite the hips of a woman. They told me that this practice was due to the fact that (in the days of the Prophet) there were no cupola-shaped structures over the biers of women. So the imam used to stand opposite the hips of a woman to hide her from the people.
Abu Dawud said: The saying of the Prophet (ﷺ) "I have been commanded to fight against the people until they say: There is no god bu Allah" abrogated this tradition of fulfilling the vow by his remark: "I have repented".
نافع ابوغالب کہتے ہیں کہ
میں سکۃ المربد ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا ، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے ، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے ، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا ، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے ، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے ، میں نے لوگوں سے پوچھا : یہ چودھری صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، میں ان کے پیچھے تھا ، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے ، چار تکبیریں کہیں ( اور تکبیریں کہنے میں ) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی ، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا : ابوحمزہ ! ( انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے ( اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے ) یہ کہہ کر اسے قریب لائے ، وہ ایک سبز تابوت میں تھی ، وہ اس کے کولہے کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی ، پھر اس کے بعد بیٹھے ، تو علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے ؟ چار تکبیریں کہتے تھے ، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے کولھے کے سامنے کھڑے ہوتے تھے ، انہوں نے کہا : ہاں ۔ علاء بن زیاد نے ( پھر ) کہا : ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں جنگ حنین ۲؎ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا ۳؎ اور قوم ( کافروں ) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا ( پھر جنگ کا رخ پلٹا ) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں ( اسلام کی چوکھٹ پر ) لانا شروع کر دیا ، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے ، پھر وہ ( قیدی ) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اللہ سے توبہ کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ ( یعنی نذر ماننے والا صحابی ) اپنی نذر پوری کر لے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے ) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی ، تب اس صحابی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری نذر تو رہ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں اس کا اشارہ کیوں نہ فرما دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ رمز سے اشارہ کرے “ ۔ ابوغالب کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کولہے کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ ( وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے ) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث : «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے ، اور اسلام لے آیا ہوں ۔
Chapter 1186: Where Should The Imam Stand In Relation To The Deceased When Offering The Funeral Prayer ? - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلاَةِ وَسَطَهَا .
Narrated Samurah bin Jundab:
I prayed behing the Prophet (ﷺ) over a woman who died in childbirth, and he stood opposite her waist.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) passed a grave dug freshly. They arranged a row and uttered four takbirs over it. I asked al-Sha'bi: Who told you ? He replied: A reliable person whom 'Abd Allah b. 'Abbas attended.
شعبی سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک نئی قبر پر سے ہوا ، تو لوگوں نے اس پر صف بندی کی آپ نے ( نماز پڑھائی اور ) چار تکبیریں کہیں ۔ ابواسحاق کہتے ہیں : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی ؟ انہوں نے کہا : ایک معتبر آدمی نے جو اس وقت موجود تھے ، یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ۔
Zaid b. Arqam used to utter four takbirs (Allah is Most Great) over our dead person (during prayer). He uttered five takbirs on a dead person. So I asked him. He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) used to utter those.
Abu Dawud said: I remember the tradition of Ibn al-Muthanna in a more guarded way.
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
زید یعنی ابن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک بار ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا ( آپ ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ کیسے کہیں ؟ ) تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ( بھی ) کہتے تھے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے ابن مثنیٰ کی حدیث زیادہ یاد ہے ۔
I was present with Marwan who asked AbuHurayrah: Did you hear how the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray over the dead? He said: Even with the words that you said. (The narrator said: They exchanged hot words between them before that.)
Abu Hurairah said: O Allah, Thou art its Lord. Thou didst create it, Thou didst guide it to Islam, Thou hast taken its spirit, and Thou knowest best its inner nature and outer aspect. We have come as intercessors, so forgive him.
Abu Dawud said: Shu'bah made a mistake in mentioning the name of 'Ali b. Shammakh. He said in his version: 'Uthman b. Shammas.
Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Ibrahim al-Mawsili say that Ahmad b. Hanbal said: In every meeting which I attended with Hammad b. Zaid he forbade to narrate this traditions from 'Abd al-Warith and Ja'far b. Sulaiman.
علی بن شماخ کہتے ہیں
میں مروان کے پاس موجود تھا ، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو ؟ مروان نے کہا : ہاں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی ( سخت کلامی ) ہو گئی تھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ” اے اللہ ! تو ہی اس کا رب ہے ، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے ، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے ، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے ، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے ، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed over a dead person, he said: O Allah, forgive those of us who are living and those of us who are dead, those of us who are present and those of us who are absent, our young and our old, our male and our female. O Allah, to whomsoever of us Thou givest life grant him life as a believer, and whomsoever of us Thou takest in death take him in death as a follower of Islam. O Allah, do not withhold from us the reward (of faith) and do not lead us astray after his death.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی : «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ” اے اللہ ! تو بخش دے ، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو ، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو ، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو ، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو ، اے اللہ ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے ، اے اللہ ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا ، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer over bier of a Muslim and I heard him say: O Allah, so and so, son of so and so, is in Thy protection, so guard him from the trial in the grave. (AbdurRahman in his version said: "In Thy protection and in Thy nearer presence, so guard him from the trial in the grave) and the punishment in Hell. Thou art faithful and worthy of praise. O Allah, forgive him and show him mercy. Thou art the forgiving and the merciful one." AbdurRahman said: "On the authority of Marwan ibn Janah."
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے : «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» ” اے اللہ ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ ( عذاب ) سے بچا لے “ ۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں : «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے : «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! وہ تیری امان میں ہے ، اور تیری حفاظت میں ہے ، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے ، اے اللہ ! تو اسے بخش دے ، اس پر رحم فرما ، تو بہت بخشنے والا ، اور رحم فرمانے والا ہے “ ۔
A negress (or a youth) used to sweep the mosque. The Prophet (ﷺ) missed him, and when he asked about him the people told him that he had died. He said: Why have you not informed me ? He said: Lead me to his grave. So they led him and he prayed over him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا ، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” مجھے اس کی قبر بتاؤ “ ، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) gave the people news of death of Negus on the day on which he died, took them out to the place of prayer, drew them up in rows and said: "Allah is Most Great" four times.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( حبشہ کا بادشاہ ) نجاشی ۱؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے ، ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز ( جنازہ ) پڑھی ۲؎ ۔
Chapter 1191: Performing The Funeral Prayer For A Muslim Who Dies In The Land Of Shirk - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَنْطَلِقَ إِلَى أَرْضِ النَّجَاشِيِّ فَذَكَرَ حَدِيثَهُ قَالَ النَّجَاشِيُّ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَلَوْلاَ مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ .
Narrated Abu Burdah:
On the authority of his father: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to proceed to the land of Negus. Mentioning the rest of the tradition he said that Negus said: I bear witness that he is the Messenger of Allah (ﷺ), and it is he about whom Christ son of Mary gave good news. It I were not in the land which I am, I would come to him and carry his shoes.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب کفار نے سخت ایذائیں پہنچائیں تو ) ہمیں نجاشی کے ملک میں چلے جانے کا حکم دیا ، نجاشی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور وہ وہی شخص ہیں جن کے آنے کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی ہے اور اگر میں سلطنت کے انتظام اور اس کی ذمہ داریوں میں پھنسا ہوا نہ ہوتا تو ان کے پاس آتا یہاں تک کہ میں ان کی جوتیاں اٹھاتا ۔
Chapter 1192: Putting More Than One Deceased Person In A Grave And Marking The Grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - بِمَعْنَاهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ - قَالَ كَثِيرٌ قَالَ الْمُطَّلِبُ قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَقَالَ
" أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي " .
Narrated Al-Muttalib:
When Uthman ibn Maz'un died, he was brought out on his bier and buried. The Prophet (ﷺ) ordered a man to bring him a stone, but he was unable to carry it. The Messenger of Allah (ﷺ) got up and going over to it rolled up his sleeves.
The narrator Kathir told that al-Muttalib remarked: The one who told me about the Messenger of Allah (ﷺ) said: I still seem to see the whiteness of the forearms of the Messenger of Allah (ﷺ) when he rolled up his sleeves. He then carried it and placed it at his head saying: I am marking my brother's grave with it, and I shall bury beside him those of my family who die.
مطلب کہتے ہیں
جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا ( تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے ) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں ۔ کثیر ( راوی ) کہتے ہیں : مطلب نے کہا : جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا : ” میں اسے اپنے بھائی کی قبر کی پہچان کے لیے لگا رہا ہوں ، میرے خاندان کا جو مرے گا میں اسے انہیں کے آس پاس میں دفن کروں گا ۱؎ “ ۔
Ali, Fadl and Usamah ibn Zayd washed the Messenger of Allah (ﷺ) and they put him in his grave. Marhab or Ibn AbuMarhab told me that they also made AbdurRahman ibn Awf join them.
When Ali became free, he said: The People of the man serve him.
عامر شعبی کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی ، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا ، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا ۔ شعبی کہتے ہیں : مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ( دفن سے ) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی ( مردے ) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں ۔
Chapter 1195: How Many People Should Enter The Grave ? - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَحَّبٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً .
Narrated Abu Marhab:
That 'Abd al-Rahman b. 'Awf alighted in the grave of the Prophet (ﷺ). He said: I still seem to see the four of them.
ابومرحب سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے وہ کہتے ہیں : مجھے ایسا لگ رہا ہے گویا کہ میں ان چاروں ( علی ، فضل بن عباس ، اسامہ ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ) کو دیکھ رہا ہوں ۔
Al-Harith left his will that Abdullah ibn Yazid should offer his funeral prayer; so he prayed over him. He then put him in the grave from the side of his legs and said: This is a Sunnah (model practice of the Prophet).
ابواسحاق کہتے ہیں کہ
حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز ( نماز جنازہ ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں ، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا : یہ مسنون طریقہ ہے ۔
Chapter 1197: How To Sit By The Grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ .
Narrated Al-Bara' ibn Azib:
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to the funeral of a man of the Ansar, but when we reached the grave, the niche in the side had not yet been made, so the Prophet (ﷺ) sat down facing the qiblah, and we sat down along with him.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے ، قبر پر پہنچے تو ابھی قبر کی بغل کھدی ہوئی نہ تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ۔
Chapter 1198: Supplicating For The Deceased When He Is Placed In His Grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ
" بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . هَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ .
Narrated Abdullah ibn Umar:
When the Prophet (ﷺ) placed the dead in the grave, he said: In the name of Allah, and following the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). This is Muslim's version.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں رکھتے تو : «بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے تھے ، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں ۔