The people saw fire (light) in the graveyard and they went there. They found that the Messenger of Allah (ﷺ) was in a grave and he was saying: Give me your companion. This was a man who used to raise his voice while mentioning the name of Allah.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
کچھ لوگوں نے قبرستان میں ( رات میں ) روشنی دیکھی تو وہاں گئے ، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” تم اپنے ساتھی کو ( یعنی نعش کو ) مجھے تھماؤ “ ، تو دیکھا کہ ( مرنے والا ) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا ۔
Chapter 1171: Moving The Deceased From One Land To Another - Which Is Disliked - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا حَمَلْنَا الْقَتْلَى يَوْمَ أُحُدٍ لِنَدْفِنَهُمْ فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَضَاجِعِهِمْ فَرَدَدْنَاهُمْ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
On the day of Uhud we brought the martyrs to bury them (at another place), but the crier of the Prophet (ﷺ) came and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has commanded you to bury the martyrs at the place where they fell. So we took them back.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
غزوہ احد کے روز ہم نے مقتولین کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی مضاجع شہادت گاہوں میں دفن کرو ، تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا ۔
The Prophet (ﷺ) said: If any Muslim dies and three rows of Muslims pray over him, it will assure him (of Paradise). When Malik considered those who accompanied a bier to be a few, he divided them into three rows in accordance with this tradition.
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : نماز ( جنازہ ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے ۔
If anyone attends the funeral and prays over (the dead), he will get the reward of one qirat, and if anyone attends the funeral until the completion (of the burial), he will get the reward of two qirats, the smaller of them being equivalent of Uhud, or one of them being equivalent to Uhud.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ( کا ثواب ) ملے گا ، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط ( کا ثواب ) ملے گا ، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا ۔
Dawud b. 'Amir b. Sa'd b. Abi Waqqas said that his father 'Amir b. Sa'd was with Ibn 'Umar b. al-Khattab when Khabbab, the owner of the closet (maqsurah), came and said:
'Abd Allah b.'Umar dont you hear what Abu Hurairah says ? He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone goes out of his house, accompanies bier and prays over it.... He then mentioned the rest of the tradition as narrated by Sufyan. Thereupon Ibn 'Umar sent someone to 'Aishah (asking her about it). She replied: Abu Hurairah spoke the truth.
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ
وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے : عبداللہ بن عمر ! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے ۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے ( یہ سنا تو ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے ۔
I heard the Prophet (ﷺ) say: If any Muslim dies and forty men associate nothing with Allah stand over his bier. Allah will accept them as intercessors for him.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۱؎ “ ۔
The Prophet (said) said: A bier should not be followed by a loud voice (of wailing) or fire.
Abu Dawud said: Harun (one of the narrators) added: "And it should not be preceded (with those) either."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ چیختے چلاتے ( روتے پیٹتے ) نہ لے جایا جائے ، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے “ ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے ۔
Chapter 1176: Standing Up For A Funeral - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
Narrated 'Amir b. Rabi'ah:
The Prophet (ﷺ) as saying: When you see a funeral, stand up for it till it leaves you behind or it is placed (on the ground).
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جب تم جنازے کو دیکھو تو ( اس کے احترام میں ) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا ( زمین پر ) رکھ دیا جائے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When you follow a funeral, do not sit until the bier is placed (on the ground).
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Thawri (i.e. Sufyan) from Suhail, from his father on the authority of Abu Hurairah. This version has: until it (the bier) is placed on the ground. It has also been narrated by Abu Mu'wiyah from Suhail. This has: Until it is placed in the grave.
Abu Dawud said: Sufyan's version is more guarded than that of Abu Mu'awiyah.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو “ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے “ اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں ۔
We were with the Prophet (ﷺ) when a funeral passed hi and he stood up for it. When we went to carry it, we found that it was a funeral of a Jew. We, therefore said: Messenger of Allah, this is the funeral of a Jew. He said: Death is fearful event, so when you see a funeral, stand up.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت ڈرنے کی چیز ہے ، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ “ ۔
Chapter 1176: Standing Up For A Funeral - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ هَكَذَا نَفْعَلُ . فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ
" اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ " .
Narrated Ubadah ibn as-Samit:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to stand up for a funeral until the corpse was placed in the grave. A learned Jew (once) passed him and said: This is how we do. The Prophet (ﷺ) sat down and said: Sit down and act differently from them.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے ، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا ، بیٹھتے نہ تھے ، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا : ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ( اس کے بعد سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے ، اور فرمایا : ” ( مسلمانو ! ) تم ( بھی ) بیٹھے رہو ، ان کے خلاف کرو “ ۔
An animal was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was going with a funeral. He refused to ride on it. When the funeral was away, the animal was brought to him and he rode on it. He was asked about it. He said: The angels were on their feet. I was not to ride while they were walking. When they went away, I rode.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا : ” جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں ، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا “ ۔
Chapter 1177: Riding During A Funeral - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ شُهُودٌ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ فَعُقِلَ حَتَّى رَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ .
Narrated Jabir b. Samurah:
The Prophet (ﷺ) offered funeral prayer over Ibn al-Dahdah while we were present. He was then brought a horse, and it was tied until he rode it. It then began to gallop and we were running around it.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھی ، اور ہم موجود تھے ، پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوئے ، وہ اکڑ کر ٹاپ رکھنے لگا ، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے ( تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ) ۔
(I think that the people of Ziyad informed me that he reported on the authority of the Prophet (ﷺ): A rider should go behind the bier, and those on foot should walk behind it, in front of it, on its right and on its left keeping near it. Prayer should be offered over an abortion and forgiveness and mercy supplicated for its parents.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار جنازے کے پیچھے چلے ، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے ، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے ، اور کچے بچوں ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے “ ۔
The Prophet (ﷺ) as saying: Walk quickly with a funeral, for if the dead person was good it is a good condition to which you are sending him on, but it he was otherwise it is an evil of which you are riding yourselves.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے “ ۔
Uyaynah ibn AbdurRahman reported on the authority of his father that he attended the funeral of Uthman ibn Abul'As. He said:
We were walking slowly. AbuBakrah then joined us and he raised his flog at us and said: You have seen us when we were with the Messenger of Allah (ﷺ). We were walking quickly.
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے ، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا ( ڈرانے کے لیے ) اور کہا : ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ( جنازے لے کر ) تیز چلا کرتے تھے ۔
Uyaynah also reported the aforementioned tradition (No. 3176) through a different chain of transmitters. This version goes:
We attended the funeral of AbdurRahman ibn Samurah and he said: He (AbuBakrah) made his mule run quickly and pointed with the flog.
اس سند سے بھی عیینہ سے یہی حدیث مروی ہے
مگر اس میں خالد بن حارث اور عیسیٰ بن یوسف دونوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کا ہے نیز اس میں یہ بھی ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اپنا خچر دوڑایا اور کوڑے سے ( جلدی ) چلنے کا اشارہ کیا ۔
We asked the Prophet (ﷺ) about walking with the funeral. He replied: Not running (but walking quickly). If he (the dead person) was good, send him to it quickly; if he was otherwise, keep away the people of Hell. The bier should be followed and should not follow. Those who go in front of it are not accompanying it.
Abu Dawud said: The narrator Yahya b. 'Abd Allah is weak. He is Yahya al-Jabir
Abu Dawud said: This is from Kufah, and Abu Majidah is from Basrah.
Abu Dawud said: Abu Majidah is obscure.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : «خبب» ۱؎ سے کچھ کم ، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا ، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے ، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا ، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں ، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں ، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں ۔
Chapter 1180: The Ruler Should Not Perform The Funeral Prayer For One Who Killed Himself - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ . قَالَ " وَمَا يُدْرِيكَ " . قَالَ أَنَا رَأَيْتُهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ " . قَالَ فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ " . فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ . فَقَالَ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ . قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ " مَا يُدْرِيكَ " . قَالَ رَأَيْتُهُ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ مَعَهُ . قَالَ " أَنْتَ رَأَيْتَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " إِذًا لاَ أُصَلِّي عَلَيْهِ " .
Narrated Jabir ibn Samurah:
A man fell ill and a cry was raised (for his death). So his neighbour came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said to him: He has died. He asked: Who told you? He said: I have seen him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He has not died. He then returned.
A cry was again raised (for his death). He came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: He has died. The Prophet (ﷺ) said: He has not died. He then returned.
A cry was again raised over him. His wife said: Go to the Messenger of Allah (ﷺ) and inform him. The man said: O Allah, curse him.
He said: The man then went and saw that he had killed himself with an arrowhead. So he went to the Prophet (ﷺ) and informed him that he had died.
He asked: Who told you? He replied: I myself saw that he had killed himself with arrowheads. He asked: Have you seen him? He replied: Yes. He then said: Then I shall not pray over him.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ “ ، وہ بولا : میں اسے دیکھ کر آیا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نہیں مرا ہے “ ، وہ پھر لوٹ گیا ، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی ، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : وہ مر گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نہیں مرا ہے “ ، تو وہ پھر لوٹ گیا ، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی ، تو اس کی بیوی نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو ، اس نے کہا : اللہ کی لعنت ہو اس پر ۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہیں کیسے پتا لگا ؟ “ ، اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے خود دیکھا ہے ؟ “ ، اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میں اس کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھوں گا “ ۔
Chapter 1182: Funeral Prayer For A Child - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Ibrahim, the son of the Prophet (ﷺ), died when he was eighteen months old. The Messenger of Allah (ﷺ) did not pray over him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اس وقت وہ اٹھارہ مہینے کے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎ ۔
Chapter 1182: Funeral Prayer For A Child - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَهِيَّ، قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَقَاعِدِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قِيلَ لَهُ حَدَّثَكُمُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ لَيْلَةً .
Narrated Al-Bahiyy:
When Ibrahim, the son of the Prophet (ﷺ) died, he prayed over him at the place where he used to sit.
Abu Dawud said: I recited to Sa'id b. Ya'qub al-Taliqani saying: Ibn al-Mubarak transmitted to you from Ya'qub b. al-Qa'qa' on the authority of 'Ata that the Prophet (ﷺ) prayed over his son Ibrahim when he was seventeen days old.
وائل بن داود کہتے ہیں : میں نے بہی سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نشست گاہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے سعید بن یعقوب طالقانی پر پڑھا کہ آپ سے حدیث بیان کی ابن مبارک نے انہوں نے یعقوب بن قعقاع سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی اس وقت وہ ستر دن کے تھے ۔