I said to the Prophet (ﷺ): Your old and astray uncle has died. He said: Go and bury your father, and then do not do anything until you come to me. So I went, buried him and came to him. He ordered me (to take a bath), so I took a bath, and he prayed for me.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا “ ، تو میں گیا ، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
The Ansar came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud and said: We have been afflicted with wound and fatigue. What do you command us?
He said: Dig graves, make them wide, bury two or three in a single grave.
He was asked: Which of them should be put first?
He replied: The one who knew the Qur'an most.
He (Hisham) said: My father Amir died on the day and was buried with two or one.
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو “ ، پوچھا گیا : آگے کسے رکھیں ؟ فرمایا : ” جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Humaid b. Hilal with a different chain of transmitters and to the same effect. This version adds:
"And deepen (the graves)."
اس سند سے بھی حمید بن ہلال سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
'Ali said to me: I am sending you on the same mission as the Messenger of Allah (ﷺ) sent me that I should not leave a high grave without leveling it and an image without obliterating it.
ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں
مجھے علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں ، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ۱؎ ۔
We were with Fudalah b. 'Ubaid at Rudis in the land of Rome. One of our Companions dies, Fudalah commanded us to dig his grave; it was (dug and) levelled. He then said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) commanding to level them.
Abu Dawud said: Rudis is an island, in the sea.
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں
ہم سر زمین روم میں رودس ۱؎ میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا ، پھر وہ ( دفن کے بعد ) برابر کر دی گئی ، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اسے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّهْ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَاحِبَيْهِ رضى الله عنهما فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلاَثَةِ قُبُورٍ لاَ مُشْرِفَةٍ وَلاَ لاَطِئَةٍ مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ يُقَالُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُقَدَّمٌ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Al-Qasim ibn Muhammad ibn AbuBakr:
I said to Aisha! Mother, show me the grave of the Messenger of Allah (ﷺ) and his two Companions (Allah be pleased with them). She showed me three graves which were neither high nor low, but were spread with soft red pebbles in an open space.
Abu 'Ali said: It is said that the Messenger of Allah (ﷺ) is forward, Abu Bakr is near his head and 'Umar is near is feet. His head is at the feet of the Messenger of Allah (ﷺ).
قاسم کہتے ہیں
میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اماں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں میرے لیے کھول دیجئیے ( میں ان کا دیدار کروں گا ) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھول دیں ، وہ قبریں نہ بہت بلند تھیں اور نہ ہی بالکل پست ، زمین سے ملی ہوئی ( بالشت بالشت بھر بلند تھیں ) اور مدینہ کے اردگرد کے میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں ۔ ابوعلی کہتے ہیں : کہا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہیں ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے پاس ہیں ، اور عمر رضی اللہ عنہ آپ کے قدموں کے پاس ، عمر رضی اللہ عنہ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں کے پاس ہے ۔
Whenever the Prophet (ﷺ) became free from burying the dead, he used to stay at him (i.e. his grave) and say: Seek forgiveness for your brother, and beg steadfastness for him, for he will be questioned now.
Abu Dawud said: The full name of the narrator Buhair is Buhair b. Raisan.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے : ” اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو ، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بحیر سے بحیر بن ریسان مراد ہیں ۔
The Prophet (ﷺ) said: There is no slaughtering (at the grave) in Islam.
'Abd al-Razzaq said: They used to slaughter cows or sheep at grave.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں «عقر» نہیں ہے “ ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 1204: Offering The Funeral Prayer At Graves After A While - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ .
Narrated Yazid b. Habib:
The Prophet (ﷺ) prayed over the martyrs of Uhud after eight years like a man who bids farewell to the living and dead.
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی ، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے ( درد و سوز میں ڈوبی ہوئی ) ۱؎ ۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir through a different chain of transmitters.
Abu Dawud said:
'Uthman said: "or anything added to it." Sulaiman b. Musa said: "or anything written on it." Musaddad did not mention in his version the words "or anything added to it."
Abu Dawud said: The word "and that" (wa an) remained hidden to me.
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ،
ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے ( بھی منع فرماتے تھے ) ۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے : ” یا اس پر کچھ لکھنے سے ۱؎ “ مسدد نے اپنی روایت میں : «أو يزاد عليه» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی روایت میں مجھے حرف «وأن» کا پتہ نہ لگا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: It is better that one of you should sit on the live coals which burns his clothing and come in contact with his skin than that he should sit on a grave.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا ، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not sit on the graves, and do not pray facing them.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبروں پر نہ بیٹھو ، اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو “ ۔
Chapter 1207: Walking Between Graves While Wearing Shoes - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا اسْمُكَ " . قَالَ زَحْمٌ . قَالَ " بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ " . قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا " . ثَلاَثًا ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ " لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا " . وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلاَنِ فَقَالَ " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ " . فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلَعَهُمَا فَرَمَى بِهِمَا .
Narrated Bashir, the Client of the Messenger of Allah:
Bashir's name in pre-Islamic days was Zahm ibn Ma'bad. When he migrated to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: What is your name? He replied: Zahm. He said: No, you are Bashir.
He (Bashir) said: When I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) he passed by the graves of the polytheists. He said: They lived before (a period of) abundant good. He said this three times. He then passed by the graves of Muslims. He said: They received abundant good.
The Messenger of Allah (ﷺ) suddenly saw a man walking in shoes between the graves. He said: O man, wearing the shoes! Woe to thee! Take off thy shoes. So the man looked (round), When he recognized the Messenger of Allah (ﷺ), he took them off and threw them away.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
غلام بشیر رضی اللہ عنہ ( جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” تمہارا کیا نام ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : زحم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو “ کہتے ہیں : اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” یہ لوگ خیر کثیر ( دین اسلام ) سے پہلے گزر ( مر ) گئے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” ان لوگوں نے خیر کثیر ( بہت زیادہ بھلائی ) حاصل کی “ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے جوتیوں والے ! تجھ پر افسوس ہے ، اپنی جوتیاں اتار دے “ اس آدمی نے ( نظر اٹھا کر ) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا ۔
The Prophet (ﷺ) as saying: When a servant (of Allah) is placed in his grave, and his Companions depart from him, he hears the stepping sound of their shoes.
انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
آپ نے فرمایا : ” جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے “ ۔
A man was buried with my father. I had a desire at heart for that (place for my burial). So I took him out after six months. I did not find any change (in his body) except a few hair that touched the earth.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔
People with a bier passed by the Messenger of Allah (ﷺ). They (the companions) spoke highly of him. He said: Paradise is certain for him. Then some people with another (bier) passed by him. They spoke very badly of him. He said: Hell is certain for him. He then said: Some of you are witness to others.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «وجبت» ” جنت اس کا حق بن گئی “ پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : «وجبت» ” دوزخ اس کے گلے پڑ گئی “ پھر فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے “ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ " .
Narrated Abu Hurairah:
The Messenger of Allah (ﷺ) visited his mother's grave and wept and cause those around him to weep. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: I asked my Lord's permission to pray for forgiveness for her, but I was not allowed. I then asked His permission to visit her grave, and I was allowed. So visit graves, for they make one mindful of death.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو ( بھی ) رلا دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی ، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی ، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, inhabitants of the dwellings who are of the community of the believers. If Allah wills we shall join you.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان گئے تو فرمایا : « السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون» ” سلامتی ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی والو ! ہم بھی ان شاءاللہ آ کر آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں “ ۔
To the Messenger of Allah (ﷺ) was brought man wearing ihram who was thrown by his she-camel and has his neck broken and had died. He then said: Shroud him in his two garments, was him with water and lotus leaves, but do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah.
Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal say: There are five rules of the law (sunan) in this tradition: "Shroud him in his two garment," that is, the dead should be shrouded in his two garments. "Wash him with water and lotus leaves," that is, washing all times should be with lotus leaves. Do not bring any perfume near him. The shroud will be made from the property (of the dead).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا ، وہ حالت احرام میں تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اس کے دونوں کپڑوں ( تہبند اور چادر ) ہی میں دفناؤ ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو ، اس کا سر مت ڈھانپو ، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں : ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا ۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے ۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس ( محرم ) کا سر نہ ڈھانپو ۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ۱؎ ۔