Chapter 1161: Covering The Deceased When Washing Him - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لاَ يَدْرُونَ مَنْ هُوَ أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَهُ إِلاَّ نِسَاؤُهُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
By Allah, we did not know whether we should take off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ) as we took off the clothes of our dead, or wash him while his clothes were on him. When they (the people) differed among themselves, Allah cast slumber over them until every one of them had put his chin on his chest.
Then a speaker spoke from a side of the house, and they did not know who he was: Wash the Prophet (ﷺ) while his clothes are on him. So they stood round the Prophet (ﷺ) and washed him while he had his shirt on him. They poured water on his shirt, and rubbed him with his shirt and not with their hands. Aisha used to say: If I had known beforehand about my affair what I found out later, none would have washed him except his wives.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے : قسم اللہ کی ! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں ، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں ، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو ، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو ، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا ، ( یہ سن کر ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا ، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came in when his daughter died, and he said: Wash her with water and lotus leaves three or five times or more than that if you think fit, and put camphor, or some camphor in the last washing, then inform me when you finish. When we had finished we informed him, and he threw us his lower garment saying: Put it next to her body.
Malik's version has: that is, his lower garment (izar); and Musaddad did not say: He entered in.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا : ” تم انہیں تین بار ، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا ، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا ، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا ، مجھے اطلاع دینا ، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی ، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو ۔ مسدد کی روایت میں ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا “ ذکر نہیں ہے ۔
Chapter 1162: How The Deceased Is To Be Washed - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُنَّ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ
" ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
Narrated Umm 'Atiyyah :
The Messenger of Allah (ﷺ) said to them while washing her daughter: Begin with her right side, and the places where the ablution is performed.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے اپنی بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کے غسل کے متعلق فرمایا : ” ان کی داہنی جانب سے اور وضو کے مقامات سے غسل کی ابتداء کرنا “ ۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Umm 'Atiyyah through a different chain of narrators. This version has:
(Wash her) seven times or more if you think fit.
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے
اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں جسے انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اسی طرح کا اضافہ ہے اور اس میں انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : ” یا سات بار غسل دینا ، یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت سمجھنا “ ۔
Muhammad b. Sirin used to learn how to wash the dead from Umm 'Atiyyah: he would was with lotus leaves twice and with water and camphor for the third time.
قتادہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھا تھا ، وہ دوبار بیری کے پانی سے غسل دیتے اور تیسری بار کافور ملے ہوئے پانی سے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلاً فَزَجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :
The Prophet (ﷺ) made a speech one day and mentioned a man from among his Companions who died and was shrouded in a shroud of bad quality, and was buried at night. The Prophet (ﷺ) rebuked that man be buried at night until prayer was offered over him, except that a man was forced to do that. The Prophet (ﷺ) said: When one of you shrouds his brother, he should use a shroud of good quality.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا کہ
ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا ، انہیں ناقص کفن دیا گیا ، اور رات میں دفن کیا گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ڈانٹا کہ رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: When one of you dies, and he possesses something, he should be shrouded in the garment of the Yemeni stuff.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت ( مالدار ) ہوں تو وہ اسے یمنی کپڑے ( یعنی اچھے کپڑے میں ) دفنائیں “ ۔
A similar tradition has been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators. This version adds:
"of cotton".
The narrator said: Aisha was told that the people said that he was shrouded in two garments and one cloak. She replied: A cloak was brought but they returned it and did not shroud him in it.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے ہم مثل مروی ہے
البتہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کپڑے روئی کے تھے ۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی ، تو انہوں نے کہا : چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا ، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three garments made in Najran: two garments and one shirt in which he died.
Abu Dawud said: The narrator 'Uthman said: In three garments: two red garments and a shirt in which he died.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے ، دو کپڑے ( چادر اور تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : تین کپڑوں میں کفن دیے گئے ، سرخ جوڑا ( یعنی چادر و تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا تھا ۔
Do not be extravagant in shrouding, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not be extravagant in shrouding, for it will be quickly decayed.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا “ ۔
Mus'ab b. 'Umari was killed on the day of Uhud. He had only a striped cloak. When we covered his head with it, his feet appeared, and when we covered his feet, his head appeared. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: Cover his head with it, and cover his feet with some grass.
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں قتل ہو گئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا ، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے ، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر ( گھاس ) ڈال دو “ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، - وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لَيْلَى بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ قَالَتْ كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ وَفَاتِهَا فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحِقَاءَ ثُمَّ الدِّرْعَ ثُمَّ الْخِمَارَ ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الآخِرِ قَالَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا .
Narrated Layla daughter of Qa'if ath-Thaqafiyyah:
I was one of those who washed Umm Kulthum, daughter of the Prophet (ﷺ), when she died. The Messenger of Allah (ﷺ) first gave us lower garment, then shirt, then head-wear, then cloak (which covers the whole body), and then she was shrouded in another garment. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) was sitting at the door, and he had shroud with him. He gave us the garments one by one.
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے ( جنہیں داود کہا جاتا تھا ، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی ) کہ
لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا ، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا ، پھر کرتہ دیا ، پھر اوڑھنی دی ، پھر چادر دی ، پھر ایک اور کپڑا دیا ، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۱؎ ۔ لیلیٰ کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے ۔
Talhah ibn al-Bara' fell ill and the Prophet (ﷺ) came to pay him a sick-visit. He said: I think Talhah has died; so tell me (about his death), and make haste, for it is not advisable that the corpse of a Muslim should remain withheld among his family.
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے ، اور فرمایا : ” میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں ، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا ، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) used to take a bath on account of sexual defilement, on Friday, for cupping and washing the dead.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے : جنابت سے ، جمعہ کے دن ، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۱؎ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect.
Abu Dawud said:
This has been abrogated. When Ahmad b. Hanbal was asked about a man taking a bath after his washing the dead, I heard him say: Ablution is sufficient for him.
Abu Dawud said: The narrator Abu Salih made a mention of the narrator Ishaq, the client of Za'idah between him and Abu Hurairah. He said: The tradition of Mus'ab is weak. It contains many things that are not practised.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔
ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث منسوخ ہے ، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے : جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : اسے وضو کر لینا کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے ، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) that he kissed Uthman ibn Maz'un while he was dead, and I saw that tears were flowing (from his eyes).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ، ان کا انتقال ہو چکا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔