Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 15

Jihad (Kitab Al-Jihad)

كتاب الجهاد

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 311 hadiths in this chapter

Hadith 2677
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَقَدْ عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلاَسِلِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Our Lord Most High is charmed with people who will be led to Paradise in chains.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 201
Hadith 2678
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ وَكُنْتُ فِيهِمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الإِسْلاَمَ وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقْ مِنْكَ فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا ‏.‏

Narrated Jundub ibn Makith:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent Abdullah ibn Ghalib al-Laythi along with a detachment and I was also with them. He ordered them to attach Banu al-Mulawwih from all sides at al-Kadid. So we went out and when we reached al-Kadid we met al-Harith ibn al-Barsa al-Laythi, and seized him. He said: I came with the intention of embracing Islam, and I came out to go to the Messenger of Allah (ﷺ). We said: If you are a Muslim, there is no harm if we keep you in chains for a day and night; and if you are not, we shall tie you with chains. So we tied him with chains.

جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا ، میں بھی انہیں میں تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں ، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے ، ہم نے اسے پکڑ لیا ، وہ کہنے لگا : میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں ، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا ، ہم نے کہا : اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے ، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 202
Hadith 2679
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَ مِثْلَ هَذَا الْكَلاَمِ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ فِيهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ عِيسَى أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَقَالَ ذَا ذِمٍّ ‏.‏

Abu Hurairah said “ The Apostle of Allaah(ﷺ) sent some horsemen to Najd and they brought a man of the Banu Hanifah called Thumamah bint Uthal who was the chief of the people of Al Yamamah and bound him to one of the pillars of the mosque. The Apostle of Allaah(ﷺ) came out to him and said “What are you expecting, Thumamah?”. He replied “I expect good, Muhammad. If you kill (me), you will kill one whose blood will be avenged, if you show favor, you will show it to one who is grateful and if you want property and ask you will be given as much of it as you wish. The Apostle of Allaah(ﷺ) left him till the following day and asked him ”What are you expecting, Thumamah?” He repeated the same words (in reply). The Apostle of Allaah(ﷺ)left him till the day after the following one and he mentioned the same words. The Apostle of Allaah(ﷺ) then said “Set Thumamah free.” He went off to some palm trees near the mosque. He took a bath there and entered the mosque and said “I testify that there is no god but Allaah and I testify that Muhammd is His servant and His apostle. He then narrated the rest of the tradition. The narrator ‘Isa said “Al Laith narrated to us”. He said “a man of respect and reverence.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کو گرفتار کر کے لائے ، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے ، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور پوچھا : ” ثمامہ ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ “ کہا : اے محمد ! میرے پاس خیر ہے ، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک مستحق شخص کو قتل کریں گے ، اور اگر احسان کریں گے ، تو ایک قدرداں پر احسان کریں گے ، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے ، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ “ تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا ، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو ، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے ، غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله» پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا ۔ عیسیٰ کہتے ہیں : مجھ سے لیث نے «ذَاْ دَمٍ» کے بجائے «ذَا ذِمٍّ» ( یعنی ایک عزت دار کو قتل کرو گے ) روایت کی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 203
Hadith 2680
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ قُدِمَ بِالأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمْ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَىْ عَفْرَاءَ قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ وَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أَتَيْتُ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ الأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُمَا قَتَلاَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَكَانَا انْتَدَبَا لَهُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ وَقُتِلاَ يَوْمَ بَدْرٍ ‏.‏

Narrated Sawdah daughter of Zam'ah:

Yahya ibn Abdullah said: When the captives (of the battle of Badr) were brought, Sawdah daughter of Zam'ah was present with the children of Afra' at the halting place of their camels, that is, Awf and Mu'awwidh sons of Afra'. This happened before the prescription of veil for them. Sawdah said: I swear by Allah, I was with them when I came (from there to the people) and I was told: These are captives recently brought (here). I returned to my house, and the Messenger of Allah (ﷺ) was there, and AbuZayd Suhayl ibn Amr was in the corner of the apartment and his hands were tied up on his neck with a rope. He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: They (the sons of 'Afra') killed Abu Jahl b. Hisham. They were deputed for him though they did not realize him: and they were killed in the battle of Badr.

یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا ، اور سودہ بنت زمعہ ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے ، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے ، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : قسم اللہ کی ! میں انہیں کے پاس تھی ، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں ، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں تھا ، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہیں دونوں ( عوف و معوذ ) نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا ، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالانکہ اسے پہچانتے نہ تھے ، یہ دونوں بدر کے دن مارے گئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 204
Hadith 2681
Chapter 972: Regarding Abusing And Beating A Captive, (And Confession) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَدَبَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقُوا إِلَى بَدْرٍ فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا قُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ فَيَقُولُ وَاللَّهِ مَا لِي بِشَىْءٍ مِنْ أَمْرِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ‏.‏ فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَيَقُولُ دَعُونِي دَعُونِي أُخْبِرْكُمْ ‏.‏ فَإِذَا تَرَكُوهُ قَالَ وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ أَقْبَلُوا ‏.‏ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ يَسْمَعُ ذَلِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ لِتَمْنَعَ أَبَا سُفْيَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ ‏"‏ وَهَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ ‏"‏ وَهَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاوَزَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُخِذَ بِأَرْجُلِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ ‏.‏

Anas said “The Apostle of Allaah(ﷺ) called on his Companions and they proceeded towards Badr. Suddenly they found the watering Camels of the Quraish, there was among them a black slave of Banu Al Hajjaj. The Companions of the Apostle of Allaah(ﷺ) seized him and began to ask “Where is Abu Sufyan?” He said “I swear by Allaah, I do not know anything about him, but this is the Quraish who have come here, among them are Abu Jahl, ‘Utbah, Shaibah the two sons of Rabi’ah and Umayyah bin Khalaf. When he aid this to them, they beat him and he began to say “Leave me, leave me. I shall tell you. When they left him he said “I know nothing about Abu Sufyan, but this is the Quraish who have come (here), among them are Abu Jahl, ‘Utbah, Shaibah the two sons of Rab’iah and Umayyah bin Khalaf who have come here. The Prophet (ﷺ) was praying and hearing all that (dialogue). When he finished, he said “By Him in Whose hand my soul is, you beat him when he speaks the truth to you and you leave him when he tells a lie. This is the Quraish who have come here to defend Abu Sufyan. Anas said, The Apostle of Allaah(ﷺ) said “This will be the place of falling of so and so tomorrow and he placed his hand on the ground. This will be the place of falling of so and so tomorrow and he put his hand on the ground. And this will be the place of falling of so and so tomorrow and he put his hand on the ground. He (Ansas) said “By Him in Whose hand my soul is, no one fell beyond the place of the hand of the Apostle of Allaah(ﷺ), The Apostle of Allaah(ﷺ) ordered for them, and they were caught by their feet and dragged and thrown in a well at Badr.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بلایا ، وہ سب بدر کی طرف چلے ، اچانک قریش کے پانی والے اونٹ ملے ان میں بنی حجاج کا ایک کالا کلوٹا غلام تھا ، صحابہ کرام نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ بتاؤ ابوسفیان کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں ، البتہ قریش کے لوگ آئے ہیں ان میں ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں ، جب اس نے یہ کہا تو صحابہ کرام اسے مارنے لگے ، وہ بولا : مجھے چھوڑ دو ، مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں بتاتا ہوں ، جب اس کو چھوڑا تو پھر وہ یہی بات کہنے لگا : اللہ کی قسم مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں البتہ قریش آئے ہیں ان میں ابوجہل ، ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ و شیبہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں ، ( اس وقت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اسے سن رہے تھے ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب وہ تم سے سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو ، ( ابوسفیان تو شام کے قافلہ کے ساتھ مال لیے ہوئے آ رہا ہے ) اور یہ قریش کے لوگ ہیں اس کو بچانے کے لیے آئے ہیں “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل یہاں فلاں کی لاش گرے گی “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ، ” کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ، ” اور کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ۱؎ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلہ میں حکم دیا تو ان کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے انہیں بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 205
Hadith 2682
Chapter 973: Regarding Compelling A Captive To Accept Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي السِّجِسْتَانِيَّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَهَذَا، لَفْظُهُ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَكُونُ مِقْلاَتًا فَتَجْعَلُ عَلَى نَفْسِهَا إِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ أَنْ تُهَوِّدَهُ فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ كَانَ فِيهِمْ مِنْ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ فَقَالُوا لاَ نَدَعُ أَبْنَاءَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَىِّ ‏}‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمِقْلاَتُ الَّتِي لاَ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی ، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے ، انصار نے کہا : ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ : ۲۵۶ ) ” دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 206
Hadith 2683
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَسَمَّاهُمْ وَابْنُ أَبِي سَرْحٍ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ أَلاَ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الأَعْيُنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَكَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَخَا عُثْمَانَ لأُمِّهِ وَضَرَبَهُ عُثْمَانُ الْحَدَّ إِذْ شَرِبَ الْخَمْرَ ‏.‏

Narrated Sa'd:

On the day when Mecca was conquered, the Messenger of Allah (ﷺ) gave protection to the People except four men and two women and he named them. Ibn AbuSarh was one of them. He then narrated the tradition. He said: Ibn AbuSarh hid himself with Uthman ibn Affan. When the Messenger of Allah (ﷺ) called the people to take the oath of allegiance, he brought him and made him stand before the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Messenger of Allah, receive the oath of allegiance from him. He raised his head and looked at him thrice, denying him every time. After the third time he received his oath. He then turned to his Companions and said: Is not there any intelligent man among you who would stand to this (man) when he saw me desisting from receiving the oath of allegiance, and kill him? They replied: We do not know, Messenger of Allah, what lies in your heart; did you not give us an hint with your eye? He said: It is not proper for a Prophet to have a treacherous eye. Abu Dawud said: 'Abd Allah (b. Abi Sarh) was the foster brother of 'Uthman, and Walid b. 'Uqbah was his brother by mother, and 'Uthman inflicted on him hadd punishment when he drank wine.

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی ، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا ، رہا ابن ابی سرح تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا ، اور کہا : اللہ کے نبی ! عبداللہ سے بیعت لیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا ، تین بار ایسا ہی کیا ، ہر بار آپ انکار کرتے رہے ، تین بار کے بعد پھر اس سے بیعت لے لی ، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں تھا کہ جس وقت میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک رکھا تھا ، اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں آپ کے دل کا حال نہیں معلوم تھا ، آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہیں کر دیا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کنکھیوں سے اشارے کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ عثمان کا اخیافی بھائی تھا ، اس نے شراب پی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 207
Hadith 2684
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤْمِنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّاهُمْ ‏.‏ قَالَ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأُفْلِتَتِ الأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ أَفْهَمْ إِسْنَادَهُ مِنِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَمَا أُحِبُّ ‏.‏

Narrated Sa'id ibn Yarbu' al-Makhzumi:

The Prophet (ﷺ) said: on the day of the conquest of Mecca: There are four persons whom I shall not give protection in the sacred and non-sacred territory. He then named them. There were two singing girls of al-Maqis; one of them was killed and the other escaped and embraced Islam. Abu Dawud said: I could not understand its chain of narrators from Ibn al-'Ala' as I liked.

سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا : ” چار آدمیوں کو میں حرم اور حرم سے باہر کہیں بھی امان نہیں دیتا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام لیے ، اور مقیس کی دو لونڈیوں کو ، ایک ان میں سے قتل کی گئی ، دوسری بھاگ گئی پھر وہ مسلمان ہو گئی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 208
Hadith 2685
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ‏ "‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ابْنُ خَطَلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ أَبُو بَرْزَةَ الأَسْلَمِيُّ قَتَلَهُ ‏.‏

Anas bin Malik said “The Apostle of Allaah(ﷺ) entered Makkah in the year of the conquest (of Makkah) wearing a helmet on his head. When he took off it a man came to him and said “Ibn Akhtal is hanging with the curtains of the Ka’bah.” He said “Kill him”. Abu Dawud said “The name of Ibn Akhtal is ‘Abd Allaah and Abu Barzat Al Aslami killed him.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے ، آپ کے سر پر خود تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو قتل کر دو “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور اسے ابوبرزہ اسلمی نے قتل کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 209
Hadith 2686
Chapter 975: To Kill A Captive While Imprisioned - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ، مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلاً مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ مَنْ لِلصِّبْيَةِ قَالَ ‏ "‏ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

Ibrahim said: Ad-Dahhak ibn Qays intended to appoint Masruq as governor. Thereupon Umarah ibn Uqbah said to him: Are you appointing a man from the remnants of the murderers of Uthman? Masruq said to him: Ibn Mas'ud narrated to us, and he was trustworthy in respect of traditions, that when the Prophet (ﷺ) intended to kill your father, he said: Who will look after my children? He replied: Fire. I also like for you what the Messenger of Allah (ﷺ) liked for you.

ابراہیم کہتے ہیں کہ

ضحاک بن قیس نے مسروق کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ نے ان سے کہا : کیا آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک شخص کو عامل بنا رہے ہیں ؟ تو مسروق نے ان سے کہا : مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ہم میں حدیث ( بیان کرنے ) میں قابل اعتماد تھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ ( عقبہ ۱؎ ) کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا : میرے لڑکوں کی خبرگیری کون کرے گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ ۲؎ پس میں تیرے لیے اسی چیز سے راضی ہوں جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوئے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 210
Hadith 2687
Chapter 976: To Kill A Captive With An Arrow - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ تِعْلَى، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاَجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ بِالنَّبْلِ صَبْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ‏.‏

Narrated Ibn Ti'li:

We fought along with AbdurRahman ibn Khalid ibn al-Walid. Four infidels from the enemy were brought to him. He commanded about them and they were killed in confinement. Abu Dawud said: The narrators other than Sa'id reported from Ibn Wahb in this tradition: "(killed him) with arrows in confinement." When Abu Ayyub al-Ansari was informed about it, he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting to kill in confinement. By Him in Whose hands my soul is, if there were a hen, I would not kill it in confinement. 'Abd al-Rahman b. Khalid b. al-Walid was informed about it (the Prophet's prohibition). He set four slaves free.

ابن تعلی کہتے ہیں کہ

ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے ، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں ، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے ( اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے ) چار غلام آزاد کئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 211
Hadith 2688
Chapter 977: Regarding The Generosity In Freeing A Captive Without Any Ransom - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏

Anas said “Eighty Meccans came down from the mountain of Al Tan’im against the Prophet(ﷺ) and his Companions at the (time of the) dawn prayer to kill them. The Apostle of Allaah(ﷺ) took them captive without fighting and the Apostle of Allaah(ﷺ) set them free. Thereupon Allaah Most High sent down “He it is Who averted their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah,” till the end of the verse.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية ( سورۃ الفتح : ۲۴ ) ” اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 212
Hadith 2689
Chapter 977: Regarding The Generosity In Freeing A Captive Without Any Ransom - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُسَارَى بَدْرٍ ‏ "‏ لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

Jubair bin Mut’im reported the Prophet (ﷺ) as saying about the prisoners taken at Badr. If Mut’im bin ‘Adi had been alive and spoken to me about these filthy ones, I would have left them for him.

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا : ” اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 213
Hadith 2690
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - الْفِدَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ ‏}‏ مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمُ اللَّهُ الْغَنَائِمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ أَيْشٍ تَصْنَعُ بِاسْمِهِ اسْمُهُ اسْمٌ شَنِيعٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ ‏.‏

‘Umar bin Al Khattab said “During the battle of Badr, the Prophet (ﷺ) took ransom”. Thereupon Allaah Most High sent down “It is not fitting for an Apostle that he should have prisoners of war until he hath thoroughly subdued the land. You look on the temporal goods of this world, but Allaah looketh to the Hereafter”. And Allaah is exalted in might and Wise. Had it not been for a previous ordainment from Allaah, a severe penalty would have reached you for the (ransom) that you took. Allaah then made the spoils of war lawful. Abu Dawud said “I heard that Ahmad bin Hanbal was asked about the name of Abu Nuh”. He said “What will you do with his name? His name is a bad one. Abu Dawud said “the name of Abu Nuh is Qurad. What is correct is that his name is ‘Abd Al Rahman bin Ghazwan.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک ” نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں ، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے ، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی “ ( سورۃ الأنفال : ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 214
Hadith 2691
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ فِدَاءَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعَمِائَةٍ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) fixed the ransom of the people of pre-Islamic Arabia at four hundred dirhams per head on the day of the battle of Badr.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن جاہلیت کے لوگوں کا فدیہ فی آدمی چار سو مقرر کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 215
Hadith 2692
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلاَدَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ ‏"‏ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ عَلَيْهِ أَوْ وَعَدَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ كُونَا بِبَطْنِ يَأْجِجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بِهَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

When the people of Mecca sent about ransoming their prisoners Zaynab sent some property to ransom Abul'As, sending among it a necklace of hers which Khadijah had had, and (which she) had given to her when she married Abul'As. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw it, he felt great tenderness about it and said: If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her, (it will be well). They said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) made an agreement with him that he should let Zaynab come to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) sent Zayd ibn Harithah and a man of the Ansar (the Helpers) and said: Wait in the valley of Yajij till Zaynab passes you, then you should accompany her and bring her back.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ ۱؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا ، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو ، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو “ ، لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے ، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا ، اور فرمایا : ” تم دونوں ” بطن یأجج “ میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 216
Hadith 2693
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، - يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ - قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِمَّا السَّبْىَ وَإِمَّا الْمَالَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا ‏.‏

Marwan and Al Miswar bin Makhramah told that when the deputation of the Hawazin came to the Muslims and asked the Apostle of Allaah(ﷺ) to return to them their property, the Apostle of Allaah(ﷺ) said to them “with me are those whom you see”. The speech dearest to me is the one which is true, so choose (one of the two) either the captives or the property. They said “We choose our captives. The Apostle of Allaah(ﷺ) stood up, extolled Allaah and then said “To proceed, your brethren have come repentant I have considered that I should return their captives to them, so let those of you who are willing to release the captives act accordingly, but those who wish to hold on to what they have till we give them some of the first booty Allaah gives us may do so. The people said “We are willing for that (to release their captives), Apostle of Allaah. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “We cannot distinguish between those of you who have granted that and those who have not , so return till your headmen may tell us about your affair. The people then returned and their headmen spoke to them, then they informed that they were agreeable and had given their permission.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو ، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں ( کی واپسی ) اختیار کر لو یا مال “ ، انہوں نے کہا : ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا : ” تمہارے یہ بھائی ( شرک سے ) توبہ کر کے آئے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ، اور کس نے نہیں دی ؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں “ ، لوگ لوٹ گئے ، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 217
Hadith 2694
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ دَنَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ ‏"‏ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا ‏.‏ وَنَبَذَهَا ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Return to them (Hawazin) their women and their sons. If any of you withholds anything from this booty, we have six camels for him from the first booty which Allah gives us. The Prophet (ﷺ) then approached a camel, and taking a hair from its hump said: O people, I get nothing of this booty, not even this (meanwhile raising his two fingers) but the fifth, and the fifth is returned to you, so hand over threads and needles. A man got up with a ball of hair in his hand and said: I took this to repair the cloth under a pack-saddle. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You can have what belongs to me and to the Banu al-Muttalib. He said: If it produces the result that I now realise, I have no desire for it.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو ، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا : ” لوگو ! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے “ ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا : ” یہاں تک کہ یہ ( بال ) بھی حلال نہیں سوائے خمس ( پانچواں حصہ ) کے ، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے ، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو “ ( یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا ، اس نے کہا : میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے “ ، تو اس نے کہا : جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اور اس نے اسے ( غنیمت کے مال میں ) پھینک دیا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 218
Hadith 2695
Chapter 979: Regarding The Leader Remaining At The Battlefield After Victory Over The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَلَبَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَطْعَنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ سَعِيدٍ لأَنَّهُ تَغَيَّرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُخْرِجْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ بِأَخَرَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يُقَالُ إِنَّ وَكِيعًا حَمَلَ عَنْهُ فِي تَغَيُّرِهِ ‏.‏

Abu Talhah said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) prevailed on any people, he stayed three nights in the field. Ibn Al Muthanna said “When he prevailed over people, he liked to stay three nights in the field.” Abu Dawud said “Yahya bin Sa’id used to object to this tradition for this is not from his early traditions because his memory was spoiled at the age of forty five. He narrated this tradition in the last days of his age.” Abu Dawud said “ It is said that Waki ‘ recived this tradition from him when his memory was spoiled.”

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے ۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے : جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید ( سعید ابن ابی عروبہ ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے ، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا ، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 219
Hadith 2696
Chapter 980: Regarding Separating Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ وَرَدَّ الْبَيْعَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا قُتِلَ بِالْجَمَاجِمِ وَالْجَمَاجِمُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالْحَرَّةُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ سَنَةَ ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Ali separated between a slave-girl and her child. The Prophet (ﷺ) prohibited it and made the sale transactions withdrawn. Abu Dawud said: The narrator Maimun (b. Abi Shaib) did not meet 'Ali. He (Maimun) was killed in the battle of Jamajim in 83 A.H. Abu Dawud said: The battle of Harrah took place in 63 A.H., and Ibn al-Zubair was killed in 73 A.H.

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ، اور بیع کو رد کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میمون نے علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے ، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے ، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے ، نیز واقعہ حرہ ( ۶۳ ہجری ) میں پیش آیا ، اور ابن زبیر ( ۷۳ ہجری ) میں قتل ہوئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 220
Hadith 2697
Chapter 981: The Permissiong To Separate In The Case Of Those (Captives) Who Reached Puberty - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا فَجِئْتُ بِهِمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ وَعَلَيْهَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّوقِ فَقَالَ ‏"‏ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ ‏.‏ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَادَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ‏.‏

Salamah said “We went out (on an expedition) with Abu Bakr. The Apostle of Allaah(ﷺ) appointed him commander over us. We attacked Fazarah and took them from all sides. I then saw a group of people which contained children and women. I shot an arrow towards them, but it fell between them and the mountain. They stood; I brought them to Abu Bakr. There was among them a woman of Fazarah. She wore a skin over her and her daughter who was the most beautiful of the Arabs was with her. Abu Bakr gave her daughter to me as a reward. I came back to Madeenah. The Apostle of Allaah(ﷺ) met me and said to me “Give me the woman, Salamah. I said to him, I swear by Allaah, she is to my liking and I have not yet untied he garment. He kept silence, and when the next day came the Apostle of Allaah(ﷺ) met me in the market and said to me “Give me the woman, Salamah, by Allaah, your father. I said the Apostle of Allaah, I have not yet untied her garment. I swear by Allaah, she is now yours. He sent her to the people of Makkah who had (some Muslims) prisoners in their hands. They released them for this woman.

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا ، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی ، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا ، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں ، تو میں نے ایک تیر چلائی ، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے ، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی ، وہ کھال پہنے ہوئی تھی ، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا ، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” سلمہ ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو “ ، میں نے کہا : اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے ، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے ، آپ خاموش ہو گئے ، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا : ” سلمہ ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو ، قسم ہے اللہ کی “ ۱؎ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے ، اور وہ آپ کے لیے ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا ، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 221
Hadith 2698
Chapter 982: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلاَمًا، لاِبْنِ عُمَرَ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يُقْسَمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ غَيْرُهُ رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

Nafi' said that a slave of Ibn Umar ran away to the enemy, and then the Muslims overpowered them. The Messenger of Allah (ﷺ) returned him to Ibn Umar and that was not distributed (as a part of booty). Abu Dawud said: The other narrators said: Khalid b. al-Walid returned him to him (Ibd 'Umar).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا ، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 222
Hadith 2699
Chapter 982: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِأَرْضِ الرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Nafi said that a horse of Ibn ‘Umar went away and the enemy seized it. The Muslims overpowered them. Khalid bin Walid returned it to him after the Prophet (ﷺ).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا ، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا گیا ، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا ، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ( بھی ) انہیں غلام واپس لوٹا دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 223
Hadith 2700
Chapter 983: Regarding Slavs Of The Idolaters Who Join the Muslims And Accept Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ - قَبْلَ الصُّلْحِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ فَقَالَ نَاسٌ صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ ‏.‏ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ مَا أُرَاكُمْ تَنْتَهُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ ‏"‏ هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Some slaves (of the unbelievers) went out to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of al-Hudaybiyyah before treaty. Their masters wrote to him saying: O Muhammad, they have not gone out to you with an interest in your religion, but they have gone out to escape from slavery. Some people said: They have spoken the truth, Messenger of Allah, send them back to them. The Messenger of Allah (ﷺ) became angry and said: I do not see your restraining yourself from this action), group of Quraysh, but that Allah send someone to you who strike your necks. He then refused to return them, and said: They are emancipated (slaves) of Allah, the Exalted.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

غزوہ حدیبیہ میں صلح سے پہلے کچھ غلام ( بھاگ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تو ان کے مالکوں نے آپ کو لکھا : اے محمد ! اللہ کی قسم ! یہ غلام تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں ، یہ تو فقط غلامی کی قید سے بھاگ کر آئے ہیں ، تو کچھ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان لوگوں نے سچ کہا : انہیں مالکوں کے پاس واپس لوٹا دیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے ۱؎ اور فرمایا : ” قریش کے لوگو ، میں تم کو باز آتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تمہارے اوپر اس شخص کو بھیجے جو اس پر ۲؎ تمہاری گردنیں مارے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس لوٹانے سے انکار کیا اور فرمایا : ” یہ اللہ عزوجل کے آزاد کئے ہوئے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 224
Hadith 2701
Chapter 984: Permitting Food In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ جَيْشًا، غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا وَعَسَلاً فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

In the time of the Messenger of Allah (ﷺ) an army got food and honey and a fifth was not taken from them.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( دوران جنگ ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 225
Page 9 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 311 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 9 of 13 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00