The Messenger of Allah (ﷺ) commanded to kill him: he was a spy of AbuSufyan and an ally of a man of the Ansar. He passed a circle of the Ansar and said: I am a Muslim. A man from the Ansar said, Messenger of Allah, he is saying that he is a Muslim. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There are people among you in whose faith we trust. Furat ibn Hayyan is one of them.
فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا ، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ۱؎ ، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں ، ایک انصاری نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں ، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں “ ۔
Chapter 957: Regarding A Spy Who Is Under Protection (In A Muslim Territory) - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - وَهُوَ فِي سَفَرٍ - فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ " . قَالَ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ .
Ibn Salamah bin Al Akwa’ repoted on the authority of his father. A spy of the polytheists came to the Prophet(ﷺ) when he was on a journey. He sat near his Companions and then slipped away. The Prophet(ﷺ) said “look for him and kill him”. He said “I raced to him and killed him. I took his belongings which he (the Prophet) gave me.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا ، آپ سفر میں تھے ، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا ، پھر چپکے سے فرار ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو “ ، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور نفل ( انعام ) مجھے دیدیا ۔
Salamh (bin Al Akwa’) said “I went on an expedition with the Apostle of Allaah(ﷺ) against Hawazin and while we were having a meal in the forenoon and most of our people were on foot and some of us were weak, a man came on a red Camel. He took out a rope from the lion of the Camel and tied his Camel with it and began to take meal with the people. When he saw the weak condition of their people and lack of mounts he went out in a hurry to his Camel, untied it made it kneel down and sat on it and went off galloping it. A man of the tribe of Aslam followed him on a brown she Camel which was best of those of the people. I hastened out and I found him while the head of the she Camel was near the paddock of the she Camel. I then went ahead till I reached near the paddock of the Camel. I then went ahead till I caught the Camel’s nose string. I made it kneel. When it placed its knee on the ground, I drew my sword and struck the man on his head and it fell down. I then brought the Camel leading it with (its equipment) on it. The Apostle of Allaah(ﷺ) came forward facing me and asked “Who killed the man? They (the people) said “Salamah bin Akwa’. He said “he gets all his spoil.”
Harun said “This is Hashim’s version.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے ، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے ، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا ، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا ، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا ، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا ، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا ( جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے ) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی ، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا ، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا ، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا ، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا ، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا : ” اس شخص کو کس نے مارا ؟ “ لوگوں نے بتایا : سلمہ بن اکوع نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا ۱؎ “ ۔
I was present at fighting along with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he did not fight at the beginning of the day, he waited till the sun had passed the meridian, the winds blew, and help came down.
نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( لڑائی میں ) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال ( لڑائی ) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا ، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی ۔
Chapter 960: Regarding A Man Walking During The Encounter - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَانْكَشَفُوا نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ .
Al Bara’ said “When the Prophet (ﷺ) fought the polytheists in the battle of Hunain, they (the Muslims) retreated, he (the Prophet) came down from his mule and walked on foot.
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے ( یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے ۔
The Prophet (ﷺ) said: There is jealousy which Allah loves and jealousy which Allah hates. That which Allah loves is jealousy regarding a matter of doubt, and that which Allah hates is jealousy regarding something which is not doubtful. There is pride which Allah hates and pride which Allah loves. That which Allah loves is a man's pride when fighting and when giving sadaqah and that which Allah hates is pride shown by oppression. The narrator Musa said: "by boasting."
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے ، اور دوسری غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے ، رہی وہ غیرت جسے اللہ پسند کرتا ہے تو وہ شک کے مقامات میں غیرت کرنا ہے ، رہی وہ غیرت جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ شک کے علاوہ میں غیرت کرنا ہے ، اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے ، پس وہ تکبر جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے دوران آدمی کا کافروں سے جہاد کرتے وقت تکبر کرنا اور اترانا ہے ، اور صدقہ دیتے وقت اس کا خوشی سے اترانا ہے ، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم میں تکبر کرنا ہے “ ، اور موسیٰ کی روایت میں ہے : ” فخر و مباہات میں تکبر کرنا ہے “ ۔
Abu Hurairah said “The Prophet (ﷺ) sent ten persons (on an expedition) and appointed ‘Asim bin Thabit their commander. About one hundred men of Hudhail who were archers came out to (attack) them. When ‘Asim felt their presence, they took cover in a hillock. They aid to them “Come down and surrender and we make a covenant and pact with you that we shall not kill any of you”. ‘Asim said “I do not come to the protection of a disbeliever. Then they shot them with arrows and killed ‘Asim in a company of seven persons. The other three persons came down to their covenant and pact. They were Khubaib, Zaid bin Al Lathnah and another man. When they overpowered them, they untied their bow strings and tied them with them”. The third person said “This is the first treachery. I swear by Allaah, I shall not accompany you. In them (my companions) is an example for me. They pulled him, but he refused to accompany them, so they killed him. Khubaib remained their captive until they agreed to kill him. He asked for a razor to shave his pubes. When they brought him outside to kill him. Khubaib said to them “Let me offer two rak’ahs of prayer”. He then said “I swear by Allaah, if you did not think that I did this out of fear. I would have increased (the number of rak’ahs).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا ، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا ، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے ، جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی ، کافروں نے ان سے کہا : اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو ، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے ، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا : رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا ، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کر دیا جن میں عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے ، ان میں ایک خبیب ، دوسرے زید بن دثنہ ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم ، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آ گئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا ، تیسرے شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ پہلی بدعہدی ہے ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا ، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے ، کافروں نے ان کو کھینچا ، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا ، تو انہیں قتل کر دیا ، اور خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ۱؎ ، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں ، پھر کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا ۔
Al Zuhri said “This tradition has been transmitted to me by ‘Amr bin Abu Sufyan bin Usaid bin Jariyat Al Thaqafi who was an ally of Banu Zuhrah and a companion of Abu Hurairah. He then narrated the tradition.”
زہری سے روایت ہے کہ
مجھے عمرو بن ابوسفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی ( وہ بنو زہرہ کے حلیف اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے تھے ) ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔
Al bara’ bin Azib said “On the day of the battle of Uhud the Apostle of Allaah(ﷺ) appointed ‘Abd Allaah bin Jubair commander of the archers who were fifty(in number). He said “If you see that the birds are snatching at us, do not move from this place of yours until I send for you and if you see that we defeated the people (the enemy) and trod them down, do not move until I send for you. Allaah then defeated them. He (narrator) said “I swear by Allaah, I saw women ascending the mountain. The companions of ‘Abd Allaah bin Jubair said “Booty, O People, booty! Your companions vanquished, for what are you waiting?” ‘Ad Allaah bin Jubair said “Have you forgotten what the Apostle of Allaah(ﷺ) had told you?” They said “We swear by Allaah. We shall come to the people and get the booty. So they came to them. Their faces were turned and they came defeated.”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا : ” اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے ، انہیں روند ڈالا ہے ، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا ، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں “ ، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں ، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے : لوگو ! غنیمت ، غنیمت ، تمہارے ساتھی غالب آ گئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے ؟ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ؟ تو ان لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم ضرور مشرکین کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے ، چنانچہ وہ ہٹ گئے تو اللہ نے ان کے منہ پھیر دئیے اور وہ شکست کھا کر واپس آئے ۔
Abu Usaid reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying to us at the battle of Badr when he drew up in rows. When they came near you, shoot arrows at them, but do not use all your arrows.
ابواسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم نے بدر کے دن صف بندی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کافر تمہارے قریب پہنچ جائیں ۱؎ تب تم انہیں نیزوں سے مارنا ، اور اپنے تیر بچا کر رکھنا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said at the battle of Badr: When they come near you shoot arrows at them; and do not draw swords at them until they come near you.
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : ” جب وہ ( دشمن ) تم سے قریب ہو جائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا ، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ۱؎ تلوار نہ سونتنا “ ۔
(At the battle of Badr) Utbah ibn Rabi'ah came forward followed by his son and his brother and cried out: Who will be engaged in single combat? Some young men of the Helpers responded to his call. He asked: Who are you? They told him. He said: We do not want you; we, in fact, want only our cousins. The Prophet (ﷺ) said: Get up Hamzah get up Ali; get up Ubaydah ibn al-Harith. Hamzah went forward to Utbah, I went forward to Shaybah; and after two blows had been exchanged between Ubaydah and al-Walid, they wounded one another severely; so we turned against al-Walid and killed him, and we carried Ubaydah away.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ( ولید ) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے ، پھر عتبہ نے آواز دی : کون میرے مقابلے میں آئے گا ؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا ، اس نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انہوں نے اسے بتایا ( کہ ہم انصار کے لوگ ہیں ) اس نے ( سن کر ) کہا : ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ، ہم اپنے چچا زادوں کو ( مقابلہ کے لیے ) چاہتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمزہ ! تم کھڑے ہو ، علی ! تم کھڑے ہو ، عبیدہ بن حارث ! تم کھڑے ہو “ ، تو حمزہ رضی اللہ عنہ عتبہ کی طرف بڑھے ، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا ، اور عبیدہ اور ولید ( آپس میں بھڑے تو دونوں ) کو دو دو زخم لگے ، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کر دیا ، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کر دیا ، اور عبیدہ کو اٹھا کر لے آئے ۔
Chapter 967: Regarding The Prohibtion Of Mutilation - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ، أَبَقَ لَهُ غُلاَمٌ فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ فَأَرْسَلَنِي لأَسْأَلَ لَهُ فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ .
Narrated Samurah ibn Jundub:
Al-Hayyaj ibn Imran ibn Husayn reported that a slave of Imran ran away. He took a vow to Allah that if he overpowers him, he will cut off his head. He then sent me (to Samurah ibn Jundub) to ask him about this question for him. I came to Samurah ibn Jundub and asked him. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain). I then came to Imran ibn Husayn and asked him. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain).
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ
عمران ( یعنی : ہیاج کے والد ) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا ، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے ، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ( بھی ) پوچھا : تو انہوں نے ( بھی ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے ۔
Chapter 968: Regarding Killing Women - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، وُجِدَتْ، فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ .
‘Abd Allaah bin (mas’ud) said “A woman was found slain in one of the battles of the Apostle of Allaah(ﷺ). The Apostle of Allaah(ﷺ) forbade to kill women and children.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر نکیر فرمائی ۔
When we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition, he saw some people collected together over something and sent a man and said: See, what are these people collected around? He then came and said: They are round a woman who has been killed. He said: This is not one with whom fighting should have taken place. Khalid ibn al-Walid was in charge of the van; so he sent a man and said: Tell Khalid not to kill a woman or a hired servant.
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا : ” جاؤ ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں “ ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے “ ۱؎ ، مقدمۃ الجیش ( فوج کے اگلے حصہ ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ۲؎ ۔
No woman of Banu Qurayzah was killed except one. She was with me, talking and laughing on her back and belly (extremely), while the Messenger of Allah (ﷺ) was killing her people with the swords. Suddenly a man called her name: Where is so-and-so? She said: I I asked: What is the matter with you? She said: I did a new act. She said: The man took her and beheaded her. She said: I will not forget that she was laughing extremely although she knew that she would be killed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے ، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا : فلاں عورت کہاں ہے ؟ وہ بولی : میں ہوں ، میں نے پوچھا : تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے ، وہ بولی : میں نے ایک نیا کام کیا ہے ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی ، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے ، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی ۱؎ ۔
Chapter 968: Regarding Killing Women - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ ذَرَارِيِّهِمْ وَنِسَائِهِمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" هُمْ مِنْهُمْ " . وَكَانَ عَمْرٌو - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - يَقُولُ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ . قَالَ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ .
Al Sa’b bin Jaththamah said that he asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about the polytheists whose settlemnst were attacked at night when some of their offspring and women were smitten. The Prophet(ﷺ) “They are of them. ‘Amr bin Dinar used to say “they are regarded in the same way as their parents.”
Al-Zuhri said:
Thereafter the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to kill women and children.
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں ( تو کیا حکم ہے ؟ ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ اور عمرو بن دینار کہتے تھے : ” وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں “ ۔ زہری کہتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) appointed him commander over a detachment. He said: I went out along with it. He (the Prophet) said: If you find so-and-so, burn him with the fire. I then turned away, and he called me. So I returned to him, and he said: If you find so-and-so, kill him, and do not burn him, for no one punishes with fire except the Lord of the fire.
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا ، میں اس سریہ میں نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا “ ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا ، میں لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا ، جلانا نہیں ، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) sent us along with a contingent, and said: If you find so-and-so. He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا : ” اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
We were with the Messenger of Allah (ﷺ) during a journey. He went to ease himself. We saw a bird with her two young ones and we captured her young ones. The bird came and began to spread its wings. The Messenger of Allah (ﷺ) came and said: Who grieved this for its young ones? Return its young ones to it. He also saw an ant village that we had burnt. He asked: Who has burnt this? We replied: We. He said: It is not proper to punish with fire except the Lord of fire.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے ، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے ، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا ، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ، اور ( یہ دیکھ کر ) فرمایا : ” اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے ؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو “ ، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا : ” اس کو کس نے جلایا ہے ؟ “ ہم لوگوں نے کہا : ہم نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) announced to go on expedition for Tabuk. I went to my family and then proceeded (on journey). The vanguard of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) had already proceeded. So I began to announce loudly in Medina: Is there anyone who takes a man on his ride, and he will get his share (from the booty? An old man from the Ansar (Helpers) spoke loudly: We shall have his share if we take him with us on our mount by turns, and he will have his meal with us. I said: Yes. He said: So go on journey with Allah's blessing. I then proceeded along with my best companion and Allah gave us booty. Some she-camels were given to me as my share of booty. I drove them till I reached him. He came out and sat on the rear part of the saddle of his camel. He then said: Drive them backward. He again said: Drive them forward. He then said: I find your she-camels very gentle. He said: This is your booty which I stipulated for you. He replied: Take your she-camels, my nephew; we did not intend (to get) your portion.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی ، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے ، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کر لے ، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے ، ایک بوڑھے انصاری بولے : اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے ، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے ، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے ، میں نے کہا : ہاں قبول ہے ، انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو ، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا ، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں ، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا ، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ ( حقیبہ ) پر بیٹھے ، پھر کہا : ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو ، پھر بولے : ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو ، اس کے بعد کہا : تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں ، میں نے کہا : یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی ، انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! تو اپنی اونٹنیاں لے لے ، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا ۔