Jabir bin ‘Abd Allaah said “We were on a journey with the Apostle of Allaah(ﷺ). When we were going to come to our family, he said “Stay till we enter during the night, so that the disheveled woman combs herself and the woman whose husband has been away cleans herself.
Abu Dawud aid “Al Zuhri said “(this prohibition applies) when one arrives after the night prayer.
Abu dawud said “There is no harm in coming (to one’s family) after the sunset prayer.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے ، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے ، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری نے کہا : ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں : مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ تَلَقَّاهُ النَّاسُ فَلَقِيتُهُ مَعَ الصِّبْيَانِ عَلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ .
Al Sai’ib bin Yazid said “When the Prophet(ﷺ) turned from the battle of Tabuk to Madeenah, the people received him, I met him along with the children at Thaniyyat Al Wada’.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا ، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا ۔
Anas bin Malik said “A youth of Aslam said “Apostle of Allaah(ﷺ), I wish to go on an expedition, but I have no property to make myself equipped. He said “go to so and so Ansari who prepared equipment(for the battle), but he fell ill and tell him that the Apostle of Allaah(ﷺ) has conveyed his regards to you, and then tell him “Give him all the equipment you have made. He came to him and told him that. He said to his wife “O so and so, give him all the equipment I have made and do not detain anything from him. I swear by Allaah, if you detain anything from him, Allaah will not bless it.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کر سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہو گیا ، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے ، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو “ ، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی ، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا : جتنا سامان تو نے میرے لیے جمع کیا تھا وہ سب اسے دیدے ، اس میں سے کچھ مت رکھنا ، اللہ کی قسم اس میں سے کچھ نہیں رکھے گی تو اللہ اس میں برکت دے گا ۱؎ ۔
Ka’ab bin Malik said “The Prophet (ﷺ) used to arrive from a journey in the daytime. Al Hasan said “During the forenoon.” When he arrived from a journey he went first to the mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن ہی میں آتے ، ( حسن کہتے ہیں ) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر اس میں بیٹھتے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived from his hajj, he entered Medina, and made (his camel) kneel down at the gate of his mosque; and he entered it and offered two rak'ahs of prayer; he then returned to his home. Nafi' said: Ibn Umar also used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے ۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of the wages of a distributor of booty (qusamah). We asked: What is qusamah (wages of a distributor)? He said: It means a thing which is shared by the people, and then it is reduced.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «قسامہ» سے بچو “ تو ہم نے کہا : «قسامہ» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے پھر تقسیم کرنے والا آتا ہے اور ہر ایک کے حصہ میں تھوڑا تھوڑا کم کر دیتا ہے ( اور اسے تقسیم کی اجرت کے طور پر خود لے لیتا ہے ) “ ۔
Ata' reported a similar tradition (to No 2777) from the Prophet (ﷺ).
This version adds: a man is appointed on groups of people, and takes (wages) from the share of this, and from the share of this.
عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ، اس میں ہے کہ
آپ نے فرمایا : ” ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے “ ۔
Narrated A man from the Companions of the Prophet:
Ubaydullah ibn Salman reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): When we conquered Khaybar, they (the people) took out their spoils which contained equipment and captives. The people began to buy and sell their spoils. When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed, a man came to him and said: Messenger of Allah, I have gained today so much so that no one gained from this valley. He asked: Woe unto you, how much did you gain? He replied: I kept on selling and buying until I gained three hundred uqiyahs. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I tell you a man who gained better than you. He asked: What is that, Messenger of Allah? He replied! Two rak'ahs (of supererogatory prayer) after the (obligatory) prayer.
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ
ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے ، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہو تیرے لیے ، کیا نفع کمایا تو نے ؟ “ بولا : میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے ( تجھ سے ) زیادہ نفع کمایا ہے “ اس نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت ( سنت کی ) پڑھی “ ۔
A man of ad-Dabab, said: When the Prophet (ﷺ) became free from the people of Badr I brought to him a colt of my mare called al-Qarha' I said: Muhammad, I have brought a colt of a al-Qarha' , so that you may take it. He said: I have no need of it. If you wish that I give you a select coat of mail from (the spoils of) Badr, I shall do it. I said: I cannot give you today a colt in exchange. He said: Then I have no need of it.
ذوالجوشن ابوشمر ضبابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا ، اور میں نے کہا : محمد ! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا “ ، میں نے کہا : آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ۱؎ “ ۔