‘Abd Allaah bin Mughaffal said “On the day of Khaibar a skin of fat was hanging. I came to it and clung to it. I then said (i.e., thought) I shall not give any one any of it today. I then turned round and saw the Apostle of Allaah(ﷺ) smiling at me.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا ، پھر میں نے کہا : آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا ، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں ۔
AbuLabid said: We were with AbdurRahman ibn Samurah ibn Kabul. The people got booty and plundered it. He stood and addressed (the people): I heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting getting property from the booty before its distribution. Therefore, they returned what they had taken, He then distributed it among them.
ابو لبید کہتے ہیں کہ
ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا ، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے ، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا ، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا ۔
Muhammad ibn AbulMujahid reported Abdullah ibn AbuAwfa as saying: I asked: Did you set aside the fifth of the food in the time of the Messenger of Allah (ﷺ)? He replied: On the day of Khaybar we captured food and a man would come and take as much food of it as needed and then go away.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے پوچھا : کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا ۔
Kulayb reported from a man of the Ansar. He said: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. The people suffered from intense need and strain. They gained booty and then plundered it. While our pots were boiling the Messenger of Allah (ﷺ) came walking with his bow touching the ground. He turned over our pots with his bow and smeared the meat with the soil, and said: "Plunder is more unlawful than carrion," or he said: "Carrion is more unlawful than plunder." The narrator Hannad was doubtful.
ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں ، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا ، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے ، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے ، اور فرمایا : ” لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں “ ، یا فرمایا : ” مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں “ ، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ۱؎ ۔
Al-Qasim, the client of AbdurRahman, quoted one of the Companion of the Prophet (ﷺ) as saying: We would eat a camel on an expedition without dividing it, and when we returned to our dwellings our saddle-bags would be full with its flesh.
بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوات میں گاجر کھاتے تھے ، ہم اسے تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم اپنے مکانوں کی طرف لوٹتے اور ہمارے برتن اس سے بھرے ہوتے تھے ۔
AbdurRahman ibn Ghanam said: We were stationed at the frontiers of the city of Qinnisrin with Shurahbil ibn as-Simt. When he conquered it, he got sheep and cows there. He distributed some of them amongst us, and deposited the rest of them in the spoils of war. I met Mu'adh ibn Jabal and mentioned it to him. Mu'adh said: we went on an expedition of Khaybar along with the Messenger of Allah (ﷺ) and we got spoils there. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them among us and placed the rest of them in the booty.
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ
ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا ، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں ، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے بیان کیا ، تو آپ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: He who believes in Allah and the Last Day must not ride on packhorse belonging to the booty of the Muslims and put it back when he has emaciated it; and he who believes in Allah and the Last Day must not wear a garment belonging to the booty of the Muslims and put it back when he made it threadbare.
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎ “ ۔
I passed when AbuJahl had fallen as his foot was struck (with the swords). I said: O enemy of Allah, AbuJahl, Allah has disgraced a man who was far away from His mercy. I did not fear him at that moment. He replied: It is most strange that a man has been killed by his people. I struck him with a blunt sword. But it did not work, and then his sword fell down from his hand, I struck him with it until he became dead.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ( غزوہ بدر میں ) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا ، اس کا پاؤں زخمی تھا ، میں نے کہا : اللہ کے دشمن ! ابوجہل ! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا ، اس پر اس نے کہا : اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں ، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی ، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو ( دوبارہ ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ۔
Chapter 990: Regarding The Gravity Of Ghulul - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لاَ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani:
A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) died on the day of Khaybar. They mentioned the matter to the Messenger of Allah. He said: Offer prayer over your companion. When the faces of the people looked perplexed, he said: Your companion misappropriated booty in the path of Allah. We searched his belongings and found some Jewish beads not worth two dirhams.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا ، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “ ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے “ ، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی ۔
Chapter 990: Regarding The Gravity Of Ghulul - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ يَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا إِلاَّ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ - قَالَ - فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ وَادِي الْقُرَى وَقَدْ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادِي الْقُرَى فَبَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا " . فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ " . أَوْ قَالَ " شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ " .
Abu Hurairah said “We went out along with the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Khaibar. We did not get gold or silver in the booty of war except clothes, equipment and property. The Apostle of Allaah(ﷺ) sent (a detachment) towards Wadi Al Qura. The Apostle of Allaah(ﷺ) was presented a black slave called Mid’am. And while they were in Wadi Al Qura and Mid’am was unsaddling a Camel belonging to the Apostle of Allaah(ﷺ) he was struck by a random arrow which killed him. The people said “Congratulations to him, he will go to paradise. But the Apostle of Allaah(ﷺ) said “Not at all. By Him in Whose hand my soul is the cloak he took on the day of Khaibar from the spoils which was not among the shares divided will blaze with fire upon him. When they (the people) heard that, a man brought a sandal strap or two sandal straps to the Apostle of Allaah(ﷺ). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “A sandal strap of fire or two sandal straps of fire.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال نکلے ، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی ، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا ، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا ، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا ، لوگوں نے کہا : اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے “ ، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ آگ کا ایک تسمہ ہے “ یا فرمایا : ” آگ کے دو تسمے ہیں “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) gained booty he ordered Bilal to make a public announcement. He made a public announcement, and when the people brought their booty, he would take a fifth and divide it. Thereafter a man brought a halter of hair and said: Messenger of Allah, this is a part of the booty we got. He asked: Have you heard Bilal making announcement three times? He replied: Yes. He asked: What did prevent you from bringing it? He made some excuse, to which he said: Be (as you are), you may bring it on the Day of Judgment, for I shall not accept it from you.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے ، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ “ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ لے جاؤ ، قیامت کے دن لے کر آنا ، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا “ ۔
Salih ibn Muhammad ibn Za'idah (AbuDawud said: This Salih is AbuWaqid) said: We entered the Byzantine territory with Maslamah. A man who had been dishonest about booty was brought.
He (Maslamah) asked Salim about him. He said: I heard my father narrating from Umar ibn al-Khattab from the Prophet (ﷺ). He said: When you find a man who has been dishonest about booty, burn his property, and beat him. He beat him. He said: We found in his property a copy of the Qur'an. He again asked Salim about it. He said: Sell it and give its price in charity.
صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ
میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی ، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا : میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ، اور اسے مارو ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا ، انہوں نے کہا : اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔
Salih bin Muhammad said “We went out on an expedition with Al Walid bin Hisham and Salim bin ‘Abd Allaah bin ‘Umat and ‘Umar bin ‘Abd Al Aziz were with us. A man had been dishonest about booty. Al Walid ordered to burn his property and it was circulated (among the people). He did not give him his share.
Abu Dawud said “This is sounder of the two traditions. Others narrated that Al Walid bin Hashim burnt the Camel saddle of Ziyad bin Sa’d “He had been dishonest about booty and he beat him.”
صالح بن محمد کہتے ہیں کہ
ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے ، ایک شخص نے مال غنیمت سے ایک سامان چرا لیا تو ولید بن ہشام کے حکم سے اس کا سامان جلا دیا گیا ، پھر وہ سب لوگوں میں پھرایا گیا اور اسے اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دونوں حدیثوں میں سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ، اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کے ساز و سامان کو اس لیے جلوا دیا تھا کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی ، اور اسے زد و کوب بھی کیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ), AbuBakr and Umar burned the belongings of anyone who had been dishonest about booty and beat him.
Abu Dawud said: 'Ali b. Bahr added on the authority of al-Walid, and I did not hear (a tradition) from him: And they denied him his share."
Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Walid b. 'Utbah from 'Abd al-Wahhab b. Najdah; They said: This has been transmitted by al-Walid, from Zuhair b. Muhammad, from 'Amr b. Shu'aib. 'Abd al-Wahhab b. Najdah al-Huti did not mention the words "He denied him his share" (as narrated by 'Ali b. Bahr from al-Walid).
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا ، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے ” حصہ سے محروم کر دینے “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: To begin with, anyone who conceals one who has been dishonest about booty is like him.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
انہوں نے حمد و صلاۃ کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی جیسا ہے “ ۔
Abu Qatadah said “We went out with the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Hunain. And when the armies met, the Muslims suffered a reverse. I saw one of the polytheists prevailing over a Muslim, so I went round him till I came to him from behind and struck him with my sword at the vein between his neck and shoulder. He came towards me and closed with me, so that I felt death was near, but he was overtaken by death and let me go. I then caught upon on “Umar bin Al Khattab and said to him “What is the matter with the people?” He said “It is what Allaah has commanded. Then the people returned and the Apostle of Allaah(ﷺ)sat down and said “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down.” He said again “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down.” He then said the same for the third time. I then stood up. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “What is the matter with you, Abu Qatadah? I told him the story. A man from the people said “He has spoken the truth, and I have this spoil with me, so make him agreeable (to take something in exchange). Abu Bakr said “In that case I swear by Allaah that he must not do so. One of the Allaah’s heroes does not fight for Allaah and his Apostle and then give you his spoil. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “He has spoken the truth, hand it over to him. Abu Qatadah said “he handed it over to me, I sold the coat of mail and brought a garden among Banu Salamh. This was the first property I acquired in the Islamic period.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے ، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی ، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے ، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا ، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی ، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : وہی ہوا جو اللہ کا حکم تھا ، پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا : ” جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۱؎ “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( جب میں نے یہ سنا ) تو میں اٹھ کھڑا ہوا ، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا : ” جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جب میں نے یہ سنا ) تو اٹھ کھڑا ہوا ، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوقتادہ کیا بات ہے ؟ “ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا ، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے ، آپ ان کو اس بات پر راضی کر لیجئے ( کہ وہ مال مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سچ کہہ رہے ہیں ، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس نے مجھے دے دیا ، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا ، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا ۔
Anas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “He who kills and infidel gets his spoil.” Abu Talhah killed twenty men that day meaning the day of Hunain and got their spoils. Abu Talhah met Umm Sulaim who had a dagger with her. He asked “What is with you, Umm Sulaim”? She replied “I swear by Allaah, I intended that if anyone came near me I would pierce his belly with it. Abu Talhah informed the Apostle of Allaah(ﷺ)about it.
Abu Dawud said “This is good (hasan) tradition."
Abu Dawud said “By this was meant dagger. The weapon used by the Non – Arabs in those days was dagger.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا : ” جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے “ ، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا : ام سلیم ! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی ، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے ، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے ۔
Chapter 995: Regarding The Imam Denying The Spoils (Salab To The Person Who Killed, If He Sees Fit To, And The Horse And Weapon Are Parts Of The Spoils (Salab) - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ فَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذْهَبٌ وَسِلاَحٌ مُذْهَبٌ فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يُغْرِي بِالْمُسْلِمِينَ فَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَرَّ وَعَلاَهُ فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلاَحَهُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ قَالَ عَوْفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ . قُلْتُ لَتَرُدَّنَّهُ عَلَيْهِ أَوْ لأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ عَوْفٌ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا خَالِدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ " قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَكْثَرْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا خَالِدُ رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ " . قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ لَهُ دُونَكَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا ذَلِكَ " فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا خَالِدُ لاَ تَرُدَّ عَلَيْهِ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي لَكُمْ صِفْوَةُ أَمْرِهِمْ وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ " .
‘Awf bin malik Al Ashja’I said “I went out with Zaid bin Harith in the battle of Mutah. For the reinforcement of the Muslim army a man from the people of Yemen accompanied me. He had only his sword with him. A man from the Muslims slaughtered a Camel. The man for the reinforcement asked him for a part of its skin which he gave him. He made it like the shape of a shield. We went on and met the Byzantine armies. There was a man among them on a reddish horse with a golden saddle and golden weapons. This Byzantinian soldiers began to attack the Muslims desperately. The man for reinforcement sat behind a rock for (attacking) him. He hamstrung his horse and overpowered him and then killed him. He took his horse and weapons. When Allah, Most High, bestowed victory on the Muslims. Khalid bin Al Walid sent for him and took his spoils. ‘Awf said “I came to him and said “Khalid, do you know that the Apostle of Allaah(ﷺ) had decided to give spoils to the killer? He said “Yes, I thought it abundant. I said “You should return it to him, or I shall tell you about it before the Apostle of Allaah(ﷺ). But he refused to return it. ‘Awf said “We then assembled with the Apostle of Allaah(ﷺ). I told him the story of the man of reinforcement and what Khalid had done. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, what made you do the work you have done?” He said “Apostle of Allaah(ﷺ), I considered it to be abundant. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, return it to him what you have taken from him.” ‘Awf said “I said to him “here you are, Khalid. Did I not keep my word? The Apostle of Allaah(ﷺ) said “What is that? I then informed him.” He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) became angry and said “Khalid, do not return it to him. Are you going to leave my commanders? You may take from them what is best for you and eave to them what is worst.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہو گیا ، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا ، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی ، اس نے اسے دے دی ، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا ، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے ، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا ، اس پر ایک سنہری زین تھی ، ہتھیار بھی سنہرا تھا ، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا ، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے ، وہ گر پڑا ، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا ، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیجا اور سامان میں سے کچھ لے لیا ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : خالد ! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے ؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا ، تو میں نے کہا : تم یہ سامان اس کو دے دو ، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا ، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا ؟ “ خالد نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے زیادہ جانا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو “ ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا : خالد ! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کیا ہے ؟ “ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اسے آپ سے بتایا ۔ عوف کہتے ہیں : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے ، اور فرمایا : ” خالد ! واپس نہ دو ، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو “ ۔
Chapter 995: Regarding The Imam Denying The Spoils (Salab To The Person Who Killed, If He Sees Fit To, And The Horse And Weapon Are Parts Of The Spoils (Salab) - كتاب الجهاد
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i ; Khalid ibn al-Walid:
The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgement that the killer should have what was taken from the man he killed, and did not make this subject to division into fifths.
عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا ، اور سلب سے خمس نہیں نکالا ۔
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لاَ تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ أَبَانُ أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" اجْلِسْ يَا أَبَانُ " . وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Sa'id ibn al-'As:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent AbuSa'id ibn al-'As with an expedition from Medina towards Najd. Aban ibn Sa'id and his companions came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Khaybar after it had been captured. The girths of their horses were made of palm fibres. Aban said: Give us a share (from the booty), Messenger of Allah. AbuHurayrah said: I said: Do not give them a share, Messenger of Allah. Aban said: Why are you talking so, Wabr. You have come to us from the peak of Dal. The Prophet (ﷺ) said: Sit down, Aban. The Messenger of Allah (ﷺ) did not give any share to them (from the booty).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے ، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے ، تو ابان نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے : ہیں اس پر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے ، ابان نے کہا : تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر ! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابان تم بیٹھ جاؤ “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا ۔
Abu Hurairah said “I came to Madeenah when the Abu Apostle of Allaah(ﷺ) was in Khaibar, after it was captured. I asked him to give me a share from the booty. A son of Sa’id bin Al ‘As spoke and said “Do not give him any share, Apostle of Allaah(ﷺ). I said “This is the killer of Ibn Qauqal.” (The son of) Sa’id bin Al ‘As said “Oh, how wonderful! A Wabr who came down to us from the peak of Dal blames me of having killed a Muslim whom Allaah honored at my hands and did not disgrace me at his hands.
Abu Dawud said “They were about ten persons. Six of them were killed and the remaining returned.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! اسے حصہ نہ دیجئیے ، تو میں نے کہا : ابن قوقل کا قاتل یہی ہے ، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا : تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے ۔
Abu Nusa said “We arrived just at the moment when the Apostle of Allaah(ﷺ) conquered Khaibar and he allotted us a portion (or he said he gave us some of it). He allotted nothing to anyone who was not present at the conquest of Khaybar, giving shares only to those who were present with him except for those who were in our ship, Ja’far and his companions to whom he gave (a portion) something along with them.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ( حبشہ سے ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) ہمارے لیے حصہ لگایا ، یا ہمیں اس میں سے دیا ، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے ، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۱؎ ۔
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ - يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ - فَقَالَ
" إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُ " . فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَهْمٍ وَلَمْ يَضْرِبْ لأَحَدٍ غَابَ غَيْرُهُ .
Narrated Abdullah ibn Umar:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up, i.e. on the day of Badr, and said: Uthman has gone off on the business of Allah and His Apostle, and I shall take the oath of allegiance on his behalf. The Messenger of Allah (ﷺ) then allotted him a share, but did not do so for anyone else who was absent.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا : ” بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ۱؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا ۔