Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 15

Jihad (Kitab Al-Jihad)

كتاب الجهاد

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 311 hadiths in this chapter

Hadith 2627
Chapter 943: Regarding Obedience - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَسَلَحْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ سَيْفًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ لَوْ رَأَيْتَ مَا لاَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلاً مِنْكُمْ فَلَمْ يَمْضِ لأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لأَمْرِي ‏"‏ ‏.‏

Narrated Uqbah ibn Malik:

The Prophet (ﷺ) sent a detachment. I gave a sword to a man from among them. When he came back, he said: Would that you saw us how the Messenger of Allah (ﷺ) rebuked us, saying: When I sent out a man who does not fulfil my command, are you unable to appoint in his place one who will fulfil my command.

عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( دستہ ) بھیجا ، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی ، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا : کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 151
Hadith 2628
Chapter 944: What Has Been Ordered Regarding Keeping The Army Close Together (When Camping) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ، - مِنْ أَهْلِ جَبَلَةَ سَاحِلِ حِمْصٍ وَهَذَا لَفْظُ يَزِيدَ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاَءِ أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلاً - قَالَ عَمْرٌو كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْزِلاً - تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَنْزِلْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلاً إِلاَّ انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالُ لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ ‏.‏

Narrated AbuTha'labah al-Khushani:

When the people encamped, (the narrator Amr ibn Uthman al-Himsi) said: When the Messenger of Allah (ﷺ) encamped, the people scattered in the glens and wadis. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your scattering in these glens and wadis is only of the devil. They afterwards kept close together when they encamped to such an extent that it used to be said that if a cloth were spread over them, it would cover them all.

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

لوگ جب کسی جگہ اترتے ، عمرو کی روایت میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ۱؎ “ ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 152
Hadith 2629
Chapter 944: What Has Been Ordered Regarding Keeping The Army Close Together (When Camping) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلاً أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلاَ جِهَادَ لَهُ ‏.‏

Narrated Mu'adh ibn Anas al-Juhani:

I fought along with the Prophet (ﷺ) in such and such battles. The people occupied much space and encroached on the road. The Prophet (ﷺ) sent an announcer to announce among the people: Those who occupy much space or encroach on the road will not be credited with jihad.

معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں ، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 153
Hadith 2630
Chapter 944: What Has Been Ordered Regarding Keeping The Army Close Together (When Camping) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمَعْنَاهُ ‏.‏

Sahl bin Mu’adh reported on the authority of his father “We fought along with the Prophet of Allaah(ﷺ). The rest of the tradition is to the same effect.”

معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 154
Hadith 2631
Chapter 945: Regarding The Disapproval Of Desiring To Encounter The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ - قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏

Salim Abu Al Nadr, client of ‘Umar bin ‘Ubaid Allaah that is Ibn Ma’mar who Salim was his (‘Umar’s) secretary reported “When ‘Abd Allah bin Abi Afwa went out to the Haruriyyah (Khawarij), he wrote to him (‘Umar bin ‘Ubaid Allaah), The Messenger of Allah(ﷺ) said on a ceratin day when he was fighting with the enemy. O people do not desire to meet the enemy, ask Allaah, Most High, for health and security. When you meet them (the enemy) have patience and endurance, you should know that paradise is under the shade of swords. He then said “O Allaah, Who sends down the Book, makes the cloud to travel and rotes the confederates, tout them and give us victory over them.”

عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب ( سکریٹری ) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا : ” لوگو ! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو ، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو ، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے “ ، پھر فرمایا : ” اے اللہ ! کتابوں کے نازل فرمانے والے ، بادلوں کو چلانے والے ، اور جتھوں کو شکست دینے والے ، انہیں شکست دے ، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 155
Hadith 2632
Chapter 946: What Supplication Is Made When Encountering The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَزَا قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

When the Messenger of Allah (ﷺ) went on an expedition, he said: O Allah, Thou art my aider and helper; by Thee I move, by Thee I attack, and by Thee I fight.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ کرتے تو فرماتے : «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» ” اے اللہ ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے ، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں ، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں ، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 156
Hadith 2633
Chapter 947: Calling The Idolaters (To Accept Islam) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ، عِنْدَ الْقِتَالِ فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَقَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ نَبِيلٌ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيهِ أَحَدٌ ‏.‏

Ibn ‘Awn said “I wrote to Nafi’ asking him about summoning the polytheists (to Islam) at the time of fighting. So, he wrote to me “This was in the early days of Islam. The Prophet of Allaah(ﷺ) attacked Banu Al Mustaliq while they were inattentive and their cattle were drinking water. So their fighters were killed and the survivors (i.e., women and children) were taken prisoners. On that day Juwairiyyah daughter of Al Harith was obtained. ‘Abd Allaah narrated this to me, he was in that army.” Abu Dawud said “This is a good tradition narrtted by Ibn ‘Awn from Nafi’ and no one shared him in narrating it.”

ابن عون کہتے ہیں کہ

میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا ، تو انہوں نے مجھے لکھا : یہ شروع اسلام میں تھا ( اس کے بعد ) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا ، وہ غفلت میں تھے ، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا ، اور باقی کو گرفتار کر لیا ۱؎ ، اور جویریہ بنت الحارث ۲؎ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن پایا ، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ایک عمدہ حدیث ہے ، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 157
Hadith 2634
Chapter 947: Calling The Idolaters (To Accept Islam) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَكَانَ يَتَسَمَّعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلاَّ أَغَارَ ‏.‏

Anas said “The Prophet (ﷺ) used to attack at the time of the dawn prayer and hear. If he heard a call to prayer, he would refrain from them, otherwise would attack (them).

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے ( اذان ) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے ، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 158
Hadith 2635
Chapter 947: Calling The Idolaters (To Accept Islam) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنِ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Isam al-Muzani:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent us in a detachment and said (to us): If you see a mosque or hear a mu'adhdhin (calling to prayer), do not kill anyone.

عصام مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا : ” جب تم کوئی مسجد دیکھنا ، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 159
Hadith 2636
Chapter 948: Deception During War - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏

Jabir reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “War is deception.”

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 160
Hadith 2637
Chapter 948: Deception During War - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَةً وَرَّى غَيْرَهَا وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلاَّ مَعْمَرٌ يُرِيدُ قَوْلَهُ ‏"‏ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ وَمِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

Narrated Ka'b ibn Malik:

When the Prophet (ﷺ) intended to go on an expedition, he always pretended to be going somewhere else, and he would say: War is deception. Abu Dawud said: Only Ma'mar has transmitted this tradition. By this he refers to his statement "War is deception" through this chain of narrators. He narrated it from the tradition of 'Amr b. Dinar from Jabir, and from the tradition of Ma'mar from Hammam b. Munabbih on the authority of Abu Hurairah.

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ۱؎ کرتے اور فرماتے : ” جنگ دھوکہ کا نام ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے ، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں ، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 161
Hadith 2638
Chapter 949: Attacking The Enemy During The Night - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَأَبُو عَامِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَمِتْ أَمِتْ ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏

Narrated Salamah ibn al-Akwa':

The Messenger of Allah (ﷺ) appointed AbuBakr our commander and we fought with some people who were polytheists, and we attacked them at night, killing them. Our war-cry that night was "put to death; put to death." Salamah said: I killed that night with my hand polytheists belonging to seven houses.

سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا ، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا ، ہم انہیں قتل کر رہے تھے ، اور اس رات ہمارا شعار ( کوڈ ) «أمت أمت» ۱؎ تھا ، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ۲؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 162
Hadith 2639
Chapter 950: Staying In The Rear Guard - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُمْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Messenger of Allah (ﷺ) used to keep to the rear when travelling and urge on the weak. He would take someone up behind him and make supplication for them all.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ساقہ ( لشکر کے پچھلے دستہ ) کے ساتھ رہا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کو ساتھ لیتے ، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 163
Hadith 2640
Chapter 951: What The Idolates Are To Be Fought For - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allaah, when they do that they will keep their life and property safe from me, except what is due to them. (i.e., life and property) and their reckoning will be at Allaah’s hands.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں ، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے ، سوائے اس کے حق کے ( یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا ) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 164
Hadith 2641
Chapter 951: What The Idolates Are To Be Fought For - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَأَنْ يَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلاَتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

The Prophet (ﷺ) said: I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allah, and that Muhammad is His servant and His Apostle, face our qiblah (direction of prayer), eat what we slaughter, and pray like us. When they do that, their life and property are unlawful for us except what is due to them. They will have the same rights as the Muslims have, and have the same responsibilities as the Muslims have.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» ” نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ کی گواہی دینے ، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے ، ہمارا ذبیحہ کھانے ، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں ، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 165
Hadith 2642
Chapter 951: What The Idolates Are To Be Fought For - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ ‏"‏ ‏.‏ بِمَعْنَاهُ ‏.‏

Anas bin Malik reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ I am commanded to fight with the polytheists. The rest of the tradition is to the same effect as mentioned above.”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں “ ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 166
Hadith 2643
Chapter 951: What The Idolates Are To Be Fought For - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا فَأَدْرَكْنَا رَجُلاً فَلَمَّا غَشَيْنَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ لَكَ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلاَحِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَهَا أَمْ لاَ مَنْ لَكَ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ ‏.‏

Usamah bin Zaid said “The Messenger of Allah (ﷺ) sent us with a detachment to Al Huruqat. They learnt about us and fled away. But we found a man, when we attacked him he uttered “There is no god but Allaah, still we struck him till we killed him.” When I mentioned it to the Prophet (ﷺ) he said “Who will save you from “There is no god but Allaah” on the Day of Judgment? I said “Messenger of Allah (ﷺ), he uttered it for the fear of the weapon.” He said “Did you tear his heart so that you learnt whether he actually uttered it for this or not. Who will support you against “There is no god but Allaah”? He kept on repeating this till I wished I would have embraced Islam on that day.

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات ۱؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا ، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہو گیا ، چنانچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے ، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا ، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو «لا إله إلا الله» کہنے لگا ( اس کے باوجود ) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ “ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ۲؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا ( تلوار کے ڈر سے ) نہیں ( بلکہ اسلام کے لیے ) ؟ قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات فرماتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 167
Hadith 2644
Chapter 951: What The Idolates Are To Be Fought For - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلاً مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَىَّ بِالسَّيْفِ ثُمَّ لاَذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ‏.‏ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ‏"‏ ‏.‏

Al Miqdad bin Al Aswad reported that he said “Apostle of Allaah(ﷺ) tell me if I meet a man who is a disbeliever and he fights with me and cuts off one hand of mine with the sword and then takes refuge by a tree and says “I embraced Islam for Allah’s sake. Should I kill him, Apostle of Allaah(ﷺ) after he uttered it (the credo of Islam)? The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Do not kill him”. I said “Apostle of Allaah(ﷺ), he cut off my hand. The Apostle of Allaah(ﷺ) said, Do not kill him. I f you kill him, he will become like you before you kill him and you will become like him before he uttered his credo which he has uttered now.

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا ، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں تم اسے قتل نہ کرو “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل نہ کرو ، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آ جائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا “ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 168
Hadith 2645
Chapter 952: The Prohibition Of Fighting A Person Who Seeks Protection By Prostrating - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلُ - قَالَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ ‏"‏ أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ قَالَ ‏"‏ لاَ تَرَاءَى نَارَاهُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هُشَيْمٌ وَمُعْتَمِرٌ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ وَجَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا جَرِيرًا ‏.‏

Narrated Jarir ibn Abdullah:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition to Khath'am. Some people sought protection by having recourse to prostration, and were hastily killed. When the Prophet (ﷺ) heard that, he ordered half the blood-wit to be paid for them, saying: I am not responsible for any Muslim who stays among polytheists. They asked: Why, Messenger of Allah? He said: Their fires should not be visible to one another. Abu Dawud said: Hushaim, Ma'mar, Khalid b. al-Wasiti and a group of narrators have also narrated it, but did not mention Jarir.

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت ۱؎ کا حکم دیا اور فرمایا : ” میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کی ( یعنی اسلام اور کفر کی ) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی “ ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہشیم ، معمر ، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ۳؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 169
Hadith 2646
Chapter 953: Fleeing On The Day Of The March - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَزَلَتْ ‏{‏ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ‏}‏ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لاَ يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ ‏{‏ الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ ‏}‏ قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ‏}‏ قَالَ فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “When the verse “If there are twenty amongst you patient and persevering, they will vanquish two hundred” was revealed. It was heavy and troublesome for Muslims when Allaah prescribed for them that one (fighting Muslim) should not fly from ten (fighting Non-Muslims). Then a light commandment was revealed saying “For the present Allaah hath lightened your (task).” The narrator Abu Tawbah recited the verse to “they will vanquish two hundred.” When Allaah lightened the number, patient and perseverance also decreased according to the number lightened from them.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

آیت کریمہ «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» ” اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے “ ( سورۃ الانفال : ۶۵ ) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے ، تو یہ چیز ان پر شاق گزری ، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا : «الآن خفف الله عنكم» ” اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے “ ( سورۃ الانفال : ۶۶ ) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت «يغلبوا مائتين» تک پڑھ کر سنایا اور کہا : جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کر دی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کر دی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 170
Hadith 2647
Chapter 953: Fleeing On The Day Of The March - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ - قَالَ - فَلَمَّا بَرَزْنَا قُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ فَقُلْنَا نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ فَنَتَثَبَّتُ فِيهَا وَنَذْهَبُ وَلاَ يَرَانَا أَحَدٌ - قَالَ - فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنْ كَانَتْ لَنَا تَوْبَةٌ أَقَمْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ذَهَبْنَا - قَالَ - فَجَلَسْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَدَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

Ibn Umar was sent with a detachment of the Messenger of Allah (ﷺ). The people wheeled round in flight. He said: I was one of those who wheeled round in flight. When we stopped, we said (i.e. thought): How should we do? We have run away from the battlefield and deserve Allah's wrath. Then we said (thought): Let us enter Medina, stay there, and go there while no one sees us. So we entered (Medina) and thought: If we present ourselves before the Messenger of Allah (ﷺ), and if there is a change of repentance for us, we shall stay; if there is something else, we shall go away. So we sat down (waiting) for the Messenger of Allah (ﷺ) before the dawn prayer. When he came out, we stood up to him and said: We are the ones who have fled. He turned to us and said: No, you are the ones who return to fight after wheeling away. We then approached and kissed his hand, and he said; I am the main body of the Muslims.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا میں سے کسی سریہ میں تھے ، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے ، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا ، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں ؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے ، پھر ہم نے کہا : چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں ، ( پھر جب دوسری بار جہاد ہو ) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے ، خیر ہم مدینہ گئے ، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا : کاش ! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا ، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں ، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم لوگ «عکارون» ہو ( یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو ) “ ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ( خوش ہو کر ) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں “ ، ( یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے ؟ ) ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 171
Hadith 2648
Chapter 953: Fleeing On The Day Of The March - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَزَلَتْ فِي يَوْمِ بَدْرٍ ‏{‏ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ ‏}‏ ‏.‏

Abu Sa’id said “The verse “If any do turn his back to them on such a day” was revealed on the day of the Battle of Badr.”

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

«ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 172
Hadith 2649
Chapter 954: Regarding A Captive Being Compelled Into Disbelief - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا أَلاَ تَسْتَنْصِرْ لَنَا أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ فَقَالَ ‏ "‏ قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ فِرْقَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ ‏"‏ ‏.‏

Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel between San’a and Hadramaut and he will not fear anyone except Allaah, Most High(nor will he fear the attack of) a wolf on his sheep, but you are making haste.

خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے ، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا : کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے ؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے ؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، اور فرمایا : ” تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا ، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا ، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی ، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی ، اللہ کی قسم ! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا ، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 173
Hadith 2650
Chapter 955: Ragarding The Judgement For The Spy When He Is A Muslim - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا هَلُمِّي الْكِتَابَ ‏.‏ فَقَالَتْ مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ ‏.‏ فَقُلْتُ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ‏.‏ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا حَاطِبُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَإِنَّ قُرَيْشًا لَهُمْ بِهَا قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِهَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلاَ ارْتِدَادٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

‘Ali said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet(ﷺ). It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists(in Makkah) giving them some information about the Apostle of Allaah(ﷺ). He asked “What is this, Hatib? He replied, Apostle of Allaah(ﷺ) do not be hasty with me. I have been a man attached as an ally to the Quraish and am not one of them while those of the Quraish (i.e. the emigrants) have relationship with them by which they guarded their family in Makkah. As I did not have that advantage I wanted to give them some help for which they might guard my relations. I swear by Allaah I am not guilty of unbelief or apostasy (from my religion). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he has told you the truth. ‘Umar said “Let me cut off this hypocrite’s head. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “He was present at Badr and what do you know, perhaps Allaah might look with pity on those who were present at Badr? And said “Do what you wish, I have forgiven you.”

عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے ، کہتے ہیں : میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا : ” تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو ، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا “ ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا ، ہم نے اس سے کہا : خط لاؤ ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ، میں نے کہا : خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے ، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا ، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا ، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” حاطب یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے ، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں ، خاص ان میں سے نہیں ہوں ، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں ، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں ، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی ، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں ، قسم اللہ کی ! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے تم سے سچ کہا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے : مجھے چھوڑئیے ، میں اس منافق کی گردن مار دوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں ، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا ، اور فرمایا : تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 174
Hadith 2651
Chapter 955: Ragarding The Judgement For The Spy When He Is A Muslim - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ ‏.‏ فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏

‘Ali said “Hatib went and wrote to the people of Makkah that Muhammad (ﷺ) is going to proceed to them. This version has “She said “I have no letter. We made her Camel kneel down, but we did not find any letter with her. ’Ali said “By Him in Whose name oath is taken, I shall kill you or you should bring out the letter. He then narrated the rest of the tradition.

اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے ، اس میں ہے کہ

حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں ، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی : ” میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے “ ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا ، ورنہ خط مجھے نکال کر دے ، پھر پوری حدیث ذکر کی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 175
Page 7 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 311 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 7 of 13 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00