Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 15

Jihad (Kitab Al-Jihad)

كتاب الجهاد

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 311 hadiths in this chapter

Hadith 2602
Chapter 928: Supplication At The Time Of Mounting An Animal - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا - رضى الله عنه - وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏{‏ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ‏}‏ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ‏.‏ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ ضَحِكْتَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ ضَحِكْتَ قَالَ ‏"‏ إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Ali ibn Rabi'ah said: I was present with Ali while a beast was brought to him to ride. When he put his foot in the stirrup, he said: "In the name of Allah." Then when he sat on its back, he said: "Praise be to Allah." He then said: "Glory be to Him Who has made this subservient to us, for we had not the strength, and to our Lord do we return." He then said: "Praise be to Allah (thrice); Allah is Most Great (thrice): glory be to Thee, I have wronged myself, so forgive me, for only Thou forgivest sins." He then laughed. He was asked: At what did you laugh? He replied: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do as I have done, and laugh after that. I asked: Messenger of Allah , at what are you laughing? He replied: Your Lord, Most High, is pleased with His servant when he says: "Forgive me my sins." He know that no one forgives sins except Him.

علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں ، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا ، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا ، اور «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا ، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا ، پھر تین مرتبہ «الله اكبر» کہا ، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا ، پھر ہنسے ، پوچھا گیا : امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے : میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 126
Hadith 2603
Chapter 929: What A Man Says When Dismounting At Camp - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ ‏ "‏ يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr:

When the Messenger of Allah (ﷺ) was travelling and night came on, he said: O earth, my Lord and your Lord is Allah; I seek refuge in Allah from your evil, the evil of what you contain, the evil of what has been created in you, and the evil of what creeps upon you; I seek refuge in Allah from lions, from large black snakes, from other snakes, from scorpions, from the evil of jinn which inhabit a settlement, and from a parent and his offspring.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے : «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» ” اے زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے ، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے ( انسانوں اور جنوں ) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 127
Hadith 2604
Chapter 930: Regarding The Disapproval Of Traveling At The Beginning Of The Night - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ‏.‏

Jabir bin ‘Abd Allaah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Do not send out your beasts when the sun has set till the darkness of the night prevails, for the devils grope about in the dark when the sun has set till the darkness of the night prevails.”

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے ، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 128
Hadith 2605
Chapter 931: Regarding Which Day Is Recommended For Travel - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلاَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ ‏.‏

Narrated Ka'b ibn Malik:

It was rarely that the Messenger of Allah (ﷺ) set out on a journey on any day but on a Thursday.

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں ( یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے ) ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 129
Hadith 2606
Chapter 932: Regarding Setting Out On A Journey During The Early Hours Of The Day - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ‏.‏ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلاً تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ ‏.‏

Narrated Sakhr al-Ghamidi:

The Prophet (ﷺ) said: "O Allah, bless my people in their early mornings." When he sent out a detachment or an army, he sent them at the beginning of the day. Sakhr was a merchant, and he would send off his merchandise at the beginning of the day; and he became rich and had much wealth. Abu Dawud said: He is Sakhr b. Wada'ah.

صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لأمتي في بكورها» ” اے اللہ ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے “ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے ، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے ۔ ( عمارہ کہتے ہیں ) صخر ایک تاجر آدمی تھے ، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 130
Hadith 2607
Chapter 933: Regarding A Man Traveling Alone - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلاَثَةُ رَكْبٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ) said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں ، اور تین سوار قافلہ ہیں “ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 131
Hadith 2608
Chapter 934: A Group Of People Traveling Together Putting One Of Them In Charge - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا خَرَجَ ثَلاَثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

The Prophet (ﷺ) said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 132
Hadith 2609
Chapter 934: A Group Of People Traveling Together Putting One Of Them In Charge - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ فَقُلْنَا لأَبِي سَلَمَةَ فَأَنْتَ أَمِيرُنَا ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: When three are on a journey, they should appoint one of them as their commander. Nafi' said: We said to AbuSalamah: You are our commander.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ “ ، نافع کہتے ہیں : تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا : آپ ہمارے امیر ہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 133
Hadith 2610
Chapter 935: Regarding Traveling To The Territory Of The Enemy With The Mushaf - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ‏.‏

‘Abd Allaah bin ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) prohibited to travel with a copy of the Qur’an to the enemy territory. The narrator Malik said “(It is) I think lest the enemy should take it.

نافع سے روایت ہے کہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ، مالک کہتے ہیں : میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 134
Hadith 2611
Chapter 936: Regarding What Is Recommended In Armies, Companies, And Expeditions - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلاَفٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) said: The best number of companions is four, the best number in expeditions four hundred, and the best number in armies four thousand; and twelve thousand will not be overcome through smallness of numbers. Abu Dawud said: What is correct is that this tradition is mursal (i.e. the link of the Companion is missing).

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎ ، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو ، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو ، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 135
Hadith 2612
Chapter 937: Regarding Calling Idolators To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا وَقَالَ ‏ "‏ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلاَثِ خِصَالٍ أَوْ خِلاَلٍ فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمُ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَىْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلاَّ أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلاَ تُنْزِلْهُمْ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَلْقَمَةُ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ - عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ‏.‏

Sulaiman bin Buraidah reported on the authority of his father. When the Apostle of Allaah(ﷺ) appointed a Commander over an Army or a detachment, he instructed him to fear Allaah himself and consider the welfare of the Muslims who were with him. He then said “When you meet the polytheists who are your enemy, summon them tone of three things and accept whichever of them they are willing to agree to, and refrain from them. Summon them to Islam and if they agree, accept it from them and refrain from them. Then summon them to leave their territory and transfer to the abode of the Emigrants and tell them that if they do so, they will have the same rights and responsibilities as the Emigrants, but if they refuse and choose their own abode, tell them that they will be like the desert Arabs who are Muslims subject to Allaah’s jurisdiction which applies to the believers, but will have no spoil or booty unless they strive with the Muslims. If they refuse demand jizyah (poll tax) from them, if they agree accept it from them and refrain from them. But if they refuse, seek Alaah’s help and fight with them. When you invade the fortress and they (its people) offer to capitulate and have the matter referred to Allaah’s jurisdiction, do not grant this, for you do not know whether or not you will hit on Allaah’s jurisdiction regarding them. But let them capitulate and have the matter refereed to your jurisdiction and make a decision about them later on as you wish. Sufyan (bin ‘Uyainah) said thah ‘Alqamah said “I mentioned this tradition to Muqatil bin Habban, He said “Muslim narrated it to me.” Abu Dawud said “He is Ibn Haidam narrated from Al Nu’man in Muqqarin from the Prophet (ﷺ) like the tradition of Sulaiman bin Buraidah.

بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے ، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے ، اور فرماتے : ” جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا ، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا ، ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی جانب بلانا ، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا ، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا ، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی ، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے ، جو مہاجرین کے ہیں ، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے ، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا ، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں ، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا ، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا ، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا ، اور ان سے جہاد کرنا ، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو ، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا ، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا ، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا ، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا “ ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا : مجھ سے مسلم نے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہ ابن ہیصم ہیں ، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 136
Hadith 2613
Chapter 937: Regarding Calling Idolators To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِيدًا ‏"‏ ‏.‏

Sulaiman bin Buraidah reported on his father’s authority The Prophet(ﷺ) said “Fight in the name of Allaah and in the path of Allaah and with him who disbelieves in Allaah fight and do not be treacherous and do not be dishonest about boot yand do not deface (in killing) and do not kill a child.”

بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں غزوہ کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے ، غزوہ کرو ، بدعہدی نہ کرو ، خیانت نہ کرو ، مثلہ نہ کرو ، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 137
Hadith 2614
Chapter 937: Regarding Calling Idolators To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِرْزِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ وَلاَ تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلاَ طِفْلاً وَلاَ صَغِيرًا وَلاَ امْرَأَةً وَلاَ تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

The Prophet (ﷺ) said: Go in Allah's name, trusting in Allah, and adhering to the religion of Allah's Apostle. Do not kill a decrepit old man, or a young infant, or a child, or a woman; do not be dishonest about booty, but collect your spoils, do right and act well, for Allah loves those who do well.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجاہدین کو رخصت کرتے وقت ) فرمایا : ” تم لوگ اللہ کے نام سے ، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا ، نہ بچوں کو ، نہ چھوٹے لڑکوں کو ، اور نہ ہی عورتوں کو ، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا ، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا ، صلح کرنا اور نیکی کرنا ، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 138
Hadith 2615
Chapter 938: Regarding Burning In Enemy Territories - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا ‏}‏‏.‏

Ibn “umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) burned the palm tree of Banu Al Nadr and cut (them) down at Al Buwairah. So, Allaah the exalted sent down “the palm trees you cut down or left.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا ( یہ مقام بویرہ میں تھا ) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» ” کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے ، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا ، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا “ ( سورۃ الحشر : ۵ ) ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 139
Hadith 2616
Chapter 938: Regarding Burning In Enemy Territories - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ فَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا وَحَرِّقْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Usamah:

The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined upon him to attack Ubna in the morning and burn the place.

عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا : ” ابنی ۱؎ پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 140
Hadith 2617
Chapter 938: Regarding Burning In Enemy Territories - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، سَمِعْتُ أَبَا مُسْهِرٍ، قِيلَ لَهُ أُبْنَى ‏.‏ قَالَ نَحْنُ أَعْلَمُ هِيَ يُبْنَى فِلَسْطِينَ ‏.‏

Abu Mishar was told about Ubna. He said “We know it better. This is Yubna of Palestine.

عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ

ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا : ہم جانتے ہیں یہ یُبنی ہے جو فلسطین میں ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 141
Hadith 2618
Chapter 939: Regarding Sending Spies - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَعَثَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏

Anas said “the Prophet(ﷺ) sent Busaisah as a spy to see what the caravan of Abu Sufyan was doing.”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 142
Hadith 2619
Chapter 940: Regarding A Wayfarer Eating Dates And Drinking Milk He Passes By - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلاَثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلاَّ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Samurah ibn Jundub:

The Prophet (ﷺ) said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him).

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے ، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے ، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے ، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے ، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 143
Hadith 2620
Chapter 940: Regarding A Wayfarer Eating Dates And Drinking Milk He Passes By - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَفَرَكْتُ سُنْبُلاً فَأَكَلْتُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ ‏"‏ مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلاً وَلاَ أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ سَاغِبًا ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَىَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ ‏.‏

Narrated Abbad ibn Shurahbil:

I suffered from drought; so I entered a garden of Medina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Messenger of Allah (ﷺ) who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sa's) of corn.

عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں ، انہیں مل کر کھایا ، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا ، اتنے میں اس کا مالک آ گیا ، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا : ” تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 144
Hadith 2621
Chapter 940: Regarding A Wayfarer Eating Dates And Drinking Milk He Passes By - كتاب الجهاد

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، - رَجُلاً مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ - بِمَعْنَاهُ ‏.‏

Abu Bishr said “I heard ‘Abbad bin ‘Shurahbil a man of us from Banu Ghubar. He narrated the reast of the tradition to the same effect.”

ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 145
Hadith 2622
Chapter 941: Whoever Said That He Many Eat From What Has Fallen - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - وَهَذَا لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ - عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَكَمٍ الْغِفَارِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا أَرْمِي نَخْلَ الأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا غُلاَمُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ آكُلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَرْمِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسْفَلِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated The uncle of AbuRafi ibn Amr al-Ghifari:

I was a boy. I used to throw stones at the palm-trees of the Ansar. So I was brought to the Prophet (ﷺ) who said: O boy, why do you throw stones at the palm-trees? I said: eat (dates). He said: Do not throw stones at the palm trees, but eat what falls beneath them. He then wiped his head and said: O Allah, fill his belly.

ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ

میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا ، لوگ مجھے ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ، آپ نے فرمایا : ” بچے ! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : ( کھجوریں ) کھانے کی غرض سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پتھر نہ مارا کرو ، جو نیچے گرا ہو اسے کھا لیا کرو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 146
Hadith 2623
Chapter 942: Regarding Whoever Said That He May Not Milk (An Animal Without Permission) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ‏"‏ ‏.‏

‘Abd Allah bin Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “One should not milk the cattle of anyone without his permission. Does anyone of you like that any one approaches his corn cell and its storage is broken and then the corn scatters away? Likewise, the teats of their Cattle store their food. Therefore none of you should milk the cattle of anyone without his permission.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے ؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 147
Hadith 2624
Chapter 943: Regarding Obedience - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ ‏}‏ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Ibn Juraij said “O ye who believe, Obey Allaah and obey the Apostle and those charged with authority amongst you.” This verse was revealed about ‘Abd Allaah bin Qais bin ‘Adi whom the Prophet (ﷺ) sent along with a detachment. Ya’la narrated it to me from Sa’id bin Jubair on the authority of Ibn ‘Abbas.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں

آیت «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» ” اے ایمان والو ! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی “ ( سورۃ النساء : ۵۹ ) عبداللہ ( عبداللہ بن حذافہ ) قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 148
Hadith 2625
Chapter 943: Regarding Obedience - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَّجَ نَارًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيهَا فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَوْ دَخَلُوهَا - أَوْ دَخَلُوا فِيهَا - لَمْ يَزَالُوا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ‏"‏ ‏.‏

‘Ali (Allaah be pleased with him) said “The Messenger of Allah(ﷺ) sent an army and appointed a man as a commander for them and he commanded them to listen to him and obey. He kindled fire and ordered them to jump into it. A group refused to enter into it and said “We escaped from the fire; a group intended to enter into it. When the Prophet (ﷺ) was informed about it, he said “Had they entered into it, they would have remained into it. There is no obedience in matters involving disobedience to Allaah. Obedience is in matters which are good and universally recognized.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ، اور ایک آدمی ۱؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں ، اور اس کی اطاعت کریں ، اس آدمی نے آگ جلائی ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں ، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا : ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے “ ، اور فرمایا : ” اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 149
Hadith 2626
Chapter 943: Regarding Obedience - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ ‏"‏ ‏.‏

‘Abd Allaah bin Masud reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Listening and Obedience are binding on a Muslim whether he likes or dislikes, so long as he is not commanded for disobedience (to Allaah). If he is commanded to disobedience (to Allaah), no listening and disobedience are binding (on him).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند ، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے ، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 150
Page 6 of 13

Showing 25 hadiths on this page (Total: 311 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 6 of 13 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00