while she was on a journey along with the Messenger of Allah (ﷺ): I had a race with him (the Prophet) and I outstripped him on my feet. When I became fleshy, (again) I had a race with him (the Prophet) and he outstripped me. He said: This is for that outstripping.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں ، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی ، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے ( دوبارہ ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If one enters a horse with two others when he is not certain that it cannot be beaten, it is not gambling; but when one enters a horse with two others when he is certain it cannot be beaten, it is gambling.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں ، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri with the chain of ‘Abbad and to the same affect.
Abu Dawud said “This tradition has also been narrated by Ma’mar, Shu’aib and ‘Aqil on the authority of Al Zuhri from a number of scholars and this is the soundest one in our opinion.
اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
ابوداؤد کہتے ہیں : اسے معمر ، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے ۔
Chapter 918: Regarding Embellishing The Sword With Silver - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِضَّةً . قَالَ قَتَادَةُ وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ .
Narrated Sa'id ibn AbulHasan:
The pommel of the sword of the Messenger of Allah (ﷺ) was of silver.
Qatadah said: I do not know that anyone has supported him for that (for the tradition narrated by Sa'id b. Abu al-Hasan).
( حسن بصری کے بھائی ) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے ۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Anas bin Malik through a different chain of narrators. He mentioned similar words.
Abu Dawud said “the strongest of these traditions is the one of Sa’id bin Abu Al Hasan. The rest are weak.
اس سند سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث مروی ہے
ابوداؤد کہتے ہیں : ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں ۔
Abu Musa reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ When one of you passes our Masjid or our market with an arrow, he should hold its head or hold it with its hand (the narrator is doubtful) so that no harm may be done to any Muslim.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے “ یا فرمایا : ” مٹھی میں دبائے رہے “ ، یا یوں کہا کہ : ” اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے “ ۔
Chapter 922: Regarding Wearing Coats Of Mail - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ، يَذْكُرُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ أَوْ لَبِسَ دِرْعَيْنِ .
Narrated As-Sa'ib ibn Yazid:
As-Sa'ib reported on the authority of a man whom he named: The Messenger of Allah (ﷺ) put on two coats of mail during the battle of Uhud as a double protection. (The narrator is doubtful about the word zahara or labisa.)
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں
جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے ۔
Yunus ibn Ubayd, client of Muhammad ibn al-Qasim, said that Muhammad ibn al-Qasim sent to al-Bara' ibn Azib to ask him about the standard of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was black and square, being made of a woollen rug.
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ
محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا ، تو انہوں نے کہا : وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَوْمِهِ عَنْ آخَرَ، مِنْهُمْ قَالَ رَأَيْتُ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفْرَاءَ .
Narrated Simak ibn Harb:
Simak reported on the authority of a man from his people, on the authority of another man from them: I saw that the standard of the Messenger of Allah (ﷺ) was yellow.
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا ، وہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Seek for me weak persons, for you are provided means of subsistence and helped through your weaklings.
Abu Dawud said: Zaid b. Artat is the brother of 'Adi b. Artat.
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو ، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو “ ۔
Chapter 925: Regarding A Man Who Calls Out A Code Word - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - زَمَنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ أَمِتْ .
Ilyas bin Salamah(bin Al Akwa’) said on the authority of his father “We went on an expedition with Abu Bakr (Allaah be pleased with him) in the time of the Apostle of Allaah(ﷺ) and our war cry was “Put to death” “Put to death”.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار «أمت أمت» ۱؎ تھا ۔
Chapter 925: Regarding A Man Who Calls Out A Code Word - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" إِنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ حم لاَ يُنْصَرُونَ " .
Narrated A man who heard the Prophet:
Al-Muhallab ibn AbuSufrah said: A man who heard the Prophet (ﷺ) say: If the enemy attacks you at night, let your war cry be Ha-Mim. They will not be helped.
مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار ( کوڈ ) «حم لا ينصرون» ۱؎ ہونا چاہیئے “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) proceeded on journey, he would say: O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family; O Allah, I seek refuge in Thee from the difficulty of travelling, finding harm when I return, and unhappiness in what I see coming to my family and property. O Allah, make the length of his journey short for us, and the journey easy for us.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» ” اے اللہ ! تو ( میرے ) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر ( دیکھنے سے ) سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) sat on his camel to go out on a journey, he said: "Allah is Most Great" three times. Then he said: "Glory be to Him Who has made subservient to us, for we had not the strength for it, and to our Lord do we return. O Allah, we ask Thee in this journey of ours, uprightness, piety and such deeds as are pleasing to Thee. O Allah, make easy for us this journey of ours and make its length short for us. O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family and property in our absence." When he returned, he said these words adding: "Returning, repentant, serving and praising our Lord." The Prophet (ﷺ) and his armies said: "Allah is Most Great" when they went up to high ground; and when armies said: "Allah is most Great" when they went up to high ground; and when they descended, they said: "Glory be to Allah." So the prayer was patterned on that.
علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : « { سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» ” پاک ہے وہ اللہ جس نے اس ( سواری ) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے ، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ، اے اللہ ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے ، اے اللہ ! ہمارے لیے مسافت کو لپیٹ دے ، اے اللہ ! تو ہی رفیق سفر ہے ، اور تو ہی اہل و عیال اور مال میں میرا قائم مقام ہے “ ، اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے : «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ہم امن و سلامتی کے ساتھ سفر سے لوٹنے والے ، اپنے رب سے توبہ کرنے والے ، اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنے والے ہیں “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کے لوگ جب چڑھائیوں پر چڑھتے تو ” اللہ اکبر “ کہتے ، اور جب نیچے اترتے تو ” سبحان اللہ “ کہتے ، پھر نماز بھی اسی قاعدہ پر رکھی گئی ۱؎ ۔
Qaza’ah said Ibn ‘Umar told me “Come, I see off you as the Apostle of Allaah(ﷺ) saw me off. I entrust to Allaah your religion what you are responsible for and your final deeds.”
قزعہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تھا : «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ” میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “ ۔
When the Prophet (ﷺ) wanted to say farewell to an army, he would say: I entrust to Allah your religion, what you are responsible for, and your final deeds.
عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے : «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» ” میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “ ۔