Abu Bashir Al Ansari said that he was with the Apostle of Allaah(ﷺ) on one of his journeys. The Apostle of Allaah(ﷺ)sent a messenger. The narrator ‘Abd Allah bin Abu Bakr said “I think he said while the people were sleeping. No necklace of bowstring or anything else must be left on a Camels’ neck, must be cut off. The narrator Malik said “I think this was due to evil eye.”
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا ، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے : ” کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے ، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے “ ۔ مالک کہتے ہیں : میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Tie the horses, rub down their forelocks and their buttocks (or he said: Their rumps), and put things on their necks, but do not put bowstrings.
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
انہیں ( اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) صحبت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو ، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو ، اور ان کی گردنوں میں قلادہ ( پٹہ ) پہناؤ ، اور انہیں ( نظر بد سے بچنے کے لیے ) تانت کا قلادہ نہ پہنانا “ ۔
Chapter 901: Regarding Calling Out During The Time Of Departure (For Battle): "O Allah's Horseman! Ride" - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمَّى خَيْلَنَا خَيْلَ اللَّهِ إِذَا فَزِعْنَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا فَزِعْنَا بِالْجَمَاعَةِ وَالصَّبْرِ وَالسَّكِينَةِ وَإِذَا قَاتَلْنَا .
Narrated Samurah ibn Jundub:
The Prophet (ﷺ) named our cavalry "the Cavalry of Allah," when we were struck with panic, and when panic overtook us, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to be united, to have patience and perseverance; and to be so when we fought.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
، وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے ، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے ، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔
Chapter 902: The Prohibition Of Cursing An Animal - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ " مَا هَذِهِ " . قَالُوا هَذِهِ فُلاَنَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " . فَوَضَعُوا عَنْهَا . قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ .
‘Imran bin Hussain said “The Prophet (ﷺ) was on a journey. He heard a curse. He asked “What is this? They (the people) said “This is so and so (a woman) who cursed her riding beast. The Prophet (ﷺ) said “Remove the saddle from it, for it is accursed. So, they removed (the saddle) from it. ‘Imran said “As if I am looking at it a grey she Camel.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎ “ ، لوگوں نے اس پر سے ( کجاوہ ) اتار لیا ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی ۔
Chapter 904: Regarding Branding Animals - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخٍ لِي حِينَ وُلِدَ لِيُحَنِّكَهُ فَإِذَا هُوَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا - أَحْسِبُهُ قَالَ - فِي آذَانِهَا .
Anas bin Malik said “I brought my brother when he was born to Prophet(ﷺ) to chew something for him and rub his palate with it and found him in a sheep pen branding the sheep, I think, on their ears.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک ( گھٹی ) ۱؎ فرما دیں ، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان ( داغ ) لگا رہے تھے ۔ ہشام کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے ۔
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying when an ass which had been branded on its face passed him. Did it not reach you that I cursed him who branded the animals on their faces or struck them on their faces. So he prohibited it.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے ، یا ان کے چہرہ پہ مارے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ۔
Chapter 906: The Prohibition Of Studding Donkeys With Mare Horses - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا . فَقَالَ عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ " .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
The Messenger of Allah (ﷺ) was present with a she-mule which he rode, so Ali said: If we made asses cover mares we would have animals of this type. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Only those who do not know do that.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو ( شریعت کے احکام سے ) واقف نہیں ہیں ۱؎ “ ۔
‘Abd Allah bin Ja’far said “When the Prophet (ﷺ) arrived after a journey, we were taken for his reception. Any of us who met him first he lifted him in front of him. As I was the first to meet him, he lifted me in front of him. Then Hasan or Hussain was brought to him and he set him behind him. We the entered Madeenah and we (were) riding so (three on one beast).”
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے ، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے ، چنانچہ ( ایک بار ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا ، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا ، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح ( سواری پر ) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying “Do not treat the backs of your beasts as pulpits, for Allaah has made them subject to you only to convey you to a town which you cannot reach without difficulty and He has appointed the earth (a floor to work) for you, so conduct your business on it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو ، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو ، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے ، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎ “ ۔
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “There are Camels which belong to devils and there are houses which belong to devils. As for the Camels of the devils, I have seen them. One of you goes out with his side Camels which he has fattened neither riding any of them nor giving a lift to a tired brother when he meets. As regard the houses of the devils, I have not seen them. The narrator Sa’id says “I think they are those cages (Camel litters) which conceal people with brocade.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ اونٹ ۱؎ شیطانوں کے ہوتے ہیں ، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں ، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے ، تم میں سے کوئی شخص اپنے کوتل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے ( خود ) اس پر سواری نہیں کرتا ، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے ، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہو گیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا ، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے “ ۲؎ ۔ سعید کہتے تھے : میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں ۔
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “When you travel in fertile country, give the Camel their due (from the ground), and when you travel in time of drought make them go quickly. When you intend to encamp in the last hours of the night, keep away from the roads.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎ ، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎ “ ۔
Chapter 910: Regarding Traveling Fast, And Prohibition Of Staying On Roads At Night - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا قَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ " حَقَّهَا " . " وَلاَ تَعْدُوا الْمَنَازِلَ " .
A similar tradition has also been narrated by Jabir bin ‘Abd Allaah from the Prophet (ﷺ). But this version adds after the phrase “their due” And do not go beyond the destinations.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے ، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔
Chapter 912: The Owner Of The Animal Is More Entitled To Ride In The Front - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي جَاءَ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ . وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلاَّ أَنْ تَجْعَلَهُ لِي " . قَالَ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ . فَرَكِبَ .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib:
While the Messenger of Allah (ﷺ) was walking a man who had an ass came to him and said: Messenger of Allah, ride; and the man moved to the back of the animal. The Messenger of Allah (ﷺ) said: No, you have more right to ride in front on your animal than me unless you grant that right to me. He said: I grant it to you. So he mounted.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو ، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے ۔
My foster-father said to me - he was one of Banu Murrah ibn Awf, and he was present in that battle, the battle of Mu'tah: By Allah, as if I am seeing Ja'far who jumped from his reddish horse and hamstrung it; he then fought with the people until he was killed.
Abu Dawud said: The tradition is not strong.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے ، وہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ۱؎ ، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ۲؎ ۔
‘Abd Allah bin Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) held race between the horses which had been made lean by training from Al Hafya’. The goal was Thaniyyat Al Wada’ and he held a race between the horses Banu Zuraiq and ‘Abd Allaah was one of the racers.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا ، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں ، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے ۔