The Messenger of Allah (ﷺ) announced an expedition, and I was a very old man and I had no servant. I, therefore, sought a hireling who would serve instead of me, and I would give him his portion. So I found a man. When the time of departure arrived, he came to me and said: I do not know what would be the portions, and how much would be my portion. So offer something (as wages) to me, whether there would be any portion or not. I offered three dinars (as his wages) for him. When some booty arrived, I wanted to offer him his portion. But I remembered the dinars, so I went to the Prophet (ﷺ) and mentioned the matter to him. He said: All I can find for him regarding this expedition of his in this world and the next is three dinars which were offered him.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا ، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں ، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا ، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا ؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے ، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے ، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا ، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے “ ۔
A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں ، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے پاس واپس جاؤ ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎ “ ۔
‘Abd Allah bin ‘Amr said “A man came to the Prophet(ﷺ) and said “Apostle of Allaah(ﷺ), May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them.”
Abu Dawud said:
The name of the narrator Abu al-'Abbas, a poet, is al-Sa'ib b. Farrukh.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں دونوں میں جہاد کرو ۱؎ “ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے ۔
A man emigrated to the Messenger of Allah (ﷺ) from the Yemen. He asked (him): Have you anyone (of your relatives) in the Yemen? He replied: My parents. He asked: Did they permit you? He replied: No. He said: Go back to them and ask for their permission. If they permit you, then fight (in the path of Allah), otherwise be devoted to them.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا ، آپ نے اس سے فرمایا : ” کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، میرے ماں باپ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو ، اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو “ ۔
Chapter 881: Regarding Women Participating In Battle - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهِّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ لِيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى .
Narrated Anas ibn Malik:
When the Messenger of Allah (ﷺ) went on an expedition, he took Umm Sulaym, and he had some women of the Ansar who supplied water and tended the wounded.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Three things are the roots of faith: to refrain from (killing) a person who utters, "There is no god but Allah" and not to declare him unbeliever whatever sin he commits, and not to excommunicate him from Islam for his any action; and jihad will be performed continuously since the day Allah sent me as a prophet until the day the last member of my community will fight with the Dajjal (Antichrist). The tyranny of any tyrant and the justice of any just (ruler) will not invalidate it. One must have faith in Divine decree.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین باتیں ایمان کی اصل ہیں : ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا ، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا ، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا ۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا ، کسی بھی ظالم کا ظلم ، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا ۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Striving in the path of Allah (jihad) is incumbent on you along with every ruler, whether he is pious or impious; the prayer is obligatory on you behind every believer, pious or impious, even if he commits grave sins; the (funeral) prayer is incumbent upon every Muslim, pious and impious, even if he commits major sins.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو ، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد ، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے ، اور نماز ( جنازہ ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے “ ۔
Once the Messenger of Allah (ﷺ) intended to go on an expedition. He said: O group of the emigrants (Muhajirun) and the helpers (Ansar), among your brethren there are people who have neither property nor family. So one of you should take with him two or three persons; with me. I also rode on my camel by turns like one of them.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا : ” اے مہاجرین اور انصار کی جماعت ! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے ، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں “ ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا ، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا ، جیسے وہ ہوتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) sent us on foot to get spoil, but we returned without getting any. When he saw the signs of distress on our faces, he stood up on our faces and said: O Allah, do not put them under my care, for I would be too weak to care for them; do not put them in care of themselves, for they would be incapable of that, and do not put them in the care of men, for they would choose the best things for themselves. He then placed his hand on my head and said: Ibn Hawalah, when you see the caliphate has settled in the holy land, earthquakes, sorrows and serious matters will have drawn near and on that day the Last Hour will be nearer to mankind than this hand of mine is to your head.
Abu Dawud said: 'Abd Allah b. Hawalah belongs to Hims.
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ
عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے ، اور مجھ سے بیان کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں ، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” اللہ ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں ، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ ( بھی ) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں ، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا : ” اے ابن حوالہ ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے ، تو سمجھ لو کہ زلزلے ، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات ( کے ظہور کا وقت ) قریب آ گیا ہے ، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Our Lord Most High is pleased with a man who fights in the path of Allah, the Exalted; then his companions fled away (i.e. retreated). But he knew that it was a sin (to flee away from the battlefield), so he returned, and his blood was shed. Thereupon Allah, the Exalted, says to His angels: Look at My servant; he returned seeking what I have for him (i.e. the reward), and fearing (the punishment) I have, until his blood was shed.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے ۱؎ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر ( میدان سے ) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آ گیا ( اور لڑا ) یہاں تک کہ وہ قتل کر دیا گیا ، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا گیا “ ۔
Amr ibn Uqaysh had given usurious loans in pre-Islamic period; so he disliked to embrace Islam until he took them. He came on the day of Uhud and asked: Where are my cousins? They (the people) replied: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He then put on his coat of mail and rode his horse; he then proceeded towards them. When the Muslims saw him, they said: Keep away, Amir. He said: I have become a believer. He fought until he was wounded. He was then taken to his family wounded. Sa'd ibn Mu'adh came to his sister: Ask him (whether he fought) out of partisanship, out of anger for them, or out of anger for Allah. He said: Out of anger of Allah and His Apostle. He then died and entered Paradise. He did not offer any prayer for Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
عمرو بن اقیش رضی اللہ عنہ کا جاہلیت میں کچھ سود ( وصول کرنا ) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا ، چنانچہ ( جب وصول کر چکے تو ) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا : میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا : احد میں ہیں ، کہا : فلاں کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : احد میں ، کہا : فلاں کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : احد میں ، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے ، پھر ان کی جانب چلے ، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا : عمرو ہم سے دور رہو ، انہوں نے کہا : میں ایمان لا چکا ہوں ، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے ، ان کے پاس سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی بہن سے کہا : اپنے بھائی سے پوچھو : اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ کے واسطہ غضب ناک ہو کر ، انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے واسطہ غضب ناک ہو کر لڑا ، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئے ، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی ۔
Salamah bin Al Akwa’ said “On the day of the battle of the Khaibar, my brother fought desperately. But his sword fell back on him and killed him. The Companions of the Apostle of Allaah(ﷺ) talked about him and doubted it (his martyrdom) saying “A man who died with his own weapon”. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he died as a warrior striving in the path of Allaah. Ibn Shihab said “I asked the son of Salamah bin Al Akwa’.” He narrated to me on the authority of his father similar to that except that he said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said “They told a lie, he died as a warrior striving in the path of Allaah. There is a double reward for him.””
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے ، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو ( وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے ؟ ) ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا ، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے جھوٹ کہا ، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ، اسے دوہرا اجر ملے گا “ ۔
Chapter 887: Regarding A Man Who Dies By His Own Weapon - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : أَغَرْنَا عَلَى حَىٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلاً مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ " . فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَهِيدٌ هُوَ قَالَ : " نَعَمْ، وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ " .
Narrated AbuSalam:
AbuSalam reported on the authority of a man from the companion of the Prophet (ﷺ). He said: We attacked a tribe of Juhaynah. A man from the Muslims pursued a man of them, and struck him but missed him. He struck himself with the sword. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your brother, O group of Muslims. The people hastened towards him, but found him dead. The Messenger of Allah (ﷺ) wrapped him with his clothes and his blood, and offered (funeral) prayer for him and buried him. They said: Messenger of Allah, is he a martyr? He said: Yes, and I am witness to him.
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا ، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کی جماعت ! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو “ ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے ، تو اسے مردہ پایا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا ، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شہید ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں “ ۔
Chapter 888: Supplication When Meeting (The Enemy) - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :
" ثِنْتَانِ لاَ تُرَدَّانِ، أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ : الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ مُوسَى : وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : وَوَقْتَ الْمَطَرِ .
Narrated Sahl ibn Sa'd:
The Prophet (ﷺ) said: Two (prayers) are not rejected, or seldom rejected: Prayer at the time of the call to prayer, and (the prayer) at the time of fighting, when the people grapple with each other. Musa said: Rizq ibn Sa'id ibn AbdurRahman reported from AbuHazim on the authority of Sahl ibn Sa'd from the Prophet (ﷺ) as saying: And while it is raining.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ( وقت کی ) دعائیں رد نہیں کی جاتیں ، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں : ایک اذان کے بعد کی دعا ، دوسرے لڑائی کے وقت کی ، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں “ ۔ موسیٰ کہتے ہیں : مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : ” اور بارش کے وقت کی “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone fights in Allah's path as long as the time between two milkings of a she-camel, Paradise will be assured for him. If anyone sincerely asks Allah for being killed and then dies or is killed, there will be a reward of a martyr for him. Ibn al-Musaffa added from here: If anyone is wounded in Allah's path, or suffers a misfortune, it will come on the Day of resurrection as copious as possible, its colour saffron, and its odour musk; and if anyone suffers from ulcers while in Allah's path, he will have on him the stamp of the martyrs.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا ، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے ، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا ، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں ( دانے ) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی “ ۔
Utbah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not cut the forelocks, manes, or tails of horse, for their tails are their means of driving flies, their manes provide them with warmth, and blessing is tide to their forelocks.
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو ، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو ، اور نہ دم کے بال کاٹو ، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں ، اور ان کے ایال ( گردن کے بال ) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Keep to every dark bay horse with a white blaze and white on the legs, or sorrel with a white blaze and white on the legs , or black with a white blaze and white on the legs.
ابو وہب جشمی سے روایت ہے
اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو “ ۔
Chapter 891: Regarding What Colors Are Recommended In Horses - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :
" عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ - سَأَلْتُهُ : لِمَ فَضَّلَ الأَشْقَرَ قَالَ : لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ أَشْقَرَ .
Narrated AbuWahb:
The Prophet (ﷺ) said: Keep to every sorrel horse with a white blaze and white on the legs, or dark bay with a white blaze. He then mentioned something similar. Muhammad ibn al-Muhajir said: I asked him: Why was a sorrel horse preferred? He replied: Because the Prophet (ﷺ) had sent a contingent, and the man who first brought the news of victory was the rider of a sorrel horse.
ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ۱؎ “ ، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا ۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں : میں نے عقیل سے پوچھا : سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا : اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا ۔
Abu Hurairah said “The Prophet (ﷺ) disapproved the shikal horses. Shikal are the horses that are white on their right hind leg and white on their left foreleg or white on their right foreleg and left hind leg.
Abu Dawud said “This means alternate legs”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے میں «شکال» کو ناپسند فرماتے تھے ، اور «شکال» یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پیر اور بائیں ہاتھ میں ، یا دائیں ہاتھ اور بائیں پیر میں سفیدی ہو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی دائیں اور بائیں ایک دوسرے کے مخالف ہوں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came upon an emaciated camel and said: Fear Allah regarding these dumb animals. Ride them when they are in good condition and feed them when they are in good condition.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان بے زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ۱؎ “ ۔
Chapter 894: What Has Been Commanded Regarding Proper Care For Riding Beasts And Cattle - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَسَرَّ إِلَىَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ . قَالَ : فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَكَتَ، فَقَالَ : " مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ، لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ " . فَجَاءَ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَفَلاَ تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهُ شَكَى إِلَىَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ " .
‘Abd Allaah bin Jafar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) seated me behind him(on his ride) one day, and told me secretly a thing asking me not to tell it to anyone. The place for easing dearer to the Apostle of Allaah(ﷺ) was a mound or host of palm trees by which he could conceal himself. He entered the garden of a man from the Ansar(Helpers). All of a sudden when a Camel saw the Prophet (ﷺ) it wept tenderly producing yearning sound and it eyes flowed. The Prophet (ﷺ) came to it and wiped the temple of its head. So it kept silence. He then said “Who is the master of this Camel? Whose Camel is this? A young man from the Ansar came and said “This is mine, Apostle of Allaah(ﷺ).” He said “Don’t you fear Allaah about this beast which Allaah has given in your possession. It has complained to me that you keep it hungry and load it heavily which fatigues it.”
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کیا پھر مجھ سے چپکے سے ایک بات کہی جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشری ضرورت کے تحت چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں ، یا تو کوئی اونچا مقام ، یا درختوں کا جھنڈ ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا ، اس کے بعد پوچھا : ” یہ اونٹ کس کا ہے ؟ “ ایک انصاری جوان آیا ، وہ کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میرا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے ، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے “ ۔
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ While a man was going on his way, he felt himself thirsty severely. He found a well and e went down in it. He drank water and came out. Suddenly he saw a dog panting and eating soil due to thirst. The man said (to himself) “This dog must have reached the same condition due to thirst as I had reached. So he went down into the well, filled his sock with water, held it with his mouth and came up. He supplied water to the dog. Allaah appreciated this and forgave him.” They asked “Apostle of Allaah(ﷺ), Is there any reward for us for these beasts? He replied, For every cool liver there is a reward.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی کسی راستہ پہ جا رہا تھا کہ اسی دوران اسے سخت پیاس لگی ، ( راستے میں ) ایک کنواں ملا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا ، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے ، اس شخص نے دل میں کہا : اس کتے کا پیاس سے وہی حال ہے جو میرا حال تھا ، چنانچہ وہ ( پھر ) کنویں میں اترا اور اپنے موزوں کو پانی سے بھرا ، پھر منہ میں دبا کر اوپر چڑھا اور ( کنویں سے نکل کر باہر آ کر ) کتے کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی ثواب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر تر کلیجہ والے ( جاندار ) میں ثواب ہے “ ۔