Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 15

Jihad (Kitab Al-Jihad)

كتاب الجهاد

From Sunan Abu Dawud - showing 111 of 311 hadiths in this chapter

Hadith 2677
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَقَدْ عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلاَسِلِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Our Lord Most High is charmed with people who will be led to Paradise in chains.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 201
Hadith 2678
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ وَكُنْتُ فِيهِمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الإِسْلاَمَ وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقْ مِنْكَ فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا ‏.‏

Narrated Jundub ibn Makith:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent Abdullah ibn Ghalib al-Laythi along with a detachment and I was also with them. He ordered them to attach Banu al-Mulawwih from all sides at al-Kadid. So we went out and when we reached al-Kadid we met al-Harith ibn al-Barsa al-Laythi, and seized him. He said: I came with the intention of embracing Islam, and I came out to go to the Messenger of Allah (ﷺ). We said: If you are a Muslim, there is no harm if we keep you in chains for a day and night; and if you are not, we shall tie you with chains. So we tied him with chains.

جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا ، میں بھی انہیں میں تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں ، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے ، ہم نے اسے پکڑ لیا ، وہ کہنے لگا : میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں ، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا ، ہم نے کہا : اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے ، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 202
Hadith 2679
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَ مِثْلَ هَذَا الْكَلاَمِ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ فِيهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ عِيسَى أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَقَالَ ذَا ذِمٍّ ‏.‏

Abu Hurairah said “ The Apostle of Allaah(ﷺ) sent some horsemen to Najd and they brought a man of the Banu Hanifah called Thumamah bint Uthal who was the chief of the people of Al Yamamah and bound him to one of the pillars of the mosque. The Apostle of Allaah(ﷺ) came out to him and said “What are you expecting, Thumamah?”. He replied “I expect good, Muhammad. If you kill (me), you will kill one whose blood will be avenged, if you show favor, you will show it to one who is grateful and if you want property and ask you will be given as much of it as you wish. The Apostle of Allaah(ﷺ) left him till the following day and asked him ”What are you expecting, Thumamah?” He repeated the same words (in reply). The Apostle of Allaah(ﷺ)left him till the day after the following one and he mentioned the same words. The Apostle of Allaah(ﷺ) then said “Set Thumamah free.” He went off to some palm trees near the mosque. He took a bath there and entered the mosque and said “I testify that there is no god but Allaah and I testify that Muhammd is His servant and His apostle. He then narrated the rest of the tradition. The narrator ‘Isa said “Al Laith narrated to us”. He said “a man of respect and reverence.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کو گرفتار کر کے لائے ، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے ، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور پوچھا : ” ثمامہ ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ “ کہا : اے محمد ! میرے پاس خیر ہے ، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک مستحق شخص کو قتل کریں گے ، اور اگر احسان کریں گے ، تو ایک قدرداں پر احسان کریں گے ، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے ، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ “ تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا ، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو ، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے ، غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله» پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا ۔ عیسیٰ کہتے ہیں : مجھ سے لیث نے «ذَاْ دَمٍ» کے بجائے «ذَا ذِمٍّ» ( یعنی ایک عزت دار کو قتل کرو گے ) روایت کی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 203
Hadith 2680
Chapter 971: Regarding Shackling Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ قُدِمَ بِالأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمْ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَىْ عَفْرَاءَ قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ وَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أَتَيْتُ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ الأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُمَا قَتَلاَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَكَانَا انْتَدَبَا لَهُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ وَقُتِلاَ يَوْمَ بَدْرٍ ‏.‏

Narrated Sawdah daughter of Zam'ah:

Yahya ibn Abdullah said: When the captives (of the battle of Badr) were brought, Sawdah daughter of Zam'ah was present with the children of Afra' at the halting place of their camels, that is, Awf and Mu'awwidh sons of Afra'. This happened before the prescription of veil for them. Sawdah said: I swear by Allah, I was with them when I came (from there to the people) and I was told: These are captives recently brought (here). I returned to my house, and the Messenger of Allah (ﷺ) was there, and AbuZayd Suhayl ibn Amr was in the corner of the apartment and his hands were tied up on his neck with a rope. He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: They (the sons of 'Afra') killed Abu Jahl b. Hisham. They were deputed for him though they did not realize him: and they were killed in the battle of Badr.

یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا ، اور سودہ بنت زمعہ ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے ، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے ، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : قسم اللہ کی ! میں انہیں کے پاس تھی ، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں ، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں تھا ، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہیں دونوں ( عوف و معوذ ) نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا ، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالانکہ اسے پہچانتے نہ تھے ، یہ دونوں بدر کے دن مارے گئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 204
Hadith 2681
Chapter 972: Regarding Abusing And Beating A Captive, (And Confession) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَدَبَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقُوا إِلَى بَدْرٍ فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا قُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ فَيَقُولُ وَاللَّهِ مَا لِي بِشَىْءٍ مِنْ أَمْرِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ‏.‏ فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَيَقُولُ دَعُونِي دَعُونِي أُخْبِرْكُمْ ‏.‏ فَإِذَا تَرَكُوهُ قَالَ وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ أَقْبَلُوا ‏.‏ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ يَسْمَعُ ذَلِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ لِتَمْنَعَ أَبَا سُفْيَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ ‏"‏ وَهَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ ‏"‏ وَهَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاوَزَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُخِذَ بِأَرْجُلِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ ‏.‏

Anas said “The Apostle of Allaah(ﷺ) called on his Companions and they proceeded towards Badr. Suddenly they found the watering Camels of the Quraish, there was among them a black slave of Banu Al Hajjaj. The Companions of the Apostle of Allaah(ﷺ) seized him and began to ask “Where is Abu Sufyan?” He said “I swear by Allaah, I do not know anything about him, but this is the Quraish who have come here, among them are Abu Jahl, ‘Utbah, Shaibah the two sons of Rabi’ah and Umayyah bin Khalaf. When he aid this to them, they beat him and he began to say “Leave me, leave me. I shall tell you. When they left him he said “I know nothing about Abu Sufyan, but this is the Quraish who have come (here), among them are Abu Jahl, ‘Utbah, Shaibah the two sons of Rab’iah and Umayyah bin Khalaf who have come here. The Prophet (ﷺ) was praying and hearing all that (dialogue). When he finished, he said “By Him in Whose hand my soul is, you beat him when he speaks the truth to you and you leave him when he tells a lie. This is the Quraish who have come here to defend Abu Sufyan. Anas said, The Apostle of Allaah(ﷺ) said “This will be the place of falling of so and so tomorrow and he placed his hand on the ground. This will be the place of falling of so and so tomorrow and he put his hand on the ground. And this will be the place of falling of so and so tomorrow and he put his hand on the ground. He (Ansas) said “By Him in Whose hand my soul is, no one fell beyond the place of the hand of the Apostle of Allaah(ﷺ), The Apostle of Allaah(ﷺ) ordered for them, and they were caught by their feet and dragged and thrown in a well at Badr.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بلایا ، وہ سب بدر کی طرف چلے ، اچانک قریش کے پانی والے اونٹ ملے ان میں بنی حجاج کا ایک کالا کلوٹا غلام تھا ، صحابہ کرام نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ بتاؤ ابوسفیان کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں ، البتہ قریش کے لوگ آئے ہیں ان میں ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں ، جب اس نے یہ کہا تو صحابہ کرام اسے مارنے لگے ، وہ بولا : مجھے چھوڑ دو ، مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں بتاتا ہوں ، جب اس کو چھوڑا تو پھر وہ یہی بات کہنے لگا : اللہ کی قسم مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں البتہ قریش آئے ہیں ان میں ابوجہل ، ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ و شیبہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں ، ( اس وقت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اسے سن رہے تھے ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب وہ تم سے سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو ، ( ابوسفیان تو شام کے قافلہ کے ساتھ مال لیے ہوئے آ رہا ہے ) اور یہ قریش کے لوگ ہیں اس کو بچانے کے لیے آئے ہیں “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل یہاں فلاں کی لاش گرے گی “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ، ” کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ، ” اور کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ۱؎ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلہ میں حکم دیا تو ان کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے انہیں بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 205
Hadith 2682
Chapter 973: Regarding Compelling A Captive To Accept Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي السِّجِسْتَانِيَّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَهَذَا، لَفْظُهُ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَكُونُ مِقْلاَتًا فَتَجْعَلُ عَلَى نَفْسِهَا إِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ أَنْ تُهَوِّدَهُ فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ كَانَ فِيهِمْ مِنْ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ فَقَالُوا لاَ نَدَعُ أَبْنَاءَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَىِّ ‏}‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمِقْلاَتُ الَّتِي لاَ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی ، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے ، انصار نے کہا : ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ : ۲۵۶ ) ” دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 206
Hadith 2683
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَسَمَّاهُمْ وَابْنُ أَبِي سَرْحٍ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ أَلاَ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الأَعْيُنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَكَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَخَا عُثْمَانَ لأُمِّهِ وَضَرَبَهُ عُثْمَانُ الْحَدَّ إِذْ شَرِبَ الْخَمْرَ ‏.‏

Narrated Sa'd:

On the day when Mecca was conquered, the Messenger of Allah (ﷺ) gave protection to the People except four men and two women and he named them. Ibn AbuSarh was one of them. He then narrated the tradition. He said: Ibn AbuSarh hid himself with Uthman ibn Affan. When the Messenger of Allah (ﷺ) called the people to take the oath of allegiance, he brought him and made him stand before the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Messenger of Allah, receive the oath of allegiance from him. He raised his head and looked at him thrice, denying him every time. After the third time he received his oath. He then turned to his Companions and said: Is not there any intelligent man among you who would stand to this (man) when he saw me desisting from receiving the oath of allegiance, and kill him? They replied: We do not know, Messenger of Allah, what lies in your heart; did you not give us an hint with your eye? He said: It is not proper for a Prophet to have a treacherous eye. Abu Dawud said: 'Abd Allah (b. Abi Sarh) was the foster brother of 'Uthman, and Walid b. 'Uqbah was his brother by mother, and 'Uthman inflicted on him hadd punishment when he drank wine.

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی ، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا ، رہا ابن ابی سرح تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا ، اور کہا : اللہ کے نبی ! عبداللہ سے بیعت لیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا ، تین بار ایسا ہی کیا ، ہر بار آپ انکار کرتے رہے ، تین بار کے بعد پھر اس سے بیعت لے لی ، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں تھا کہ جس وقت میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک رکھا تھا ، اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں آپ کے دل کا حال نہیں معلوم تھا ، آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہیں کر دیا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کنکھیوں سے اشارے کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ عثمان کا اخیافی بھائی تھا ، اس نے شراب پی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 207
Hadith 2684
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤْمِنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّاهُمْ ‏.‏ قَالَ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأُفْلِتَتِ الأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ أَفْهَمْ إِسْنَادَهُ مِنِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَمَا أُحِبُّ ‏.‏

Narrated Sa'id ibn Yarbu' al-Makhzumi:

The Prophet (ﷺ) said: on the day of the conquest of Mecca: There are four persons whom I shall not give protection in the sacred and non-sacred territory. He then named them. There were two singing girls of al-Maqis; one of them was killed and the other escaped and embraced Islam. Abu Dawud said: I could not understand its chain of narrators from Ibn al-'Ala' as I liked.

سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا : ” چار آدمیوں کو میں حرم اور حرم سے باہر کہیں بھی امان نہیں دیتا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام لیے ، اور مقیس کی دو لونڈیوں کو ، ایک ان میں سے قتل کی گئی ، دوسری بھاگ گئی پھر وہ مسلمان ہو گئی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 208
Hadith 2685
Chapter 974: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ‏ "‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ابْنُ خَطَلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ أَبُو بَرْزَةَ الأَسْلَمِيُّ قَتَلَهُ ‏.‏

Anas bin Malik said “The Apostle of Allaah(ﷺ) entered Makkah in the year of the conquest (of Makkah) wearing a helmet on his head. When he took off it a man came to him and said “Ibn Akhtal is hanging with the curtains of the Ka’bah.” He said “Kill him”. Abu Dawud said “The name of Ibn Akhtal is ‘Abd Allaah and Abu Barzat Al Aslami killed him.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے ، آپ کے سر پر خود تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو قتل کر دو “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور اسے ابوبرزہ اسلمی نے قتل کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 209
Hadith 2686
Chapter 975: To Kill A Captive While Imprisioned - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ، مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلاً مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ مَنْ لِلصِّبْيَةِ قَالَ ‏ "‏ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

Ibrahim said: Ad-Dahhak ibn Qays intended to appoint Masruq as governor. Thereupon Umarah ibn Uqbah said to him: Are you appointing a man from the remnants of the murderers of Uthman? Masruq said to him: Ibn Mas'ud narrated to us, and he was trustworthy in respect of traditions, that when the Prophet (ﷺ) intended to kill your father, he said: Who will look after my children? He replied: Fire. I also like for you what the Messenger of Allah (ﷺ) liked for you.

ابراہیم کہتے ہیں کہ

ضحاک بن قیس نے مسروق کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ نے ان سے کہا : کیا آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک شخص کو عامل بنا رہے ہیں ؟ تو مسروق نے ان سے کہا : مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ہم میں حدیث ( بیان کرنے ) میں قابل اعتماد تھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ ( عقبہ ۱؎ ) کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا : میرے لڑکوں کی خبرگیری کون کرے گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ ۲؎ پس میں تیرے لیے اسی چیز سے راضی ہوں جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوئے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 210
Hadith 2687
Chapter 976: To Kill A Captive With An Arrow - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ تِعْلَى، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاَجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ بِالنَّبْلِ صَبْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ‏.‏

Narrated Ibn Ti'li:

We fought along with AbdurRahman ibn Khalid ibn al-Walid. Four infidels from the enemy were brought to him. He commanded about them and they were killed in confinement. Abu Dawud said: The narrators other than Sa'id reported from Ibn Wahb in this tradition: "(killed him) with arrows in confinement." When Abu Ayyub al-Ansari was informed about it, he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting to kill in confinement. By Him in Whose hands my soul is, if there were a hen, I would not kill it in confinement. 'Abd al-Rahman b. Khalid b. al-Walid was informed about it (the Prophet's prohibition). He set four slaves free.

ابن تعلی کہتے ہیں کہ

ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے ، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں ، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے ( اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے ) چار غلام آزاد کئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 211
Hadith 2688
Chapter 977: Regarding The Generosity In Freeing A Captive Without Any Ransom - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏

Anas said “Eighty Meccans came down from the mountain of Al Tan’im against the Prophet(ﷺ) and his Companions at the (time of the) dawn prayer to kill them. The Apostle of Allaah(ﷺ) took them captive without fighting and the Apostle of Allaah(ﷺ) set them free. Thereupon Allaah Most High sent down “He it is Who averted their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah,” till the end of the verse.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية ( سورۃ الفتح : ۲۴ ) ” اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 212
Hadith 2689
Chapter 977: Regarding The Generosity In Freeing A Captive Without Any Ransom - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُسَارَى بَدْرٍ ‏ "‏ لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

Jubair bin Mut’im reported the Prophet (ﷺ) as saying about the prisoners taken at Badr. If Mut’im bin ‘Adi had been alive and spoken to me about these filthy ones, I would have left them for him.

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا : ” اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 213
Hadith 2690
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - الْفِدَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ ‏}‏ مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمُ اللَّهُ الْغَنَائِمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ أَيْشٍ تَصْنَعُ بِاسْمِهِ اسْمُهُ اسْمٌ شَنِيعٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ ‏.‏

‘Umar bin Al Khattab said “During the battle of Badr, the Prophet (ﷺ) took ransom”. Thereupon Allaah Most High sent down “It is not fitting for an Apostle that he should have prisoners of war until he hath thoroughly subdued the land. You look on the temporal goods of this world, but Allaah looketh to the Hereafter”. And Allaah is exalted in might and Wise. Had it not been for a previous ordainment from Allaah, a severe penalty would have reached you for the (ransom) that you took. Allaah then made the spoils of war lawful. Abu Dawud said “I heard that Ahmad bin Hanbal was asked about the name of Abu Nuh”. He said “What will you do with his name? His name is a bad one. Abu Dawud said “the name of Abu Nuh is Qurad. What is correct is that his name is ‘Abd Al Rahman bin Ghazwan.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک ” نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں ، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے ، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی “ ( سورۃ الأنفال : ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 214
Hadith 2691
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ فِدَاءَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعَمِائَةٍ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) fixed the ransom of the people of pre-Islamic Arabia at four hundred dirhams per head on the day of the battle of Badr.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن جاہلیت کے لوگوں کا فدیہ فی آدمی چار سو مقرر کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 215
Hadith 2692
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلاَدَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ ‏"‏ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ عَلَيْهِ أَوْ وَعَدَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ كُونَا بِبَطْنِ يَأْجِجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بِهَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

When the people of Mecca sent about ransoming their prisoners Zaynab sent some property to ransom Abul'As, sending among it a necklace of hers which Khadijah had had, and (which she) had given to her when she married Abul'As. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw it, he felt great tenderness about it and said: If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her, (it will be well). They said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) made an agreement with him that he should let Zaynab come to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) sent Zayd ibn Harithah and a man of the Ansar (the Helpers) and said: Wait in the valley of Yajij till Zaynab passes you, then you should accompany her and bring her back.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ ۱؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا ، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو ، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو “ ، لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے ، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا ، اور فرمایا : ” تم دونوں ” بطن یأجج “ میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 216
Hadith 2693
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، - يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ - قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِمَّا السَّبْىَ وَإِمَّا الْمَالَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا ‏.‏

Marwan and Al Miswar bin Makhramah told that when the deputation of the Hawazin came to the Muslims and asked the Apostle of Allaah(ﷺ) to return to them their property, the Apostle of Allaah(ﷺ) said to them “with me are those whom you see”. The speech dearest to me is the one which is true, so choose (one of the two) either the captives or the property. They said “We choose our captives. The Apostle of Allaah(ﷺ) stood up, extolled Allaah and then said “To proceed, your brethren have come repentant I have considered that I should return their captives to them, so let those of you who are willing to release the captives act accordingly, but those who wish to hold on to what they have till we give them some of the first booty Allaah gives us may do so. The people said “We are willing for that (to release their captives), Apostle of Allaah. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “We cannot distinguish between those of you who have granted that and those who have not , so return till your headmen may tell us about your affair. The people then returned and their headmen spoke to them, then they informed that they were agreeable and had given their permission.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو ، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں ( کی واپسی ) اختیار کر لو یا مال “ ، انہوں نے کہا : ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا : ” تمہارے یہ بھائی ( شرک سے ) توبہ کر کے آئے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ، اور کس نے نہیں دی ؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں “ ، لوگ لوٹ گئے ، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 217
Hadith 2694
Chapter 978: Regarding Ransoming Captives With Wealth - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ دَنَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ ‏"‏ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا ‏.‏ وَنَبَذَهَا ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Return to them (Hawazin) their women and their sons. If any of you withholds anything from this booty, we have six camels for him from the first booty which Allah gives us. The Prophet (ﷺ) then approached a camel, and taking a hair from its hump said: O people, I get nothing of this booty, not even this (meanwhile raising his two fingers) but the fifth, and the fifth is returned to you, so hand over threads and needles. A man got up with a ball of hair in his hand and said: I took this to repair the cloth under a pack-saddle. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You can have what belongs to me and to the Banu al-Muttalib. He said: If it produces the result that I now realise, I have no desire for it.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو ، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا : ” لوگو ! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے “ ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا : ” یہاں تک کہ یہ ( بال ) بھی حلال نہیں سوائے خمس ( پانچواں حصہ ) کے ، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے ، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو “ ( یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا ، اس نے کہا : میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے “ ، تو اس نے کہا : جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اور اس نے اسے ( غنیمت کے مال میں ) پھینک دیا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 218
Hadith 2695
Chapter 979: Regarding The Leader Remaining At The Battlefield After Victory Over The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَلَبَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَطْعَنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ سَعِيدٍ لأَنَّهُ تَغَيَّرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُخْرِجْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ بِأَخَرَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يُقَالُ إِنَّ وَكِيعًا حَمَلَ عَنْهُ فِي تَغَيُّرِهِ ‏.‏

Abu Talhah said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) prevailed on any people, he stayed three nights in the field. Ibn Al Muthanna said “When he prevailed over people, he liked to stay three nights in the field.” Abu Dawud said “Yahya bin Sa’id used to object to this tradition for this is not from his early traditions because his memory was spoiled at the age of forty five. He narrated this tradition in the last days of his age.” Abu Dawud said “ It is said that Waki ‘ recived this tradition from him when his memory was spoiled.”

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے ۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے : جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید ( سعید ابن ابی عروبہ ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے ، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا ، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 219
Hadith 2696
Chapter 980: Regarding Separating Captives - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ وَرَدَّ الْبَيْعَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا قُتِلَ بِالْجَمَاجِمِ وَالْجَمَاجِمُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالْحَرَّةُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ سَنَةَ ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Ali separated between a slave-girl and her child. The Prophet (ﷺ) prohibited it and made the sale transactions withdrawn. Abu Dawud said: The narrator Maimun (b. Abi Shaib) did not meet 'Ali. He (Maimun) was killed in the battle of Jamajim in 83 A.H. Abu Dawud said: The battle of Harrah took place in 63 A.H., and Ibn al-Zubair was killed in 73 A.H.

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ، اور بیع کو رد کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میمون نے علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے ، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے ، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے ، نیز واقعہ حرہ ( ۶۳ ہجری ) میں پیش آیا ، اور ابن زبیر ( ۷۳ ہجری ) میں قتل ہوئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 220
Hadith 2697
Chapter 981: The Permissiong To Separate In The Case Of Those (Captives) Who Reached Puberty - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا فَجِئْتُ بِهِمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ وَعَلَيْهَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّوقِ فَقَالَ ‏"‏ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ ‏.‏ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَادَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ‏.‏

Salamah said “We went out (on an expedition) with Abu Bakr. The Apostle of Allaah(ﷺ) appointed him commander over us. We attacked Fazarah and took them from all sides. I then saw a group of people which contained children and women. I shot an arrow towards them, but it fell between them and the mountain. They stood; I brought them to Abu Bakr. There was among them a woman of Fazarah. She wore a skin over her and her daughter who was the most beautiful of the Arabs was with her. Abu Bakr gave her daughter to me as a reward. I came back to Madeenah. The Apostle of Allaah(ﷺ) met me and said to me “Give me the woman, Salamah. I said to him, I swear by Allaah, she is to my liking and I have not yet untied he garment. He kept silence, and when the next day came the Apostle of Allaah(ﷺ) met me in the market and said to me “Give me the woman, Salamah, by Allaah, your father. I said the Apostle of Allaah, I have not yet untied her garment. I swear by Allaah, she is now yours. He sent her to the people of Makkah who had (some Muslims) prisoners in their hands. They released them for this woman.

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا ، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی ، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا ، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں ، تو میں نے ایک تیر چلائی ، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے ، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی ، وہ کھال پہنے ہوئی تھی ، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا ، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” سلمہ ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو “ ، میں نے کہا : اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے ، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے ، آپ خاموش ہو گئے ، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا : ” سلمہ ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو ، قسم ہے اللہ کی “ ۱؎ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے ، اور وہ آپ کے لیے ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا ، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 221
Hadith 2698
Chapter 982: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلاَمًا، لاِبْنِ عُمَرَ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يُقْسَمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ غَيْرُهُ رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

Nafi' said that a slave of Ibn Umar ran away to the enemy, and then the Muslims overpowered them. The Messenger of Allah (ﷺ) returned him to Ibn Umar and that was not distributed (as a part of booty). Abu Dawud said: The other narrators said: Khalid b. al-Walid returned him to him (Ibd 'Umar).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا ، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 222
Hadith 2699
Chapter 982: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِأَرْضِ الرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Nafi said that a horse of Ibn ‘Umar went away and the enemy seized it. The Muslims overpowered them. Khalid bin Walid returned it to him after the Prophet (ﷺ).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا ، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا گیا ، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا ، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ( بھی ) انہیں غلام واپس لوٹا دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 223
Hadith 2700
Chapter 983: Regarding Slavs Of The Idolaters Who Join the Muslims And Accept Islam - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ - قَبْلَ الصُّلْحِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ فَقَالَ نَاسٌ صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ ‏.‏ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ مَا أُرَاكُمْ تَنْتَهُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ ‏"‏ هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Some slaves (of the unbelievers) went out to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of al-Hudaybiyyah before treaty. Their masters wrote to him saying: O Muhammad, they have not gone out to you with an interest in your religion, but they have gone out to escape from slavery. Some people said: They have spoken the truth, Messenger of Allah, send them back to them. The Messenger of Allah (ﷺ) became angry and said: I do not see your restraining yourself from this action), group of Quraysh, but that Allah send someone to you who strike your necks. He then refused to return them, and said: They are emancipated (slaves) of Allah, the Exalted.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

غزوہ حدیبیہ میں صلح سے پہلے کچھ غلام ( بھاگ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تو ان کے مالکوں نے آپ کو لکھا : اے محمد ! اللہ کی قسم ! یہ غلام تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں ، یہ تو فقط غلامی کی قید سے بھاگ کر آئے ہیں ، تو کچھ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان لوگوں نے سچ کہا : انہیں مالکوں کے پاس واپس لوٹا دیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے ۱؎ اور فرمایا : ” قریش کے لوگو ، میں تم کو باز آتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تمہارے اوپر اس شخص کو بھیجے جو اس پر ۲؎ تمہاری گردنیں مارے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس لوٹانے سے انکار کیا اور فرمایا : ” یہ اللہ عزوجل کے آزاد کئے ہوئے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 224
Hadith 2701
Chapter 984: Permitting Food In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ جَيْشًا، غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا وَعَسَلاً فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

In the time of the Messenger of Allah (ﷺ) an army got food and honey and a fifth was not taken from them.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( دوران جنگ ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 225
Hadith 2702
Chapter 984: Permitting Food In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ هِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لاَ أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَسَّمُ إِلَىَّ ‏.‏

‘Abd Allaah bin Mughaffal said “On the day of Khaibar a skin of fat was hanging. I came to it and clung to it. I then said (i.e., thought) I shall not give any one any of it today. I then turned round and saw the Apostle of Allaah(ﷺ) smiling at me.

عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا ، پھر میں نے کہا : آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا ، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 226
Hadith 2703
Chapter 985: Regarding The Prohibition Of Plundering When Food Is Scarce In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لُبَيْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ بِكَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنِ النُّهْبَى ‏.‏ فَرَدُّوا مَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ ‏.‏

Narrated AbdurRahman ibn Samurah ibn Kabul:

AbuLabid said: We were with AbdurRahman ibn Samurah ibn Kabul. The people got booty and plundered it. He stood and addressed (the people): I heard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting getting property from the booty before its distribution. Therefore, they returned what they had taken, He then distributed it among them.

ابو لبید کہتے ہیں کہ

ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا ، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے ، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا ، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 227
Hadith 2704
Chapter 985: Regarding The Prohibition Of Plundering When Food Is Scarce In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ قُلْتُ هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ - يَعْنِي الطَّعَامَ - فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn AbuAwfa:

Muhammad ibn AbulMujahid reported Abdullah ibn AbuAwfa as saying: I asked: Did you set aside the fifth of the food in the time of the Messenger of Allah (ﷺ)? He replied: On the day of Khaybar we captured food and a man would come and take as much food of it as needed and then go away.

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے پوچھا : کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 228
Hadith 2705
Chapter 985: Regarding The Prohibition Of Plundering When Food Is Scarce In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، - يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ وَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي عَلَى قَوْسِهِ فَأَكْفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِهِ ثُمَّ جَعَلَ يُرَمِّلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ النُّهْبَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ النُّهْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ الشَّكُّ مِنْ هَنَّادٍ ‏.‏

Narrated A man of the Ansar:

Kulayb reported from a man of the Ansar. He said: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. The people suffered from intense need and strain. They gained booty and then plundered it. While our pots were boiling the Messenger of Allah (ﷺ) came walking with his bow touching the ground. He turned over our pots with his bow and smeared the meat with the soil, and said: "Plunder is more unlawful than carrion," or he said: "Carrion is more unlawful than plunder." The narrator Hannad was doubtful.

ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں ، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا ، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے ، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے ، اور فرمایا : ” لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں “ ، یا فرمایا : ” مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں “ ، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 229
Hadith 2706
Chapter 986: Regarding Carrying Food Out Of The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ حَرْشَفٍ الأَزْدِيَّ، حَدَّثَهُ عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كُنَّا نَأْكُلُ الْجَزْرَ فِي الْغَزْوِ وَلاَ نَقْسِمُهُ حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وَأَخْرِجَتُنَا مِنْهُ مُمْلاَةٌ ‏.‏

Narrated One of the Companion:

Al-Qasim, the client of AbdurRahman, quoted one of the Companion of the Prophet (ﷺ) as saying: We would eat a camel on an expedition without dividing it, and when we returned to our dwellings our saddle-bags would be full with its flesh.

بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ

ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوات میں گاجر کھاتے تھے ، ہم اسے تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم اپنے مکانوں کی طرف لوٹتے اور ہمارے برتن اس سے بھرے ہوتے تھے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 230
Hadith 2707
Chapter 987: Regarding Selling Food When There Is Surplus For The People In The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْعَزِيزِ، - شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الأُرْدُنِّ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ رَابَطْنَا مَدِينَةَ قِنَّسْرِينَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ فَلَمَّا فَتَحَهَا أَصَابَ فِيهَا غَنَمًا وَبَقَرًا فَقَسَمَ فِينَا طَائِفَةً مِنْهَا وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ فَلَقِيتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ مُعَاذٌ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَأَصَبْنَا فِيهَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَائِفَةً وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ ‏.‏

Narrated Mu'adh ibn Jabal:

AbdurRahman ibn Ghanam said: We were stationed at the frontiers of the city of Qinnisrin with Shurahbil ibn as-Simt. When he conquered it, he got sheep and cows there. He distributed some of them amongst us, and deposited the rest of them in the spoils of war. I met Mu'adh ibn Jabal and mentioned it to him. Mu'adh said: we went on an expedition of Khaybar along with the Messenger of Allah (ﷺ) and we got spoils there. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them among us and placed the rest of them in the booty.

عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ

ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا ، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں ، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے بیان کیا ، تو آپ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 231
Hadith 2708
Chapter 988: Regarding A Man Benefits From Something In The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَنَا لِحَدِيثِهِ، أَتْقَنُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، مَوْلَى تُجَيْبٍ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَىْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَىْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ruwayfi' ibn Thabit al-Ansari:

The Prophet (ﷺ) said: He who believes in Allah and the Last Day must not ride on packhorse belonging to the booty of the Muslims and put it back when he has emaciated it; and he who believes in Allah and the Last Day must not wear a garment belonging to the booty of the Muslims and put it back when he made it threadbare.

رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 232
Hadith 2709
Chapter 989: Regarding The Permissibility Of Using The Weapons That Have Been Used For Fighting In The Battlefield - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرَرْتُ فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ صَرِيعٌ قَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ يَا أَبَا جَهْلٍ قَدْ أَخْزَى اللَّهُ الأَخِرَ ‏.‏ قَالَ وَلاَ أَهَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبْعَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا حَتَّى سَقَطَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى بَرَدَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

I passed when AbuJahl had fallen as his foot was struck (with the swords). I said: O enemy of Allah, AbuJahl, Allah has disgraced a man who was far away from His mercy. I did not fear him at that moment. He replied: It is most strange that a man has been killed by his people. I struck him with a blunt sword. But it did not work, and then his sword fell down from his hand, I struck him with it until he became dead.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں ( غزوہ بدر میں ) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا ، اس کا پاؤں زخمی تھا ، میں نے کہا : اللہ کے دشمن ! ابوجہل ! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا ، اس پر اس نے کہا : اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں ، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی ، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو ( دوبارہ ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 233
Hadith 2710
Chapter 990: Regarding The Gravity Of Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لاَ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ ‏.‏

Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani:

A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) died on the day of Khaybar. They mentioned the matter to the Messenger of Allah. He said: Offer prayer over your companion. When the faces of the people looked perplexed, he said: Your companion misappropriated booty in the path of Allah. We searched his belongings and found some Jewish beads not worth two dirhams.

زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا ، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “ ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے “ ، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 234
Hadith 2711
Chapter 990: Regarding The Gravity Of Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ يَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا إِلاَّ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ - قَالَ - فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ وَادِي الْقُرَى وَقَدْ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادِي الْقُرَى فَبَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah said “We went out along with the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Khaibar. We did not get gold or silver in the booty of war except clothes, equipment and property. The Apostle of Allaah(ﷺ) sent (a detachment) towards Wadi Al Qura. The Apostle of Allaah(ﷺ) was presented a black slave called Mid’am. And while they were in Wadi Al Qura and Mid’am was unsaddling a Camel belonging to the Apostle of Allaah(ﷺ) he was struck by a random arrow which killed him. The people said “Congratulations to him, he will go to paradise. But the Apostle of Allaah(ﷺ) said “Not at all. By Him in Whose hand my soul is the cloak he took on the day of Khaibar from the spoils which was not among the shares divided will blaze with fire upon him. When they (the people) heard that, a man brought a sandal strap or two sandal straps to the Apostle of Allaah(ﷺ). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “A sandal strap of fire or two sandal straps of fire.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال نکلے ، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی ، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا ، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا ، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا ، لوگوں نے کہا : اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے “ ، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ آگ کا ایک تسمہ ہے “ یا فرمایا : ” آگ کے دو تسمے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 235
Hadith 2712
Chapter 991: Regarding The Imam Leaving the Ghulul When It Is Minimal, And Not Burning The Equipment - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ - عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَى فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَسَمِعْتَ بِلاَلاً يُنَادِي ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

When the Messenger of Allah (ﷺ) gained booty he ordered Bilal to make a public announcement. He made a public announcement, and when the people brought their booty, he would take a fifth and divide it. Thereafter a man brought a halter of hair and said: Messenger of Allah, this is a part of the booty we got. He asked: Have you heard Bilal making announcement three times? He replied: Yes. He asked: What did prevent you from bringing it? He made some excuse, to which he said: Be (as you are), you may bring it on the Day of Judgment, for I shall not accept it from you.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے ، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ “ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ لے جاؤ ، قیامت کے دن لے کر آنا ، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 236
Hadith 2713
Chapter 992: Regarding Punishing The One Who Commits Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، - قَالَ النُّفَيْلِيُّ الأَنْدَرَاوَرْدِيُّ - عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَصَالِحٌ هَذَا أَبُو وَاقِدٍ - قَالَ دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ فَقَالَ بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ ‏.‏

Narrated Umar ibn al-Khattab:

Salih ibn Muhammad ibn Za'idah (AbuDawud said: This Salih is AbuWaqid) said: We entered the Byzantine territory with Maslamah. A man who had been dishonest about booty was brought. He (Maslamah) asked Salim about him. He said: I heard my father narrating from Umar ibn al-Khattab from the Prophet (ﷺ). He said: When you find a man who has been dishonest about booty, burn his property, and beat him. He beat him. He said: We found in his property a copy of the Qur'an. He again asked Salim about it. He said: Sell it and give its price in charity.

صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ

میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی ، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا : میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ، اور اسے مارو ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا ، انہوں نے کہا : اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 237
Hadith 2714
Chapter 992: Regarding Punishing The One Who Commits Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الأَنْطَاكِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ وَطِيفَ بِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ سَهْمَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ هِشَامٍ حَرَّقَ رَحْلَ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ - وَكَانَ قَدْ غَلَّ - وَضَرَبَهُ ‏.‏

Salih bin Muhammad said “We went out on an expedition with Al Walid bin Hisham and Salim bin ‘Abd Allaah bin ‘Umat and ‘Umar bin ‘Abd Al Aziz were with us. A man had been dishonest about booty. Al Walid ordered to burn his property and it was circulated (among the people). He did not give him his share. Abu Dawud said “This is sounder of the two traditions. Others narrated that Al Walid bin Hashim burnt the Camel saddle of Ziyad bin Sa’d “He had been dishonest about booty and he beat him.”

صالح بن محمد کہتے ہیں کہ

ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے ، ایک شخص نے مال غنیمت سے ایک سامان چرا لیا تو ولید بن ہشام کے حکم سے اس کا سامان جلا دیا گیا ، پھر وہ سب لوگوں میں پھرایا گیا اور اسے اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دونوں حدیثوں میں سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ، اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کے ساز و سامان کو اس لیے جلوا دیا تھا کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی ، اور اسے زد و کوب بھی کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 238
Hadith 2715
Chapter 992: Regarding Punishing The One Who Commits Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ عَنِ الْوَلِيدِ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ - وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ مَنَعَ سَهْمَهُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ), AbuBakr and Umar burned the belongings of anyone who had been dishonest about booty and beat him. Abu Dawud said: 'Ali b. Bahr added on the authority of al-Walid, and I did not hear (a tradition) from him: And they denied him his share." Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Walid b. 'Utbah from 'Abd al-Wahhab b. Najdah; They said: This has been transmitted by al-Walid, from Zuhair b. Muhammad, from 'Amr b. Shu'aib. 'Abd al-Wahhab b. Najdah al-Huti did not mention the words "He denied him his share" (as narrated by 'Ali b. Bahr from al-Walid).

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا ، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے ” حصہ سے محروم کر دینے “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 239
Hadith 2716
Chapter 993: The Prohibition Of Harboring A Person Who Committed Ghulul - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ أَمَّا بَعْدُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَتَمَ غَالاًّ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Samurah ibn Jundub:

The Prophet (ﷺ) said: To begin with, anyone who conceals one who has been dishonest about booty is like him.

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

انہوں نے حمد و صلاۃ کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی جیسا ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 240
Hadith 2717
Chapter 994: Regarding The Salab (Spoils) Being Given To The Person Who Killed - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عَامِ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ - قَالَ - فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ - فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ فَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّانِيَةَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لاَهَا اللَّهِ إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَأَعْطَانِيهِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏

Abu Qatadah said “We went out with the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Hunain. And when the armies met, the Muslims suffered a reverse. I saw one of the polytheists prevailing over a Muslim, so I went round him till I came to him from behind and struck him with my sword at the vein between his neck and shoulder. He came towards me and closed with me, so that I felt death was near, but he was overtaken by death and let me go. I then caught upon on “Umar bin Al Khattab and said to him “What is the matter with the people?” He said “It is what Allaah has commanded. Then the people returned and the Apostle of Allaah(ﷺ)sat down and said “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down.” He said again “If anyone kills a man and can prove it, he will get his spoil. I stood up and said “Who will testify for me? I then sat down.” He then said the same for the third time. I then stood up. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “What is the matter with you, Abu Qatadah? I told him the story. A man from the people said “He has spoken the truth, and I have this spoil with me, so make him agreeable (to take something in exchange). Abu Bakr said “In that case I swear by Allaah that he must not do so. One of the Allaah’s heroes does not fight for Allaah and his Apostle and then give you his spoil. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “He has spoken the truth, hand it over to him. Abu Qatadah said “he handed it over to me, I sold the coat of mail and brought a garden among Banu Salamh. This was the first property I acquired in the Islamic period.

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے ، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی ، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے ، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا ، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی ، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : وہی ہوا جو اللہ کا حکم تھا ، پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا : ” جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۱؎ “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( جب میں نے یہ سنا ) تو میں اٹھ کھڑا ہوا ، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا : ” جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جب میں نے یہ سنا ) تو اٹھ کھڑا ہوا ، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوقتادہ کیا بات ہے ؟ “ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا ، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے ، آپ ان کو اس بات پر راضی کر لیجئے ( کہ وہ مال مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سچ کہہ رہے ہیں ، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو “ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس نے مجھے دے دیا ، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا ، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 241
Hadith 2718
Chapter 994: Regarding The Salab (Spoils) Being Given To The Person Who Killed - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ - يَعْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ - ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلاً وَأَخَذَ أَسْلاَبَهُمْ وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ أَرَدْتُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُهُمْ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ ‏.‏ فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَرَدْنَا بِهَذَا الْخِنْجَرَ وَكَانَ سِلاَحَ الْعَجَمِ يَوْمَئِذٍ الْخِنْجَرُ ‏.‏

Anas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “He who kills and infidel gets his spoil.” Abu Talhah killed twenty men that day meaning the day of Hunain and got their spoils. Abu Talhah met Umm Sulaim who had a dagger with her. He asked “What is with you, Umm Sulaim”? She replied “I swear by Allaah, I intended that if anyone came near me I would pierce his belly with it. Abu Talhah informed the Apostle of Allaah(ﷺ)about it. Abu Dawud said “This is good (hasan) tradition." Abu Dawud said “By this was meant dagger. The weapon used by the Non – Arabs in those days was dagger.”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا : ” جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے “ ، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا : ام سلیم ! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی ، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے ، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 242
Hadith 2719
Chapter 995: Regarding The Imam Denying The Spoils (Salab To The Person Who Killed, If He Sees Fit To, And The Horse And Weapon Are Parts Of The Spoils (Salab) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ فَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذْهَبٌ وَسِلاَحٌ مُذْهَبٌ فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يُغْرِي بِالْمُسْلِمِينَ فَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَرَّ وَعَلاَهُ فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلاَحَهُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ قَالَ عَوْفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ ‏.‏ قُلْتُ لَتَرُدَّنَّهُ عَلَيْهِ أَوْ لأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ عَوْفٌ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا خَالِدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ‏"‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَكْثَرْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا خَالِدُ رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ لَهُ دُونَكَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا ذَلِكَ ‏"‏ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا خَالِدُ لاَ تَرُدَّ عَلَيْهِ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي لَكُمْ صِفْوَةُ أَمْرِهِمْ وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ ‏"‏ ‏.‏

‘Awf bin malik Al Ashja’I said “I went out with Zaid bin Harith in the battle of Mutah. For the reinforcement of the Muslim army a man from the people of Yemen accompanied me. He had only his sword with him. A man from the Muslims slaughtered a Camel. The man for the reinforcement asked him for a part of its skin which he gave him. He made it like the shape of a shield. We went on and met the Byzantine armies. There was a man among them on a reddish horse with a golden saddle and golden weapons. This Byzantinian soldiers began to attack the Muslims desperately. The man for reinforcement sat behind a rock for (attacking) him. He hamstrung his horse and overpowered him and then killed him. He took his horse and weapons. When Allah, Most High, bestowed victory on the Muslims. Khalid bin Al Walid sent for him and took his spoils. ‘Awf said “I came to him and said “Khalid, do you know that the Apostle of Allaah(ﷺ) had decided to give spoils to the killer? He said “Yes, I thought it abundant. I said “You should return it to him, or I shall tell you about it before the Apostle of Allaah(ﷺ). But he refused to return it. ‘Awf said “We then assembled with the Apostle of Allaah(ﷺ). I told him the story of the man of reinforcement and what Khalid had done. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, what made you do the work you have done?” He said “Apostle of Allaah(ﷺ), I considered it to be abundant. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, return it to him what you have taken from him.” ‘Awf said “I said to him “here you are, Khalid. Did I not keep my word? The Apostle of Allaah(ﷺ) said “What is that? I then informed him.” He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) became angry and said “Khalid, do not return it to him. Are you going to leave my commanders? You may take from them what is best for you and eave to them what is worst.

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہو گیا ، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا ، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی ، اس نے اسے دے دی ، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا ، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے ، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا ، اس پر ایک سنہری زین تھی ، ہتھیار بھی سنہرا تھا ، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا ، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے ، وہ گر پڑا ، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا ، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیجا اور سامان میں سے کچھ لے لیا ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : خالد ! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے ؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا ، تو میں نے کہا : تم یہ سامان اس کو دے دو ، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا ، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا ؟ “ خالد نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے زیادہ جانا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو “ ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا : خالد ! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کیا ہے ؟ “ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اسے آپ سے بتایا ۔ عوف کہتے ہیں : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے ، اور فرمایا : ” خالد ! واپس نہ دو ، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 243
Hadith 2720
Chapter 995: Regarding The Imam Denying The Spoils (Salab To The Person Who Killed, If He Sees Fit To, And The Horse And Weapon Are Parts Of The Spoils (Salab) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، نَحْوَهُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Awf bin Malik Al Ashja’I through a different chain of narrators.

اس سند سے بھی

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 244
Hadith 2721
Chapter 996: The Spoils(Salab) Are Not Be Subjected To The Khumus - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ وَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ ‏.‏

Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i ; Khalid ibn al-Walid:

The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgement that the killer should have what was taken from the man he killed, and did not make this subject to division into fifths.

عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا ، اور سلب سے خمس نہیں نکالا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 245
Hadith 2722
Chapter 997: Whoever Finishes Off A Severly Wounded Person, He Is Granted Some Of His Spoils (Salab) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ نَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ قَتَلَهُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

At the battle of Badr the Messenger of Allah gave me AbuJahl's sword, as I had killed him.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 246
Hadith 2723
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لاَ تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبَانُ أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اجْلِسْ يَا أَبَانُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Sa'id ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent AbuSa'id ibn al-'As with an expedition from Medina towards Najd. Aban ibn Sa'id and his companions came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Khaybar after it had been captured. The girths of their horses were made of palm fibres. Aban said: Give us a share (from the booty), Messenger of Allah. AbuHurayrah said: I said: Do not give them a share, Messenger of Allah. Aban said: Why are you talking so, Wabr. You have come to us from the peak of Dal. The Prophet (ﷺ) said: Sit down, Aban. The Messenger of Allah (ﷺ) did not give any share to them (from the booty).

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے ، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے ، تو ابان نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے : ہیں اس پر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے ، ابان نے کہا : تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر ! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابان تم بیٹھ جاؤ “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 247
Hadith 2724
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، وَسَأَلَهُ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَحَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَهَا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُسْهِمَ لِي فَتَكَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ لاَ تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَىَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَؤُلاَءِ كَانُوا نَحْوَ عَشَرَةٍ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَرَجَعَ مَنْ بَقِيَ ‏.‏

Abu Hurairah said “I came to Madeenah when the Abu Apostle of Allaah(ﷺ) was in Khaibar, after it was captured. I asked him to give me a share from the booty. A son of Sa’id bin Al ‘As spoke and said “Do not give him any share, Apostle of Allaah(ﷺ). I said “This is the killer of Ibn Qauqal.” (The son of) Sa’id bin Al ‘As said “Oh, how wonderful! A Wabr who came down to us from the peak of Dal blames me of having killed a Muslim whom Allaah honored at my hands and did not disgrace me at his hands. Abu Dawud said “They were about ten persons. Six of them were killed and the remaining returned.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! اسے حصہ نہ دیجئیے ، تو میں نے کہا : ابن قوقل کا قاتل یہی ہے ، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا : تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 248
Hadith 2725
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ قَالَ فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ فَأَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ ‏.‏

Abu Nusa said “We arrived just at the moment when the Apostle of Allaah(ﷺ) conquered Khaibar and he allotted us a portion (or he said he gave us some of it). He allotted nothing to anyone who was not present at the conquest of Khaybar, giving shares only to those who were present with him except for those who were in our ship, Ja’far and his companions to whom he gave (a portion) something along with them.

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم ( حبشہ سے ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) ہمارے لیے حصہ لگایا ، یا ہمیں اس میں سے دیا ، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے ، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 249
Hadith 2726
Chapter 998: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ - يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ - فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَهْمٍ وَلَمْ يَضْرِبْ لأَحَدٍ غَابَ غَيْرُهُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Messenger of Allah (ﷺ) stood up, i.e. on the day of Badr, and said: Uthman has gone off on the business of Allah and His Apostle, and I shall take the oath of allegiance on his behalf. The Messenger of Allah (ﷺ) then allotted him a share, but did not do so for anyone else who was absent.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا : ” بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ۱؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 250
Hadith 2727
Chapter 999: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، وَذَكَرَ، أَشْيَاءَ وَعَنِ الْمَمْلُوكِ، أَلَهُ فِي الْفَىْءِ شَىْءٌ وَعَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلاَ أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ أَمَّا الْمَمْلُوكُ فَكَانَ يُحْذَى وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

Yazid ibn Hurmuz said: Najdah wrote to Ibn Abbas asking him about such-and-such, and such-and-such, and he mentioned some things; he (asked) about a slave whether he would get something from the spoils; and he (asked) about women whether they used to go out (on expeditions) along with the Messenger of Allah (ﷺ), and whether they would be allotted a share, Ibn Abbas said: Had I not apprehended a folly, I would not have written (a reply) to him. As for the slave, he was given a little of the spoils (as a reward from the booty); as to the women, they would treat the wounded and supply water.

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ

نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ ( اگر جہاد میں جائے ) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا ؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں ؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا ( پھر انہوں نے اسے لکھا : ) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا ، ( اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا ) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 251
Hadith 2728
Chapter 999: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْوَهْبِيَّ - حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَالزُّهْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كُنَّ يَشْهَدْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهَلْ كَانَ يُضْرَبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ فَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ قَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَنْ يُضْرَبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلاَ وَقَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُنَّ ‏.‏

Yazid bin Humruz said “Najdah Al Hururi wrote to Ibn ‘Abbas asking him whether the women participated in battle along with the Apostle of Allaah(ﷺ) and whether they were allotted a share from the spoils. I (Yazid bin Hurmuz) wrote a letter on behalf of Ibn ‘Abbas to Najdah. They participated in the battle along with the Apostle of Allaah(ﷺ), but no portion (from the spoils) was allotted to them, they were given only a little of it.

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ

نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا ، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں ؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے ؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں ، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 252
Hadith 2729
Chapter 999: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ فَقَالَ ‏"‏ مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ فَقَالَ ‏"‏ قُمْنَ ‏"‏ حَتَّى إِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا يَا جَدَّةُ وَمَا كَانَ ذَلِكَ قَالَتْ تَمْرًا ‏.‏

Narrated Umm Ziyad:

Hashraj ibn Ziyad reported on the authority of his grandmother that she went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the battle of Khaybar. They were six in number including herself. (She said): When the Messenger of Allah (ﷺ) was informed about it, he sent for us. We came to him, and found him angry. He said: With whom did you come out, and by whose permission did you come out? We said: Messenger of Allah, we have come out to spin the hair, by which we provide aid in the cause of Allah. We have medicine for the wounded, we hand arrows (to the fighters), and supply drink made of wheat or barley. He said: Stand up. When Allah bestowed victory of Khaybar on him, he allotted shares to us from spoils that he allotted to the men. He (Hashraj ibn Ziyad) said: I said to her: Grandmother, what was that? She replied: Dates.

حشرج بن زیاد اپنی دادی ( ام زیاد اشجعیہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں ، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا ، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم کس کے ساتھ نکلیں ؟ اور کس کے حکم سے نکلیں ؟ “ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں ، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے ، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے ، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے ، اور ستو گھول کر پلائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا چلو “ یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا ، حشرج بن زیاد کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : دادی ! وہ حصہ کیا تھا ؟ تو وہ کہنے لگیں : کچھ کھجوریں تھیں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 253
Hadith 2730
Chapter 999: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَىْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَى نَفْسِهِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ ‏.‏

Narrated Umayr, client of AbulLahm:

I was present at Khaybar along with my masters who spoke about me to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered about me, and a sword was girded on me and I was trailing it. He was then informed that I was a slave. He, therefore, ordered that I should be given some inferior goods. Abu Dawud said: This means that he (the Prophet) did not allot a portion of the spoils. Abu Dawud said: Abu 'Ubaid said: As he (the narrator Abi al-Lahm) made eating meat unlawful on himself, he was called Abi al-Lahm (one who hates meat).

محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ

میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا ، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے ( ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا ) حکم دیا ، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے ( اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر ) گھسیٹ رہا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا ، ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں ( آبی اللحم ) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا ، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 254
Hadith 2731
Chapter 999: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ أَمِيحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

I supplied water to my companions on the day of Badr.

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں بدر کے دن ( پانی کم ہونے کی وجہ سے ) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 255
Hadith 2732
Chapter 1000: Regarding An Idolater Being Alloted A Share - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ ‏"‏ ارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّا لاَ نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ ‏"‏ ‏.‏

A’ishah said (this is the version of narrator Yahya). A man from the polytheists accompanied the Prophet (ﷺ) to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist.”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوٹ جاؤ ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 256
Hadith 2733
Chapter 1001: Alloting Two Shares For The Horse - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْهَمَ لِرَجُلٍ وَلِفَرَسِهِ ثَلاَثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ ‏.‏

Ibn ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) allotted three portions for a man and his horse, one for him and two for his horse.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا : ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 257
Hadith 2734
Chapter 1001: Alloting Two Shares For The Horse - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ‏.‏

Narrated AbuUmrah (al-Ansari?):

We four persons, came to the Messenger of Allah (ﷺ), and we (i.e. each one of us) had horses. He therefore, allotted one portion for each of us, and two portions for his horse.

ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم چار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا ، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا ، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 258
Hadith 2735
Chapter 1001: Alloting Two Shares For The Horse - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، بِمَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ ‏.‏ زَادَ فَكَانَ لِلْفَارِسِ ثَلاَثَةُ أَسْهُمٍ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu ‘Umrah through a different chain of narrators to the same effect. But this version has “Three Persons” and added “To the horseman three portions.”

اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے

مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 259
Hadith 2736
Chapter 1002: Regarding Giving Only One Portion (For The Horse) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الأَبَاعِرَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ قَرَأَ عَلَيْهِمْ ‏{‏ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ‏}‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتْحٌ هُوَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُسِّمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلاَثُمِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ وَأَرَى الْوَهَمَ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهُ قَالَ ثَلاَثُمِائَةِ فَارِسٍ وَكَانُوا مِائَتَىْ فَارِسٍ ‏.‏

Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari:

Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, this is a victory. Khaybar was divided among those who had been at al-Hudaybiyyah, and the Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army consisted of one thousand five hundred men, of which three hundred were cavalry, and he gave two shares to a horseman and one to a foot-soldier. Abu Dawud said: Abu Mu'awiyah's tradition is sounder, and it is one which is followed. I think the error is in the tradition of Mujammi', because he said: "three hundred horsemen." when there were only two hundred.

مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے ، وہ کہتے ہیں : ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے ، بعض نے بعض سے کہا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎ کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی ، تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہی فتح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہی فتح ہے “ ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومعاویہ کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۳ ) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے ، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے : تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ۲؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 260
Hadith 2737
Chapter 1003: Regarding The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ ‏"‏ مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفْلِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ قَالَ فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَالَتِ الْمَشْيَخَةُ كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ لَوِ انْهَزَمْتُمْ لَفِئْتُمْ إِلَيْنَا فَلاَ تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ‏}‏ يَقُولُ فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ فَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of Badr: He who does such-and-such, will have such-and such. The young men came forward and the old men remained standing near the banners, and they did not move from there. When Allah bestowed victory on them, the old men said: We were support for you. If you had been defeated, you would have returned to us. Do not take this booty alone and we remain (deprived of it). The young men refused (to give), and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has given it to us. Then Allah sent down: "They ask thee concerning (things taken as) spoils of war, Say: (Such) spoils are at the disposal of Allah and the Apostle......Just as they Lord ordered thee out of thy house in truth, even though a party among the believers disliked it." This proved good for them. Similarly obey me. I know the consequence of this better than you.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : ” جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا “ ، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں ، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا : ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری ہی طرف پلٹتے ، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ غنیمت کا مال تم ہی اڑا لو ، اور ہم یوں ہی رہ جائیں ، جوانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم کو دیا ہے ، تب اللہ نے یہ آیت کریمہ «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله» ” یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو ، بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی “ ( سورۃ الانفال : ۱-۵ ) سے «كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون» تک نازل فرمائی ، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا ، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو ، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 261
Hadith 2738
Chapter 1003: Regarding The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ كَذَا وَكَذَا وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ وَحَدِيثُ خَالِدٍ أَتَمُّ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of Badr: He who kills a man will get such-and-such, and he who captivates a man will get such-and-such. The narrator then transmitted the rest of the tradition in a similar manner. The tradition of Khalid is more perfect.

اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن فرمایا : ” جو شخص کسی کافر کو مارے تو اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے ، اور جو کسی کافر کو قید کرے اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے “ ، پھر آگے اسی حدیث کی طرح بیان کیا ، اور خالد کی ( یعنی : پچھلی حدیث ) زیادہ کامل ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 262
Hadith 2739
Chapter 1003: Regarding The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالسَّوَاءِ ‏.‏ وَحَدِيثُ خَالِدٍ أَتَمُّ ‏.‏

The tradition mentioned above has been transmitted by Dawud with a different chain of narrators. He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) apportioned it (spoils of war) equally. The tradition of Khalid is more perfect.

اس سند بھی سے داود سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے

اس میں ہے : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برابر برابر تقسیم کیا “ ، اور خالد کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۷ ) کامل ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 263
Hadith 2740
Chapter 1003: Regarding The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِي صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلاَ لَكَ ‏"‏ فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلاَئِي ‏.‏ فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ أَجِبْ ‏.‏ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَىْءٌ بِكَلاَمِي فَجِئْتُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلاَ لَكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ ‏.‏

Mus’ab bin Sa’d reported on the authority of his father (Sa’ad bin Abi Waqqas) “I brought a sword to the Prophet(ﷺ) on the day of the Badr and I said (to him) Apostle of Allaah(ﷺ) , Allaah has healed up my breast from the enemy today, so give me this sword. He said “This sword is neither mine nor yours. I then went away saying “today this will be given to a man who has not been put to trial like me. Meanwhile a messenger and came to me and said “Respond, I thought something was revealed about me owing to my speech. I came and the Prophet (ﷺ) said to me “You asked me for this sword, but this was neither mine nor yours. Now Allaah has given it to me, hence it is yours. He then recited “they ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say “(Such) spoils are at the disposal of Allaah and the Apostle. Abu Dawud said “According to the reading of the Qur’an of Ibn Mas’ud the verse goes. They ask thee concerning (things taken as ) spoils of war.

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی ، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری “ یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا : یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے ، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا ، اور کہا چلو ، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے ، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری ، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے ، لہٰذا ( اب ) یہ تمہاری ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 264
Hadith 2741
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ - الْمَعْنَى، - كُلُّهُمْ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَيْشٍ قِبَلَ نَجْدٍ وَانْبَعَثَتْ سَرِيَّةٌ مِنَ الْجَيْشِ فَكَانَ سُهْمَانُ الْجَيْشِ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ بَعِيرًا بَعِيرًا فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ ثَلاَثَةَ عَشَرَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent us along with an army towards Najd, and he sent a detachment of that army (to face the enemy). The whole army got twelve camels per head as their portion, but he gave the detachment one additional camel (apart from the division made to the army). Thus they got thirteen camels each (as a reward).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا ، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 265
Hadith 2742
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ قَالَ الْوَلِيدُ - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ وَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ لاَ تَعْدِلْ مَنْ سَمَّيْتَ بِمَالِكٍ هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ‏.‏

Al Walid bin Muslim said “I narrated this tradition (mentioned above) to Ibn Al Mubarak and said “And similarly it has been narrated by Ibn Abi Farwah to us on the authority of Nafi’(as narrated by Shu’aib). He (Ibn Al Mubarak) said “Those whom you have named cannot be equal to Malik i.e, Malik bin Anas.

ولید بن مسلم کہتے ہیں : میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی ، میں نے کہا

اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا : جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی ، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 266
Hadith 2743
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلاَبِيَّ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ فَخَرَجْتُ مَعَهَا فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَسَّمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلاَ عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلاَثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Messenger of Allah (ﷺ) sent a detachment to Najd. I went out along with them, and got abundant riches. Our commander gave each of us a camel as a reward. We then came upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he divided the spoils of war among us. Each of us received twelve camels after taking a fifth of it. The Messenger of Allah (ﷺ) did not take account of our companion (i.e. the commander of the army), nor did he blame him for what he had done. Thus each man of us had received thirteen camels with the reward he gave.

اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ۱؎ نجد کی جانب بھیجا ، میں بھی اس کے ساتھ نکلا ، ہمیں بہت سے اونٹ ملے ، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا ، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا ، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے ، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا ، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا ، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 267
Hadith 2744
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، - الْمَعْنَى - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏ زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allaah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent a detachment towards Najd. ‘Abd Allaah bin ‘Umar also accompanied it. They gained a large number of Camels as a booty. Their portion was twelve Camels each and they were rewarded (in addition) one Camel each. The version of Ibn Mawhab added “The Apostle of Allaah(ﷺ) did not change it”

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے ، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل ( انعام ) دئیے گئے ۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 268
Hadith 2745
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

‘Abd Allaah (bin ‘Umar) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent us along with a detachment. The share of each was twelve Camels. The Apostle of Allaah(ﷺ) gave each one of us a Camel as a reward. Abu Dawud said “Burd bin Sinan narrated a similar tradition from Nafi’ as narrated by ‘Ubaid Allaah. Ayyub also narrated from Nafi’ a similar tradition, but his version goes “We were rewarded one Camel each. He did not mention the Prophet (ﷺ).

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا ، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے ، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا ، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 269
Hadith 2746
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً النَّفْلَ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Messenger of Allah (ﷺ) used to give to some of the detachments he sent out (something extra) for themselves in particular apart from the division made to the whole army. The fifth is necessary in all that.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 270
Hadith 2747
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَىٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلاَثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

The Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Badr along with three hundred and fifteen (men). The Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, they are on foot, provide mount for them; O Allah , they are naked, clothe them; O Allah, they are hungry, provide food for them. Allah then bestowed victory on them. They returned when they were clothed. There was no man of them but he returned with one or two camels; they were clothed and ate to their fill.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی : «اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم» ” اے اللہ ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے ، اے اللہ ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے ، اے اللہ ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے “ ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی ، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو ، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 271
Hadith 2748
Chapter 1005: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنَفِّلُ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ ‏.‏

Narrated Habib ibn Maslamah al-Fihri:

The Messenger of Allah (ﷺ) would give a third of the spoils after he would keep off the fifth.

حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مال غنیمت میں سے ) خمس ( پانچواں حصہ ) نکالنے کے بعد ثلث ( ایک تہائی ) بطور نفل ( انعام ) دیتے تھے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 272
Hadith 2749
Chapter 1005: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ ‏.‏

Narrated Habib ibn Maslamah:

The Messenger of Allah (ﷺ) used to give a quarter of the booty as reward after the fifty had been kept off, and a third after the fifth had been kept off when he returned.

حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ربع ( ایک چوتھائی ) بطور نفل دیتے تھے ( ابتداء جہاد میں ) اور جب جہاد سے لوٹ آتے ( اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا ) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 273
Hadith 2750
Chapter 1005: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ مَكْحُولاً، يَقُولُ كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لاِمْرَأَةٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ فَأَعْتَقَتْنِي فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفْلِ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَىْءٍ حَتَّى أَتَيْتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ ‏.‏

Narrated Habib ibn Maslamah al-Fihri:

Makhul said: I was the slave of a woman of Banu Hudhayl; afterwards she emancipated me. I did not leave Egypt until I had acquired all the knowledge that seemed to me to exist there. I then came to al-Hijaz and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. Then I came to al-Iraq, and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. I then came to Syria, and besieged it. I asked everyone about giving rewards from the booty. I did not find anyone who could tell me anything about it. I then met an old man called Ziyad ibn Jariyah at-Tamimi. I asked him: Have you heard anything about giving rewards from the booty? He replied: Yes. I heard Maslamah al-Fihri say: I was present with the Prophet (ﷺ). He gave a quarter of the spoils on the outward journey and a third on the return journey.

مکحول کہتے ہیں

میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا ، اس نے مجھے آزاد کر دیا ، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا ، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا ، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا ، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا ، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا ، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے ، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا ، میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ کہا : ہاں ! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد ( پھر حملہ کرنے پر ) ۱؎ ایک تہائی بطور نفل دیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 274
Hadith 2751
Chapter 1006: The Spoils Acquired By A Detachment Should Be Divided Among The Whole Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، - هُوَ مُحَمَّدٌ - بِبَعْضِ هَذَا ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَوَدَ وَالتَّكَافُؤَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Messenger of Allah (ﷺ) said: Muslims are equal in respect of blood. The lowest of them is entitled to give protection on behalf of them, and the one residing far away may give protection on behalf of them. They are like one hand over against all those who are outside the community. Those who have quick mounts should return to those who have slow mounts, and those who got out along with a detachment (should return) to those who are stationed. A believer shall not be killed for an unbeliever, nor a confederate within the term of confederation with him. Ibn Ishaq did not mention retaliation and equality in respect of blood.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کے خون برابر ہیں ۱؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے ، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی ، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے ( گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو ) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ۲؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ ( غنیمت کے مال میں ) اس کے برابر ہو گا جس کی سواریاں کمزور ہیں ، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے ، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو “ ۔ ابن اسحاق نے «القود» ۳؎ اور «التكافؤ» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 275
Hadith 2752
Chapter 1006: The Spoils Acquired By A Detachment Should Be Divided Among The Whole Army - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ رَاعِيَهَا وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهُ ‏.‏ ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَىَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ رُمْحًا وَثَلاَثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ ‏.‏ فَقَامَ إِلَىَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلاَ أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي ‏.‏ فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خَمْسِمِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ ‏.‏

Salamah (bin Al ‘Akwa) said “Abd Al rahman bin ‘Uyainah raided the Camels of the Apostle of Allaah(ﷺ) and killed their herdsman. He and some people who were with him on horses proceeded on driving them away. I turned my face towards Madeenah and shouted three times. A morning raid, I then went after the people shooting arrows at them and hamstringing them (their beasts). When a horseman returned to me, I sat in the foot of a tree till there was no riding beast of the Prophet (ﷺ) created by Allaah which I had not kept behind my back. They threw away more than thirty lance and thirty cloaks to lighten themselves. Then ‘Uyainah came to them with reinforcement and said “A few of you should go to him. Four of them stood and came to me. They ascended a mountain. Then they came near me till they could hear my voice. I told them “Do you know me?” They said “Who are you? I replied “I am Ibn Al ‘Akwa. By Him Who honored the face of Muhammad (ﷺ) if any man of you pursues he cannot catch me and if I pursue him, I will not miss him. This went on with me till I saw the horsemen of the Apostle of Allaah(ﷺ) coming through the trees. Al Akhram Al Asadi was at their head. He then joined ‘Abd Al Rahman bin ‘Uyainah and ‘Abd Al Rahman turned over him. They attacked each other with lances. Al Akhram hamstrung ‘Abd Al Rahman’s horse and ‘Abd Al Rahman pierced a lance in his body and killed him. ‘Abd al Rahman then returned on the horse of Al Akhram. I then came to the Apostle of Allaah(ﷺ) who was present at the same water from where I drove them away and which is known as Dhu Qarad. The Prophet (ﷺ) was among five hundred people. He then gave me two portions a horseman’s and a footman’s.

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا ، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا ، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے ، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا ، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» ( اے صبح کا حملہ ) ۱؎ ، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا ، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا ، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا ، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں ، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا ، اور اس نے کہا : تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف ( یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ) کی طرف جائیں ( اور اسے قتل کر دیں ) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے ، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا : تم مجھے پہچانتے ہو ، انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں اکوع کا بیٹا ہوں ، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی ، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا ، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا ، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں ، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے ، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے ، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا ، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا ، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا ، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا ، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا ، دونوں میں بھالا چلنے لگا ، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا ، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا ، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے ، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں ، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ۲؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 276
Hadith 2753
Chapter 1007: Regarding The Nafl Of Gold And Silver, And From The Spoils Gained In The Beginning (Of The Battle) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلاً مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ نَفْلَ إِلاَّ بَعْدَ الْخُمُسِ ‏"‏ ‏.‏ لأَعْطَيْتُكَ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَىَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ ‏.‏

Narrated Ma'an ibn Yazid:

AbulJuwayriyyah al-Jarmi said: I found a red pitcher containing dinars in Byzantine territory during the reign of Mu'awiyah. A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) belonging to Banu Sulaym was our ruler. He was called Ma'an ibn Yazid. I brought it to him. He apportioned it among the Muslims. He gave me the same portion which he gave to one of them. He then said: Had I not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no reward except after taking the fifth (from the booty), I would have given you (the reward). He then presented his own share to me, but I refused.

ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ

معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎ ، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، ہمارے اوپر حاکم تھے ، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا ، میں اسے ان کے پاس لایا ، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا ، پھر کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا ، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 277
Hadith 2754
Chapter 1007: Regarding The Nafl Of Gold And Silver, And From The Spoils Gained In The Beginning (Of The Battle) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Asim bin Kulaib through a different chain of narrators to the same effect.

اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے

اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 278
Hadith 2755
Chapter 1008: Regarding The Imam Taking Something From The Fa'i For Himself - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ الأَسْوَدَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ وَلاَ يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Amr ibn Abasah:

The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer facing a camel which had been taken in booty, and when he had given the salutation, he took a hair from the camel's side and said: I have no right as much as this of your booty, but only to the fifth. and the fifth is returned to you.

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی ، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا ، اور فرمایا : ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے ، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 279
Hadith 2756
Chapter 1009: Regarding Fulfilling The Covenant - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

Ibn ‘Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A banner will be hoisted for a treacherous man on the Day of Judgment, it will then be announced. This is a treachery of so and so, son of so and so.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ، اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 280
Hadith 2757
Chapter 1010: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurarirah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A Muslim ruler is shield by which a battle is fought.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے ( تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی ) “ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 281
Hadith 2758
Chapter 1010: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لاَ أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الآنَ فَارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمْتُ ‏.‏ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ يَصْلُحُ ‏.‏

Narrated AbuRafi':

The Quraysh sent me to the Messenger of Allah (ﷺ), and when I saw the Messenger of Allah (ﷺ), Islam was cast into my heart, so I said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I shall never return to them. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: I do not break a covenant or imprison messengers, but return, and if you feel the same as you do just now, come back. So I went away, and then came to the Prophet (ﷺ) and accepted Islam. The narrator Bukair said: He informed me that Abu Rafi' was a Copt. Abu Dawud said: This was valid in those days, but today it is not valid.

ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

قریش نے مجھے ( صلح حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں ، تم واپس جاؤ ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا “ ، ابورافع کہتے ہیں : میں قریش کے پاس لوٹ آیا ، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا ۔ بکیر کہتے ہیں : مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 282
Hadith 2759
Chapter 1011: Regarding There Being A Covenant Between The Imam And The Enemy, And He Advances Towards Them (To Attack) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، - رَجُلٍ مِنْ حِمْيَرَ - قَالَ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلاَدِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ غَزَاهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لاَ غَدْرٌ فَنَظَرُوا فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلاَ يَشُدُّ عُقْدَةً وَلاَ يَحُلُّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏

Narrated Amr ibn Abasah:

Sulaym ibn Amir, a man of Himyar, said: There was a covenant between Mu'awiyah and the Byzantines, and he was going towards their country, and when the covenant came to an end, he attacked them. A man came on a horse, or a packhorse saying, Allah is Most Great, Allah is Most Great; let there be faithfulness and not treachery. And when they looked they found that he was Amr ibn Abasah. Mu'awiyah sent for him and questioned him (about that). He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When one has covenant with people he must not strengthen or loosen it till its term comes to an end or he brings it to an end in agreement with them (to make both the parties equal). So Mu'awiyah returned.

سلیم بن عامر سے روایت ہے ، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے ، وہ کہتے ہیں

معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے ، ( اس مدت میں ) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے ، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی ، تو انہوں نے ان سے جنگ کی ، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، وہ کہہ رہا تھا : اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا ، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے ، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے “ ، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 283
Hadith 2760
Chapter 1012: Regarding Fulfilling The Agreement For One Who Has A Covenant, And The Sanctity Of His Protection - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuBakrah:

The Prophet (ﷺ) said: If anyone kills a man whom he grants protection prematurely, Allah will forbid him to enter Paradise.

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 284
Hadith 2761
Chapter 1013: Regarding Sending Messengers - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ كَانَ مُسَيْلِمَةُ كَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَهُمَا حِينَ قَرَآ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ ‏"‏ مَا تَقُولاَنِ أَنْتُمَا ‏"‏ قَالاَ نَقُولُ كَمَا قَالَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ لَوْلاَ أَنَّ الرُّسُلَ لاَ تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Nu'aym ibn Mas'ud:

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when they (messengers sent by Musaylimah) read the letter of Musaylimah: What do you believe yourselves? They said: We believe as he believes. He said: I swear by Allah that were it not that messengers are not killed, I would cut off your heads.

نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا : ” تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ “ ان دونوں نے کہا : ” ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے “ ، ( یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 285
Hadith 2762
Chapter 1013: Regarding Sending Messengers - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ حِنَةٌ وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلاً بِالسُّوقِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Mas'ud:

Harithah ibn Mudarrib said that he came to Abdullah ibn Mas'ud and said (to him): There is no enmity between me and any of the Arabs. I passed a mosque of Banu Hanifah. They (the people) believed in Musaylimah. Abdullah (ibn Mas'ud) sent for them. They were brought, and he asked them to repent, except Ibn an-Nawwahah. He said to him: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Were it not that you were not a messenger, I would behead you. But today you are not a messenger. He then ordered Qarazah ibn Ka'b (to kill him). He beheaded him in the market. Anyone who wants to see Ibn an-Nawwahah slain in the market (he may see him).

حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ

انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا : میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے ، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں ، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا ، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا ، اور ابن نواحہ سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے “ ۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی ، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 286
Hadith 2763
Chapter 1014: Regarding Protection Granted By A Woman - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهَا أَجَارَتْ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ ‏"‏ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “Umm Hani daughter of Abu Talib told me that in the year of the conquest she gave protection to a man from the polytheists. She came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. He said “We have given security to those to whom you have given it.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی ، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 287
Hadith 2764
Chapter 1014: Regarding Protection Granted By A Woman - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَيَجُوزُ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

A woman would give security from the believers and it would be allowed.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 288
Hadith 2765
Chapter 1015: Regarding Treaties With The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشَرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا خَلأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ خُطَّةً يُعَظِّمُونَ بِهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلاَّ أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ فَجَاءَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ ثُمَّ أَتَاهُ - يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ - فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ ‏.‏ فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَىْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا الإِسْلاَمُ فَقَدْ قَبِلْنَا وَأَمَّا الْمَالُ فَإِنَّهُ مَالُ غَدْرٍ لاَ حَاجَةَ لَنَا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَصَّ الْخَبَرَ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَعَلَى أَنَّهُ لاَ يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ مُهَاجِرَاتٌ الآيَةَ فَنَهَاهُمُ اللَّهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ - يَعْنِي فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ - فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلاَنُ جَيِّدًا ‏.‏ فَاسْتَلَّهُ الآخَرُ فَقَالَ أَجَلْ قَدْ جَرَّبْتُ بِهِ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ قَدْ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ فَقَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ثُمَّ نَجَّانِي اللَّهُ مِنْهُمْ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْلَ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ وَيَنْفَلِتُ أَبُو جَنْدَلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ ‏.‏

Al Miswar bin Makhramah said :

The Messenger of Allah (ﷺ) came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Mecca) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet (May peace be upon him) said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my soul is, they will not ask any me good thing by which they honor which God has made sacred without my giving them it. He then urged her and she leaped up and he turned aside from them, and stopped at the farthest side of al-Hudaibiyyah at a pool with little water. Meanwhile Budail bin Warqa al-Khuza’I came, and ‘Urwah bin Mas’ud joined him. He began to speak to the Prophet (ﷺ). Whenever he spoke to the Prophet (ﷺ), he caught his beard. Al Mughriah bin Shu’bah was standing beside the Prophet (ﷺ).He had a sword with him, wearing a helmet. He (Al Mughriah) struck his (‘Urwah’s) hand with the lower end of his sheath, and said: Keep away your hand from his beard. ‘Urwah then raised his hand and asked: Who is this? They replied: Al-Mughirah bin Shu’bah. He said: O treacherous one! Did I not use my offices in your treachery? In pre-Islamic days Al-Mughirah bin Shu’bah accompanied some people and murdered them, and took their property. He then came (to the Prophet) and embraced Islam. The Prophet (ﷺ) said: As for Islam we accepted it, but as to the property, as it has been taken by treachery, we have no need of it. He went on with the tradition the Prophet (ﷺ) said: Write down: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has decided. He then narrated the tradition. Suhail then said: And that a man will not come to you from us, even if he follows your religion, without you sending him back to us. When he finished drawing up the document, the Prophet (ﷺ) said to his Companions: Get up and sacrifice and then shave. Thereafter some believing women who were immigrants came. (Allah sent down: O yea who believe, when believing women come to you as emigrants). Allah most high forbade them to send them back, but ordered them to restore the dower. He then returned to Medina. Abu Basir a man from the Quraish (who was a Muslim), came to him. And they sent (two men) to look for him; so he handed him over to the two men. They took him away, and when they reached Dhu Al Hulaifah and alighted to eat some dates which they had, Abu Basir said to one of the men : I swear by Allah so-and-so, that I think this sword of yours is a fine one; the other drew the sword and said : Yes I have tried it. Abu Basir said: Let me look at it. He let him have it and he struck him till he died, whereupon the other fled and came to Medina, and running entered the mosque. The Prophet ( may peace be upon him) said: This man has seen something frightful. He said: I swear by Allah that my Companion has been killed, and im as good as dead. Abu Basir then arrived and said: Allah has fulfilled your covenant. You returned me to them, but Allah saved me from them. The Prophet (ﷺ) said: Woe to his mother, stirrer up of war! Would that he had someone (i.e. some kinsfolk). When he heard that he knew that he would send him back to them, so he went out and came to the seashore. Abu Jandal escaped and joined Abu Basir till a band of them collected.

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا ، اور اشعار کیا ، اور عمرہ کا احرام باندھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی ، لوگوں نے کہا : ” حل حل “ ۱؎ قصواء اڑ گئی ، قصواء اڑ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے ، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا ، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا ، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے ، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : مغیرہ بن شعبہ ہیں ، اس پر عروہ نے کہا : اے بدعہد ! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی ؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا ، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے ۲؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا ، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں “ ۳؎ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لکھو ، یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کی ہے “ ، پھر پورا قصہ بیان کیا ۔ سہیل نے کہا : اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے ، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” اٹھو اور اونٹ نحر ( ذبح ) کرو ، پھر سر منڈا ڈالو “ ، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا ، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا ، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا ، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے ، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے ، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے ، اس نے میان سے نکال کر کہا : ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں ، ابوبصیر نے کہا : مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں ، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی ، تو انہوں نے ( اسی تلوار سے ) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، ( یہ دیکھ کر ) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ڈر گیا ہے “ ، وہ بولا : قسم اللہ کی ! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنا عہد پورا کیا ، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا ، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہو اس کی ماں کے لیے ، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے ، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا “ ، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے ، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور ( ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا ) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 289
Hadith 2766
Chapter 1015: Regarding Treaties With The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوا عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهِنَّ النَّاسُ وَعَلَى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَأَنَّهُ لاَ إِسْلاَلَ وَلاَ إِغْلاَلَ ‏.‏

Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery.

عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی ، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے ، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 290
Hadith 2767
Chapter 1015: Regarding Treaties With The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمَا فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ - رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Dhu Mikhbar:

Hassan ibn Atiyyah said: Makhul and Ibn Zakariyya went to Khalid ibn Ma'dan, and I also went along with them. He reported a tradition on the authority of Jubayr ibn Nufayr. He said: Go with us to Dhu Mikhbar, a man from the Companions of the Prophet (ﷺ). We came to him and Jubayr asked him about peace. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: You will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you.

حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ

مکحول اور ابن ابی زکریا خالد بن معدان کی طرف مڑے اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں : جبیر نے ( مجھ سے ) کہا : ہمیں ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں کے پاس لے چلو ، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریب ہے کہ تم روم سے ایسی صلح کرو گے کہ کوئی خوف نہ رہے گا ، پھر تم اور وہ مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 291
Hadith 2768
Chapter 1016: To Attack The Enemy By Surprise And To Imitate Them - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا الصَّدَقَةَ وَقَدْ عَنَّانَا قَالَ وَأَيْضًا لَتَمَلُّنَّهُ ‏.‏ قَالَ اتَّبَعْنَاهُ فَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ أَىَّ شَىْءٍ تَرْهَنُونِي قَالَ وَمَا تُرِيدُ مِنَّا قَالَ نِسَاءَكُمْ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا فَيَكُونُ ذَلِكَ عَارًا عَلَيْنَا ‏.‏ قَالَ فَتَرْهَنُونِي أَوْلاَدَكُمْ ‏.‏ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنْتَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ ‏.‏ قَالُوا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ يُرِيدُ السِّلاَحَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَلَمَّا أَتَاهُ نَادَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُتَطَيِّبٌ يَنْضَخُ رَأْسُهُ فَلَمَّا أَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ وَقَدْ كَانَ جَاءَ مَعَهُ بِنَفَرٍ ثَلاَثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرُوا لَهُ قَالَ عِنْدِي فُلاَنَةُ وَهِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ النَّاسِ ‏.‏ قَالَ تَأْذَنُ لِي فَأَشُمُّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَشَمَّهُ قَالَ أَعُودُ قَالَ نَعَمْ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَكُمْ ‏.‏ فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ ‏.‏

Jabir reported:

The Messenger of Allah ( may peace be upon him) said : Who will pursue Ka’b bin Al-Ashraf, for he has caused trouble to Allah and His Apostle? Muhammad bin Maslamah stood up and said: I (shall do), Messenger of Allah. Do you want that I should kill him? He said: Yes. He said: So permit me to say something (against you). He said: Yes say. He then came to him (Ka’b b. al-Ashraf) and said to him: This man has asked us for sadaqah (alms) and has put us into trouble. He (Ka’b) said: You will be more grieved. He (Muhammad bin Maslamah) said: We have followed him and we do not like to forsake him until we see what will be the consequences of his matter. We wished if you could lend us one or two wasqs. Ka’b said: What will you mortgage with me? He asked: what do you want from us? He replied : your Women. They said: Glory be to Allah: You are the most beautiful of the Arabs. If we mortgage our women with you, that will be a disgrace for us. He said “The mortgage your children.” They said “Glory be to Allaah, a son of us may abuse saying “You were mortgaged for one or two wasqs.” They said “We shall mortgage or coat of mail with you. By this he meant arms”. He said “Yes, when he came to him, he called him and he came out while he used perfume and his head was spreading fragrance. When he at with him and he came there accompanied by three or four persons who mentioned his perfume. He said “I have such and such woman with me. She is most fragrant of the women among the people. He (Muhammad bin Maslamah) asked “Do you permit me so that I may smell? He said “Yes. He then entered his hand through his hair and smell it.” He said “May I repeat?” He said “Yes. He again entered his hand through his hair. When he got his complete control, he said “Take him. So he struck him until they killed him.”

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میں ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، کہہ سکتے ہو “ ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا : اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے ، کعب نے کہا : ابھی کیا ہے ؟ تم اور اکتا جاؤ گے ، اس پر انہوں نے کہا : ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے ؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو ، کعب نے کہا : تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے ؟ محمد بن مسلمہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو ؟ کعب نے کہا : اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو ، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا ، اس نے کہا : اپنی اولاد کو رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا ، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے ، کعب نے کہا ٹھیک ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا ، اس کا سر مہک رہا تھا ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا ، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں ؟ اس نے کہا : ہاں ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا ، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا : ہاں ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا : پکڑو اسے ، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 292
Hadith 2769
Chapter 1016: To Attack The Enemy By Surprise And To Imitate Them - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: Faith prevented assassination. A believer should not assassinate.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا ، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 293
Hadith 2770
Chapter 1017: Regarding Saying "Allahu Akbar" When Reaching Every High Ground During A Journey - كتاب الجهاد

حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ وَيَقُولُ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ‏"‏ ‏.‏

‘Abd Allah bin ‘Umar said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) returned from an expedition, Hajj or ‘Umrah on every rising piece of ground he would say three times “Allaah is Most Great” and he would say “There is no god bt Allaah alone who has no partner, to Whom the dominion belongs, to Whom praise is due, and Who is Omnipotent, serving, prostrating ourselves before our Lord and expressing praise. Allaah alone has kept his word, helped His servant and routed the confederate.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد یا حج و عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار «الله اكبر» کہتے ، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے : «لا إله إلا الله ، وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون ، صدق الله وعده ، ونصر عبده ، وهزم الأحزاب وحده» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور اسی کے لیے حمد ہے ، او وہ ہر چیز پر قادر ہے ، ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، سجدہ کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی ، اور اکیلے ہی جتھوں کو شکست دی “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 294
Hadith 2771
Chapter 1018: Regarding The Permission For Returning From The Battle After It Had Been Prohibited - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ لاَ يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏}‏ الآيَةَ نَسَخَتْهَا الَّتِي فِي النُّورِ ‏{‏ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ ‏}‏ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “The verse “Those who believe in Allaah and the Last Day ask thee for no exemption from fighting with their goods and persons” was abrogated by the verse “Only those are believers who believe in Allaah and His Apostle....For Allaah is Oft-Forgiving, Most Merciful.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

آیت کریمہ «لا يستأذنك الذين يؤمنون بالله واليوم الآخر» ” اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو کبھی بھی تجھ سے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر جہاد کرنے سے رکے رہنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ “ ( سورۃ التوبہ : ۴۴ ) کو سورۃ النور کی آیت «إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله» سے «غفور رحيم» تک ” باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے ، جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں ، پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے “ ( سورۃ النور : ۶۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 295
Hadith 2772
Chapter 1019: On Sending A Person Carrying Good News - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ ‏.‏

Jarir (bin ‘Abd Allaah) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Why do you not give me rest from Dhu Al Khulasah? He went there and burned it. He then sent a man from Ahmas to the Prophet (ﷺ) to give him good tidings. His surname was Artah.

جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے ؟ “ ۲؎ ، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 296
Hadith 2773
Chapter 1020: Regarding Giving A Present To The One Who Delivers Good News - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ ‏.‏ وَقَصَّ ابْنُ السَّرْحِ الْحَدِيثَ قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ ثُمَّ صَلَّيْتُ الصُّبْحَ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَسَمِعْتُ صَارِخًا يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ ‏.‏ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَىَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَامَ إِلَىَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي ‏.‏

Ka’ab bin Malik said “When the Prophet(ﷺ) arrived from a journey, he first went to a mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people. The narrator Ibn Al Sarh then narrated the rest of the tradition. He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) forbade the Muslims to speak to any three of us. When considerable time had passed on me, I ascended the wall of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allaah he did not return my salutation. I then offered the dawn prayer on the fiftieth day on the roof of one of our houses. I then hear d a crier say “Ka’ab bin Mailk, have good news”. When the man whose voice I heard came to me giving me good news, I took off my garments and clothed him. I went on till I entered the mosque. The Apostle of Allaah(ﷺ) was sitting there. Talhah bin ‘Ubaid Allaah stood up and hastened to me till he shook hands with me and greeted me.

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے ، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ( اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا ، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا ، میں نے ان کو سلام کیا ، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا ، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا : کعب بن مالک ! خوش ہو جاؤ ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا ، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے ، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے ، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 297
Hadith 2774
Chapter 1021: Regarding Prostration Out Of Gratitude - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرُ سُرُورٍ أَوْ بُشِّرَ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ ‏.‏

Narrated AbuBakrah:

When anything came to the Prophet (ﷺ) which caused pleasure (or, by which he was made glad), he prostrated himself in gratitude to Allah.

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 298
Hadith 2775
Chapter 1021: Regarding Prostration Out Of Gratitude - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلاَثًا قَالَ ‏ "‏ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الآخَرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ حَدَّثَنَا بِهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ‏.‏

Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas:

We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mecca making for Medina. When we were near Azwara', he alighted, then raised his hands, and made supplication to Allah for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. Then he stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. He then stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself. Ahmad mentioned it three times. He then said: I begged my Lord and made intercession for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people and He gave me the remaining third, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Abu Dawud said: When Ahmad b. Salih narrated this tradition to us, he omitted the name of Ash'ath b. Ishaq, but Musa b. Sahl al-Ramli narrated it to us through him.

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے ، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے ، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی ، پھر سجدہ میں گر پڑے ، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے ، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی ، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے ، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی ، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی ، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا ، پھر سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا ، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 299
Hadith 2776
Chapter 1022: Regarding At-Turuq (Returning From A Journey To The Family At Night) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Messenger of Allah (ﷺ) disapproved that a man should come to his family during the night (after returning from a journey).

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 300
Hadith 2777
Chapter 1022: Regarding At-Turuq (Returning From A Journey To The Family At Night) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Prophet (ﷺ) said: The best time for a man to go in to his family on return from a journey is at the beginning of the night.

جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں

آپ نے فرمایا : ” سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 301
Hadith 2778
Chapter 1022: Regarding At-Turuq (Returning From A Journey To The Family At Night) - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ ‏ "‏ أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلاً لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الزُّهْرِيُّ الطُّرُوقُ بَعْدَ الْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏

Jabir bin ‘Abd Allaah said “We were on a journey with the Apostle of Allaah(ﷺ). When we were going to come to our family, he said “Stay till we enter during the night, so that the disheveled woman combs herself and the woman whose husband has been away cleans herself. Abu Dawud aid “Al Zuhri said “(this prohibition applies) when one arrives after the night prayer. Abu dawud said “There is no harm in coming (to one’s family) after the sunset prayer.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے ، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے ، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری نے کہا : ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں : مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 302
Hadith 2779
Chapter 1023: Regarding Reception - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ تَلَقَّاهُ النَّاسُ فَلَقِيتُهُ مَعَ الصِّبْيَانِ عَلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏

Al Sai’ib bin Yazid said “When the Prophet(ﷺ) turned from the battle of Tabuk to Madeenah, the people received him, I met him along with the children at Thaniyyat Al Wada’.

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا ، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 303
Hadith 2780
Chapter 1024: Regarding What Is Recommended Of Spending All The Supplies In Battle Upon The Return Of The Warrior - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَتًى، مِنْ أَسْلَمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَهَّزُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اذْهَبْ إِلَى فُلاَنٍ الأَنْصَارِيِّ فَإِنَّهُ كَانَ قَدْ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَقُلْ لَهُ ادْفَعْ إِلَىَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ يَا فُلاَنَةُ ادْفَعِي لَهُ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلاَ تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَوَاللَّهِ لاَ تَحْبِسِينَ مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارِكَ اللَّهُ فِيهِ ‏.‏

Anas bin Malik said “A youth of Aslam said “Apostle of Allaah(ﷺ), I wish to go on an expedition, but I have no property to make myself equipped. He said “go to so and so Ansari who prepared equipment(for the battle), but he fell ill and tell him that the Apostle of Allaah(ﷺ) has conveyed his regards to you, and then tell him “Give him all the equipment you have made. He came to him and told him that. He said to his wife “O so and so, give him all the equipment I have made and do not detain anything from him. I swear by Allaah, if you detain anything from him, Allaah will not bless it.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کر سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہو گیا ، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے ، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو “ ، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی ، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا : جتنا سامان تو نے میرے لیے جمع کیا تھا وہ سب اسے دیدے ، اس میں سے کچھ مت رکھنا ، اللہ کی قسم اس میں سے کچھ نہیں رکھے گی تو اللہ اس میں برکت دے گا ۱؎ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 304
Hadith 2781
Chapter 1025: Regarding The Salat Performed Upon Returning From A Journey - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَقْدِمُ مِنْ سَفَرٍ إِلاَّ نَهَارًا ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ‏.‏

Ka’ab bin Malik said “The Prophet (ﷺ) used to arrive from a journey in the daytime. Al Hasan said “During the forenoon.” When he arrived from a journey he went first to the mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people.

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن ہی میں آتے ، ( حسن کہتے ہیں ) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر اس میں بیٹھتے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 305
Hadith 2782
Chapter 1025: Regarding The Salat Performed Upon Returning From A Journey - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِهِ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ ثُمَّ دَخَلَهُ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ يَصْنَعُ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Umar:

When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived from his hajj, he entered Medina, and made (his camel) kneel down at the gate of his mosque; and he entered it and offered two rak'ahs of prayer; he then returned to his home. Nafi' said: Ibn Umar also used to do so.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے ۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 306
Hadith 2783
Chapter 1026: Regarding Wages For The One Who Distributes The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا وَمَا الْقُسَامَةُ قَالَ ‏"‏ الشَّىْءُ يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَجِيءُ فَيَنْتَقِصُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of the wages of a distributor of booty (qusamah). We asked: What is qusamah (wages of a distributor)? He said: It means a thing which is shared by the people, and then it is reduced.

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «قسامہ» سے بچو “ تو ہم نے کہا : «قسامہ» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے پھر تقسیم کرنے والا آتا ہے اور ہر ایک کے حصہ میں تھوڑا تھوڑا کم کر دیتا ہے ( اور اسے تقسیم کی اجرت کے طور پر خود لے لیتا ہے ) “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 307
Hadith 2784
Chapter 1026: Regarding Wages For The One Who Distributes The Spoils - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ شَرِيكٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ الرَّجُلُ يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ata' ibn Yasar:

Ata' reported a similar tradition (to No 2777) from the Prophet (ﷺ). This version adds: a man is appointed on groups of people, and takes (wages) from the share of this, and from the share of this.

عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ، اس میں ہے کہ

آپ نے فرمایا : ” ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 308
Hadith 2785
Chapter 1027: Engaging In Trade During Battle - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْىِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي قَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلاَثَمِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated A man from the Companions of the Prophet:

Ubaydullah ibn Salman reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): When we conquered Khaybar, they (the people) took out their spoils which contained equipment and captives. The people began to buy and sell their spoils. When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed, a man came to him and said: Messenger of Allah, I have gained today so much so that no one gained from this valley. He asked: Woe unto you, how much did you gain? He replied: I kept on selling and buying until I gained three hundred uqiyahs. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I tell you a man who gained better than you. He asked: What is that, Messenger of Allah? He replied! Two rak'ahs (of supererogatory prayer) after the (obligatory) prayer.

عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ

ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے ، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہو تیرے لیے ، کیا نفع کمایا تو نے ؟ “ بولا : میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے ( تجھ سے ) زیادہ نفع کمایا ہے “ اس نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت ( سنت کی ) پڑھی “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 309
Hadith 2786
Chapter 1028: Regarding Carrying Weapons To The Land Of The Enemy - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ، - رَجُلٍ مِنَ الضِّبَابِ - قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا كُنْتُ أُقِيضُهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Dhul-Jawshan:

A man of ad-Dabab, said: When the Prophet (ﷺ) became free from the people of Badr I brought to him a colt of my mare called al-Qarha' I said: Muhammad, I have brought a colt of a al-Qarha' , so that you may take it. He said: I have no need of it. If you wish that I give you a select coat of mail from (the spoils of) Badr, I shall do it. I said: I cannot give you today a colt in exchange. He said: Then I have no need of it.

ذوالجوشن ابوشمر ضبابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا ، اور میں نے کہا : محمد ! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا “ ، میں نے کہا : آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 310
Hadith 2787
Chapter 1029: Regarding Residing In The Land Of Shirk - كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Samurah ibn Jundub:

To proceed, the Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone who associates with a polytheist and lives with him is like him.

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

«أما بعد» ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 311
Page 2 of 2

Showing 111 hadiths on this page (Total: 311 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 2 of 2
Ready to play
0:00 / 0:00