Yazid ibn Hurmuz said: Najdah wrote to Ibn Abbas asking him about such-and-such, and such-and-such, and he mentioned some things; he (asked) about a slave whether he would get something from the spoils; and he (asked) about women whether they used to go out (on expeditions) along with the Messenger of Allah (ﷺ), and whether they would be allotted a share, Ibn Abbas said: Had I not apprehended a folly, I would not have written (a reply) to him. As for the slave, he was given a little of the spoils (as a reward from the booty); as to the women, they would treat the wounded and supply water.
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ
نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ ( اگر جہاد میں جائے ) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا ؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں ؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا ( پھر انہوں نے اسے لکھا : ) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا ، ( اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا ) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں ۔
Yazid bin Humruz said “Najdah Al Hururi wrote to Ibn ‘Abbas asking him whether the women participated in battle along with the Apostle of Allaah(ﷺ) and whether they were allotted a share from the spoils. I (Yazid bin Hurmuz) wrote a letter on behalf of Ibn ‘Abbas to Najdah. They participated in the battle along with the Apostle of Allaah(ﷺ), but no portion (from the spoils) was allotted to them, they were given only a little of it.
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ
نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا ، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں ؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے ؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں ، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا ۔
Hashraj ibn Ziyad reported on the authority of his grandmother that she went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the battle of Khaybar. They were six in number including herself.
(She said): When the Messenger of Allah (ﷺ) was informed about it, he sent for us. We came to him, and found him angry.
He said: With whom did you come out, and by whose permission did you come out?
We said: Messenger of Allah, we have come out to spin the hair, by which we provide aid in the cause of Allah. We have medicine for the wounded, we hand arrows (to the fighters), and supply drink made of wheat or barley.
He said: Stand up. When Allah bestowed victory of Khaybar on him, he allotted shares to us from spoils that he allotted to the men. He (Hashraj ibn Ziyad) said: I said to her: Grandmother, what was that? She replied: Dates.
حشرج بن زیاد اپنی دادی ( ام زیاد اشجعیہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں ، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا ، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم کس کے ساتھ نکلیں ؟ اور کس کے حکم سے نکلیں ؟ “ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں ، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے ، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے ، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے ، اور ستو گھول کر پلائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا چلو “ یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا ، حشرج بن زیاد کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : دادی ! وہ حصہ کیا تھا ؟ تو وہ کہنے لگیں : کچھ کھجوریں تھیں ۱؎ ۔
I was present at Khaybar along with my masters who spoke about me to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered about me, and a sword was girded on me and I was trailing it. He was then informed that I was a slave. He, therefore, ordered that I should be given some inferior goods.
Abu Dawud said: This means that he (the Prophet) did not allot a portion of the spoils.
Abu Dawud said: Abu 'Ubaid said: As he (the narrator Abi al-Lahm) made eating meat unlawful on himself, he was called Abi al-Lahm (one who hates meat).
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ
میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا ، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے ( ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا ) حکم دیا ، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے ( اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر ) گھسیٹ رہا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا ، ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں ( آبی اللحم ) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا ، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا ۔
A’ishah said (this is the version of narrator Yahya). A man from the polytheists accompanied the Prophet (ﷺ) to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوٹ جاؤ ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ ۔
Chapter 1001: Alloting Two Shares For The Horse - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ .
Narrated AbuUmrah (al-Ansari?):
We four persons, came to the Messenger of Allah (ﷺ), and we (i.e. each one of us) had horses. He therefore, allotted one portion for each of us, and two portions for his horse.
ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم چار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا ، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا ، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu ‘Umrah through a different chain of narrators to the same effect. But this version has “Three Persons” and added “To the horseman three portions.”
اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے
مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے ۔
Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly.
The people said to one another: What is the matter with them?
They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim.
When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory.
A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, this is a victory. Khaybar was divided among those who had been at al-Hudaybiyyah, and the Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army consisted of one thousand five hundred men, of which three hundred were cavalry, and he gave two shares to a horseman and one to a foot-soldier.
Abu Dawud said: Abu Mu'awiyah's tradition is sounder, and it is one which is followed. I think the error is in the tradition of Mujammi', because he said: "three hundred horsemen." when there were only two hundred.
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے ، وہ کہتے ہیں : ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے ، بعض نے بعض سے کہا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎ کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی ، تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہی فتح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہی فتح ہے “ ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومعاویہ کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۳ ) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے ، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے : تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ۲؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of Badr: He who does such-and-such, will have such-and such. The young men came forward and the old men remained standing near the banners, and they did not move from there. When Allah bestowed victory on them, the old men said: We were support for you. If you had been defeated, you would have returned to us. Do not take this booty alone and we remain (deprived of it). The young men refused (to give), and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has given it to us. Then Allah sent down: "They ask thee concerning (things taken as) spoils of war, Say: (Such) spoils are at the disposal of Allah and the Apostle......Just as they Lord ordered thee out of thy house in truth, even though a party among the believers disliked it." This proved good for them. Similarly obey me. I know the consequence of this better than you.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : ” جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا “ ، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں ، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا : ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری ہی طرف پلٹتے ، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ غنیمت کا مال تم ہی اڑا لو ، اور ہم یوں ہی رہ جائیں ، جوانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم کو دیا ہے ، تب اللہ نے یہ آیت کریمہ «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله» ” یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو ، بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی “ ( سورۃ الانفال : ۱-۵ ) سے «كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون» تک نازل فرمائی ، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا ، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو ، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of Badr: He who kills a man will get such-and-such, and he who captivates a man will get such-and-such. The narrator then transmitted the rest of the tradition in a similar manner. The tradition of Khalid is more perfect.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن فرمایا : ” جو شخص کسی کافر کو مارے تو اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے ، اور جو کسی کافر کو قید کرے اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے “ ، پھر آگے اسی حدیث کی طرح بیان کیا ، اور خالد کی ( یعنی : پچھلی حدیث ) زیادہ کامل ہے ۔
The tradition mentioned above has been transmitted by Dawud with a different chain of narrators. He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) apportioned it (spoils of war) equally. The tradition of Khalid is more perfect.
اس سند بھی سے داود سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے
اس میں ہے : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برابر برابر تقسیم کیا “ ، اور خالد کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۷ ) کامل ہے ۔
Mus’ab bin Sa’d reported on the authority of his father (Sa’ad bin Abi Waqqas) “I brought a sword to the Prophet(ﷺ) on the day of the Badr and I said (to him) Apostle of Allaah(ﷺ) , Allaah has healed up my breast from the enemy today, so give me this sword. He said “This sword is neither mine nor yours. I then went away saying “today this will be given to a man who has not been put to trial like me. Meanwhile a messenger and came to me and said “Respond, I thought something was revealed about me owing to my speech. I came and the Prophet (ﷺ) said to me “You asked me for this sword, but this was neither mine nor yours. Now Allaah has given it to me, hence it is yours. He then recited “they ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say “(Such) spoils are at the disposal of Allaah and the Apostle.
Abu Dawud said “According to the reading of the Qur’an of Ibn Mas’ud the verse goes. They ask thee concerning (things taken as ) spoils of war.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی ، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری “ یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا : یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے ، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا ، اور کہا چلو ، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے ، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری ، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے ، لہٰذا ( اب ) یہ تمہاری ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) sent us along with an army towards Najd, and he sent a detachment of that army (to face the enemy). The whole army got twelve camels per head as their portion, but he gave the detachment one additional camel (apart from the division made to the army). Thus they got thirteen camels each (as a reward).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا ، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے ۔
Al Walid bin Muslim said “I narrated this tradition (mentioned above) to Ibn Al Mubarak and said “And similarly it has been narrated by Ibn Abi Farwah to us on the authority of Nafi’(as narrated by Shu’aib). He (Ibn Al Mubarak) said “Those whom you have named cannot be equal to Malik i.e, Malik bin Anas.
ولید بن مسلم کہتے ہیں : میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی ، میں نے کہا
اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا : جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی ، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے ۔
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلاَبِيَّ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ فَخَرَجْتُ مَعَهَا فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَسَّمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلاَ عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلاَثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ .
Narrated Abdullah ibn Umar:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent a detachment to Najd. I went out along with them, and got abundant riches. Our commander gave each of us a camel as a reward. We then came upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he divided the spoils of war among us. Each of us received twelve camels after taking a fifth of it. The Messenger of Allah (ﷺ) did not take account of our companion (i.e. the commander of the army), nor did he blame him for what he had done. Thus each man of us had received thirteen camels with the reward he gave.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ۱؎ نجد کی جانب بھیجا ، میں بھی اس کے ساتھ نکلا ، ہمیں بہت سے اونٹ ملے ، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا ، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا ، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے ، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا ، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا ، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے ۔
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، - الْمَعْنَى - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا . زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allaah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent a detachment towards Najd. ‘Abd Allaah bin ‘Umar also accompanied it. They gained a large number of Camels as a booty. Their portion was twelve Camels each and they were rewarded (in addition) one Camel each. The version of Ibn Mawhab added “The Apostle of Allaah(ﷺ) did not change it”
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے ، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل ( انعام ) دئیے گئے ۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں ۔
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بَعِيرًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا . لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
‘Abd Allaah (bin ‘Umar) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent us along with a detachment. The share of each was twelve Camels. The Apostle of Allaah(ﷺ) gave each one of us a Camel as a reward.
Abu Dawud said “Burd bin Sinan narrated a similar tradition from Nafi’ as narrated by ‘Ubaid Allaah. Ayyub also narrated from Nafi’ a similar tradition, but his version goes “We were rewarded one Camel each. He did not mention the Prophet (ﷺ).
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا ، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے ، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا ، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to give to some of the detachments he sent out (something extra) for themselves in particular apart from the division made to the whole army. The fifth is necessary in all that.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ۱؎ ۔
Chapter 1004: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَىٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلاَثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ " . فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا .
Narrated Abdullah ibn Umar:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Badr along with three hundred and fifteen (men). The Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, they are on foot, provide mount for them; O Allah , they are naked, clothe them; O Allah, they are hungry, provide food for them. Allah then bestowed victory on them. They returned when they were clothed. There was no man of them but he returned with one or two camels; they were clothed and ate to their fill.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی : «اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم» ” اے اللہ ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے ، اے اللہ ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے ، اے اللہ ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے “ ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی ، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو ، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to give a quarter of the booty as reward after the fifty had been kept off, and a third after the fifth had been kept off when he returned.
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ربع ( ایک چوتھائی ) بطور نفل دیتے تھے ( ابتداء جہاد میں ) اور جب جہاد سے لوٹ آتے ( اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا ) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے ۔
Makhul said: I was the slave of a woman of Banu Hudhayl; afterwards she emancipated me. I did not leave Egypt until I had acquired all the knowledge that seemed to me to exist there.
I then came to al-Hijaz and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available.
Then I came to al-Iraq, and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available.
I then came to Syria, and besieged it. I asked everyone about giving rewards from the booty. I did not find anyone who could tell me anything about it.
I then met an old man called Ziyad ibn Jariyah at-Tamimi. I asked him: Have you heard anything about giving rewards from the booty? He replied: Yes. I heard Maslamah al-Fihri say: I was present with the Prophet (ﷺ).
He gave a quarter of the spoils on the outward journey and a third on the return journey.
مکحول کہتے ہیں
میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا ، اس نے مجھے آزاد کر دیا ، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا ، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا ، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا ، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا ، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا ، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے ، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا ، میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ کہا : ہاں ! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد ( پھر حملہ کرنے پر ) ۱؎ ایک تہائی بطور نفل دیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Muslims are equal in respect of blood. The lowest of them is entitled to give protection on behalf of them, and the one residing far away may give protection on behalf of them. They are like one hand over against all those who are outside the community. Those who have quick mounts should return to those who have slow mounts, and those who got out along with a detachment (should return) to those who are stationed. A believer shall not be killed for an unbeliever, nor a confederate within the term of confederation with him.
Ibn Ishaq did not mention retaliation and equality in respect of blood.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کے خون برابر ہیں ۱؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے ، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی ، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے ( گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو ) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ۲؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ ( غنیمت کے مال میں ) اس کے برابر ہو گا جس کی سواریاں کمزور ہیں ، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے ، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو “ ۔ ابن اسحاق نے «القود» ۳؎ اور «التكافؤ» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔