Chapter 1006: The Spoils Acquired By A Detachment Should Be Divided Among The Whole Army - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ رَاعِيَهَا وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهُ . ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَىَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ رُمْحًا وَثَلاَثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ . فَقَامَ إِلَىَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلاَ أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي . فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خَمْسِمِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ .
Salamah (bin Al ‘Akwa) said “Abd Al rahman bin ‘Uyainah raided the Camels of the Apostle of Allaah(ﷺ) and killed their herdsman. He and some people who were with him on horses proceeded on driving them away. I turned my face towards Madeenah and shouted three times. A morning raid, I then went after the people shooting arrows at them and hamstringing them (their beasts). When a horseman returned to me, I sat in the foot of a tree till there was no riding beast of the Prophet (ﷺ) created by Allaah which I had not kept behind my back. They threw away more than thirty lance and thirty cloaks to lighten themselves. Then ‘Uyainah came to them with reinforcement and said “A few of you should go to him. Four of them stood and came to me. They ascended a mountain. Then they came near me till they could hear my voice. I told them “Do you know me?” They said “Who are you? I replied “I am Ibn Al ‘Akwa. By Him Who honored the face of Muhammad (ﷺ) if any man of you pursues he cannot catch me and if I pursue him, I will not miss him. This went on with me till I saw the horsemen of the Apostle of Allaah(ﷺ) coming through the trees. Al Akhram Al Asadi was at their head. He then joined ‘Abd Al Rahman bin ‘Uyainah and ‘Abd Al Rahman turned over him. They attacked each other with lances. Al Akhram hamstrung ‘Abd Al Rahman’s horse and ‘Abd Al Rahman pierced a lance in his body and killed him. ‘Abd al Rahman then returned on the horse of Al Akhram. I then came to the Apostle of Allaah(ﷺ) who was present at the same water from where I drove them away and which is known as Dhu Qarad. The Prophet (ﷺ) was among five hundred people. He then gave me two portions a horseman’s and a footman’s.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا ، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا ، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے ، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا ، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» ( اے صبح کا حملہ ) ۱؎ ، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا ، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا ، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا ، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں ، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا ، اور اس نے کہا : تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف ( یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ) کی طرف جائیں ( اور اسے قتل کر دیں ) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے ، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا : تم مجھے پہچانتے ہو ، انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں اکوع کا بیٹا ہوں ، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی ، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا ، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا ، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں ، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے ، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے ، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا ، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا ، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا ، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا ، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا ، دونوں میں بھالا چلنے لگا ، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا ، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا ، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے ، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں ، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ۲؎ ۔
AbulJuwayriyyah al-Jarmi said: I found a red pitcher containing dinars in Byzantine territory during the reign of Mu'awiyah. A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) belonging to Banu Sulaym was our ruler. He was called Ma'an ibn Yazid. I brought it to him. He apportioned it among the Muslims. He gave me the same portion which he gave to one of them. He then said: Had I not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no reward except after taking the fifth (from the booty), I would have given you (the reward). He then presented his own share to me, but I refused.
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎ ، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، ہمارے اوپر حاکم تھے ، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا ، میں اسے ان کے پاس لایا ، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا ، پھر کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا ، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer facing a camel which had been taken in booty, and when he had given the salutation, he took a hair from the camel's side and said: I have no right as much as this of your booty, but only to the fifth. and the fifth is returned to you.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی ، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا ، اور فرمایا : ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے ، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎ “ ۔
Ibn ‘Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A banner will be hoisted for a treacherous man on the Day of Judgment, it will then be announced. This is a treachery of so and so, son of so and so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ، اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے “ ۔
Chapter 1010: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنِّي لاَ أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الآنَ فَارْجِعْ " . قَالَ فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمْتُ . قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ يَصْلُحُ .
Narrated AbuRafi':
The Quraysh sent me to the Messenger of Allah (ﷺ), and when I saw the Messenger of Allah (ﷺ), Islam was cast into my heart, so I said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I shall never return to them. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: I do not break a covenant or imprison messengers, but return, and if you feel the same as you do just now, come back. So I went away, and then came to the Prophet (ﷺ) and accepted Islam.
The narrator Bukair said: He informed me that Abu Rafi' was a Copt.
Abu Dawud said: This was valid in those days, but today it is not valid.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قریش نے مجھے ( صلح حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں ، تم واپس جاؤ ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا “ ، ابورافع کہتے ہیں : میں قریش کے پاس لوٹ آیا ، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا ۔ بکیر کہتے ہیں : مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎ ۔
Sulaym ibn Amir, a man of Himyar, said: There was a covenant between Mu'awiyah and the Byzantines, and he was going towards their country, and when the covenant came to an end, he attacked them. A man came on a horse, or a packhorse saying, Allah is Most Great, Allah is Most Great; let there be faithfulness and not treachery. And when they looked they found that he was Amr ibn Abasah. Mu'awiyah sent for him and questioned him (about that). He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When one has covenant with people he must not strengthen or loosen it till its term comes to an end or he brings it to an end in agreement with them (to make both the parties equal). So Mu'awiyah returned.
سلیم بن عامر سے روایت ہے ، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے ، وہ کہتے ہیں
معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے ، ( اس مدت میں ) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے ، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی ، تو انہوں نے ان سے جنگ کی ، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، وہ کہہ رہا تھا : اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا ، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے ، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے “ ، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when they (messengers sent by Musaylimah) read the letter of Musaylimah: What do you believe yourselves? They said: We believe as he believes. He said: I swear by Allah that were it not that messengers are not killed, I would cut off your heads.
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا : ” تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ “ ان دونوں نے کہا : ” ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے “ ، ( یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا “ ۔
Harithah ibn Mudarrib said that he came to Abdullah ibn Mas'ud and said (to him): There is no enmity between me and any of the Arabs. I passed a mosque of Banu Hanifah. They (the people) believed in Musaylimah. Abdullah (ibn Mas'ud) sent for them. They were brought, and he asked them to repent, except Ibn an-Nawwahah. He said to him: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Were it not that you were not a messenger, I would behead you. But today you are not a messenger. He then ordered Qarazah ibn Ka'b (to kill him). He beheaded him in the market. Anyone who wants to see Ibn an-Nawwahah slain in the market (he may see him).
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ
انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا : میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے ، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں ، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا ، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا ، اور ابن نواحہ سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے “ ۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی ، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے ۔
Ibn ‘Abbas said “Umm Hani daughter of Abu Talib told me that in the year of the conquest she gave protection to a man from the polytheists. She came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. He said “We have given security to those to whom you have given it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی ، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Mecca) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet (May peace be upon him) said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my soul is, they will not ask any me good thing by which they honor which God has made sacred without my giving them it. He then urged her and she leaped up and he turned aside from them, and stopped at the farthest side of al-Hudaibiyyah at a pool with little water. Meanwhile Budail bin Warqa al-Khuza’I came, and ‘Urwah bin Mas’ud joined him. He began to speak to the Prophet (ﷺ). Whenever he spoke to the Prophet (ﷺ), he caught his beard. Al Mughriah bin Shu’bah was standing beside the Prophet (ﷺ).He had a sword with him, wearing a helmet. He (Al Mughriah) struck his (‘Urwah’s) hand with the lower end of his sheath, and said: Keep away your hand from his beard. ‘Urwah then raised his hand and asked: Who is this? They replied: Al-Mughirah bin Shu’bah. He said: O treacherous one! Did I not use my offices in your treachery? In pre-Islamic days Al-Mughirah bin Shu’bah accompanied some people and murdered them, and took their property. He then came (to the Prophet) and embraced Islam. The Prophet (ﷺ) said: As for Islam we accepted it, but as to the property, as it has been taken by treachery, we have no need of it. He went on with the tradition the Prophet (ﷺ) said: Write down: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has decided. He then narrated the tradition. Suhail then said: And that a man will not come to you from us, even if he follows your religion, without you sending him back to us. When he finished drawing up the document, the Prophet (ﷺ) said to his Companions: Get up and sacrifice and then shave. Thereafter some believing women who were immigrants came. (Allah sent down: O yea who believe, when believing women come to you as emigrants). Allah most high forbade them to send them back, but ordered them to restore the dower. He then returned to Medina. Abu Basir a man from the Quraish (who was a Muslim), came to him. And they sent (two men) to look for him; so he handed him over to the two men. They took him away, and when they reached Dhu Al Hulaifah and alighted to eat some dates which they had, Abu Basir said to one of the men : I swear by Allah so-and-so, that I think this sword of yours is a fine one; the other drew the sword and said : Yes I have tried it. Abu Basir said: Let me look at it. He let him have it and he struck him till he died, whereupon the other fled and came to Medina, and running entered the mosque. The Prophet ( may peace be upon him) said: This man has seen something frightful. He said: I swear by Allah that my Companion has been killed, and im as good as dead. Abu Basir then arrived and said: Allah has fulfilled your covenant. You returned me to them, but Allah saved me from them. The Prophet (ﷺ) said: Woe to his mother, stirrer up of war! Would that he had someone (i.e. some kinsfolk). When he heard that he knew that he would send him back to them, so he went out and came to the seashore. Abu Jandal escaped and joined Abu Basir till a band of them collected.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا ، اور اشعار کیا ، اور عمرہ کا احرام باندھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی ، لوگوں نے کہا : ” حل حل “ ۱؎ قصواء اڑ گئی ، قصواء اڑ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے ، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا ، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا ، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے ، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : مغیرہ بن شعبہ ہیں ، اس پر عروہ نے کہا : اے بدعہد ! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی ؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا ، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے ۲؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا ، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں “ ۳؎ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لکھو ، یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کی ہے “ ، پھر پورا قصہ بیان کیا ۔ سہیل نے کہا : اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے ، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” اٹھو اور اونٹ نحر ( ذبح ) کرو ، پھر سر منڈا ڈالو “ ، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا ، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا ، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا ، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے ، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے ، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے ، اس نے میان سے نکال کر کہا : ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں ، ابوبصیر نے کہا : مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں ، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی ، تو انہوں نے ( اسی تلوار سے ) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، ( یہ دیکھ کر ) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ڈر گیا ہے “ ، وہ بولا : قسم اللہ کی ! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنا عہد پورا کیا ، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا ، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہو اس کی ماں کے لیے ، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے ، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا “ ، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے ، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور ( ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا ) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی ۔
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery.
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی ، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے ، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎ ۔
Chapter 1015: Regarding Treaties With The Enemy - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمَا فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ - رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ " .
Narrated Dhu Mikhbar:
Hassan ibn Atiyyah said: Makhul and Ibn Zakariyya went to Khalid ibn Ma'dan, and I also went along with them. He reported a tradition on the authority of Jubayr ibn Nufayr. He said: Go with us to Dhu Mikhbar, a man from the Companions of the Prophet (ﷺ). We came to him and Jubayr asked him about peace. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: You will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you.
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ
مکحول اور ابن ابی زکریا خالد بن معدان کی طرف مڑے اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں : جبیر نے ( مجھ سے ) کہا : ہمیں ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں کے پاس لے چلو ، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریب ہے کہ تم روم سے ایسی صلح کرو گے کہ کوئی خوف نہ رہے گا ، پھر تم اور وہ مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے “ ۔
The Messenger of Allah ( may peace be upon him) said : Who will pursue Ka’b bin Al-Ashraf, for he has caused trouble to Allah and His Apostle? Muhammad bin Maslamah stood up and said: I (shall do), Messenger of Allah. Do you want that I should kill him? He said: Yes. He said: So permit me to say something (against you). He said: Yes say. He then came to him (Ka’b b. al-Ashraf) and said to him: This man has asked us for sadaqah (alms) and has put us into trouble. He (Ka’b) said: You will be more grieved. He (Muhammad bin Maslamah) said: We have followed him and we do not like to forsake him until we see what will be the consequences of his matter. We wished if you could lend us one or two wasqs. Ka’b said: What will you mortgage with me? He asked: what do you want from us? He replied : your Women. They said: Glory be to Allah: You are the most beautiful of the Arabs. If we mortgage our women with you, that will be a disgrace for us. He said “The mortgage your children.” They said “Glory be to Allaah, a son of us may abuse saying “You were mortgaged for one or two wasqs.” They said “We shall mortgage or coat of mail with you. By this he meant arms”. He said “Yes, when he came to him, he called him and he came out while he used perfume and his head was spreading fragrance. When he at with him and he came there accompanied by three or four persons who mentioned his perfume. He said “I have such and such woman with me. She is most fragrant of the women among the people. He (Muhammad bin Maslamah) asked “Do you permit me so that I may smell? He said “Yes. He then entered his hand through his hair and smell it.” He said “May I repeat?” He said “Yes. He again entered his hand through his hair. When he got his complete control, he said “Take him. So he struck him until they killed him.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میں ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، کہہ سکتے ہو “ ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا : اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے ، کعب نے کہا : ابھی کیا ہے ؟ تم اور اکتا جاؤ گے ، اس پر انہوں نے کہا : ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے ؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو ، کعب نے کہا : تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے ؟ محمد بن مسلمہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو ؟ کعب نے کہا : اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو ، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا ، اس نے کہا : اپنی اولاد کو رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا ، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے ، کعب نے کہا ٹھیک ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا ، اس کا سر مہک رہا تھا ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا ، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں ؟ اس نے کہا : ہاں ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا ، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا : ہاں ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا : پکڑو اسے ، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ۔
‘Abd Allah bin ‘Umar said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) returned from an expedition, Hajj or ‘Umrah on every rising piece of ground he would say three times “Allaah is Most Great” and he would say “There is no god bt Allaah alone who has no partner, to Whom the dominion belongs, to Whom praise is due, and Who is Omnipotent, serving, prostrating ourselves before our Lord and expressing praise. Allaah alone has kept his word, helped His servant and routed the confederate.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد یا حج و عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار «الله اكبر» کہتے ، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے : «لا إله إلا الله ، وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون ، صدق الله وعده ، ونصر عبده ، وهزم الأحزاب وحده» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور اسی کے لیے حمد ہے ، او وہ ہر چیز پر قادر ہے ، ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، سجدہ کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی ، اور اکیلے ہی جتھوں کو شکست دی “ ۔
Ibn ‘Abbas said “The verse “Those who believe in Allaah and the Last Day ask thee for no exemption from fighting with their goods and persons” was abrogated by the verse “Only those are believers who believe in Allaah and His Apostle....For Allaah is Oft-Forgiving, Most Merciful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
آیت کریمہ «لا يستأذنك الذين يؤمنون بالله واليوم الآخر» ” اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو کبھی بھی تجھ سے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر جہاد کرنے سے رکے رہنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ “ ( سورۃ التوبہ : ۴۴ ) کو سورۃ النور کی آیت «إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله» سے «غفور رحيم» تک ” باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے ، جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں ، پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے “ ( سورۃ النور : ۶۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۱؎ ۔
Chapter 1019: On Sending A Person Carrying Good News - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ " . فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ .
Jarir (bin ‘Abd Allaah) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Why do you not give me rest from Dhu Al Khulasah? He went there and burned it. He then sent a man from Ahmas to the Prophet (ﷺ) to give him good tidings. His surname was Artah.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے ؟ “ ۲؎ ، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے ۔
Ka’ab bin Malik said “When the Prophet(ﷺ) arrived from a journey, he first went to a mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people. The narrator Ibn Al Sarh then narrated the rest of the tradition. He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) forbade the Muslims to speak to any three of us. When considerable time had passed on me, I ascended the wall of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allaah he did not return my salutation. I then offered the dawn prayer on the fiftieth day on the roof of one of our houses. I then hear d a crier say “Ka’ab bin Mailk, have good news”. When the man whose voice I heard came to me giving me good news, I took off my garments and clothed him. I went on till I entered the mosque. The Apostle of Allaah(ﷺ) was sitting there. Talhah bin ‘Ubaid Allaah stood up and hastened to me till he shook hands with me and greeted me.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے ، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ( اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا ، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا ، میں نے ان کو سلام کیا ، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا ، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا : کعب بن مالک ! خوش ہو جاؤ ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا ، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے ، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے ، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎ ۔
When anything came to the Prophet (ﷺ) which caused pleasure (or, by which he was made glad), he prostrated himself in gratitude to Allah.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎ ۔
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mecca making for Medina. When we were near Azwara', he alighted, then raised his hands, and made supplication to Allah for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. Then he stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration.
He then stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself. Ahmad mentioned it three times.
He then said: I begged my Lord and made intercession for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people and He gave me the remaining third, so I prostrated myself in gratitude to my Lord.
Abu Dawud said: When Ahmad b. Salih narrated this tradition to us, he omitted the name of Ash'ath b. Ishaq, but Musa b. Sahl al-Ramli narrated it to us through him.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے ، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے ، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی ، پھر سجدہ میں گر پڑے ، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے ، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی ، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے ، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی ، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی ، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا ، پھر سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا ، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا “ ۔