‘Urwah b. al-Mughirah reported his father as saying :
We accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) to a caravan, and I had a jug of water. He went to relieve himself and came back. I came to him with the jug of water and poured upon him. He washed his hands and face. He had a tight-sleeved Syrian woolen gown. He tried to get his forearms out, but the sleeve of the gown was very narrow, so he brought his hands out from under the gown. I then bent down to take off his socks. But he said to me : Leave them, for my feet were clean when I put them in, and he only wiped over them.
Yunus said on the authority of al-Sha’bi that ‘Urwah narrated his tradition from his father before him, and his father reported it from the Messenger of Allah (ﷺ).
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل ( چھوٹا برتن ) تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا ، میں نے آپ ( کے ہاتھ ) پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا ، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے ، جس کی آستین تنگ و چست تھی ، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا ، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” موزوں کو رہنے دو ، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا ۔ شعبی کہتے ہیں : یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ . قَالَ فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ - قَالَ - فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ رَكْعَةً فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ عُمَرَ يَقُولُونَ مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلاَةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ .
Al-Mughirah b. Shu’bah said :
The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind (in a journey). He then narrated this story saying : Then we came to people. ‘Abd al-Rahman was leading them in the dawn prayer. When he perceived the presence of the Prophet (ﷺ), he intended to retire. The Prophet (ﷺ) asked him to continue and I and the Prophet (ﷺ)offered one rak’ah of prayer behind him. When he had pronounced the salutation, the Prophet(ﷺ) got up and offered the rak’ah which had been finished before, and he made no addition to it.
Abu Dawud said: Abu Sa’id al-Khudri, Ibn al-Zubair and Ibn ‘Umar hold the opinion that whoever gets an odd number of the rak’ahs of prayer, he should perform two prostrations on account of forgetfulness.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں لوگوں کی جماعت سے ) پیچھے رہ گئے ، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو پیچھے ہٹنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : تو میں نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی ، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو سعید خدری ، ابن زبیر ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے ، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۱؎ ۔
Abu ‘Abd al-Rahman al-Sulami said that he witnessed ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf asking Bilal about the ablution of the Prophet (ﷺ). Bilal said:
He went out to relieve himself. Then I brought water for him and he performed ablution, and wiped over his turban and socks.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ
وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، بلال نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تشریف لے جاتے ، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) اور دونوں موق ( جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے ) پر مسح کرتے ۔
Jarir urinated. He then performed ablution and wiped over the socks. He said: What can prevent me from wiping (over the socks); I saw the Messenger of Allah (doing so). They (the people) said: This (action of yours) might be valid before the revelation of Surat al-Ma’idah. He replied: I embraced Islam after the revelation of Surat al-Ma’idah.
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ
جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( موزوں پر ) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس پر لوگوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے ۔
Negus presented to the Messenger of Allah (ﷺ) two black and simple socks. He put them on; then he performed ablution and wiped over them.
Musaddad reported this tradition from Dulham b. Salih.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by the people of Basrah alone.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) wiped over the socks and I said: Messenger of Allah, have you forgotten ? He said: My Lord has commanded me to do this.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ تم بھول گئے ہو ، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The time limit for wiping over the socks for a traveller is three days (and three nights) and for a resident it is one day and one night.
Abu Dawud said: Another version adds: Had we requested him to extend (the period of wiping), he would have extended.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن ، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور بن معتمر نے اسے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس مدت کو ) بڑھانے کے لیے کہتے تو آپ اسے ہمارے لیے بڑھا دیتے ۔
I asked: Messenger of Allah (ﷺ) may I wipe over the socks? He replied: Yes. He asked: For one day? He replied: For one day. He again asked: And for two days? He replied: For two days too. He again asked: And for three days? He replied: Yes, as long as you wish.
Abu Dawud said: Another version says: He asked him about the period until he reached the period of seven days. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Yes, as long as you wish (i.e. there is no time limit).
Abu Dawud said: There is a variance in the chain of narrators of this tradition. The chain is not strong.
Another chain from Yahya b. Ayyub is also disputed.
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ
ابی بن عمارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں ( بیت المقدس اور بیت اللہ ) کی طرف نماز پڑھی ہے - آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا میں موزوں پر مسح کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، ابی نے کہا : ایک دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن تک “ ، ابی نے کہا : اور دو دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو دن تک “ ، ابی نے کہا : اور تین دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور اسے تم جتنا چاہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے ، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے ، محمد نے عبادہ بن نسی سے ، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے : یہاں تک کہ ( پوچھتے پوچھتے ) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے گئے : ” ہاں ، جتنا تم چاہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کی سند میں اختلاف ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over the stockings and shoes.
Abu Dawud said: 'Abd al-Rahman b. Mahdi did not narrate this tradition because the familiar version from al-Mughirah says that the Prophet (ﷺ) wiped over the socks.
Abu Musa al-Ash'ari has also reported: The Prophet (ﷺ) wiped over stockings. But the chain of narrators of this tradition is neither continous nor strong.
'Ali b. Abi Talib, Ibn Mas'ud, al-Bara' b. 'Aziz, Anas b. Malik, Abu Umamah, Sahl b. Sa'd and 'Amr b. Huriath also wiped over the stockings.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ، اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا ، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن ابی طالب ، ابن مسعود ، براء بن عازب ، انس بن مالک ، ابوامامہ ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے ، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے ۔
Chapter 63: Another Proof For Wiping - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ عَبَّادٌ - قَالَ أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ . وَقَالَ عَبَّادٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ - يَعْنِي الْمِيضَأَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ ثُمَّ اتَّفَقَا - فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ .
Narrated Aws ibn AbuAws ath-Thaqafi:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over his shoes and feet.
Abbad (a sub-narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to the well of a people. Musaddad did not mention the words Midat (a place where ablution is performed), and Kazamah (well). Then both agreed on the wording:"He performed ablution and wiped over his shoes and feet."
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔ عباد کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے ۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے ، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْىِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاَهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
If the religion were based on opinion, it would be more important to wipe the under part of the shoe than the upper but I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wiping over the upper part of his shoes.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
” اگر دین ( کا معاملہ ) رائے اور قیاس پر ہوتا ، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا ، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے “ ۔
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:
“I always preferred to wash the under part of the feet until I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping the upper part of them.
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْىِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ كُنْتُ أُرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي الْخُفَّيْنِ . وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
A ‘mash transmitted this tradition saying:
If religion were based on opinion, it would be more proper to wipe the under part of the feet than the upper. The Prophet (ﷺ) wiped over the upper part of his shoes.
The narrator Waki’ said: I saw ‘ Ali perform ablution and wash the upper part of his feet, and say : Had I not seen the Messenger of Allah(ﷺ) doing like this –and he narrated the tradition in full.
اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر دین ( کا معاملہ ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے ۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے ، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے ، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا ، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی ۔
I poured water while the Prophet (ﷺ) performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part.
Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja'.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا ، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) urinated, he performed ablution and sprinkled water on private parts of the body.
Abu Dawud said: A group of scholars agreed with Sufyan upon this chain of narrators. Some have mentioned the name of Sufyan b. al-Hakam, and others al-Hakam b. Sufyan.
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے ، اور ( وضو کے بعد ) شرمگاہ پر ( تھوڑا ) پانی چھڑک لیتے ۔
We served ourselves in the company of Messenger of Allah (ﷺ). We tended our camels by turn. One day I had my turn to tend the camels, and I drove them in the afternoon. I found the Messenger of Allah (ﷺ) addressing the people. I heard him say: Anyone amongst you who performs ablution, and does it well, then he stands and offers two rak’ahs of prayer, concentrating on it with his heart and body, Paradise will be his lot by all means. I said: Ha-ha! How fine it is! A man in front of me said: The action (mentioned by the Prophet) earlier, O ‘Uqbah, is finer that this one. I looked at him and found him to be ‘Umar b. al-Khattab. I asked him: What is that, O Abu Hafs? He replied: He (the Prophet) had said before you came: If any one of you performs ablution, and does it well, and when he finishes the ablution, he utters the words : I bear witness that there is no deity except Allah, He has no associate, and I bear witness that Muhammad is His Servant and His Messenger, all the eight doors of Paradise will be opened for him; he may enter (through) any of them.
Mu’awiyah said: Rabi’ah b. Yazid narrated this tradition to me from Abu Idris and the authority of ‘Uqbah b.’Amir.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے ، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے ، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی ، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے ( اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی “ ، میں نے کہا : واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے ، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا : عقبہ ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی ، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے ، عرض کیا : ابوحفص ! وہ کیا تھی ؟ آپ نے کہا : تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے ، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے : «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله» ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے ، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو “ ۔ معاویہ کہتے ہیں : مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے ، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔
‘Uqbah b. ‘Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet(ﷺ) in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words:
“he then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Mu’awiyah.
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے
ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے : ” پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی “ ۱؎ ۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔
I asked Anas b. Malik about ablution. He replied: The Prophet (ﷺ) performed ablution for each prayer and we offered (many) prayers with the same ablution.
عمرو بن عامر بجلی ( محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں : عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں ) کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed five prayers with the same ablution of the occasion of the capture of Mecca, and he wiped over his socks. ‘Umar said to him(the Prophet): I saw you doing a thing today that you never did. He said: I did it deliberately.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں ، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے “ ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمَيْهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " .
Anas reported:
A person came to the Messenger of Allah (ﷺ). He performed ablution and left a small part equal to the space of a nail upon his foot. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him : Go back and perform ablution well.
Abu Dawud said: This tradition is not known through Jarir b. Hazim. It was transmitted only by Ibn Wahab.
Another version adds the wording : “ Go back and perform the ablution well.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا ، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ ( خشک ) چھوڑ دی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے ، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے ، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے ، معقل ابوزبیر سے ، ابوزبیر جابر سے ، جابر عمر سے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى قَتَادَةَ .
Hasan narrated from the Prophet (ﷺ) a tradition conveying the same meaning as that of Qatadah.
اس سند سے حسن ( حسن بصری ) نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ ( قتادہ ابن دعامۃ ) کی حدیث کے ہم معنی ( مرسلاً ) روایت کی ہے ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، - هُوَ ابْنُ سَعْدٍ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاَةَ .
Narrated Some Companions of the Prophet:
The Prophet (ﷺ) saw a person offering prayer, and on the back of his foot a small part equal to the space of a dirham remained unwashed; the water did not reach it. The Prophet (ﷺ) commanded him to repeat the ablution and prayer.
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا ، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا ، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو ، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎ ۔