Narrated Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra':
The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to us. He once said: Pour ablution water on me. She then described how the Prophet (ﷺ) performed ablution saying: He washed his hands up to wrist three times and washed his face three times, and rinsed his mouth and snuffed up water once. Then he washed his forearms three times and wiped his head twice beginning from the back of his head, then wiped its front. He wiped his ears outside and inside. Then he washed his feet three times.
Abu Dawud said: The tradition narrated by Musaddad carries the same meaning.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ( اکثر ) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے وضو کا پانی لاؤ “ ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ ( پہلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے ، اور چہرے کو تین بار دھویا ، کلی کی ، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، دو بار سر کا مسح کیا ، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا ، پھر اگلے حصہ سے ، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں ۔
Al-Rubayyi’ daughter of Mu’awwidh b. ‘Afra’ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution in her presence. He wiped the whole of his head from its upper to the lower part moving every side. He did not move the hair from their original position.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا ، تو پورے سر کا مسح کیا ، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution. He wiped his head front and back, his temples and his ears once.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping his head once up to his nape.
Musaddad reported: He wiped his head from front to back until he moved his hands from beneath the ears.
Abu Dawud said: I heard Ahmad say: People thought that Ibn 'Uyainah had considered it to be munkar (rejected) and said: What is this chain: Talhah - his father - his grandfather ?
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» ( گردن کے سرے ) تک پہنچا ۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا ۔ مسدد کہتے ہیں : تو میں نے اسے یحییٰ ( یحییٰ بن سعید القطان ) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد ( احمد بن حنبل ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ( سفیان ) ابن عیینہ ( بھی ) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے ؟
Sa'id ibn Jubayr reported: Ibn Abbas saw the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution. He narrated the tradition which says that he (the Prophet) performed each detail of ablution three times. He wiped his head and ears once.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور ( اعضاء وضو کو ) تین تین بار دھونے کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا ۔
Chapter 51: The Manner of The Prophet's Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ، وُضُوءَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ . قَالَ وَقَالَ
" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ " . قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ . قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ حَمَّادٌ لاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ . يَعْنِي قِصَّةَ الأُذُنَيْنِ . قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ كُنْيَتُهُ أَبُو رَبِيعَةَ .
Narrated AbuUmamah:
AbuUmamah mentioned how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution, saying that he used to wipe the corners of his eyes, and he said that the ears are treated as part of the head.
Sulaiman b. Harb said: the wording "the ears are treated as part of the head" were uttered by Abu Umamah.
Hammad said: I do not know whether the phrase "the ears are treated as part of the head" was he statement of the Prophet (ﷺ) or of Abu Umamah.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو ( کی کیفیت ) کا ذکر کیا اور فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے ، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کان سر میں داخل ہیں “ ۔ سلیمان بن حرب کہتے ہیں : ابوامامہ بھی یہ کہا کرتے تھے ( کہ دونوں کان سر میں داخل ہیں ) ۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ قول یعنی دونوں کانوں کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے ، یا ابوامامہ کا ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) and asked him: Messenger of Allah, how is the ablution (to performed)?
He (the Prophet) then called for water in a vessel and washed his hands up to the wrists three times, then washed his face three times, and washed his forearms three times. He then wiped his head and inserted both his index fingers in his ear-holes; he wiped the back of his ears with his thumbs and the front of his ears with the index fingers. He then washed his feet three times.
Then he said: This is how ablution should be performed. If anyone does more or less than this, he has done wrong and transgressed, or (said) transgressed and done wrong.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وضو کس طرح کیا جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا ، پھر چہرہ تین بار دھویا ، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے ، پھر سر کا مسح کیا ، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا ، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے ، پھر فرمایا : ” وضو ( کا طریقہ ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا ، اور ظلم کیا “ ، یا فرمایا : ” ظلم کیا اور برا کیا “ ۔
Do you like that I should show you how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution? He then called for a vessel of water and took out a handful of water with his right hand. He then rinsed his mouth and snuffed up water. He then took out another handful of water and washed his face by both his hands together. He then took out another handful of water and washed his right hand and then washed his left hand by taking out another. He then took out some water and shook off his hand and wiped his head and ears with it. He then took out a handful of water and sprinkled it over his right foot in his shoe and wiped the upper part of the foot with his one hand, and beneath the shoe with his other hand. He then did the same with his left foot.
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا ، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا ، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا ، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا ، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے ، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل ( جوتا ) کے نیچے تھا ، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۱؎ ۔
I entered upon the Prophet (ﷺ) while he was performing ablution, and the water was running down his face and beard to his chest. I saw him rinsing his mouth and snuffing up water separately.
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس وقت آپ وضو کر رہے تھے ، پانی چہرے اور داڑھی سے آپ کے سینے پر بہہ رہا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ کلی ، اور ناک میں پانی الگ الگ ڈال رہے تھے ۱؎ ۔
I was the leader of the delegation of Banu al-Muntafiq or (the narrator doubted) I was among the delegation of Banu al-Muntafiq that came to the Messenger of Allah (ﷺ). When we reached the Prophet, we did not find him in his house. We found there Aisha, the Mother of the Believers. She ordered that a dish called Khazirah should be prepared for us. It was then prepared. A tray containing dates was then presented to us. (The narrator Qutaybah did not mention the word qina', tray).
Then the Messenger of Allah (ﷺ) came. He asked: Has anything been served to you or ordered for you? We replied: Yes, Messenger of Allah. While we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) we suddenly saw that a shepherd was driving a herd of sheep to their fold. He had with him a newly-born lamb that was crying.
He (the Prophet) asked him: What did it bear, O so and so? He replied: A ewe. He then said: Slaughter for us in its place a sheep. Do not think that we are slaughtering it for you. We have one hundred sheep and we do not want their number to increase. Whenever a ewe is born, we slaughter a sheep in its place.
(The narrator says that the Prophet (ﷺ) used the word la tahsabanna, do not think).
I (the narrator Laqit) then said: Messenger of Allah, I have a wife who has something (wrong) in her tongue, i.e. she is insolent. He said: Then divorce her. I said: Messenger of Allah, she had company with me and I have children from her. He said: Then ask her (to obey you). If there is something good in her, she will do so (obey); and do not beat your wife as you beat your slave-girl.
I said: Messenger of Allah, tell me about ablution. He said: Perform ablution in full and make the fingers go through the beard and snuff with water well except when you are fasting.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے ، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں ، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا ، وہ تیار کیا گیا ، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی ۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے ، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا : ” تم لوگوں نے کچھ کھایا ؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا ؟ “ ، ہم نے جواب دیا : ہاں ، اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا ، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا : ” اے فلاں ! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ “ ، اس نے جواب دیا : مادہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو “ ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا : یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے ، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے ، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں ۔ لقیط کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو تم اسے طلاق دے دو “ ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا ، اس سے میری اولاد بھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسے تم نصیحت کرو ، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی ، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو “ ۔ پھر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو مکمل کیا کرو ، انگلیوں میں خلال کرو ، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو “ ۱؎ ۔
Laqit b. Sabirah reported that he was the leader of Banu’l-Muntafiq (name of a tribe). He came to ‘A’ishah. He then narrated the tradition in a similar manner. He said:
The Prophet (ﷺ) then came shortly with rapid strides inclining forward. The narrator used the word ‘asidah (name of a dish) in this version instead of Khazirah.
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے ، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے ۔
Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution, he took a handful of water, and, putting it under his chin, made it go through his beard, saying: Thus did my Lord command me.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے ، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے : ” میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولید بن زور ان سے حجاج بن حجاج اور ابوالملیح الرقی نے روایت کی ہے ۔
Chapter 58: Wiping Over the 'Imamah (Turban) - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ .
Narrated Thawban:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent out an expedition. They were affected by cold. When they returned to the Messenger of Allah (ﷺ), he commanded them to wipe over turbans and stockings.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( چھوٹا لشکر ) بھیجا تو اسے ٹھنڈ لگ گئی ، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( وضو کرتے وقت ) عماموں ( پگڑیوں ) اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔
I saw the Messenger (ﷺ) perform ablution. He had a Qutri turban. He inserted his hand beneath the turban and wiped over the forelock, and did not untie the turban.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ، آپ کے سر مبارک پر قطری ( یعنی قطر بستی کا بنا ہوا ) عمامہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ ( پگڑی ) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ ( پگڑی ) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ، يَقُولُ عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَعَدَلْتُ مَعَهُ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلاَةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلاَةِ وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ . فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمْ " قَدْ أَصَبْتُمْ " . أَوْ " قَدْ أَحْسَنْتُمْ " .
Al-Mughirah b. Shu’bah reported:
I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the expedition of Tabuk. He abandoned the main road before the dawn prayer, and I also did the same along with him. The Prophet (ﷺ) made his camel kneel down and (went to ) relieve himself. He then came back and I poured water upon his hands from the skin-vessel. He then washed his hands and face. He tried to get his forearms out (of the gown), but the sleeves of the gown were too narrow, so he entered back both his hands, and brought them out from beneath the gown. He washed his forearms up to the elbows and wiped his head and wiped over his socks.80 He then mounted (his camel) and we began to proceed until we found people offering the prayer. They brought forward ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf who was leading them in prayer. The Prophet(ﷺ) stood in the row side by side with other Muslims. He performed the second rak’ah of the prayer behind ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf. Then ‘Abd al-Rahman uttered salutation. The Prophet(ﷺ) stood to perform the remaining rak’ah of the prayer. The Muslims were alarmed. They began to utter tasbih (Subhan Allah) presuming that they had offered prayer before the Prophet (ﷺ) had done. When he uttered the salutation (i.e. finished his prayer), he said: You were right, or (he said) you did well.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے ، میں آپ کے ساتھ تھا ، میں بھی مڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی ، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن ( لوٹے ) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا ، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا ، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر سوار ہو گئے ، پھر ہم چل پڑے ، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا ، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا رکھا تھا ، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی ، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی ، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے ، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا : ” تم لوگوں نے ٹھیک کیا “ ، یا فرمایا : ” تم لوگوں نے اچھا کیا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped his forelock and turban. Another version says : The Messenger of Allah (ﷺ) wiped his socks and his forelock and his turban.
Bakr said: I heard it from Ibn al-Mughirah.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اپنی پیشانی پر مسح کیا ، مغیرہ نے عمامہ ( پگڑی ) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا ۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے تھے ۔