'Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Prophet (ﷺ) that he entertained (doubt) as if something had happened to him which had rendered his ablution invalid. He (the Prophet) said:
He should not cease (to pray) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind).
عباد بن تمیم کے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے ( کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے ، یا بو نہ سونگھ لے ، نماز نہ توڑے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If any one of you offers prayer and feels a movement between his paddocks, but is doubtful whether or not his ablution broke, he should not cease praying unless he hears a sound or perceives a smell.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے ، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں ، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے ، یا بو نہ سونگھ لے ، نماز نہ توڑے “ ۔
The Prophet (ﷺ) kissed me and did not perform ablution.
Abu Dawud said: This tradition is Mursal (i.e. where the link of the Companions is missing and the Successor reports from the Prophet directly). Ibrahim at-Taimi did not hear anything from 'Aishah.
Abu Dawud said: Al-Firyabi and other narrated this tradition in a like manner.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے ، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا ، ان کی کنیت ابواسماء تھی ۔
The Prophet (ﷺ) kissed one of his wives and went out to pray (salah). He did not perform ablution. 'Urwah said: I said to her: Who is she except you! Thereupon she laughed. Abu Dawud said: The same version has been reported through a different chain of narrators.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا ، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں ؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں ۔
This tradition has been reported through another chain of narrators on the authority of 'Aishah.
Abu Dawud said:
Yahya b. Sa'id al-Qattan said to a person: Narrate these two tradition from me, that is to say, one tradition on the authority of al-A'mash from Habib (about kissing); another through the same chain about a woman who has prolonged flow of bloos and she is asked to perform ablution for every prayer.
Yahya said: Narrate from me that both these traditions are weak in respect of their chains.
Abu Dawud said: Al-Thawri is reported to have said: Habib narrated this tradition to us only on the authority of 'Urwat al-Muzani, that is, he did not narrated any tradition on the authority of 'Urwah b. al-Zubair.
Abu Dawud said: Hamzah al-Zayyat reported a sound tradition on the authority of Habib, from 'Urwah b. al-Zubair from 'Aishah.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا : میرے حوالہ سے بیان کرو کہ
یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے ، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی «لا شىء» کے مشابہ ہے ( یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا ، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے ، حبیب نے عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے ) ۔
Abdullah ibn AbuBakr reported that he heard Urwah say: I entered upon Marwan ibn al-Hakam. We mentioned things that render the ablution void. Marwan said: Does it become void by touching the penis? Urwah replied: This I do not know. Marwan said: Busrah daughter of Safwan reported to me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who touches his penis should perform ablution.
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ
انہوں نے عروہ کو کہتے سنا : میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، تو مروان نے کہا : اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا : مجھے یہ معلوم نہیں ، تو مروان نے کہا : مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے “ ۔
We came upon the Prophet of Allah (ﷺ). A man came to him: he seemed to be a bedouin. He said: Prophet of Allah, what do you think about a man who touches his penis after performing ablution? He (ﷺ) replied: That is only a part of his body.
Abu Dawud said: The tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا ، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے “ ، یا کہا : ” ٹکڑا ہے “ ۱؎ ۔
The tradition has also been reported by Qais b. Talq through a different chain of narrators. This version adds the wording:
"during the prayer"
مسدد کا بیان ہے کہ
ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے ، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے ، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about performing ablution after eating the flesh of the camel. He replied: Perform ablution, after eating it. He was asked about performing ablution after eating meat. He replied: Do not perform ablution after eating it. He was asked about saying prayer in places where the camels lie down. He replied: Do not offer prayer in places where the camels lie down. These are the places of Satan. He was asked about saying prayer in the sheepfolds. He replied: You may offer prayer in such places; these are the places of blessing.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو کرو “ ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو نہ کرو “ ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے “ ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) passed by a boy who was skinning a goat. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it up until I show you. He (the Prophet) inserted his hand between the skin and the flesh until it reached the armpit. He then went away and led the people in prayer and he did not perform ablution. The version of Amr added that he did not touch water.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated though another chain of transmitters, making no mention of Abu Sa'id.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا ، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم ہٹ جاؤ ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا ، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں ، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے «عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے ، ہلال نے عطاء سے ، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) passed by the market when on his return from one of the villages of 'Aliyah. People accompanied him from both sides. One the way he found a dead kid with both its ears joined together. He caught hold of it by its ear. He then said: Which of you likes to take it ? The narrator transmitted the tradition in full.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے ، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے ، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا ، پھر فرمایا : ” تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا ؟ “ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ ۔
One night I became the guest of the Prophet (ﷺ). He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a took-stick; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.
Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a tooth-stick ; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا “ ۔
Chapter 76: Not Performing Wudu' FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) took a shoulder (of goat's meat) and after wiping his hand with a cloth on which he was sitting, he got up and prayed.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
I heard Jabir b. 'Abd Allah say: I presented bread and meat to the Prophet (ﷺ). He ate them and called for ablution water. he performed ablution and offered the noon (Dhuhr) prayer. He then called for the remaining food and ate it. He then got up and prayed and did not perform ablution.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا ، تو آپ نے کھایا ، پھر وضو کے لیے پانی منگایا ، اور اس سے وضو کیا ، پھر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا ۔
The last practice of the Messenger of Allah (ﷺ) was that he did not perform ablution after taking anything that was cooked with the help of fire.
Abu Dawud said: This is the abridgment of the former tradition.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے ۔
Chapter 76: Not Performing Wudu' FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي دَارِ رَجُلٍ فَمَرَّ بِلاَلٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ " . قَالَ نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي . فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً فَلَمْ يَزَلْ يَعْلِكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلاَةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Harith ibn Jaz':
One of the Companions of the Prophet (may peace be upon), came upon us in Egypt. When he was narrating traditions in the Mosque of Egypt, I heard him say: I was the seventh or the sixth person in the company of the Messenger of Allah ( peace be upon him) in the house of a person.
In the meantime Bilal came and called him for prayer. He came out and passed by a person who had his fire-pan on the fire. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Has the food in the fire-pan been cooked? He replied: Yes, my parents be sacrificed upon you. He then took a piece out of it and continued to chew it until he uttered the first takbir (AllahuAkbar) of the prayer. All this time I was looking at him.
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ
صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے ، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : ” ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی ، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا : ” کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ؟ “ ، اس نے جواب دیا : ہاں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا “ ۔
AbuSufyan ibn Sa'id ibn al-Mughirah reported that he entered upon Umm Habibah who presented him a glass of sawiq (a drink prepared with flour and water) to drink. He called for water and rinsed his mouth. She said: O my cousin, don't you perform ablution? The Prophet (ﷺ) said: Perform ablution after eating anything cooked with fire, or he said: anything touched by fire.
Abu Dawud said: The version of al-Zuhri has: O my paternal cousin.
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ
وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا ، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو “ ، یا فرمایا : ” جنہیں آگ نے چھوا ہو ، ان چیزوں سے وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری کی حدیث میں لفظ : «يا ابن أخي» ” اے میرے بھتیجے “ ہے ۔
We proceeded in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) for the battle of Dhat ar-Riqa. One of the Muslims killed the wife of one of the unbelievers. He (the husband of the woman killed) took an oath saying: I shall not rest until I kill one of the companions of Muhammad.
He went out following the footsteps of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) encamped at a certain place. He said: Who will keep a watch on us? A person from the Muhajirun (Emigrants) and another from the Ansar (Helpers) responded. He said: Go to the mouth of the mountain-pass. When they went to the mouth of the mountain-pass the man from the Muhajirun lay down while the man from the Ansar stood praying.
The man (enemy) came to them. When he saw the person he realised that he was the watchman of the Muslims. He shot him with an arrow and hit the target. But he (took the arrow out and) threw it away. He (the enemy) then shot three arrows. Then he (the Muslim) bowed and prostrated and awoke his companion. When he (the enemy) perceived that they (the Muslims) had become aware of his presence, he ran away.
When the man from the Muhajirun saw the (man from the Ansar) bleeding, he asked him: Glory be to Allah! Why did you not wake me up the first time when he shot at you.
He replied: I was busy reciting a chapter of the Qur'an. I did not like to leave it.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے ، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کر دیا ، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آ سکتا ، چنانچہ وہ ( اسی تلاش میں ) نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے ، اور فرمایا : ” ہماری حفاظت کون کرے گا ؟ “ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو “ ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے ( اور وہاں پہنچے ) تو مہاجر ( صحابی ) لیٹ گئے ، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، وہ مشرک آیا ، جب اس نے ( دور سے ) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے ، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا ، جو آپ کو لگا ، تو آپ نے اسے نکالا ، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے ، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا ، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا ، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہو گئے ہیں ، تو بھاگ گیا ، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا ؟ تو انصاری نے کہا : میں ( نماز میں قرآن کی ) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں ۱؎ ۔
One night the Messenger of Allah (May peace be upon him) was busy and he delayed the night (isha) prayer so much so that we dosed in the mosque. We awoke, then dozed, and again awoke and again dozed. He (the prophet) then came upon us and said: There is none except you who is waiting for prayer.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی ، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر جاگے پھر سو گئے ، پھر جاگے پھر سو گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا : ” ( اس وقت ) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے “ ۔
حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بِلَفْظٍ آخَرَ .
Narrated Anas:
The Companions during the lifetime of the messenger of Allah (May peace be upon him) used to wait for the night prayer so much so that their heads were lowered down (by dozing). Then they offered prayer and did not perform ablution.
Abu Dawud said: Shu’bah on the authority of Qatadah added: We lowered down our heads (on accounts of dozing) in the day of the Messenger of Allah (May peace be upon him).
Abu Dawud said; This tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے ، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے ، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے ۔