Chapter 2: Choosing An Appropriate Place To Urinate - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَانَ يُحَدَّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا " .
Abu al-Tayyah reported on the authority of a shaykh (an old man):
When Abdullah ibn Abbas came to Basrah, people narrated to him traditions from AbuMusa. Therefore Ibn Abbas wrote to him asking him about certain things. In reply AbuMusa wrote to him saying: One day I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). He wanted to urinate. Then he came to a soft ground at the foot of a wall and urinated. He (the Prophet) then said: If any of you wants to urinate, he should look for a place (like this) for his urination.
ابوالتیاح کہتے ہیں کہ
ایک شیخ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ آئے تو وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیثیں بیان کرتے تھے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں وہ ان سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھ رہے تھے ، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب میں انہیں لکھا کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کا ارادہ کیا تو ایک دیوار کی جڑ کے پاس نرم زمین میں آئے اور پیشاب کیا ، پھر فرمایا ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو وہ اپنے پیشاب کے لیے نرم جگہ ڈھونڈھے “ ۱؎ ۔
When the Apostle of Allaah (sal Allahu alayhi wa sallam) entered the toilet, he used to say (before entering): "O Allaah, I seek refuge in Thee." This is according to the version of Hammad. 'Abd al-Warith has another version :"I seek refuge in Allaah from male and female devils."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے ( حماد کی روایت میں ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں “ کہتے ، اور عبدالوارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» ” میں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں ( کے شر ) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ کہتے ۔
" O Allaah, I seek refuge in Thee."
Shu'bah said: Anas sometimes reported the words: "I take refuge in Allah."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے ، یعنی ” اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ کی بھی روایت کی ہے ، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» ” چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے “ کے الفاظ ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: These privies are frequented by the jinns and devils. So when anyone amongst you goes there, he should say: "I seek refuge in Allah from male and female devils."
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں ، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے “ ۔
It was said to Salman: Your Prophet teaches you everything, even about excrement. He replied: Yes. He has forbidden us to face the qiblah at the time of easing or urinating, and cleansing with right hand, and cleansing with less than three stones, or cleansing with dung or bone.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان سے ( بطور استہزاء ) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی ، تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا : ہاں ، بیشک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے ، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے ، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying: I am like father to you. When any of you goes to privy, he should not face or turn his back towards the qiblah. He should not cleanse with his right hand. He (the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam) also commanded the Muslims to use three stones and forbade them to use dung or decayed bone.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( لوگو ! ) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں ، تم کو ( ہر چیز ) سکھاتا ہوں ، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے ، اور نہ ( ہی ) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے ، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے ۔
That he (the Holy Prophet, sal Allahu alayhi wa sallam) said:"When you go to the privy, neither turn your face nor your back towards the qiblah at the time of excretion or urination, but turn towards the east or the west. (Abu Ayyub said): When we came to Syria, we found that the toilets already built there were facing the qiblah, We turned our faces away from them and begged pardon of Allaah.
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو ، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف رخ کر لیا کرو “ ۱؎ ، ( ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) پھر ہم ملک شام آئے تو وہاں ہمیں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ملے ، تو ہم پاخانہ و پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لیتے تھے ، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden us to face the two qiblahs at the time of urination or excretion.
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں ( بیت اللہ اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں ۔
I saw Ibn Umar make his camel kneel down facing the qiblah, then he sat down urinating in its direction. So I said: AbuAbdurRahman, has this not been forbidden? He replied: Why not, that was forbidden only in open country; but when there is something between you and the qiblah that conceals you , then there is no harm.
مروان اصفر کہتے ہیں
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، انہوں نے قبلہ کی طرف اپنی سواری بٹھائی پھر بیٹھ کر اسی کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے لگے ، میں نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے ) کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اس سے صرف میدان میں روکا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے بیچ میں کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے آڑ ہو تو کوئی حرج نہیں ۱؎ ۔
I ascended the roof of the house and saw the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) sitting on two bricks facing Jerusalem (Bait al-Maqdis) for relieving himself.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
( ایک روز ) میں ( کسی ضرورت سے ) گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے دو اینٹوں پر اس طرح بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا ۱؎ ۔
The Prophet of Allah (ﷺ) forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا ، ( لیکن ) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قضائے حاجت کی حالت میں ) قبلہ رو دیکھا ۱؎ ۔
When the Prophet (ﷺ) wanted to relieve himself, he would not raise his garment, until he lowered himself near the ground.
Abu DAwud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Salam b. Harb on the authority of al-A'mash from Anas b. Malik. This chain of narrators is weak (because A'mash's hearing tradition from Anas b. Malik is not established).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا ( شرمگاہ سے اس وقت تک ) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالسلام بن حرب نے اعمش سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، مگر یہ ضعیف ہے ۱؎ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When two persons go together for relieving themselves uncovering their private parts and talking together, Allah, the Great and Majestic, becomes wrathful at this (action).
Abu Dawud said: This tradition has been narrated only by 'Ikrimah b. 'Ammar.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ” دو آدمی قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی اور نے مسنداً ( مرفوعاً ) روایت نہیں کیا ہے ۔
Chapter 8: Returning Salam While Urinating ? - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلاَمَ .
Narrated Ibn 'Umar :
A man passed by the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) while he was urinating, and saluted him. The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) did not return the salutation to him.
Abu Dawud said : It is narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) performed tayammum, then he returned the salutation to the man.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) پیشاب کر رہے تھے ( کہ اسی حالت میں ) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا ، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ۔
Muhajir came to the Prophet (ﷺ) while he was urinating. He saluted him. The Prophet (ﷺ) did not return the salutation to him until he performed ablution. He then apologised to him, saying: I disliked remembering Allah except in the state of purification.
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ وضو کیا پھر ( سلام کا جواب دیا اور ) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا ” مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں “ ۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا ، یا «على طهارة» کہا ۔
Chapter 10: Entering The Area In Which One Relieves Oneself With A Ring Upon Which Allah's Name Is Engraved - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ . وَالْوَهَمُ فِيهِ مِنْ هَمَّامٍ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ هَمَّامٌ .
Narrated Anas ibn Malik:
When the Prophet (ﷺ) entered the privy, he removed his ring.
Abu Dawud said: This is a munkar tradition, i.e. it contradicts the well-known version reported by reliable narrators. On the authority of Anas the well-known version says: The Prophet (ﷺ) had a silver ring made for him. Then he cast it off. The misunderstanding is on the part of Hammam (who is the narrator of the previous tradition mentioned in the text). This is transmitted only by Hammam.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر رکھ دیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے ، معروف وہ روایت ہے جسے ابن جریج نے زیاد بن سعد سے ، زیاد نے زہری سے اور زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ( اسے پہنا ) پھر اسے نکال کر پھینک دیا ۔ اس حدیث میں ہمام راوی سے وہم ہوا ہے ، اسے صرف ہمام ہی نے روایت کیا ہے ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) passed by two graves. He said : Both (the dead) are being punished, but they are not being punished for a major (sin). One did not safeguard himself from urine. The other carried
tales. He then called for a fresh twig and split it into two parts and planted one part on each grave and said: Perhaps their punishment may be mitigated as long as the twigs remain fresh.
Another version of Hannad has: "One of them did not cover himself while urinating." This version does not have the words: "He did not safeguard himself from urine."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قبر میں مدفون ) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا ، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی ، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا ” جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے “ ۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» ( پردہ نہیں کرتا تھا ) ذکر کیا ہے ۔
Chapter 11: Avoiding (The Splatter) Of Urine - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ " كَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ " . وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ " يَسْتَنْزِهُ " .
Narrated Ibn 'Abbas:
A tradition from the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) conveying similar meaning.
The version of Jarir has the wording : "he did not cover himself while urinating."
The version of Abu Mu'awiyah has the wording: "he did not safeguard himself (from urine)."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے
اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے ، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» ” وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا “ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔
AbdurRahman ibn Hasanah reported: I and Amr ibn al-'As went to the Prophet (ﷺ). He came out with a leather shield (in his hand). He covered himself with it and urinated. Then we said: Look at him. He is urinating as a woman does. The Prophet (ﷺ), heard this and said: Do you not know what befell a person from amongst Banu Isra'il (the children of Israel)? When urine fell on them, they would cut off the place where the urine fell; but he (that person) forbade them (to do so), and was punished in his grave.
Abu Dawud said: One version of Abu Musa has the wording: "he cut off his skin".
Another version of Abu Musa goes: "he cut off (part of) his body."
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں :
میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا ، ہم نے کہا : آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا ؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا ، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے ، اور عاصم نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ سے ، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) came to a midden of some people and urinated while standing. He then asked for water and wiped his shoes.
Abu Dawud said: Musaddad, a narrator, reported: I went far away from him. He then called me and I reached just near his heals.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ ( گھور ) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا ( اور وضو کیا ) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قریب ) بلایا ( میں آیا ) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) تھا ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying : Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the hearers) said : Prophet of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam), what are these things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree)(where they take shelter and rest).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لعنت کے دو کاموں سے بچو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Be on your guard against three things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree).
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لعنت کی تین چیزوں سے بچو : مسافروں کے اترنے کی جگہ میں ، عام راستے میں ، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one of you should make water in his bath and then wash himself there (after urination).
The version of Ahmad has: Then performs ablution there, for evil thoughts come from it.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے ( حمام ) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے “ ۔ احمد کی روایت میں ہے : پھر اسی میں وضو کرے ، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
Chapter 15: Urinating In Al-Mustaham (The Bathing Area) - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ .
Narrated A Man from the Companions:
Humayd al-Himyari said: I met a man (Companion of the Prophet) who remained in the company of the Prophet (ﷺ) just as AbuHurayrah remained in his company. He then added: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that anyone amongst us should comb (his hair) every day or urinate in the place where he takes a bath.
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ
میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ، اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے ۔
The Prophet (ﷺ) prohibited to urinate in a hole.
Qatadah (a narrator) was asked about the reason for the disapproval of urinating in a hole. He replied: It is said that these (holes) are the habitats of the jinn.
عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا : کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے ؟ انہوں نے کہا : کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت ( گھر ) ہے ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) said: When any one of you urinates, he must not touch his penis with his right hand, and when he goes to relieve himself he must not wipe himself with his right hand (in the privy), and when he drinks, he must not drink in one breath.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے ، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے ، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے “ ۔
Chapter 18: Disapproval Of Touching One's Private Part With The Right Hand While Purifying - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، - يَعْنِي الإِفْرِيقِيَّ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ .
Narrated Hafsah, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) used his right hand for taking his food and drink and used his left hand for other purposes.
حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے ، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے ، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone applies collyrium, he should do it an odd number of times. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone cleanses himself with pebbles, he should use an odd number. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
If anyone eats, he should throw away what he removes with a toothpick and swallow what sticks to his tongue. If he does so, he has done well; if not, there is no harm. If anyone goes to relieve himself, he should conceal himself, and if all he can do is to collect a heap of send, he should sit with his back to it, for the devil makes sport with the posteriors of the children of Adam. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ، جو شخص ( استنجاء کے لیے ) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے ، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو پردہ کرے ، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎ ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے ، اس میں ( حصین حبرانی کی جگہ ) حصین حمیری ہے ، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے ، اس میں ( ابوسعید کی جگہ ) ابوسعید الخیر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ۔
Shayban al-Qatbani reported that Maslamah ibn Mukhallad made Ruwayfi' ibn Thabit the governor of the lower parts (of Egypt). He added: We travelled with him from Kum Sharik to Alqamah or from Alqamah to Kum Sharik (the narrator doubts) for Alqam.
Ruwayfi' said: Any one of us would borrow a camel during the lifetime of the Prophet (ﷺ) from the other, on condition that he would give him half the booty, and the other half he would retain himself.
Further, one of us received an arrowhead and a feather, and the other an arrow-shaft as a share from the booty.
He then reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: You may live for a long time after I am gone, Ruwayfi', so, tell people that if anyone ties his beard or wears round his neck a string to ward off the evil eye, or cleanses himself with animal dung or bone, Muhammad has nothing to do with him.
شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ
مسلمہ بن مخلد نے ( جو امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے ) رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( مصر کے ) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا ، شیبان کہتے ہیں : تو ہم ان کے ساتھ کوم شریک ۱؎ سے علقماء ۱؎ کے لیے یا علقما ء سے کوم شریک کے لیے روانہ ہوئے ، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے ، رویفع بن ثابت نے ( راستے میں مجھ سے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہو گا اس کا نصف ( آدھا ) تجھے دوں گا اور نصف ( آدھا ) میں لوں گا ، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی ۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” رویفع ! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کر دینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ۲؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر ، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں “ ۔
This tradition has also been narrated by Abu Salim al-Jaishani on the authority of 'Abd Allaah b. 'Amr. He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun.
Abu Dawud said:
The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban b. Umayyah is Abu Hudhaifah.
ابوسالم جیشانی نے
اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے ۔
Chapter 20: The Objects With Which It Is Prohibited To Purify Oneself - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا . قَالَ فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud:
A deputation of the jinn came to the Prophet (ﷺ) and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet (ﷺ) forbade them to do so.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : آپ اپنی امت کو ہڈی ، لید ( گوبر ، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any of you goes to relieve himself, he should take with him three stones to cleans himself, for they will be enough for him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے ، انہی سے استنجاء کرے ، یہ اس کے لیے کافی ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) was asked about cleansing (after relieving oneself). He said: (One should cleanse oneself) with three stones which should be free from dung.
Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Usamah and Ibn Numair from Hisham.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) urinated and Umar was standing behind him with a jug of water. He said: What is this, Umar? He replied: Water for you to perform ablution with. He said: I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I were to do so, it would become a sunnah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا ، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” عمر ! یہ کیا چیز ہے ؟ “ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : آپ کے وضو کا پانی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں ، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی “ ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا ، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا ، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے ۔
The Prophet (ﷺ) said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba': "In it are men who love to be purified" (ix.108). He (AbuHurayrah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے ، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے ، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی “ ۔
When the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) went to the privy, I took to him water in a small vessel or a skin, and he cleansed himself. He then wiped his hand on the ground. I then took to him another vessel and he performed ablution.
Abu Dawud said : The tradition is transmitted by al-Aswad b. 'Amir is more perfect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کی روایت میں ہے : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے ، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
(the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying : Were it not that I might oeverburdern the believers, I would order them to delay the night ('isha ) prayer and use the tooth-stick at the time of every prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے ، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Were it not hard on my ummah, I would order them to use the tooth-stick at the time of every prayer. AbuSalamah said: Zayd ibn Khalid used to attend the prayers in the mosque with his tooth-stick on his ear where a clerk carries a pen, and whenever he got up for prayer he used it.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کہتے ہیں : میں نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے ، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے ( پھر کان کے اوپر رکھ لیتے ) ۔
Muhammad ibn Yahya ibn Habban asked Abdullah ibn Abdullah ibn Umar about the reason for Ibn Umar's performing ablution for every prayer, whether he was with or without ablution.
He replied: Asma', daughter of Zayd ibn al-Khattab, reported to me that Abdullah ibn Hanzalah ibn AbuAmir narrated to her that the Messenger of Allah (ﷺ) was earlier commanded to perform ablution for every prayer whether or not he was with ablution.
When it became a burden for him, he was ordered to use tooth-stick for every prayer. As Ibn Umar thought that he had the strength (to perform the ablution for every prayer), he did not give up performing ablution for every prayer.
Abu Dawud said: Ibrahim b. Sa'd narrated this tradition on the authority of Muhammad b. Ishaq, and there he mentions the name of 'Ubaid Allah b. 'Abd Allah (instead of 'Abd Allah b. 'Abd Allah b. 'Umar)
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : آپ بتائیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب ( خواہ وہ باوضو ہوں یا بے وضو ) کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوں یا بے وضو ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم دشوار ہوا ، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ ان کے پاس ( ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی ) قوت ہے ، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْتَاكُ وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ - وَهُوَ يَقُولُ
" إِهْ إِهْ " . يَعْنِي يَتَهَوَّعُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلاً اخْتَصَرْتُهُ .
Narrated Abu Burdah:
On the authority of his father ( Abu Musa al-Ash'ari), reported (according to the version of Musaddad) : We came to the Apostle of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i.e. he wsa rinsing his mouth).
According to the version of Sulaiman it goes : I entered upon the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound.
Abu Dawud said : Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it.
ابوموسیٰ اشعری ( عبداللہ بن قیس ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم
سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور سلیمان کی روایت میں ہے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے ” اخ اخ “ جیسے آپ قے کر رہے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد نے کہا : حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was using the tooth-stick, when two men, one older than the other, were with him. A revelation came to him about the merit of using the tooth-stick. He was asked to show proper respect and give it to the elder of the two.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا ، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے ۔
Chapter 27: On Using Another's Siwak - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ .
Shuraih asked 'Aishah:
"What would the Messenger of Allah (ﷺ) do as soon as he entered the house?" She replied: "(He would use) the siwak."
شریح کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے ؟ فرمایا : مسواک سے ۔
"The Prophet of Allah (ﷺ) would clean his teeth with the Siwak, then he would give me the Siwak in order to wash it. So I would first use it myself, then wash it and return it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Ten are the acts according to fitrah (nature): clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, cleansing the nose (Al-Istinshaq) with water, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the arm-pits, shaving the pubes, and cleansing one's private parts (after easing or urinating) with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎ : ۱- مونچھیں کاٹنا ، ۲- داڑھی بڑھانا ، ۳- مسواک کرنا ، ۴- ناک میں پانی ڈالنا ، ۵- ناخن کاٹنا ، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا ، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا ، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎ ، ۹ - پانی سے استنجاء کرنا “ ۔ زکریا کہتے ہیں : مصعب نے کہا : میں دسویں چیز بھول گیا ، شاید کلی کرنا ہو ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) said : The rinsing of mouth and snuffing up water in the nose are acts that bear the characteristics of fitrah (nature). He then narrated a similar tradition (as reported by Aishah), but he did not mention the words "letting the beard grow". He added the words "circumcision" and "sprinkling water on the private part of the body". He did not mention the words "cleansing oneself after easing".
Abu Dawud said : A similar tradition has been reported on the authority of Ibn 'Abbas. He mentioned only five sunnahs all relating to the head, one of them being parting of the hair; it did not include wearing the beard.
Abu Dawud said: The tradition as reported by Hammad has also been transmitted by Talq b. Habib , Mujahid, and Bakr b. 'Abd Allaah b. al-Muzani as their own statement ( not as a tradition from the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ).They did not mention the words "letting the beard grow". The version transmitted by Muhammad b. Abd Allaah b. Abi Maryam, Abu Salamah, and Abu Hurairah from the Prophet ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) mentions the words "letting the beard grow". A similar tradition has been reported by Ibrahim al-Nakha'i. He mentioned the words "wearing the beard and circumcision."
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے “ ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے ، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے ، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے ، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے ، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے ، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب ، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے ، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے ، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے ۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے ۔
Chapter 30: Using The Siwak When Praying The (Voluntary) Night Prayer - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Ablution water and tooth-stick were placed by the side of the Prophet (ﷺ). When he got up during the night (for prayer), he relieved himself, then he used the tooth-stick.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کرتے پھر مسواک کرتے ۔
I spent a night with the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam). When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: "Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding" (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rak'ahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allaah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rak'ah of prayer. He then offered the prayer known as witr.
Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: "Verily in the creation of the heaves and the earth..." until he finished the chapter.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے ، اپنی مسواک لے کر مسواک کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی ، یا ختم ہو گئی ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی ، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے ، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے ، پھر نیند سے بیدار ہوئے ، اور اسی طرح کیا ، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے ، دو رکعت نماز پڑھتے تھے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے ، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی ۔
Chapter 32: The Obligatory Status Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
Narrated Abu Hurairah:
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) said : Allaah, the Exalted, does not accept the prayer of any of you when you are defiled until you performed ablution.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی شخص بے وضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے “ ۔
AbuGhutayf al-Hudhali reported: I was in the company of Ibn Umar. When the call was made for the noon (zuhr) prayer, he performed ablution and said the prayer. When the call for the afternoon ('asr) prayer was made, he again performed ablution. Thus I asked him (about the reason of performing ablution). He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) said: For a man who performs ablution in a state of purity, ten virtuous deeds will be recorded (in his favour).
AbuDawud said: This is the tradition narrated by Musaddad, and it is more perfect.
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی ، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا ، میں نے ان سے پوچھا ( اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے ؟ ) انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے ۔
The Prophet (ﷺ), was asked about water (in desert country) and what is frequented by animals and wild beasts. He replied: When there is enough water to fill two pitchers, it bears no impurity.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں ( اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا ( یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی ) “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں ، عثمان اور حسن بن علی نے ” محمد بن جعفر “ کی جگہ ” محمد بن عباد بن جعفر “ کا ذکر کیا ہے ، اور یہی درست ہے ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) said: When there is enough water to fill two pitchers, it does not become impure.
Abu Dawud said : Hammad b. Zaid has narrated this tradition on the authority of 'Asim ( without any reference to the Prophet)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے ( اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں ) ۔
The people asked the Messenger of Allah (ﷺ): Can we perform ablution out of the well of Buda'ah, which is a well into which menstrual clothes, dead dogs and stinking things were thrown? He replied: Water is pure and is not defiled by anything.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے ، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پاک ہے ، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے ۔
I heard that the people asked the Prophet of Allah (ﷺ): Water is brought for you from the well of Buda'ah. It is a well in which dead dogs, menstrual clothes and excrement of people are thrown. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Verily water is pure and is not defiled by anything.
Abu Dawud said I heard Qutaibah b. Sa'id say: I asked the person in charge of the well of Bud'ah about the depth of the well. He replied: At most the water reaches pubes. Then I asked: Where does it reach when its level goes down ? He replied: Below the private part of the body.
Abu Dawud said: I measured the breadth of the well of Buda'ah with my sheet which I stretched over it. I them measured it with the hand. It measured six cubits in breadth. I then asked the man who opened the door of garden for me and admitted me to it: Has the condition of this well changed from what it had originally been in the past ? He replied: No. I saw the color of water in this well had changed.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے ، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت ، حیض کے کپڑے ، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے ، میں نے پوچھا : اور جب کم ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے جواباً کہا : تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا ، چادر کو اس پر پھیلا دیا ، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا ، تو اس کا عرض ( ۶ ) ہاتھ نکلا ، میں نے باغ والے سے پوچھا ، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا : کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔
Chapter 36: Water Does Not Become Junub (Impure) - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا - أَوْ يَغْتَسِلَ - فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّ الْمَاءَ لاَ يَجْنُبُ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
One of the wives of the Prophet (ﷺ) took a bath from a large bowl. The Prophet (ﷺ) wanted to perform ablution or take from the water left over. She said to him: O Prophet of Allah, verily I was sexually defiled. The Prophet said: Water not defiled.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے ( چلو سے پانی لے لے کر ) غسل جنابت کیا ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی ( اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) said: The purification of the utensil belonging to any one of you, after it has been licked by a dog, consists of washing it seven times, using sand in the first instance.
Abu Dawud said : A similar tradition has been narrated by Abu Ayyub and Habib b. al-Shahid on the authority of Muhammad.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے ، پہلی بار مٹی سے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے ۔
A similar tradition has been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. But this version has been narrated as a statement of Abu Hurairah himself and not attributed to the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ). The version has the addition of the words :
"If the cat licks (a utensil), it should be washed once."
محمد ( ابن سیرین ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ،
لیکن ان دونوں ( حماد بن زید اور معتمر ) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے ، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : ” جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا “ ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) as saying : When a dog licks a (thing contained in a) utensil you must wash it seven times, using earth (sand) for the seventh time.
Abu Dawud said : This tradition has been transmitted by another chain of narrators in which there is no mention of earth.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ ، ساتویں بار مٹی سے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح ، ابورزین ، اعرج ، ثابت احنف ، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) ordered the killing of the dogs, and then said: Why are they (people) after them (dogs)? and then granted permission (to keep) for hunting and for (the security) of the herd, and said : When the dog licks the utensil wash it seven times, and rub it with earth the eighth time.
Abu Dawud said : Ibn Mughaffal narrated in a similar way.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا : ” لوگوں کو ان سے کیا سروکار ؟ “ ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی ، اور فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے ، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے ۔
Kabshah, daughter of Ka'b ibn Malik and wife of Ibn AbuQatadah, reported: AbuQatadah visited (me) and I poured out water for him for ablution. A cat came and drank some of it and he tilted the vessel for it until it drank some of it. Kabshah said: He saw me looking at him; he asked me: Are you surprised, my niece? I said: Yes. He then reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: It is not unclean; it is one of those (males or females) who go round among you.
کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں :
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے ، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا ، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی ، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا ، کبشۃ کہتی ہیں : پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا : میری بھتیجی ! کیا تم تعجب کرتی ہو ؟ میں نے کہا : ہاں ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” یہ نجس نہیں ہے ، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 39: The Water Left By A Cat - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلاَتَهَا، أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رضى الله عنها فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَىَّ أَنْ ضَعِيهَا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ " . وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Dawud ibn Salih ibn Dinar at-Tammar quoted his mother as saying that her mistress sent her with some pudding (harisah) to Aisha who was offering prayer. She made a sign to me to place it down. A cat came and ate some of it, but when Aisha finished her prayer, she ate from the place where the cat had eaten. She stated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not unclean: it is one of those who go round among you. She added: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution from the water left over by the cat.
داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ ( ایک قسم کا کھانا ) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا ( میں نے کھانا رکھ دیا ) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی ، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” یہ ناپاک نہیں ہے ، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے “ ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
The males and females during the time of the Apostle of Allaah ( sal Allahu alayhi wa sallam ) used to perform the ablution from one vessel together.
The wordings "from one vessel" occur in the version of Musaddad.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۔
Chapter 40: Wudu' From The Water Left By A Woman - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا .
Narrated 'Abd Allaah b. 'Umar:
We (men) and women during the life-time of the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) used to perform ablution from one vessel. We all put our hands in it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے ، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں ( باری باری ) ڈالتے تھے ۔
Chapter 41: The Prohibition Of That - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ - زَادَ مُسَدَّدٌ - وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا .
Narrated Humayd al-Himyari:
Humayd al-Himyari reported: I met a person (among the Companion of Prophet) who remained in the company of the Prophet (ﷺ)for four years as AbuHurayrah remained in his company. He reported: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that the female should wash with the water left over by the male, and that the male should wash with the left-over of the female.
The version of Musaddad adds: "That they both take the handful of water together."
حمید حمیری کہتے ہیں کہ
میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تھے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے : ” چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں “ ۔
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, we travel on the sea and take a small quantity of water with us. If we use this for ablution, we would suffer from thirst. Can we perform ablution with sea water? The Messenger (ﷺ) replied: Its water is pure and what dies in it is lawful food.
قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
( عبداللہ مدلجی نامی ) ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے ، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے ، اور اس کا مردار حلال ہے “ ۔
AbuZayd quoted Abdullah ibn Mas'ud as saying that on the night when the jinn listened to the Qur'an the Prophet (ﷺ) said: What is in your skin vessel? He said: I have some nabidh. He (the Holy Prophet) said: It consists of fresh dates and pure water.
Sulayman ibn Dawud reported the same version of this tradition on the authority of AbuZayd or Zayd. But Sharik said that Hammad did not mention the words "night of the jinn".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا : ” تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : نبیذ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے “ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ فَقَالَ مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ .
Narrated 'Alqamah:
I asked 'Abd Allaah b Mas'ud: Which of you was in the company of the Messenger of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) on the night when the jinn attended him? He replied : None of us was with him.
علقمہ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : «ليلة الجن» ( جنوں والی رات ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ۱؎ ۔
I asked Abu'l-'Aliyah whether a person who is sexually defiled and has no water with him, but he has only nabidh, can wash with it? He replied in the negative.
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو ، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے ؟ آپ نے کہا : نہیں ۔
Urwah reported on the authority of his father that Abdullah ibn al-Arqam travelled for performing hajj (pilgrimage) or umrah. He was accompanied by the people whom he led in prayer. One day when he was leading them in the dawn (fajr) prayer, he said to them: One of you should come forward. He then went away to relieve himself. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When any of you feels the need of relieving himself while the congregational prayer is ready, he should go to relieve himself.
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے ، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے ، وہی ان کی امامت کرتے تھے ، ایک دن انہوں نے فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر لوگوں سے کہا : تم میں سے کوئی امامت کے لیے آگے بڑھے ، وہ قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہو چکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہیب بن خالد ، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرۃ نے بھی اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے ، ہشام نے اپنے والد عروہ سے ، اور عروہ نے ایک مبہم شخص سے ، اور اس نے اسے عبداللہ بن ارقم سے بیان کیا ہے ، لیکن ہشام سے روایت کرنے والوں کی اکثریت نے اسے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے زہیر نے کیا ہے ( یعنی «عن رجل» کا اضافہ نہیں کیا ہے ) ۔
We were in the company of 'Aishah. When her food was brought in, al-Qasim stood up to say his prayer. Thereupon , 'Aishah said : I heard the Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) say: Prayer should not be offered in presence of meals, nor at the moment when one is struggling with two evils (e.g. when one is feeling the call of nature.)
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ
ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم ( قاسم بن محمد ) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، یہ دیکھ کر وہ بولیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں ( پاخانہ و پیشاب ) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Three things one is not allowed to do: supplicating Allah specifically for himself and ignoring others while leading people in prayer; if he did so, he deceived them; looking inside a house before taking permission: if he did so, it is as if he entered the house, saying prayer while one is feeling the call of nature until one eases oneself.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں : ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی ، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے ، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا ، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے ، جب تک کہ وہ ( اس سے فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should say the prayer while he is feeling the call of nature until he becomes light (by relieving himself).
Then the narrator Thawr b. Yazid transmitted a similar tradition with the following wordings: "It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should lead the people in prayer but with their permission; and that he should not supplicate to Allah exclusively for himself leaving all others. If he did so, he violated trust."
Abu Dawud said: This is a tradition reported by the narrators of Syria; no other person has joined them in relating this tradition.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ ( وہ فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے “ ۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے ، اس میں ہے : ” کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے ، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ۔
Chapter 45: The Amount Of Water That Is Acceptable For Performing Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) used to wash himself with a sa' (of water) and perform ablution with a mudd (of water).
Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Aban on the authority of Qatadah. In this version he said: "I herd safiyyah."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎ ۔
Chapter 45: The Amount Of Water That Is Acceptable For Performing Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرُ ثُلُثَىِ الْمُدِّ .
Narrated Umm Umarah:
Habib al-Ansari reported: I heard Abbad ibn Tamim who reported on the authority of my grandmother, Umm Umarah, saying: The Prophet (ﷺ) wanted to perform ablution. A vessel containing 2/3 mudd of water was brought to him.
عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ ( ام عمارہ بنت کعب ) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا ۔
The Prophet (ﷺ) performed ablution with a vessel which contained two rotls (of water) and took a bath with a sa’ (of water).1
Abu Dawud Said : This tradition has berated on the authority of Anas through a different chain. This version mentions: “He performed ablution with one makkuk. “It makes no mention of two rotls. 2
Abu Dawud said : This tradition has also been narrated by Yahya b. Adam from Sharik. But this chain mentions Ibn Jabr b. ‘Atik instead of ‘ Abd Allah b. Jabr.
Abu Dawud Said : This tradition has also been narrated by Sufyan from ‘Abd Allah b. ‘Isa. This chain mentions the name Jabr b. ‘Abd Allah instead of ‘Abd Allah b. Jabr.
Abu Dawud Said : I heard Ahmad b. Hanbal say : one sa’ measures five rotls. It was the sa’ of Ibn Abi Dhi’b and also of the Prophet (ﷺ).
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا ، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں ( عبداللہ بن جبر کے بجائے ) ابن جبر بن عتیک ہے ، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله.» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے ، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے ، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے : «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے ، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صاع تھا ۔
Abdullah heard his son praying to Allah: O Allah, I ask Thee a white palace on the right of Paradise when I enter it. He said: O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge in Him from Hell-Fire, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: In this community there will be some people who will exceed the limits in purification as well as in supplication.
ابونعامہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا : اے اللہ ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما ، آپ نے کہا : میرے بیٹے ! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے “ ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people (performing ablution) while their heels were dry. He then said : Woe to the heels because of Hell. Perform the ablution in full.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں ( پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے ) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The prayer of a person who does not perform ablution is not valid, and the ablution of a person who does not mention the name of Allah (in the beginning) is not valid.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں ، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله» نہیں کہا “ ۔
Explaining the tradition of the Prophet (ﷺ) that the ablution of a person who does not mention the name of Allah is valid, Rabi’ah said:
This tradition means that if a person performs ablution and takes a bath but does not have the intention to perform ablution for prayer and purify himself from sexual defilement, his ablution or bath is not valid.
عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں کہ ربیعہ نے ذکر کیا ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث : «لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه» کی تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرے لیکن نماز کے وضو اور جنابت کے غسل کی نیت نہ کرے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone amongst you wakes up from sleep at night, he should not put his hand in the utensil until he has washed his hand three times, for he does’ not know where his hand was during the night.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی رات کو سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے ، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا “ ۔
I heard the Messenger of Allah (May Peace be upon him) say: When any of you wakes up from sleep, he should not put his hand in the utensil until he washes it three times, for none of you knows where his hand remained during the night or where it went round.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں رہا ؟ یا کدھر پھرتا رہا “ ۔
Humran b. Abban, the freed slave of ‘Uthman, said :
I saw ‘ Uthman’ b. ‘Affan while he performed ablution. He poured water over his hands three times and then washed them. He then rinsed his mouth and then cleansed his nose with water (three times). He then washed his right arm up to the elbow three times, then washed his left arm in a similar manner; then wiped his head; then washed his right foot three times, then washed his left foot in a similar manner, and then said : I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution like this ablution of mine. Then he (the Prophet) said: He who performs ablution like this ablution of mine and then offered two rakhahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, Allah will pardon all his past sins.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ
میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا ان کو دھویا ، پھر کلی کی ، اور ناک جھاڑی ، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا ، اور اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا ، اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ ، پھر سر پر مسح کیا ، پھر اپنا داہنا پاؤں تین بار دھویا ، پھر بایاں پاؤں اسی طرح ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اس میں دنیا کا خیال و وسوسہ اسے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے پچھلے گناہ کو معاف فرما دے گا “ ۔
I saw ‘Uthman b. ‘Affan performing ablution. He then narrated the same tradition. In this version there is no mention of rinsing the mouth and snuffing up water. This traditions adds : “He wiped his head three times. He then washed his feet three times. He then said : I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution in like manner. He (the Prophet) said: He who performs ablution less than this, it is sufficient for him. 73 The narrator did not mention prayer (in this version).
حمران کہتے ہیں کہ
میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا ، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا ، حمران نے کہا : عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے ، اس کے بعد آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے “ ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا ۔
Ibn Abi Mulaikah was asked about ablution. He said : I saw ‘Uthman b. ‘Affan who was asked about ablution. He called for water. A vessel was then brought to him. He inclined it towords his right hand (poured water upon it). He then put it in the water three times, and washed his face three times. He then put his hand in the water and took it out; then he wiped his head and ears, in and out only once. He then washed his feet, and said : Where are those who asked me to perform ablution? I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution like that.
Abu Dawud said : All the sound traditions narrated by ‘ Uthman indicated that the head is to be wiped once, because they mentioned (the washing of each part in) ablution three times. In their versions of tradition they mentioned the wordings: “he wiped his head.” In this case they did not mention any number as they did in other cases.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ
ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا ، تو انہوں نے کہا : میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ نے پانی منگایا ، پانی کا لوٹا لایا گیا ، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا ( اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا ) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا ، تین بار کلی کی ، تین بار ناک میں پانی ڈالا ، تین بار منہ دھویا ، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا ، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا ، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا : وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں ، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے ۔
Abu ‘Alqamah said that ‘Uthman called for water and performed ablution. He then poured water with the right hand or the left hand ; he then washed them up to the wrist ; he then rinsed the mouth and snuffed up water three times. The narrator mentioned that ‘ Uthman washed each part three times. He then wiped head and washed his feet. He said :
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution as you saw me perform ablution. He then reported the tradition like that of al-Zuhrl and completed it.
ابوعلقمہ کہتے ہیں کہ
عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا ، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھویا ، پھر تین بار کلی کی ، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا ، اور اسی طرح وضو کے اندر بقیہ تمام اعضاء ء کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ، پھر کہا : اور آپ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) نے اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے وضو کرتے دیکھا ، پھر زہری کی حدیث ( نمبر ۱۰۶ ) کی طرح اپنی حدیث بیان کی اور ان کی حدیث سے کامل بیان کی ۔
I saw ‘ Uthman b. ‘ Affan (perform ablution). He washed his forearms three times and washed his head thrice. He then said : I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing like that.
Abu Dawud said: Another version says: "He performed ablution three times only."
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ
میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو میں اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور تین بار سر کا مسح کیا پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع ( وکیع بن جراح ) نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں صرف «توضأ ثلاثا» ہے ۔
Abdu Khayr said: Ali came upon us and he had already offered prayer. He called for water. We asked: What will you do with water when you have already offered prayer? - Perhaps to teach us. A utensil containing water and a wash-basin were brought (to him).
He poured water from the utensil on his right hand and washed both his hands three times, rinsed the mouth, snuffed up water and cleansed the nose three times. He then rinsed the mouth and snuffed up water with the same hand by which he took water. He then washed his face three times, and washed his right hand three times and washed his left hand three times. He then put his hand in water and wiped his head once.
He then washed his right foot thrice and left foot thrice, then said: If one is pleased to know the method of performing ablution of the Messenger of Allah, this is how he did it.
عبد خیر کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ نماز پڑھ چکے تھے ، پانی منگوایا ، ہم لوگوں نے ( آپس میں ) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے ، آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں ؟ شاید ( پانی منگوا کر ) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے ، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا ، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو ( کلائی تک ) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی ، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے ، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ( پانی نکال کر ) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا ، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا : جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو ( جان لے کہ ) وہ یہی ہے ۔
‘All offered the dawn prayer and went to Rahbah (a locality in Kufah). He called for water. A boy brought him a vessel containing water and a wash-basin. He held the vessel with his right hand and poured water over his left hand. He washed both of his hands (to the wrist) three times. He then put his right hand in the vessel ( to take water) and rinsed his mouth three times and snuffed up water three times. He then narrated almost the same tradition as narrated by Abu ‘Awanah. He then wiped his head, both its front and back sides, once. He then narrated the tradition in like manner.
عبد خیر کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھی پھر رحبہ ( کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے ) آئے اور پانی منگوایا تو لڑکا ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ نے پانی کا برتن اپنے داہنے ہاتھ میں لیا پھر اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا اور دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن کے اندر ڈال کر پانی لیا اور تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا ۔ پھر راوی نے ابو عوانہ جیسی حدیث بیان کی ، اس میں ذکر کیا کہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک بار مسح کیا پھر راوی نے پوری حدیث اسی جیسی بیان کی ۔
I heard ‘Abd Khair say: I saw a chair was brought to ‘Ali who sat on it. A vessel of water was then brought to him. He washed his hands three times ; he then rinsed his mouth and snuffed up water with one handful of water. He narrated the tradition completely.
عبد خیر کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ( ان کے پاس ) ایک کرسی لائی گئی ، وہ اس پر بیٹھے پھر پانی کا ایک کوزہ ( برتن ) لایا گیا تو ( اس سے ) آپ نے تین بار اپنا ہاتھ دھویا پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔
Chapter 51: The Manner of The Prophet's Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، رضى الله عنه وَسُئِلَ عَنْ وُضُوءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَمَّا يَقْطُرْ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Zirr b. Hubaish said that the heard that ‘ Ali was asked how the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform ablution. He then narrated the tradition and said:
he wiped his head so much so that drops (of water) were about to trickle down. He then washed his feet three times and said: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablutions.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ
انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تھا ، پھر زر بن حبیش نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا : انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا حتیٰ کہ پانی سر سے ٹپکنے کو تھا ، پھر اپنے دونوں پیر تین تین بار دھوئے ، پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا ۔
Chapter 51: The Manner of The Prophet's Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا - رضى الله عنه - تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَاحِدَةً ثُمَّ قَالَ هَكَذَا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
‘Abd al-Rahman b. Abi Laila says:
I saw ‘ Ali performing ablution. He washed his face three times and his hands three times and wiped his head once. Then he (‘Ali) said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform ablution in this way.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا ، پھر آپ نے کہا : اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے ۔
I saw ‘Ali perform ablution. He (Abu Hayyah) then described that ‘Ali went through every part of the ablution three times, i.e. he performed each detail of his ablution three times. He then wiped his head, then washed his feet up to the ankles. He then said: I wanted to show you how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution.
ابوحیہ ( ابن قیس ) کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے ( اعضاء ) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا ، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے ، پھر کہا : میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں ( کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے ) ۔
‘Ali b. Abi Talib entered upon me after he has passed water. He then called for water for ablution. We brought to him a vessel containing water, and placed it before him. He said: O Ibn’Abbas, may I not show you how the Messenger of Allah(ﷺ) used to perform ablution? I replied : Why not? He then inclined the vessel to his hand and washed it. He then put his right hand in the vessel and poured water over the other hand and washed his hands up to the wrist. He then rinsed his mouth and snuffed up water. He then put both of his hands together in the water and took out a handful of water and threw it upon the face. He then inserted both of his thumbs in the front part of the ears. He did like that twice and thrice. He then took a handful of water and poured it over his forehead and left it running down his face. He then washed his forearms up to the elbow three times. He then wiped his head and the back of his ears. He then put both of his hands together in the water and took a handful of it and threw it on his foot. He had a shoe foot like that. Do you wash your foot while it is in the shoe? He replied : Yes, while it is in the shoe. This question and answer were repeated thrice.
Abu Dawud said: The version transmitted by Ibn Juraij from Shaibah is similar to the one narrated by ‘ Ali. In this version Hajjaj reported on the authority of Ibn Juraij the wording: He wiped his head once. Ibn Wahb narrated from Ibn Juraij the wording: he wiped his head three times.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے ، اور وضو کے لیے پانی مانگا ، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے ابن عباس ! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ؟ میں نے کہا : ہاں ، ضرور دکھائیے ، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ ( برتن میں ) داخل کیا ( اور پانی لے کر ) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا ، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی ، پھر اپنے دونوں ہاتھ ( ملا کر ) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا ، پھر دوسری اور تیسری بار ( بھی ) ایسا ہی کیا ، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا ، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا ، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے ، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے ( دائیں ) پیر پر ڈالا ، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎ ۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ) پوچھا : علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا ؟ آپ نے کہا : ہاں ، جوتا پہنے پہنے کیا ، میں نے کہا : جوتا پہنے پہنے ؟ آپ نے کہا : ہاں ، جوتا پہنے پہنے ، پھر میں نے کہا : جوتا پہنے پہنے ؟ آپ نے کہا : ہاں چپل پہنے پہنے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے ۔
‘Amr b. Yahya al-Mazini reports on the authority of his father who asked ‘Abd Allah b. Zaid, the grandfather of ‘Amr b. Yahya al-Mazini:
Can you show me how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution? ‘Abd Allah b. Zaid replied: Yes. He called for ablution water, poured it over his hands, and washed them; then he rinsed his mouth and snuffed up water in the nose three times; then he washed his face three times and washed his forearms up to elbow twice; then he wiped his head with both hands, moving them front and back of the head, beginning from his forehead, and moved them to the nape; then he pulled them back to the place from where he had started (wiping); then he washed his feet.
یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ
انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم ( جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں ) سے کہا : کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے ؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا ، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر تین بار کلی کی ، اور تین بار ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا ، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا ، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی ، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا ، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے ۔
Habban b. Wasi’ reported on the authority of his father who heard ‘Abd Allah b. Zaid al-Asim al-Mazini say that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution. He then described his ablution saying:
He wiped his head with water which was not what was left over after washing his hands (i.e. he wiped his head with clean water); then he washed his feet until he cleansed them.
عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وضو کرتے ہوئے ) دیکھا ، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا ۔
The ablution water was brought to the Messenger (ﷺ) and he performed ablution; he washed his hands up to wrists three times, then washed his forearms three times. He then rinsed his mouth and snuffed up water three times; then he wiped his head and ears inside and outside.
عبدالرحمٰن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ
میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا ، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے ، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر دونوں ہاتھ ( کہنیوں تک ) تین تین بار دھلے ، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution. When he reached the stage of wiping his head, he placed his palms on the front of the head. Then he moved them until he reached the nape. He then returned them to the place from where he had started.
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا ، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا ۔
He wiped his ears inside and outside. Hisham adds: He inserted his fingers in the ear-holes.
اس طریق سے بھی ولید ( ولید بن مسلم ) سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کی پشت اور ان کے اندرونی حصے کا مسح کیا ، اور ہشام نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اپنے دونوں کان کے سوراخ میں داخل کیا ۔
AbulAzhar al-Mughirah ibn Farwah and Yazid ibn AbuMalik reported:
Mu'awiyah performed ablution before the people, as he saw the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution. When he reached the stage of wiping his head, he took a handful of water and poured it with his left hand over the middle of his head so much so that drops of water came down or almost came down. Then he wiped (his head) from its front to its back and from its back to its front.
عبداللہ بن علاء کہتے ہیں کہ ابوالازہر مغیرہ بن فروہ اور یزید بن ابی مالک نے ہم سے بیان کیا ہے کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے اسی طرح وضو کیا جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے سر ( کے مسح ) تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے بیچ سر پر ڈالا یہاں تک کہ پانی ٹپکنے لگایا ٹپکنے کے قریب ہوا ، پھر اپنے ( سر کے ) اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اور پچھلے حصہ سے اگلے حصہ تک مسح کیا ۔
Narrated Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra':
The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to us. He once said: Pour ablution water on me. She then described how the Prophet (ﷺ) performed ablution saying: He washed his hands up to wrist three times and washed his face three times, and rinsed his mouth and snuffed up water once. Then he washed his forearms three times and wiped his head twice beginning from the back of his head, then wiped its front. He wiped his ears outside and inside. Then he washed his feet three times.
Abu Dawud said: The tradition narrated by Musaddad carries the same meaning.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ( اکثر ) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے وضو کا پانی لاؤ “ ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ ( پہلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے ، اور چہرے کو تین بار دھویا ، کلی کی ، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، دو بار سر کا مسح کیا ، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا ، پھر اگلے حصہ سے ، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں ۔
Al-Rubayyi’ daughter of Mu’awwidh b. ‘Afra’ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution in her presence. He wiped the whole of his head from its upper to the lower part moving every side. He did not move the hair from their original position.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا ، تو پورے سر کا مسح کیا ، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution. He wiped his head front and back, his temples and his ears once.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping his head once up to his nape.
Musaddad reported: He wiped his head from front to back until he moved his hands from beneath the ears.
Abu Dawud said: I heard Ahmad say: People thought that Ibn 'Uyainah had considered it to be munkar (rejected) and said: What is this chain: Talhah - his father - his grandfather ?
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» ( گردن کے سرے ) تک پہنچا ۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا ۔ مسدد کہتے ہیں : تو میں نے اسے یحییٰ ( یحییٰ بن سعید القطان ) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد ( احمد بن حنبل ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ( سفیان ) ابن عیینہ ( بھی ) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے ؟
Sa'id ibn Jubayr reported: Ibn Abbas saw the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution. He narrated the tradition which says that he (the Prophet) performed each detail of ablution three times. He wiped his head and ears once.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور ( اعضاء وضو کو ) تین تین بار دھونے کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا ۔
Chapter 51: The Manner of The Prophet's Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ، وُضُوءَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ . قَالَ وَقَالَ
" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ " . قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ . قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ حَمَّادٌ لاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ . يَعْنِي قِصَّةَ الأُذُنَيْنِ . قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ كُنْيَتُهُ أَبُو رَبِيعَةَ .
Narrated AbuUmamah:
AbuUmamah mentioned how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution, saying that he used to wipe the corners of his eyes, and he said that the ears are treated as part of the head.
Sulaiman b. Harb said: the wording "the ears are treated as part of the head" were uttered by Abu Umamah.
Hammad said: I do not know whether the phrase "the ears are treated as part of the head" was he statement of the Prophet (ﷺ) or of Abu Umamah.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو ( کی کیفیت ) کا ذکر کیا اور فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے ، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کان سر میں داخل ہیں “ ۔ سلیمان بن حرب کہتے ہیں : ابوامامہ بھی یہ کہا کرتے تھے ( کہ دونوں کان سر میں داخل ہیں ) ۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ قول یعنی دونوں کانوں کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے ، یا ابوامامہ کا ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) and asked him: Messenger of Allah, how is the ablution (to performed)?
He (the Prophet) then called for water in a vessel and washed his hands up to the wrists three times, then washed his face three times, and washed his forearms three times. He then wiped his head and inserted both his index fingers in his ear-holes; he wiped the back of his ears with his thumbs and the front of his ears with the index fingers. He then washed his feet three times.
Then he said: This is how ablution should be performed. If anyone does more or less than this, he has done wrong and transgressed, or (said) transgressed and done wrong.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وضو کس طرح کیا جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا ، پھر چہرہ تین بار دھویا ، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے ، پھر سر کا مسح کیا ، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا ، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے ، پھر فرمایا : ” وضو ( کا طریقہ ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا ، اور ظلم کیا “ ، یا فرمایا : ” ظلم کیا اور برا کیا “ ۔
Do you like that I should show you how the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution? He then called for a vessel of water and took out a handful of water with his right hand. He then rinsed his mouth and snuffed up water. He then took out another handful of water and washed his face by both his hands together. He then took out another handful of water and washed his right hand and then washed his left hand by taking out another. He then took out some water and shook off his hand and wiped his head and ears with it. He then took out a handful of water and sprinkled it over his right foot in his shoe and wiped the upper part of the foot with his one hand, and beneath the shoe with his other hand. He then did the same with his left foot.
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا ، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا ، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا ، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا ، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے ، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل ( جوتا ) کے نیچے تھا ، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۱؎ ۔
I entered upon the Prophet (ﷺ) while he was performing ablution, and the water was running down his face and beard to his chest. I saw him rinsing his mouth and snuffing up water separately.
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس وقت آپ وضو کر رہے تھے ، پانی چہرے اور داڑھی سے آپ کے سینے پر بہہ رہا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ کلی ، اور ناک میں پانی الگ الگ ڈال رہے تھے ۱؎ ۔
I was the leader of the delegation of Banu al-Muntafiq or (the narrator doubted) I was among the delegation of Banu al-Muntafiq that came to the Messenger of Allah (ﷺ). When we reached the Prophet, we did not find him in his house. We found there Aisha, the Mother of the Believers. She ordered that a dish called Khazirah should be prepared for us. It was then prepared. A tray containing dates was then presented to us. (The narrator Qutaybah did not mention the word qina', tray).
Then the Messenger of Allah (ﷺ) came. He asked: Has anything been served to you or ordered for you? We replied: Yes, Messenger of Allah. While we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) we suddenly saw that a shepherd was driving a herd of sheep to their fold. He had with him a newly-born lamb that was crying.
He (the Prophet) asked him: What did it bear, O so and so? He replied: A ewe. He then said: Slaughter for us in its place a sheep. Do not think that we are slaughtering it for you. We have one hundred sheep and we do not want their number to increase. Whenever a ewe is born, we slaughter a sheep in its place.
(The narrator says that the Prophet (ﷺ) used the word la tahsabanna, do not think).
I (the narrator Laqit) then said: Messenger of Allah, I have a wife who has something (wrong) in her tongue, i.e. she is insolent. He said: Then divorce her. I said: Messenger of Allah, she had company with me and I have children from her. He said: Then ask her (to obey you). If there is something good in her, she will do so (obey); and do not beat your wife as you beat your slave-girl.
I said: Messenger of Allah, tell me about ablution. He said: Perform ablution in full and make the fingers go through the beard and snuff with water well except when you are fasting.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے ، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں ، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا ، وہ تیار کیا گیا ، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی ۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے ، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا : ” تم لوگوں نے کچھ کھایا ؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا ؟ “ ، ہم نے جواب دیا : ہاں ، اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا ، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا : ” اے فلاں ! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ “ ، اس نے جواب دیا : مادہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو “ ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا : یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے ، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے ، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں ۔ لقیط کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو تم اسے طلاق دے دو “ ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا ، اس سے میری اولاد بھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسے تم نصیحت کرو ، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی ، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو “ ۔ پھر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو مکمل کیا کرو ، انگلیوں میں خلال کرو ، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو “ ۱؎ ۔
Laqit b. Sabirah reported that he was the leader of Banu’l-Muntafiq (name of a tribe). He came to ‘A’ishah. He then narrated the tradition in a similar manner. He said:
The Prophet (ﷺ) then came shortly with rapid strides inclining forward. The narrator used the word ‘asidah (name of a dish) in this version instead of Khazirah.
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے ، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے ۔
Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution, he took a handful of water, and, putting it under his chin, made it go through his beard, saying: Thus did my Lord command me.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے ، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے : ” میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولید بن زور ان سے حجاج بن حجاج اور ابوالملیح الرقی نے روایت کی ہے ۔
Chapter 58: Wiping Over the 'Imamah (Turban) - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ .
Narrated Thawban:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent out an expedition. They were affected by cold. When they returned to the Messenger of Allah (ﷺ), he commanded them to wipe over turbans and stockings.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( چھوٹا لشکر ) بھیجا تو اسے ٹھنڈ لگ گئی ، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( وضو کرتے وقت ) عماموں ( پگڑیوں ) اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔
I saw the Messenger (ﷺ) perform ablution. He had a Qutri turban. He inserted his hand beneath the turban and wiped over the forelock, and did not untie the turban.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ، آپ کے سر مبارک پر قطری ( یعنی قطر بستی کا بنا ہوا ) عمامہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ ( پگڑی ) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ ( پگڑی ) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ، يَقُولُ عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَعَدَلْتُ مَعَهُ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلاَةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلاَةِ وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ . فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمْ " قَدْ أَصَبْتُمْ " . أَوْ " قَدْ أَحْسَنْتُمْ " .
Al-Mughirah b. Shu’bah reported:
I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the expedition of Tabuk. He abandoned the main road before the dawn prayer, and I also did the same along with him. The Prophet (ﷺ) made his camel kneel down and (went to ) relieve himself. He then came back and I poured water upon his hands from the skin-vessel. He then washed his hands and face. He tried to get his forearms out (of the gown), but the sleeves of the gown were too narrow, so he entered back both his hands, and brought them out from beneath the gown. He washed his forearms up to the elbows and wiped his head and wiped over his socks.80 He then mounted (his camel) and we began to proceed until we found people offering the prayer. They brought forward ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf who was leading them in prayer. The Prophet(ﷺ) stood in the row side by side with other Muslims. He performed the second rak’ah of the prayer behind ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf. Then ‘Abd al-Rahman uttered salutation. The Prophet(ﷺ) stood to perform the remaining rak’ah of the prayer. The Muslims were alarmed. They began to utter tasbih (Subhan Allah) presuming that they had offered prayer before the Prophet (ﷺ) had done. When he uttered the salutation (i.e. finished his prayer), he said: You were right, or (he said) you did well.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے ، میں آپ کے ساتھ تھا ، میں بھی مڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی ، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن ( لوٹے ) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا ، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا ، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر سوار ہو گئے ، پھر ہم چل پڑے ، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا ، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا رکھا تھا ، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی ، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی ، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے ، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا : ” تم لوگوں نے ٹھیک کیا “ ، یا فرمایا : ” تم لوگوں نے اچھا کیا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped his forelock and turban. Another version says : The Messenger of Allah (ﷺ) wiped his socks and his forelock and his turban.
Bakr said: I heard it from Ibn al-Mughirah.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اپنی پیشانی پر مسح کیا ، مغیرہ نے عمامہ ( پگڑی ) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا ۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے تھے ۔
‘Urwah b. al-Mughirah reported his father as saying :
We accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) to a caravan, and I had a jug of water. He went to relieve himself and came back. I came to him with the jug of water and poured upon him. He washed his hands and face. He had a tight-sleeved Syrian woolen gown. He tried to get his forearms out, but the sleeve of the gown was very narrow, so he brought his hands out from under the gown. I then bent down to take off his socks. But he said to me : Leave them, for my feet were clean when I put them in, and he only wiped over them.
Yunus said on the authority of al-Sha’bi that ‘Urwah narrated his tradition from his father before him, and his father reported it from the Messenger of Allah (ﷺ).
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل ( چھوٹا برتن ) تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا ، میں نے آپ ( کے ہاتھ ) پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا ، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے ، جس کی آستین تنگ و چست تھی ، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا ، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” موزوں کو رہنے دو ، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا ۔ شعبی کہتے ہیں : یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ . قَالَ فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ - قَالَ - فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ رَكْعَةً فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ عُمَرَ يَقُولُونَ مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلاَةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ .
Al-Mughirah b. Shu’bah said :
The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind (in a journey). He then narrated this story saying : Then we came to people. ‘Abd al-Rahman was leading them in the dawn prayer. When he perceived the presence of the Prophet (ﷺ), he intended to retire. The Prophet (ﷺ) asked him to continue and I and the Prophet (ﷺ)offered one rak’ah of prayer behind him. When he had pronounced the salutation, the Prophet(ﷺ) got up and offered the rak’ah which had been finished before, and he made no addition to it.
Abu Dawud said: Abu Sa’id al-Khudri, Ibn al-Zubair and Ibn ‘Umar hold the opinion that whoever gets an odd number of the rak’ahs of prayer, he should perform two prostrations on account of forgetfulness.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں لوگوں کی جماعت سے ) پیچھے رہ گئے ، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو پیچھے ہٹنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : تو میں نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی ، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو سعید خدری ، ابن زبیر ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے ، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۱؎ ۔
Abu ‘Abd al-Rahman al-Sulami said that he witnessed ‘Abd al-Rahman b. ‘Awf asking Bilal about the ablution of the Prophet (ﷺ). Bilal said:
He went out to relieve himself. Then I brought water for him and he performed ablution, and wiped over his turban and socks.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ
وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، بلال نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تشریف لے جاتے ، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) اور دونوں موق ( جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے ) پر مسح کرتے ۔
Jarir urinated. He then performed ablution and wiped over the socks. He said: What can prevent me from wiping (over the socks); I saw the Messenger of Allah (doing so). They (the people) said: This (action of yours) might be valid before the revelation of Surat al-Ma’idah. He replied: I embraced Islam after the revelation of Surat al-Ma’idah.
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ
جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( موزوں پر ) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس پر لوگوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے ۔
Negus presented to the Messenger of Allah (ﷺ) two black and simple socks. He put them on; then he performed ablution and wiped over them.
Musaddad reported this tradition from Dulham b. Salih.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by the people of Basrah alone.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) wiped over the socks and I said: Messenger of Allah, have you forgotten ? He said: My Lord has commanded me to do this.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ تم بھول گئے ہو ، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The time limit for wiping over the socks for a traveller is three days (and three nights) and for a resident it is one day and one night.
Abu Dawud said: Another version adds: Had we requested him to extend (the period of wiping), he would have extended.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن ، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور بن معتمر نے اسے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس مدت کو ) بڑھانے کے لیے کہتے تو آپ اسے ہمارے لیے بڑھا دیتے ۔
I asked: Messenger of Allah (ﷺ) may I wipe over the socks? He replied: Yes. He asked: For one day? He replied: For one day. He again asked: And for two days? He replied: For two days too. He again asked: And for three days? He replied: Yes, as long as you wish.
Abu Dawud said: Another version says: He asked him about the period until he reached the period of seven days. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Yes, as long as you wish (i.e. there is no time limit).
Abu Dawud said: There is a variance in the chain of narrators of this tradition. The chain is not strong.
Another chain from Yahya b. Ayyub is also disputed.
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ
ابی بن عمارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں ( بیت المقدس اور بیت اللہ ) کی طرف نماز پڑھی ہے - آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا میں موزوں پر مسح کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، ابی نے کہا : ایک دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن تک “ ، ابی نے کہا : اور دو دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو دن تک “ ، ابی نے کہا : اور تین دن تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور اسے تم جتنا چاہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے ، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے ، محمد نے عبادہ بن نسی سے ، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے : یہاں تک کہ ( پوچھتے پوچھتے ) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے گئے : ” ہاں ، جتنا تم چاہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کی سند میں اختلاف ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over the stockings and shoes.
Abu Dawud said: 'Abd al-Rahman b. Mahdi did not narrate this tradition because the familiar version from al-Mughirah says that the Prophet (ﷺ) wiped over the socks.
Abu Musa al-Ash'ari has also reported: The Prophet (ﷺ) wiped over stockings. But the chain of narrators of this tradition is neither continous nor strong.
'Ali b. Abi Talib, Ibn Mas'ud, al-Bara' b. 'Aziz, Anas b. Malik, Abu Umamah, Sahl b. Sa'd and 'Amr b. Huriath also wiped over the stockings.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ، اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا ، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن ابی طالب ، ابن مسعود ، براء بن عازب ، انس بن مالک ، ابوامامہ ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے ، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے ۔
Chapter 63: Another Proof For Wiping - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ عَبَّادٌ - قَالَ أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ . وَقَالَ عَبَّادٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ - يَعْنِي الْمِيضَأَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ ثُمَّ اتَّفَقَا - فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ .
Narrated Aws ibn AbuAws ath-Thaqafi:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over his shoes and feet.
Abbad (a sub-narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to the well of a people. Musaddad did not mention the words Midat (a place where ablution is performed), and Kazamah (well). Then both agreed on the wording:"He performed ablution and wiped over his shoes and feet."
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔ عباد کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے ۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے ، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْىِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاَهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ .
Narrated Ali ibn AbuTalib:
If the religion were based on opinion, it would be more important to wipe the under part of the shoe than the upper but I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wiping over the upper part of his shoes.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
” اگر دین ( کا معاملہ ) رائے اور قیاس پر ہوتا ، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا ، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے “ ۔
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:
“I always preferred to wash the under part of the feet until I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping the upper part of them.
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْىِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ كُنْتُ أُرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي الْخُفَّيْنِ . وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
A ‘mash transmitted this tradition saying:
If religion were based on opinion, it would be more proper to wipe the under part of the feet than the upper. The Prophet (ﷺ) wiped over the upper part of his shoes.
The narrator Waki’ said: I saw ‘ Ali perform ablution and wash the upper part of his feet, and say : Had I not seen the Messenger of Allah(ﷺ) doing like this –and he narrated the tradition in full.
اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر دین ( کا معاملہ ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے ۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے ، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے ، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا ، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی ۔
I poured water while the Prophet (ﷺ) performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part.
Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja'.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا ، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) urinated, he performed ablution and sprinkled water on private parts of the body.
Abu Dawud said: A group of scholars agreed with Sufyan upon this chain of narrators. Some have mentioned the name of Sufyan b. al-Hakam, and others al-Hakam b. Sufyan.
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے ، اور ( وضو کے بعد ) شرمگاہ پر ( تھوڑا ) پانی چھڑک لیتے ۔
We served ourselves in the company of Messenger of Allah (ﷺ). We tended our camels by turn. One day I had my turn to tend the camels, and I drove them in the afternoon. I found the Messenger of Allah (ﷺ) addressing the people. I heard him say: Anyone amongst you who performs ablution, and does it well, then he stands and offers two rak’ahs of prayer, concentrating on it with his heart and body, Paradise will be his lot by all means. I said: Ha-ha! How fine it is! A man in front of me said: The action (mentioned by the Prophet) earlier, O ‘Uqbah, is finer that this one. I looked at him and found him to be ‘Umar b. al-Khattab. I asked him: What is that, O Abu Hafs? He replied: He (the Prophet) had said before you came: If any one of you performs ablution, and does it well, and when he finishes the ablution, he utters the words : I bear witness that there is no deity except Allah, He has no associate, and I bear witness that Muhammad is His Servant and His Messenger, all the eight doors of Paradise will be opened for him; he may enter (through) any of them.
Mu’awiyah said: Rabi’ah b. Yazid narrated this tradition to me from Abu Idris and the authority of ‘Uqbah b.’Amir.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے ، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے ، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی ، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے ( اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی “ ، میں نے کہا : واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے ، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا : عقبہ ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی ، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے ، عرض کیا : ابوحفص ! وہ کیا تھی ؟ آپ نے کہا : تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے ، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے : «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله» ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے ، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو “ ۔ معاویہ کہتے ہیں : مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے ، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔
‘Uqbah b. ‘Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet(ﷺ) in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words:
“he then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Mu’awiyah.
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے
ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے : ” پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی “ ۱؎ ۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔
I asked Anas b. Malik about ablution. He replied: The Prophet (ﷺ) performed ablution for each prayer and we offered (many) prayers with the same ablution.
عمرو بن عامر بجلی ( محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں : عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں ) کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) performed five prayers with the same ablution of the occasion of the capture of Mecca, and he wiped over his socks. ‘Umar said to him(the Prophet): I saw you doing a thing today that you never did. He said: I did it deliberately.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں ، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے “ ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمَيْهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " .
Anas reported:
A person came to the Messenger of Allah (ﷺ). He performed ablution and left a small part equal to the space of a nail upon his foot. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him : Go back and perform ablution well.
Abu Dawud said: This tradition is not known through Jarir b. Hazim. It was transmitted only by Ibn Wahab.
Another version adds the wording : “ Go back and perform the ablution well.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا ، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ ( خشک ) چھوڑ دی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے ، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے ، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے ، معقل ابوزبیر سے ، ابوزبیر جابر سے ، جابر عمر سے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى قَتَادَةَ .
Hasan narrated from the Prophet (ﷺ) a tradition conveying the same meaning as that of Qatadah.
اس سند سے حسن ( حسن بصری ) نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ ( قتادہ ابن دعامۃ ) کی حدیث کے ہم معنی ( مرسلاً ) روایت کی ہے ۔
Chapter 68: Separating The Actions Of Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، - هُوَ ابْنُ سَعْدٍ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاَةَ .
Narrated Some Companions of the Prophet:
The Prophet (ﷺ) saw a person offering prayer, and on the back of his foot a small part equal to the space of a dirham remained unwashed; the water did not reach it. The Prophet (ﷺ) commanded him to repeat the ablution and prayer.
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا ، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا ، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو ، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎ ۔
'Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Prophet (ﷺ) that he entertained (doubt) as if something had happened to him which had rendered his ablution invalid. He (the Prophet) said:
He should not cease (to pray) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind).
عباد بن تمیم کے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے ( کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے ، یا بو نہ سونگھ لے ، نماز نہ توڑے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If any one of you offers prayer and feels a movement between his paddocks, but is doubtful whether or not his ablution broke, he should not cease praying unless he hears a sound or perceives a smell.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے ، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں ، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے ، یا بو نہ سونگھ لے ، نماز نہ توڑے “ ۔
The Prophet (ﷺ) kissed me and did not perform ablution.
Abu Dawud said: This tradition is Mursal (i.e. where the link of the Companions is missing and the Successor reports from the Prophet directly). Ibrahim at-Taimi did not hear anything from 'Aishah.
Abu Dawud said: Al-Firyabi and other narrated this tradition in a like manner.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے ، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا ، ان کی کنیت ابواسماء تھی ۔
The Prophet (ﷺ) kissed one of his wives and went out to pray (salah). He did not perform ablution. 'Urwah said: I said to her: Who is she except you! Thereupon she laughed. Abu Dawud said: The same version has been reported through a different chain of narrators.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا ، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں ؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں ۔
This tradition has been reported through another chain of narrators on the authority of 'Aishah.
Abu Dawud said:
Yahya b. Sa'id al-Qattan said to a person: Narrate these two tradition from me, that is to say, one tradition on the authority of al-A'mash from Habib (about kissing); another through the same chain about a woman who has prolonged flow of bloos and she is asked to perform ablution for every prayer.
Yahya said: Narrate from me that both these traditions are weak in respect of their chains.
Abu Dawud said: Al-Thawri is reported to have said: Habib narrated this tradition to us only on the authority of 'Urwat al-Muzani, that is, he did not narrated any tradition on the authority of 'Urwah b. al-Zubair.
Abu Dawud said: Hamzah al-Zayyat reported a sound tradition on the authority of Habib, from 'Urwah b. al-Zubair from 'Aishah.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا : میرے حوالہ سے بیان کرو کہ
یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے ، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی «لا شىء» کے مشابہ ہے ( یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا ، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے ، حبیب نے عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے ) ۔
Abdullah ibn AbuBakr reported that he heard Urwah say: I entered upon Marwan ibn al-Hakam. We mentioned things that render the ablution void. Marwan said: Does it become void by touching the penis? Urwah replied: This I do not know. Marwan said: Busrah daughter of Safwan reported to me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who touches his penis should perform ablution.
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ
انہوں نے عروہ کو کہتے سنا : میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، تو مروان نے کہا : اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا : مجھے یہ معلوم نہیں ، تو مروان نے کہا : مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے “ ۔
We came upon the Prophet of Allah (ﷺ). A man came to him: he seemed to be a bedouin. He said: Prophet of Allah, what do you think about a man who touches his penis after performing ablution? He (ﷺ) replied: That is only a part of his body.
Abu Dawud said: The tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا ، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے “ ، یا کہا : ” ٹکڑا ہے “ ۱؎ ۔
The tradition has also been reported by Qais b. Talq through a different chain of narrators. This version adds the wording:
"during the prayer"
مسدد کا بیان ہے کہ
ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے ، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے ، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about performing ablution after eating the flesh of the camel. He replied: Perform ablution, after eating it. He was asked about performing ablution after eating meat. He replied: Do not perform ablution after eating it. He was asked about saying prayer in places where the camels lie down. He replied: Do not offer prayer in places where the camels lie down. These are the places of Satan. He was asked about saying prayer in the sheepfolds. He replied: You may offer prayer in such places; these are the places of blessing.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو کرو “ ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو نہ کرو “ ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے “ ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) passed by a boy who was skinning a goat. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it up until I show you. He (the Prophet) inserted his hand between the skin and the flesh until it reached the armpit. He then went away and led the people in prayer and he did not perform ablution. The version of Amr added that he did not touch water.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated though another chain of transmitters, making no mention of Abu Sa'id.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا ، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم ہٹ جاؤ ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا ، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں ، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے «عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے ، ہلال نے عطاء سے ، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) passed by the market when on his return from one of the villages of 'Aliyah. People accompanied him from both sides. One the way he found a dead kid with both its ears joined together. He caught hold of it by its ear. He then said: Which of you likes to take it ? The narrator transmitted the tradition in full.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے ، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے ، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا ، پھر فرمایا : ” تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا ؟ “ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ ۔
One night I became the guest of the Prophet (ﷺ). He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a took-stick; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.
Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a tooth-stick ; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا “ ۔
Chapter 76: Not Performing Wudu' FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
The Messenger of Allah (ﷺ) took a shoulder (of goat's meat) and after wiping his hand with a cloth on which he was sitting, he got up and prayed.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
I heard Jabir b. 'Abd Allah say: I presented bread and meat to the Prophet (ﷺ). He ate them and called for ablution water. he performed ablution and offered the noon (Dhuhr) prayer. He then called for the remaining food and ate it. He then got up and prayed and did not perform ablution.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا ، تو آپ نے کھایا ، پھر وضو کے لیے پانی منگایا ، اور اس سے وضو کیا ، پھر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا ۔
The last practice of the Messenger of Allah (ﷺ) was that he did not perform ablution after taking anything that was cooked with the help of fire.
Abu Dawud said: This is the abridgment of the former tradition.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے ۔
Chapter 76: Not Performing Wudu' FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي دَارِ رَجُلٍ فَمَرَّ بِلاَلٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ " . قَالَ نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي . فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً فَلَمْ يَزَلْ يَعْلِكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلاَةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Harith ibn Jaz':
One of the Companions of the Prophet (may peace be upon), came upon us in Egypt. When he was narrating traditions in the Mosque of Egypt, I heard him say: I was the seventh or the sixth person in the company of the Messenger of Allah ( peace be upon him) in the house of a person.
In the meantime Bilal came and called him for prayer. He came out and passed by a person who had his fire-pan on the fire. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Has the food in the fire-pan been cooked? He replied: Yes, my parents be sacrificed upon you. He then took a piece out of it and continued to chew it until he uttered the first takbir (AllahuAkbar) of the prayer. All this time I was looking at him.
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ
صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے ، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : ” ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی ، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا : ” کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ؟ “ ، اس نے جواب دیا : ہاں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا “ ۔
AbuSufyan ibn Sa'id ibn al-Mughirah reported that he entered upon Umm Habibah who presented him a glass of sawiq (a drink prepared with flour and water) to drink. He called for water and rinsed his mouth. She said: O my cousin, don't you perform ablution? The Prophet (ﷺ) said: Perform ablution after eating anything cooked with fire, or he said: anything touched by fire.
Abu Dawud said: The version of al-Zuhri has: O my paternal cousin.
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ
وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا ، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو “ ، یا فرمایا : ” جنہیں آگ نے چھوا ہو ، ان چیزوں سے وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری کی حدیث میں لفظ : «يا ابن أخي» ” اے میرے بھتیجے “ ہے ۔
We proceeded in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) for the battle of Dhat ar-Riqa. One of the Muslims killed the wife of one of the unbelievers. He (the husband of the woman killed) took an oath saying: I shall not rest until I kill one of the companions of Muhammad.
He went out following the footsteps of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) encamped at a certain place. He said: Who will keep a watch on us? A person from the Muhajirun (Emigrants) and another from the Ansar (Helpers) responded. He said: Go to the mouth of the mountain-pass. When they went to the mouth of the mountain-pass the man from the Muhajirun lay down while the man from the Ansar stood praying.
The man (enemy) came to them. When he saw the person he realised that he was the watchman of the Muslims. He shot him with an arrow and hit the target. But he (took the arrow out and) threw it away. He (the enemy) then shot three arrows. Then he (the Muslim) bowed and prostrated and awoke his companion. When he (the enemy) perceived that they (the Muslims) had become aware of his presence, he ran away.
When the man from the Muhajirun saw the (man from the Ansar) bleeding, he asked him: Glory be to Allah! Why did you not wake me up the first time when he shot at you.
He replied: I was busy reciting a chapter of the Qur'an. I did not like to leave it.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے ، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کر دیا ، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آ سکتا ، چنانچہ وہ ( اسی تلاش میں ) نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے ، اور فرمایا : ” ہماری حفاظت کون کرے گا ؟ “ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو “ ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے ( اور وہاں پہنچے ) تو مہاجر ( صحابی ) لیٹ گئے ، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، وہ مشرک آیا ، جب اس نے ( دور سے ) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے ، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا ، جو آپ کو لگا ، تو آپ نے اسے نکالا ، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے ، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا ، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا ، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہو گئے ہیں ، تو بھاگ گیا ، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا ؟ تو انصاری نے کہا : میں ( نماز میں قرآن کی ) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں ۱؎ ۔
One night the Messenger of Allah (May peace be upon him) was busy and he delayed the night (isha) prayer so much so that we dosed in the mosque. We awoke, then dozed, and again awoke and again dozed. He (the prophet) then came upon us and said: There is none except you who is waiting for prayer.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی ، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر جاگے پھر سو گئے ، پھر جاگے پھر سو گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا : ” ( اس وقت ) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے “ ۔
حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بِلَفْظٍ آخَرَ .
Narrated Anas:
The Companions during the lifetime of the messenger of Allah (May peace be upon him) used to wait for the night prayer so much so that their heads were lowered down (by dozing). Then they offered prayer and did not perform ablution.
Abu Dawud said: Shu’bah on the authority of Qatadah added: We lowered down our heads (on accounts of dozing) in the day of the Messenger of Allah (May peace be upon him).
Abu Dawud said; This tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے ، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے ، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے ۔