“Umar bin Khattab said: ‘O
Messenger of Allah! What about a person who fasts two days and does
not fast one day?’ He said: ‘Is anyone able to do that?’ He
said: ‘O
Messenger of Allah! What about a person who fasts one day
and not the
next?’ He said: ‘That is the fast of Dawud.’ He
said: ‘What about a
man who fasts one day and does not fast the
next two days?’ He said:
‘I wish that I were given the ability to
do that.’”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، پھر انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی “ ۱؎ ۔
Chapter 33: Fasting six days of Shawwal - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} " .
It was
narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of
Allah
(ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever fasts
six
days after the Fitr will have completed the year, for whoever does
a
good deed will have the reward of ten like it.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا “ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی ” جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا “ ۱؎ ۔
Chapter 33: Fasting six days of Shawwal - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ " .
It was
narrated from Abu Ayyub that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Whoever fasts Ramadan then follows it with six days of Shawwal,
it
is as if he fasted for a lifetime.”
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان کا روزہ رکھا ، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے ، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا “ ۔
Chapter 34: Fasting one day in the cause of Allah - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَ اللَّهُ، بِذَلِكَ الْيَوْمِ، النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
It was
narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah
will
keep the Fire away from his face the distance of seventy autumns
(years) for that day.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی روزہ رکھا ، تو اللہ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا “ ۱؎ ۔
Chapter 34: Fasting one day in the cause of Allah - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Whoever fasts one day for the sake of Allah, Allah will move
his
face away from the Fire a distance of seventy autumns (years).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا “ ۔
Chapter 35: What was narrated concerning the prohibition of fasting on the days of Tashriq - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَطَبَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَقَالَ:
" لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ. وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
It was
narrated from Bishr bin Suhaim that:
The Messenger of Allah
(ﷺ)
delivered a sermon on the days of Tashriq (11th, 12th,
and 13th
of Dhul-Hijjah) and said: “No one will enter
Paradise but a Muslim
soul, and these days are the days of eating and
drinking.”
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا : ” جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا ، اور یہ ( ایام تشریق ) کھانے اور پینے کے دن ہیں “ ۔
Chapter 36: The prohibition of fasting the day of Fitr and the day of Adha - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى. أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ، فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ. وَيَوْمُ الأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ .
It was
narrated that Abu ‘Ubaid said:
“I was present for ‘Eid with
‘Umar bin Khattab. He started with the prayer before the sermon,
and
said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on these
two days,
the Day of Fitr and the Day of Adha. As for the Day of
Fitr, it is the
day when you break your fast, and on the Day of Adha
you eat the meat
of your sacrifices.’”
ابوعبید ( سعد بن عبید الزہری ) کہتے ہیں کہ
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر ، دوسرے عید الاضحی ، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے ، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَا أَطُوفُ، بِالْبَيْتِ: أَنَهَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
It was
narrated that Muhammad bin ‘Abbad bin Ja’far said:
“While I
was
circumambulating the House, I asked Jabir bin ‘Abdullah: ‘Did the
Prophet (ﷺ) forbid fasting on a Friday?’ He said: ‘Yes, by the
Lord
of this House.’”
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں ، اس گھر کے رب کی قسم ! ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
It was
narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said:
“I rarely saw the
Messenger of Allah (ﷺ) not fasting on a Friday.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ ( جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی ، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے ) ۔
Chapter 38: What was narrated concerning fasting on a Saturday - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلاَّ فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ عُودَ عِنَبٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ، فَلْيَمُصَّهُ " .
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was
narrated from ‘Abdullah bin Busr that the Messenger of Allah
(ﷺ)
said:
“Do not fast on Saturdays apart from days when you are
obliged to fast. If anyone of you cannot find anything other than
grape stalks or the bark of a tree, let him suck on it.”
Another chain from 'Abdullah
bin Busr, from his sister who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said," and he mentioned similarly.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو ، سوائے فرض روزہ کے ، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے “ ( لیکن روزہ نہ رکھے ) ۱؎ ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر اسی جیسی روایت بیان کی ۔
It was
narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“There are no days during which righteous deeds are more beloved
to
Allah than these days,” meaning the (first) ten days of
Dhul-
Hijjah. They said: “O Messenger of Allah! Not even Jihad in
the cause
of Allah?” He said: “Not even Jihad in the cause of
Allah, unless a
man goes out with himself and his wealth and does not
bring anything
back.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں ، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے ، اور پھر لوٹ کر نہ آئے “ ۔
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“There are no days in this world during which worship is more
beloved to Allah, Glorious is He, than the (first) ten days (of
Dhul-
Hijjah). Fasting one of these days is equivalent to fasting for
one
year, and one night of them is equal to Lailatul-Qadr.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے ، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے ، اور ان میں ایک رات شب قدر ( قدر کی رات ) کے برابر ہے “ ۔
Chapter 39: Fasting the (first) ten days (of Dhul-Hijjah) - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ .
It was
narrated from Aswad that ‘Aishah said:
“I never saw the
Messenger
of Allah (ﷺ) fasting the (first) ten days (of Dhul-
Hijjah).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎ ۔
Chapter 40: Fasting the day of `Arafah - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ " .
It was
narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Fasting on the Day of ‘Arafah, I hope from Allah, expiates for
the sins of the year before and the year after.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ ۱؎ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب اللہ تعالیٰ یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا “ ۲؎ ۔
Chapter 40: Fasting the day of `Arafah - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ:
" مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ، غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ وَسَنَةٌ بَعْدَهُ " .
It was
narrated that Qatadah bin Nu’man said:
“I heard the Messenger
of
Allah (ﷺ) say: ‘Whoever fasts the Day of ‘Arafah, his sins of
the
previous and following year will be forgiven.’”
قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔
Chapter 40: Fasting the day of `Arafah - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟ فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ .
It was
narrated that ‘Ikrimah said:
“I entered upon Abu Hurairah in
his
house and asked him about fasting the Day of ‘Arafah at ‘Arafat.
Abu Hurairah said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting
the
Day of ‘Arafah at ‘Arafat.’”
عکرمہ کہتے ہیں کہ
میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا ؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
Chapter 41: Fasting the day of `Ashura’ - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صُيَّامًا. فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " . قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“The Prophet (ﷺ) came to
Al-
Madinah, and he found the Jews observing a fast. He said: ‘What
is
this?’ They said: ‘This is the day when Allah saved Musa and
drowned
Pharaoh, so Musa fasted this day in gratitude.’ The
Messenger of Allah
(ﷺ) said: ‘We have more right to Musa than you
do.’ So he fasted
(that day) and enjoined (others) to fast it
also.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے “ ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی ، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا ، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن شکریہ میں روزہ رکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا ، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا “ ۔
It was
narrated from Muhammad bin Saifi that the Messenger of Allah
(ﷺ)
said to us on the Day of ‘Ashura’:
“Has anyone among you eaten
today?” We said: “Some of us have eaten and some of us have not.”
He
said: “Complete the rest of your day (i.e., do not eat for the
rest of
the day), whoever has eaten and whoever has not eaten. And
send word
to the people of the suburbs to complete the rest of their
day.” He
was referring to the people of the suburbs around
Al-Madinah.
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا : ” آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے “ ؟ ہم نے عرض کیا : بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں ، اور «عروض» ۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں “ ۲؎ ۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے ۔
Chapter 41: Fasting the day of `Ashura’ - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " .
It was
narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“If I live until next year, I will fast the ninth day (of
Muharram)
too.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا “ ۔ ابوعلی کہتے ہیں : اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے ، اس میں اتنا زیادہ ہے : اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے “ ۔
Chapter 41: Fasting the day of `Ashura’ - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ. فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ " .
It was
narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Day of ‘Ashura’
was
mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ). The
Messenger of Allah (ﷺ) said:
“That was a day when the people of
the
Ignorance used to fast. So whoever among you wants to fast may do
so,
and whoever does not want to may leave it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء ( محرم کی دسویں تاریخ ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے ، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے ، اور جو نہ چاہے نہ رکھے “ ۔