Chapter 21: What was narrated concerning backbiting and obscene speech while fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالْجَهْلَ، وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلاَ حَاجَةَ لِلَّهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Whoever does not give up evil and ignorant speech, and acting
in
accordance with that, Allah has no need of his giving up his food
and
drink.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا ، جہالت کی باتیں کرنا ، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے ، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے “ ۱؎ ۔
Chapter 21: What was narrated concerning backbiting and obscene speech while fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلاَّ الْجُوعُ. وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلاَّ السَّهَرُ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“There are people who fast and get nothing from their fast
except
hunger, and there are those who pray and get nothing from their
prayer but a sleepless night.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا ، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔
Chapter 21: What was narrated concerning backbiting and obscene speech while fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ. فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“When anyone of you is fasting, let him not utter evil or
ignorant
speech. If anyone speaks to him in an ignorant manner, let
him say:
‘I am fasting.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے ، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے ، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں “ ۔
Chapter 23: What was narrated concerning delaying Suhur - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً .
It was
narrated from Anas bin Malik that Zaid bin Thabit said:
“We
ate
Suhur with the Messenger of Allah (ﷺ) then we got up to perform
prayer.” I said: “How long was there between the two?” He said:
“As
long as it takes to recite fifty verses.”
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا : سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟ کہا : پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎ ۔
Chapter 23: What was narrated concerning delaying Suhur - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هُوَ النَّهَارُ إِلاَّ أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ .[ قالَ ابُو إسحاق: حديث حُذَيْفَةَ مَنْسوخٌ لَيْسَ بشَيْء.]
It was
narrated that Hudhaifah said:
“I ate Suhur with the Messenger
of
Allah (ﷺ) when it was daybreak but the sun had not yet risen.”
[(One of the narrators) Abu Ishaq said: “The Hadith of Hudhaifah is
abrogated and does not mean anything.”]
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی ، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی ۔
It was
narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“The Adhan of Bilal should not prevent anyone of you
from
eating Suhur, for he gives the Adhan to alert those among you
who are
asleep, and so that anyone who is praying can prepare himself
for
fasting. The Fajr does not come in this manner, rather it comes
in
this manner, and it appears along the horizon.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے ، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا ( سحری کھانے کے لیے ) جاگ جائے ، اور قیام ( یعنی تہجد پڑھنے ) والا اپنے گھر چلا جائے ، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے ، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض ( چوڑان ) میں ظاہر ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 24: What was narrated concerning hastening to break the fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ. عَجِّلُوا الْفِطْرَ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
"The people will remain upon goodness so long as they hasten to
break the fast. Hasten to break the fast, for the Jews delay it."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے ، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں “ ۔
Salman
bin ‘Amr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"When
any one of you breaks his fast, let him break it with dates. If
he
cannot find dates, then let him break it with water, for it is a
means of purification."
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے ، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے ، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے “ ۔
Chapter 26: What was narrated concerning making fasting incumbent upon oneself from the night before, and having the choice (of breaking a voluntary fast) during the day - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
It was
narrated from Hafsah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"There
is no fast for the one who did not make it incumbent upon
himself
from the night before."
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎ ۔
Chapter 26: What was narrated concerning making fasting incumbent upon oneself from the night before, and having the choice (of breaking a voluntary fast) during the day - كتاب الصيام
“The Messenger of Allah (ﷺ)
would
enter upon me and say: ‘Do you have anything (any food)?’ If we
said: ‘No,’ he would say: ‘Then I am fasting.’ So he would
continue
fasting, then it we were given some food, he would break his
fast.”
She said: “Sometimes he would fast and (then) break fast
(i.e.,
combine fasting and breaking fast in one day).” I said: “How
is that?”
She said: “Like the one who goes out with charity
(i.e., something to
give in charity),and he gives some away and keeps
some.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے : ” کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے “ ؟ ہم کہتے : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے : ” میں روزے سے ہوں “ ، اور اپنے روزے پر قائم رہتے ، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے ، اور کبھی کھول دیتے ، میں نے پوچھا : یہ کیسے ؟ تو کہا : اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎ ۔
Chapter 27: What was narrated concerning a man who wakes up in a state of sexual impurity and wants to fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ لاَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا أَنَا قُلْتُ:
" مَنْ أَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيُفْطِرْ " . مُحَمَّدٌ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَهُ .
It was
narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr Al-Qari said:
“I heard Abu
hurairah say: ‘No, by the Lord of the Ka’bah! I did not say:
“Whoever
wakes up in a state of sexual impurity (and wants to fast)
then he
must not fast.” Muhammad (ﷺ) said it.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رب کعبہ کی قسم ! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے ، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎ ۔
Chapter 27: What was narrated concerning a man who wakes up in a state of sexual impurity and wants to fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبِيتُ جُنُبًا. فَيَأْتِيهِ بِلاَلٌ، فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ. فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَدُّرِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِهِ. ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ . قَالَ مُطَرِّفٌ: فَقُلْتُ لِعامِرٍأفِي رَمَضَانَ؟ قَالَ رَمَضَانُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“The Prophet (ﷺ) used to spend
the
night in a state of sexual impurity, then Bilal would come to him
and
inform him that it is time for prayer. So he would get up and have
a
bath, and I would see the water dripping from his head, then he
would
go out and I would hear his voice during Fajr prayer.”
(One of the narrators) Mutarrif said: "I said to Amir: 'Was that during Ramadan?' He said: 'In
Ramadan and at other times.'"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے ، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے ، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی ، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی ۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے عامر سے پوچھا : کیا ایسا رمضان میں ہوتا ؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا ۔
Chapter 27: What was narrated concerning a man who wakes up in a state of sexual impurity and wants to fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ، يُصْبِحُ، وَهُوَ جُنُبٌ، يُرِيدُ الصَّوْمَ؟ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنَ الْوِقَاعِ، لاَ مِنِ احْتِلاَمٍ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صَوْمَهُ .
It was
narrated that Nafi’ said:
“I asked Umm Salamah about a man who
gets up in the morning when he is in a state of sexual impurity and
wants to fast. She said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to get
up
in the morning in a state of sexual impurity after having
intercourse,
not from a wet dream, then he would take a bath and
complete his
fast.’”
نافع کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے ، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے ، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے ، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے ۔
Chapter 29: What was narrated concerning fasting three days of each month - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ وَيَقُولُ:
" هُوَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ أَوْ كَهَيْئَةِ صَوْمِ الدَّهْرِ " .
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ . قَالَ: ابْنُ مَاجَهْ أَخْطَأَ شُعْبَةُ وَأَصَابَ هَمَّامٌ .
It was
narrated from ‘Abdul-Malik bin Minhal, from his father that:
The
Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin fasting the bright days –
the thirteenth, fourteenth and fifteenth (when the moon is full). He
said: “It is like fasting for a lifetime.”
Another chain from 'Abdul-Malik bin Qatadah bin Malhan Al-Qaisi, from his father, from the Prophet (ﷺ) with similar wording. Ibn Majah said: Shu'bah erred (in the name of one of the narrators)and Hammam was correct.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں ، چودہویں ، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا ، اور فرماتے : ” یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے “ ۱؎ ۔شعبہ نے غلطی کی ہے ، اور ہمام نے صحیح طرح سے روایت کی ہے ، ” عبدالملک بن منہال “ کے بجائے صحیح عبدالملک بن قتادہ بن ملحان ہے ۔
Chapter 29: What was narrated concerning fasting three days of each month - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} فَالْيَوْمُ بِعَشْرَةِ أَيَّامٍ .
It was
narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Whoever fasts three days in every month, that is fasting for a
lifetime.” Then, in testimony of that, Allah revealed: “Whoever
brings
a good deed shall have ten time the like thereof to his
credit.”
[6:160] So one day is equivalent to ten (in reward).
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہر مہینہ تین دن روزہ رکھا تو گویا اس نے ہمیشہ روزہ رکھا “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق نازل فرمائی : «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ( جو کوئی ایک نیکی کرے اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی ) تو ایک روزے کے دس روزے ہوئے ۔
Chapter 29: What was narrated concerning fasting three days of each month - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ . قُلْتُ مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ .
It was
narrated from Mu’adhah Al-‘Adawiyyah that ‘Aishah said:
“The
Messenger of Allah (ﷺ) used to fast three days of each month.” I
said: “Which were they?” She said: “He did not care which days
they
were.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے ، معاذہ عدویہ کہتی ہیں : میں نے پوچھا : کون سے تین دنوں میں ؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں “ ۔
“I asked ‘Aishah about the
fasting of the Prophet (ﷺ). She said: ‘He used to fast until we
thought he would always fast. And he used to not fast until we
thought
he would always not fast. I never saw him fast more in any
month than
in Sha’ban. He used to fast all of Sha’ban; he used to
fast all of
Sha’ban except a little.’”
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے ، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں ، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 30: What was narrated concerning the fasting of the Prophet (saws) - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يُفْطِرُ. وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يَصُومُ . وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلاَّ رَمَضَانَ، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
used
to fast until we thought he would never stop fasting. And he used
to
not fast until we thought we would never fast. And he never fasted
any complete month apart from Ramadan, from the time he came to
Al-
Madinah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے چھوڑیں گے ہی نہیں ، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے رکھیں گے ہی نہیں ، اور جب سے آپ مدینہ آئے آپ نے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کا روزہ لگاتار نہیں رکھا ۔
It was
narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“The most beloved fast to Allah is the fast of Dawud,
for
he used to fast one day and not the next. And the most beloved of
prayer to Allah is the prayer of Dawud; he used to sleep half of the
night, pray one-third of the night and sleep one-sixth of the night.”
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، آپ آدھی رات سوتے تھے ، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے ، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے “ ۔