Chapter 42: Fasting on Mondays and Thursdays - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ .
It was
narrated from Rabi’ah bin Ghaz that he asked ‘Aishah about the
fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:
“He used to make
sure he fasted on Mondays and Thursdays.”
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کا اہتمام کرتے تھے ۱؎ ۔
It was
narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) used to fast
on
Mondays and Thursdays. It was said:
“O Messenger of Allah, why do
you fast on Mondays and Thursdays?” He said: “On Mondays and
Thursdays
Allah forgives every Muslim except two who have forsaken
one another.
He says: ‘Leave these two until they reconcile.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے ، تو پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں “ ۔
It was
narrated from Abu Mujibah Al-Bahili that his father or, his
paternal
uncle, said:
“I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O
Prophet of
Allah, I am the man who came to you last year.’ He said:
‘Why do
I see your body so thin (and weak)?’ He said: ‘O Messenger of
Allah! I do not eat during the day; I only eat at night.’ He said:
‘Who commanded you to punish yourself?’ I said: ‘O Messenger of
Allah!
I am strong enough.’ He said: ‘Fast the month of patience*
and one day
after it.’ I said: ‘I am strong enough (to do more).’
He said: ‘Fast
the month of patience and two days after it.’ I
said: ‘I am strong
enough (to do more).’ He said: ‘Fast the
month of patience and three
days after it, and fast the sacred
months.’”
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو “ ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں طاقتور ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو ، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو “ میں نے عرض کیا : مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو ، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو “ میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر کے مہینہ میں روزے رکھو ، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو ، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو “ ۲؎ ۔
Chapter 43: Fasting during the sacred months - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ أَىُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ
" شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ " .
It was
narrated that Abu Hurairah said:
“A man came to the Prophet
(ﷺ)
and said: ‘Which fasting is better after the month of Ramadan?’
He said: ‘The month of Allah which is called Muharram.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : ” رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو “ ۔
Chapter 43: Fasting during the sacred months - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، كَانَ يَصُومُ أَشْهُرَ الْحُرُمِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" صُمْ شَوَّالاً " . فَتَرَكَ أَشْهُرَ الْحُرُمِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَصُومُ شَوَّالاً حَتَّى مَاتَ .
It was
narrated from Muhammad bin Ibrahim that Usamah bin Zaid used
to fast
the sacred months. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:
“Fast
Shawwal.” So he forsook the sacred months and he continued to
fast
Shawwal until he died.
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” شوال میں روزے رکھو “ ، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنا چھوڑ دیا ، پھر برابر شوال میں روزے رکھتے رہے ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ۔
Chapter 44: Fasting is the Zakat of the body - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ جُمْهَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِكُلِّ شَىْءٍ زَكَاةٌ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ " . زَادَ مُحْرِزٌ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“For everything there is Zakat and the Zakat of the body is
fasting.”
(A narrator in one of the chains) Muhriz added in
his narration: "And the Messenger of Allah (ﷺ) said:
'Fasting is half of patience.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز کی زکاۃ ہے ، اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے “ محرز کی روایت میں اتنا اضافہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ آدھا صبر ہے “ ۔
Chapter 45: Concerning the reward of the one who gives food for a fasting person to break his fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَخَالِي، يَعْلَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
It was
narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of
Allah
(ﷺ) said:
“Whoever gives food for a fasting person to break
his
fast, he will have a reward like theirs, without that detracting
from
their reward in the slightest.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا ، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۱؎ ۔
Chapter 45: Concerning the reward of the one who gives food for a fasting person to break his fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ
" أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ " .
It was
narrated that ‘Abdullah bin Zubair said:
“The Messenger of
Allah
(ﷺ) broke his fast with Sa’d bin Mu’adh and said: ‘Aftara
‘indakumus-saimun, wa akala ta’amakumul-abrar, wa sallat
‘alaikumul-
mala’ikah (May fasting people break their fast with
you, may the
righteous eat your food, and may the angels send
blessing upon you).”
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا : ” تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا ، اور تمہارا کھانا ، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی “ ۔
Chapter 46: Concerning the fasting person when others are eating in his presence - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَهْلٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا لَيْلَى عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ " .
It was
narrated that Umm ‘Umarah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
came to us and we brought food for him. Some of those who were with
him were fasting, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If food
is
eaten in the presence of one who is fasting, the angels send
blessing
upon him.’”
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا ، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے ( اور وہ صبر کرے ) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں “ ۔
Chapter 46: Concerning the fasting person when others are eating in his presence - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِبِلاَلٍ " الْغَدَاءُ يَا بِلاَلُ " . فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلاَلٍ فِي الْجَنَّةِ أَشَعَرْتَ يَا بِلاَلُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلاَئِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ " .
It was
narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:
“The
Messenger of Allah (ﷺ) said to Bilal: ‘Come and eat, O Bilal.’
He
said: ‘I am fasting.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘We
are
eating our provision, but most of Bilal’s provision is in
Paradise. Do
you realise, O Bilal, that the bones of the fasting
person glorify
Allah and the angels pray for forgiveness for him so
long as food is
eaten in front of him?’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے بلال ! دوپہر کا کھانا حاضر ہے ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں ، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے ، تم کو معلوم ہے ، اے بلال ! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں ، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے “ ۔
Chapter 47: One who is invited to eat when he is fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
It was
narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever
is invited to eat when he is fasting, let him accept the
invitation;
and if he wants to let him eat, and if he wants let him
not eat.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے ، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے ، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے “ ۔
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
There are three whose supplications are not turned back: A just
ruler, and a fasting person until he breaks his fast. And, the
supplication of one who has been wronged is raised by Allah up to the
clouds on the Day of Resurrection, and the gates of heaven are opened
for it, and Allah says, ‘By My Might I will help you (against the
wrongdoer) even if it is after a while.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی : ایک تو عادل امام کی ، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے ، تیسرے مظلوم کی ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا ، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میری عزت کی قسم ! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو “ ۱؎ ۔
It was
narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of
Allah (ﷺ) said:
“When the fasting person breaks his fast, his
supplication is not turned back.”
(One of the narrators) Ibn Abi Mulaikah said: "When he broke his fast, I heard 'Abdullah bin
'Amr say: 'O Allah! I ask You by Your mercy, which encompasses all things, to forgive me.'"
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی “ ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي» ” اے اللہ ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے “ ۔
Chapter 49: Eating before going out on the day of Fitr - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يُغَدِّيَ أَصْحَابَهُ مِنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ .
It was
narrated that Ibn ‘Umar said:
“The Prophet (ﷺ) would not go
out
on the Day of Fitr until he had had given his Companions some of
the
charity of Fitr to eat.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے ( مساکین ) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے ( جو آپ کے پاس جمع ہوتا ) ۔
Chapter 49: Eating before going out on the day of Fitr - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ لاَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ وَكَانَ لاَ يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ .
It was
narrated from Ibn Buraidah from his father, that:
The Messenger of
Allah (ﷺ) would not go out on the Day of Fitr until he had eaten,
and he would not eat on the Day of Nahr (the day of sacrifice) until
he came back.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎ ۔
Chapter 50: One who dies owing a fast from Ramadan which he neglected - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ " .
It was
narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Whoever dies owing the fasts of a month, one poor person should
be
fed on his behalf for each day.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے “ ۔
“A woman came to the Prophet
(ﷺ)
and said: ‘O Messenger of Allah, my sister has died and she owed
a
fast of two consecutive months.’ He said: ‘Do you not think that
if
your sister owed a debt, you would pay it off for her?’ She
said: ‘Of
course.’ He said: ‘The right of Allah is greater.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری بہن کا انتقال ہو گیا ، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، ضرور ادا کرتی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے “ ۔
Chapter 51: One who dies owing a fast that he vowed to observe - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ
" نَعَمْ " .
It was
narrated from Ibn Buraidah that his father said:
“A woman came
to
the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, my mother has
died and she owed a fast. Should I fast on her behalf?’ He said:
‘Yes.’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں کا انتقال ہو گیا ، اور اس پر روزے تھے ، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ۱؎ ۔
It was
narrated that ‘Atiyyah bin Sufyan bin ‘Abdullah bin Rabi’ah
said:
“Our delegation who went to the Messenger of Allah (ﷺ) to
announce the Islam of Thaqif told us that they came to him in
Ramadan.
He set up a tent for them in the mosque, and when they
became Muslim,
they fasted what was left of the month.”
عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ
ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا ، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا ، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے ، ان میں انہوں نے روزے رکھے ۱؎ ۔