Chapter 10: What was narrated concerning fasting while traveling - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ.الشَّدِيدِ الْحَرِّ. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ. وَمَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
It was
narrated that Abu Darda’ said:
“We were with the Messenger of
Allah (ﷺ) on one of his journeys on a hot day, and it was extremely
hot. A man would put his hand over his head because of the intense
heat. No one among the people was fasting except for the Messenger of
Allah (ﷺ) and ‘Abdullah bin Rawahah.”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا ، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا ۔
Chapter 11: What was narrated concerning not fasting while traveling - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ " .قالَ أَبُو إِسْحاقَ: هَذاالْحَديثُ لَيْسَ بِشَيْءٍ.
It was
narrated from ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf that the Messenger of
Allah
(ﷺ) said:
“The one who fasts Ramadan while traveling is like
one
who breaks his fast when not traveling.”
Abu Ishaq said: "This Hadith is of no significance."
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں روزہ نہ رکھنے والا “ ۔ ابواسحاق کہتے ہیں : یہ حدیث کچھ نہیں ہے ۔
Chapter 12: What was narrated concerning pregnant and nursing women breaking their fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ وَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ - قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: " ادْنُ فَكُلْ " . قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ: " اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ . إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ " . وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كِلْتَاهُمَا أَوْ إِحْدَاهُمَا فَيَا لَهْفَ نَفْسِي فَهَلاَّ كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated from Anas bin Malik that a man from the tribe of Banu
‘Abdul-Ashhal, while (one narrator) ‘Ali bin Muhammad said (he
was) a
man from the tribe of Banu ‘Abdullah bin Ka’b, said:
“The
cavalry of
the Messenger of Allah (ﷺ) attacked us, so I came to the
Messenger
of Allah (ﷺ) while he was eating a meal. He said: ‘Come
and eat.’ I
said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Sit down and I
will tell you about
fasting. Allah has relieved the traveler of half
of the prayer, and He
has relieved the traveler, the pregnant, and
the nursing mothers of
the duty to fast.’ By Allah, the Prophet
(ﷺ) said them, both, or one
of them, and now I feel so disappointed
that I had not eaten of the
food of the Messenger of Allah (ﷺ).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں “ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے ، اور مسافر ، حاملہ اور مرضعہ ( دودھ پلانے والی ) سے روزہ معاف کر دیا ہے ، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں ، یا ایک بات فرمائی ، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ۱؎ ۔
Chapter 12: What was narrated concerning pregnant and nursing women breaking their fast - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا .
It was
narrated that Anas bin Malik said:
“The Messenger of Allah
(ﷺ)
granted a concession to pregnant women who fear for themselves,
allowing them not to fast, and to nursing mothers who fear for their
infants.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو ، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو ، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں ۔
Chapter 14: What was narrated concerning the expiation for one who breaks the fast in Ramadan - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ . قَالَ: " وَمَا أَهْلَكَكَ؟ " . قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ: لاَ أَجِدُهَا . قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ: لاَ أُطِيقُ . قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ: لاَ أَجِدُ . قَالَ: " اجْلِسْ " . فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ: " اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا . قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " .
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِذَلِكَ فَقَالَ: " وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ " .
It was
narrated that Abu Hurairah said:
“A man came to the Prophet
(ﷺ)
and said: ‘I am doomed.’ He said: ‘Why are you doomed?’ He
said:
‘I had intercourse with my wife in Ramadan.’ The Prophet
(ﷺ) said:
‘Free a slave.’ He said: ‘I cannot.’ He said:
‘Fast for two
consecutive months.’ He said: ‘I cannot.’ He
said: ‘Feed sixty poor
persons.’ He said: ‘I cannot.’ He
said: ‘Sit down.’ So he sat down,
and while doing so a basketful
of dates was brought. The Prophet (ﷺ)
said: ‘Go and give this in
charity.’ He said: ‘O Messenger of Allah,
by the One Who sent you
with the truth, there is no household between
its two lava fields
(i.e., in Al-Madinah) that is more in need of it
than us.’ He said:
‘Then go and feed your family.’”
Another chain from Abu Hurairah with additional words: "Then he (the Prophet SAW) said: "And fast a day in its place."
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے عرض کیا : میں ہلاک ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا ؟ اس نے کہا : میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک غلام آزاد کرو “ ، اس نے کہا : میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو “ ، اس نے کہا : میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ “ اس نے کہا : مجھے اس کی بھی طاقت نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ وہ بیٹھ گیا ، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا ، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” جاؤ اسے صدقہ کر دو “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو “ ۱؎ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی جگہ پر ایک دن کا روزہ رکھ لو “ ۔
Chapter 15: What was narrated concerning one who breaks his fast out of forgetfulness - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلاَسٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
"Whoever eats out of forgetfulness while fasting, let him
complete his fast, for it is Allah Who has fed him and given him to
drink."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے ( توڑے نہیں ) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے “ ۔
Chapter 15: What was narrated concerning one who breaks his fast out of forgetfulness - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي يَوْمِ غَيْمٍ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ . قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: لاَ بُدَّ مِنْ ذَلِكَ .
It was
narrated that Asma’ bint Abu Bakr said:
“We broke our fast on
a
cloudy day at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), then the sun
appeared.”
I (one of the narrators) said to Hisham: "Were they commanded to make up for that day?" He said: "It had to be made up." (According to Hisham's opinion).
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا ، پھر سورج نکل آیا ، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا : پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا ؟ ، انہوں نے کہا : یہ تو ضروری ہے ۱؎ ۔
“I heard Fadalah bin ‘Ubaid
Al-
Ansari narrating that the Prophet (ﷺ) came out to them on a day
when
he was fasting. He called for a vessel and drank. We said: ‘O
Messenger of Allah, you were fasting today.’ He said: ‘Yes, but I
vomited.’”
فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے ، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے ؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، لیکن آج میں نے قے کی ہے “ ۔
Chapter 18: What was narrated concerning cupping for one who is fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْبَقِيعِ. فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
It was
narrated from Abu Qilabah that when Shaddad bin Aws was
walking with
the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Baqi’, he passed by a
man who
was being cupped, after eighteen days of the month (of
Ramadan) had
passed. The Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The cupper
and the one
for whom cupping is done both break their fast.”
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
Chapter 19: What was narrated concerning a fasting person kissing - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ. وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟
It was
narrated that ‘Aishah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used
to
kiss when he was fasting, and who among you can control his desire
as
the Messenger of Allah (ﷺ) used to control his desire?”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے ، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے ؟
Chapter 19: What was narrated concerning a fasting person kissing - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلاَةِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ قَالَ:
" قَدْ أَفْطَرَا " .
It was
narrated that Maimunah the freed (female) slave of the
Messenger of
Allah (ﷺ), said:
“The Prophet (ﷺ) was asked about a
man who
kissed his wife when they were both fasting. He said: ‘They
have
broken their fast.’”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
Chapter 20: What was narrated concerning a fasting person touching - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ دَخَلَ الأَسْوَدُ وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالاَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ كَانَ يَفْعَلُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ .
It was
narrated that Ibrahim said:
“Al-Aswad and Masruq entered upon
‘Aishah and said: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) touch (his
wife)
when he was fasting?’ She said: ‘He used to do that, and he
was the
strongest of all of you in controlling his desire.’”
اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور پوچھا
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے ( ساتھ سوتے ) تھے ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں ، آپ ایسا کرتے تھے ، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے ۔