Chapter 26: What was narrated concerning offering the funeral prayer for a child - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" صَلُّوا عَلَى أَطْفَالِكُمْ فَإِنَّهُمْ مِنْ أَفْرَاطِكُمْ " .
It was
narrated that Abu Hurairah said:
“The Prophet (ﷺ) said:
‘Offer
the (funeral) prayer for your children, for they have gone
ahead of
you (i.e. to prepare your place in Paradise for you).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو ، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں “ ۔
Chapter 27: What was narrated concerning the funeral prayer offered for the son of the Messenger of Allah (SAW) and the report of his death - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ .
Isma’il
bin Abu Khalid said:
“I said to ‘Abdullah bin Abi Awfa: ‘Did
you see Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said:
‘He died when he was small, and if it had been decreed that there
should be any Prophet after Muhammad (ﷺ), his son would have lived.
But there is no Prophet after him.’”
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے ، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے ، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎ ۔
Chapter 27: What was narrated concerning the funeral prayer offered for the son of the Messenger of Allah (SAW) and the report of his death - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ
" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا . وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ " .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“Then Ibrahim the son of the
Messenger of Allah (ﷺ) died, the Messenger of Allah (ﷺ) prayed
and
said: ‘He has a wet-nurse in Paradise, and if he had lived he
would
have been a Siddiq and a Prophet. If he had lived his maternal
uncles,
the Egyptians, would have been set free and no Egyptian would
ever
have been enslaved.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، اور فرمایا : ” جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے ، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے ، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے ، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا “ ۔
Chapter 27: What was narrated concerning the funeral prayer offered for the son of the Messenger of Allah (SAW) and the report of his death - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ خَدِيجَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رَضَاعَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَتْ لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَىَّ أَمْرَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Husain
bin ‘Ali said:
“When Qasim the son of the Messenger of Allah
(ﷺ) died, Khadijah said: ‘O Messenger of Allah, the milk of
Qasim’s
mother is overflowing. Would that Allah had let him live
until he had
finished breastfeeding.’ The Messenger of Allah (ﷺ)
said: ‘He will
complete his breastfeeding in Paradise.’ She said:
‘If I know that, O
Messenger of Allah, it makes it easier for me to
bear.’ The Messenger
of Allah (ﷺ) said: ‘If you wish, I will
pray to Allah to let you
hear his voice.’ She said: ‘O Messenger
of Allah, rather I believe
Allah and His Messenger.’”
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا ، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے ، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے “ تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے “ ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں : ( نہیں ) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں ۔
Chapter 28: What was narrated concerning the funeral prayer for the martyrs and their burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ يُرْفَعُونَ وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“They (the martyrs) were
brought
to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud, and he
started to
offer the funeral prayer for them, ten by ten. Hamzah lay
where he
lay, and they were taken away but he was left where he was.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے ، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے ، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے ، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی ۔
It was
narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah
(ﷺ)
used to put two or three of the slain of Uhud in one shroud. He
would
ask:
“Which of them had memorized more Qur’an?” And if one of
them was pointed out to him, he would put him in the niche-grave
first. And he said: “I am a witness over them.” He commanded that
they
should be buried with their blood, and that the funeral prayer
should
not be offered for them and they should not be washed.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے ، پھر پوچھتے : ” ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے “ ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا ، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے ، اور فرماتے : ” میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں ، ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا ، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ، اور نہ غسل دلایا ۱؎ ۔
Chapter 28: What was narrated concerning the funeral prayer for the martyrs and their burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَأَنْ يُدْفَنُوا فِي ثِيَابِهِمْ بِدِمَائِهِمْ .
It was
narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ)
commanded that the weapons and armor should be removed from the slain
of Uhud, and they should be buried in their clothes stained with
blood.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے ، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے ۔
Chapter 28: What was narrated concerning the funeral prayer for the martyrs and their burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ .
It was
narrated from Aswad bin Qais that he heard Nubaih Al-‘Anazi
say:
“I
heard Jabir bin ‘Abdullah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ)
commanded that the slain of the battle of Uhud should be returned to
the battlefield; they had been moved to Al-Madinah.’”
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں ، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎ ۔
Chapter 29: What was narrated concerning offering the funeral prayer in the mosque - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ حَدِيثُ عَائِشَةَ أَقْوَى .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“By Allah! The Messenger of Allah
(ﷺ) did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida’
anywhere
but in the mosque.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے ۔
“There are three times during the
day
when the Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to offer the funeral
prayer or bury our dead: When the sun has fully risen (until it is
higher up in the sky), when it is overhead at noon until it has
passed the meridian, and when it is starting to set until it has
set.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے ، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے : ” ایک تو جب سورج نکل رہا ہو ، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو ، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے ، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎ “ ۔
Chapter 31: Prayer for the people of the Qiblah - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " آذِنُونِي بِهِ " . فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا ذَاكَ لَكَ . فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ } " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} .
It was
narrated that Ibn ‘Umar said:
“When ‘Abdullah bin Ubayy died,
his son came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah,
give me your shirt so that I may shroud him in it.’ The Messenger
of
Allah (ﷺ) said: ‘Notify me when he is ready (i.e., when he has
been
washed and shrouded).’ When the Prophet (ﷺ) wanted to offer
the
funeral prayer for him: ‘You should not do that.’ The Prophet
(ﷺ)
offered the funeral prayer for him, and the Prophet (ﷺ) said
to him:
‘I have been given two choices: “...ask forgiveness for
them
(hypocrites) or ask not forgiveness for them...’” [9:80]
Then Allah
revealed: ‘And never pray (the funeral prayer) for any
of them
(hypocrites) who dies, nor stand at his grave.’” [9:84]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے ، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا “ ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے ، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة : 80 ) ” تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة : 84 ) ” منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں “ ۔
“The leader of the hypocrites in
Al-
Madinah died, and left instructions that the Prophet (ﷺ) should
offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He
offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and
stood by his grave. Then Allah revealed the words: ‘And never pray
(the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand
at his grave.” [9:84]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا ، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں ، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا ، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں ، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں ۔
Chapter 31: Prayer for the people of the Qiblah - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصِهِ فَذَبَحَ بِهِ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ .
It was
narrated from Jabir bin Samurah that a man from among the
Companions
of the Prophet (ﷺ) was wounded, and the wound caused him
a great
deal of pain. He went and took a spearhead, and slaughtered
himself
with it. The Prophet (ﷺ) did not offer the funeral prayer
for him,
and that was as an admonition for others.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا ، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی ، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا ، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎ “ ۔
Chapter 32: Offering the funeral prayer at the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا مَاتَتْ . قَالَ
" فَهَلاَّ آذَنْتُمُونِي " . فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا .
It was
narrated from Abu Hurairah that a black woman used to sweep
the
mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) noticed she was missing and
he
asked about her after a few days. He was told that she had died. He
said:
“Why did you not tell me?” Then he went to her grave and
offered
the funeral prayer for her.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا ، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر مجھے خبر کیوں نہ دی ، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے ، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی “ ۔
Kharijah
bin Zaid bin Thabit narrated that Yazid bin Thabit, who was
older
than Zaid, said:
“We went out with the Prophet (ﷺ) and when we
reached Al-Baqi’, we saw a new grave. He asked about it and they
said:
‘(It is) so-and-so (a woman).’ He recognized the name and
said: ‘Why
did you not tell me about her?’ They said: ‘You were
taking a nap and
you were fasting, and we did not like to disturb
you.’ He said: ‘Do
not do that; I do not want to see it happen
again that one of you
dies, while I am still among you, and you do
not tell me, for my
prayer for him is a mercy.’ Then he went to the
grave and we lined up
in rows behind him, and he said four Takbir
(i.e. for the funeral
prayer).”
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ ( وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی ) کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی ، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا : فلاں عورت کی ہے ، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا : ” تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی ؟ “ ، لوگوں نے کہا : آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے ، اور روزے سے تھے ، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ایسا نہ کرنا ، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے ، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو ، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے ، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے ، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی ، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎ ۔
Chapter 32: Offering the funeral prayer at the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ مَاتَتْ و لَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ " هَلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهَا " . ثُمَّ قَالَ لأَصْحَابِهِ " صُفُّوا عَلَيْهَا " . فَصَلَّى عَلَيْهَا .
It was
narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah, from his
father,
that a black woman died and the Prophet (ﷺ) was not told
about
that. Then he was informed of it, and he said:
“Why did you not
tell me?” Then he said to his Companions: “Line up in rows to
pray for
her,” and he offered the funeral prayer for her.
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی ، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی “ ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : اس پہ صف باندھو ، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی ۔
Chapter 32: Offering the funeral prayer at the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُهُ. فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ. فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ. فَقَالَ
" مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي " . قَالُوا كَانَ اللَّيْلُ وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ . فَأَتَى قَبْرَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“A man died whom the Messenger
of
Allah (ﷺ) used to visit, and they buried him at night. When
morning
came, they told him. He said: ‘What kept you from telling me?’
They said: ‘It was night and it was dark, and we did not like to
cause
you any inconvenience.’ Then he went to the grave and offered
the
funeral prayer for him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا ، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے ( اس کی موت کے بارے میں ) آپ کو بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی “ ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی ، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے ، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی “ ۔