“There was a black woman who
used
to sweep the mosque, and she passed away at night. The following
morning the Messenger of Allah (ﷺ) was told of her death. He said:
‘Why did you not call me?’ Then he went out with his Companions
and
stood at her grave, and said Takbir over her, with the people
behind
him, and he supplicated for her, then he went away.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا ، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی “ ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی ، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے ، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۱؎ ۔
Chapter 33: What was narrated concerning the prayers for Najashi - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ " . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْبَقِيعِ . فَصَفَّنَا خَلْفَهُ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
It was
narrated from Abu Hurairah:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Najashi has died.’ The Messenger of Allah (ﷺ) and his
Companions went out to Al-Baqi’, and we lined up in rows behind
him,
and the Messenger of Allah (ﷺ) went forward, then he said four
Takbir.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے ، ہم نے صف باندھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں ۔
“The Messenger of Allah (ﷺ)
said: ‘Your brother Najashi has died, so offer the funeral prayer
for
him.” Then he stood and we prayed behind him. I was in the
second row
and two rows prayed for him.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے ، ان کی نماز جنازہ پڑھو “ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے ، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ، میں دوسری صف میں تھا ، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی ۔
Chapter 33: What was narrated concerning the prayers for Najashi - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَصَففنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ .
It was
narrated from Mujammi’ bin Jariyah Al-Ansari that the
Messenger of
Allah (ﷺ) said:
“Your brother Najashi has died, so
stand and pray
for him.” So we formed two rows behind him.
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے ، تم لوگ کھڑے ہو ، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں “ ۔
Chapter 33: What was narrated concerning the prayers for Najashi - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ " صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ " . قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: " النَّجَاشِيُّ " .
It was
narrated from Hudhaifah bin Asid that the Prophet (ﷺ) led
them out
and said:
“Pray for a brother of yours who has died in a land
other
than yours.” They said: “Who is he?” He said: “Najashi.”
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے تو فرمایا : ” اپنے ( دینی ) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہو گئی ہے “ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نجاشی ہیں “ ۔
Chapter 34: What was narrated concerning the reward for the one who offers the funeral prayer and the one who waits until the burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " . قَالُوا وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever
offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever
awaits
until (the burial) is finished will have two Qirat.” They said:
‘What are these two Qirat?’ He said: ‘Like two mountains.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز جنازہ پڑھی ، اس کو ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا ، اسے دو قیراط ثواب ہے “ لوگوں نے عرض کیا : دو قیراط کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو پہاڑ کے برابر “ ۔
Chapter 34: What was narrated concerning the reward for the one who offers the funeral prayer and the one who waits until the burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " . قَالَ: فَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقِيرَاطِ؟ فَقَالَ " مِثْلُ أُحُدٍ " .
It was
narrated from Thawban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever
attends the burial will have two Qirat.” The Prophet (ﷺ) was
asked
about the Qirat and he said: “(It is) like Uhud.”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا ، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے “ ۔
Chapter 34: What was narrated concerning the reward for the one who offers the funeral prayer and the one who waits until the burial - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا " .
It was
narrated from Ubayy bin Ka’b that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat; and
whoever attends until the burial is over, will have two Qirat. By the
One in Whose Hand is the soul of Muhammad! The Qirat is greater than
this (mountain of) Uhud.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز جنازہ پڑھی ، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے ، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎ “ ۔
Chapter 35: What was narrated concerning standing up for the funeral (procession) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ وَقَالَ
" قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا " .
It was
narrated that Abu Hurairah said:
“A funeral has passed by the
Prophet (ﷺ) and he stood up and said: ‘Stand up out of
recognition
of the enormity of death.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا : ” کھڑے ہو جاؤ ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے “ ۔
Chapter 35: What was narrated concerning standing up for the funeral (procession) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ فَقَالَ هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ . فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ
" خَالِفُوهُمْ " .
It was
narrated that ‘Ubadah bin Samit said:
“When the Messenger of
Allah (ﷺ) followed a funeral, he would not sit down until it had
been placed in the niche-grave. A rabbi came to him and said: ‘This
is
what we do, O Muhammad!’ So the Messenger of Allah (ﷺ) sat
down and
said: ‘Be different from them.’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا ، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا ، اور کہا : اے محمد ! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا ، اور فرمایا : ” ان کی مخالفت کرو ۱؎ “ ۔
“I could not find him, meaning the
Prophet (ﷺ), and he was in Al-Baqi’. He said: “As-salamu
‘alaykum
dara qawmin mu’minin. Antum lana faratun wa inna bikum
lahiqun.
Allahumma la tahrimna ajrahum wa la taftinna ba’dahum.
(Peace be upon
you, O abode of believing people. You have gone ahead
of us and verily
we will join you soon. O Allah, do not deprive us of
their reward and
do not put us to trial after them).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک رات ) غائب پایا ، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں ، اور آپ نے فرمایا : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» ” اے مومن گھر والو ! تم پر سلام ہو ، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو ، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ، اے اللہ ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا ، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا “ ۔
Chapter 36: What was narrated concerning what is to be said when entering the graveyard - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ. كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ .
It was
narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:
“The
Messenger of Allah (ﷺ) used to teach them, when they went out to
the
graveyard, to say: As-salamu ‘alaykum ahlad-diyar
minal-mu’minina wal-
muslimin, wa inna insha’ Allah bikum lahiqun,
nas’alul-laha lana wa
lakumul-‘afiyah (Peace be upon you, O
inhabitants of the abodes,
believers and Muslims, and we will join
you soon if Allah wills. We
ask Allah for well-being for us and for
you).’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں : «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» ” اے مومن اور مسلمان گھر والو ! تم پر سلام ہو ، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں ، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں “ ۔
Chapter 37: What was narrated concerning sitting in the graveyards - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ .
It was
narrated that Bara’ bin ‘Azib said:
“We went out with the
Messenger of Allah (ﷺ) for a funeral, and we came to a grave. He
sat
down and we sat down, as if there were birds on our heads.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے ، اور ہم بھی بیٹھ گئے ، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎ ۔
Chapter 38: What was narrated concerning placing the deceased in the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ قَالَ " بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " . وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ " بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " . وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ " بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " .
It was
narrated that Ibn ‘Umar said:
“When the deceased was placed in
the grave, the Prophet (ﷺ) would say: ‘Bismillah, wa ‘ala
millati
rasul-illah (In the Name of Allah and according to the
religion of the
Messenger of Allah).’” Abu Khalid said on one
occasion, when the
deceased was placed in the grave: “Bismillah wa
‘ala sunnati rasul-
illah (In the Name of Allah and according to the
Sunnah of the
Messenger of Allah).” Hisham said in his narration:
“Bismillah, wa fi
sabil-illah, wa ‘ala millati rasul-illah (In
the Name of Allah, for
the sake of Allah and according to the
religion of the Messenger of
Allah).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا : جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے ، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے ۔
Chapter 38: What was narrated concerning placing the deceased in the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالاً وَاسْتُلَّ اسْتِلاَلاً .
It was
narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) was
brought into his grave from the direction of the Qiblah, and he was
placed in his grave gently.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا ، اور کھینچ لیا گیا ، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا ۔
Chapter 38: What was narrated concerning placing the deceased in the grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ . فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا وَصَعِّدْ رُوحَهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا . قُلْتُ يَا ابْنَ عُمَرَ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ قَالَ إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ بَلْ شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated that Sa’eed bin Musayyab said:
“I was present with
Ibn
‘Umar at a funeral. When the body was placed in the niche-grave)
he
said, ‘Bismillah wa fi sabil-illah wa ‘ala millati rasul-illah’
(In
the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the
religion
of the Messenger of Allah). When he started to place bricks
in the
niche-grave he said: ‘Allahumma ajirha min ash-shaitani wa
min
‘adhabil-qabr. Allahumma Jafil-arda ‘an janbaiha, wa sa’id
ruhaha, wa
laqqiha minka ridwana (O Allah, protect him from Satan and
from the
torment of the grave; O Allah, keep the earth away from his
two sides
and take his soul up and grant him pleasure from
Yourself).’ I said:
‘O Ibn ‘Umar, is this something that you
heard from the Messenger of
Allah (ﷺ) or is it your own words?’
He said: ‘I could have said
something like that, but this is
something that I heard from the
Messenger of Allah (ﷺ).’”
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا ، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا : «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا : «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» ” اے اللہ ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا ، اے اللہ ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے ، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما “ میں نے کہا : اے ابن عمر ! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا ، جو چاہوں کہوں ( حالانکہ ایسا نہیں ہے ) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
Chapter 39: What was narrated concerning the niche-grave being recommended - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَىَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated that Sa’d said:
“Make a niche-grave for me, and block
it
up with bricks as was done for the Messenger of Allah (ﷺ).”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے ( اپنے انتقال کے وقت ) کہا : میرے لیے بغلی قبر ( لحد ) بنانا ، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا ۔
Chapter 40: What was narrated concerning the ditch-grave - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ. فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ . فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ. فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated that Anas bin Malik said:
“When the Prophet (ﷺ)
died,
there was a man in Al-Madinah who used to make a niche in the
grave
and another who used to dig graves without a niche. They said:
‘Let
us pray Istikharah to our Lord and call for them both, and
whichever
of them comes first, we will let him do it.’ So they were
both sent
for, and the one who used to make the niche-grave came
first, so they
made a niche-grave for the Prophet (ﷺ).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے ، ایک بغلی قبر بناتا تھا ، اور دوسرا صندوقی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں ، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا ، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے ، ان دونوں کو بلوایا گیا ، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی ۔