Chapter 16: What was narrated concerning walking ahead of the funeral (procession) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا " .
It was
narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
‘The funeral should be followed and should not follow.
There should be no one with it who walks ahead of it.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے ، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے ، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے “ ۔
Chapter 17: What was narrated concerning the prohibition of wearing mourning dress during the funeral procession - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وَأَبِي، بَرْزَةَ قَالاَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ - أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ - لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ " . قَالَ فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ .
It was
narrated that ‘Imran bin Husain and Abu Barzah said:
“We went
out
with the Messenger of Allah (ﷺ) to attend a funeral, and he saw
some people who had cast aside their upper sheets and were walking in
their shirts only. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Are you
adopting the practice of the days of ignorance?’ or; ‘Are you
imitating the behavior of the days of ignorance? I was about to
supplicate against you that you would return in a different form.’
So
they put their sheets back on and never did that again.”
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں ، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو ؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو “ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں ، اور دوبارہ ایسا نہ کیا ۔
Chapter 18: The funeral should not be delayed once the bier is ready, and the funeral procession should not be followed with fire - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ أَوْصَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ لاَ تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ . قَالُوا لَهُ أَوَ سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated from Abu Hariz that Abu Burdah said:
“Abu Musa
Ash’ari
left instructions, when he was dying, saying: ‘Do not follow
me
with a censer.’* They said to him: ‘Did you hear something
concerning that?’ He said: ‘Yes, from the Messenger of Allah
(ﷺ).’”
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا ، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا ، لوگوں نے پوچھا : کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
It was
narrated that Kuraib the freed slave of ‘Abdullah bin ‘Abbas
said:
“A son of ‘Abdullah bin ‘Abbas died, and he said to me:
‘O
Kuraib! Get up and see if anyone has assembled (to pray) for my
son.’
I said: ‘Yes.’ He said: ‘Woe to you, how many do you
see? Forty?’ I
said: ‘No, rather there are more.’ He said:
‘Take my son out, for I
bear witness that I hear the Messenger of
Allah (ﷺ) say: “No (group
of) forty believers intercede for a
believer, but Allah will accept
their intercession.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے کریب ! جاؤ ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے ، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو ؟ کیا وہ چالیس ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں ، تو انہوں نے کہا : تو پھر میرے بیٹے کو نکالو ، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا “ ۔
Malik
bin Hubairah Ash-Shami, who was a Companion of the Prophet
(ﷺ),
said:
“If a funeral procession was brought and the number of
people
who followed it was considered to be small, they would be
organized
into three rows, then the funeral prayer would be offered.”
He
said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No three rows of
Muslims
offer the funeral prayer for one who has died, but he will be
guaranteed (Paradise).’”
مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ ( انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا ) کہتے ہیں کہ
جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا ، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے ، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی ، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۔
“A funeral (procession)
passed
by the Prophet (ﷺ) and they praised (the deceased) and spoke
well
of him. He said: ‘(Paradise is) guaranteed for him.’ Then another
funeral passed by and they spoke badly of him, and he (the Prophet
(ﷺ)) said: ‘(Hell is) guaranteed for him.’ It was said: ‘O
Messenger
of Allah, you said that (Paradise was) guaranteed for this
one and
that (Hell was) guaranteed for the other one.’ He said: ‘It
is the
testimony of the people, and the believers are the witnesses
of Allah
on earth.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا ، تو لوگوں نے اس کی برائی کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، اور اس کے لیے بھی فرمایا : ” واجب ہو گئی “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی ، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں “ ۱؎ ۔
“A funeral passed by the
Prophet
(ﷺ) and they praised (the deceased) and spoke well of him
and
mentioned his good characteristics. He said: ‘(Paradise is)
guaranteed for him.’ Then another funeral passed by and they spoke
badly of him and mentioned his bad characteristics, and he the
Prophet (ﷺ) said: ‘(Hell is) guaranteed for him. You are the
witnesses of Allah on earth.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا ، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ( جہنم ) واجب ہو گئی ، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو “ ۔
Chapter 21: Where should the Imam stand when he prays over the body? - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا .
It was
narrated from Samurah bin Jundab Al-Fazari that the Messenger
of
Allah (ﷺ) offered the funeral prayer for a woman who had died in
nifas* and he stood level with her middle (i.e. her waist).”
*The postnatal bleeding period.
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎ ، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے ۔
“I saw Anas bin Malik offering
the
funeral prayer for a man, and he stood level with his head. Then
another funeral was brought, that of a woman, and they said: ‘O Abu
Hamzah! Offer the funeral prayer for her.’ So he stood level with
the
middle of the bed (the body was upon). ‘Ala’ bin Ziyad said
to him: ‘O
Abu Hamzah! Is this how you saw the Messenger of Allah
(ﷺ) standing
in relation to the body of a man and a woman as you
have stood?’ He
said: ‘Yes.’ Then he turned to us and said:
‘Remember this.’”
ابوغالب کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے ، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا ، تو لوگوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے ، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے ، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : سب لوگ یاد کر لو ۔
“When the Messenger of Allah
(ﷺ)
offered the funeral prayer he would say: ‘Allahummaghfir
lihayyina
wa mayyitina, wa shahidina wa gha’ibina, wa saghirina wa
kabirina,
wa dhakarina wa unthana. Allahumma man ahyaitahu minna
fa'ahyihi
‘alal-Islam, wa man tawaffaytahu minna fa tawaffahu ‘alal-
iman.
Allahumma la tahrimna ajrahu wa la tudillana ba’dah. [O Allah,
forgive our living and our dead, those who are present and those who
are absent, our young and our old, our males and our females. O
Allah,
whomever of us You cause to live, let him live in Islam, and
whomever
of us You cause to die, let him die in (a state of) faith. O
Allah, do
not deprive us of his reward, and do not let us go astray
after
him].’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ” اے اللہ ! ہمارے زندوں کو ، ہمارے مردوں کو ، ہمارے حاضر لوگوں کو ، ہمارے غائب لوگوں کو ، ہمارے چھوٹوں کو ، ہمارے بڑوں کو ، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے ، اے اللہ ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ ، اور جس کو وفات دے ، تو ایمان پر وفات دے ، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر ، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر “ ۔
“The Messenger of Allah
(ﷺ) offered the funeral prayer for a man among the Muslims and I
heard him say: ‘O Allah, so-and-so the son of so-and-so is in Your
case and under Your protection. Protect him from the trial of the
grave and the torment of the Fire, for You are the One Who keeps the
promise and You are the Truth. Forgive him and have mercy on him, for
You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.”
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی ، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا : «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! فلاں بن فلاں ، تیرے ذمہ میں ہے ، اور تیری پناہ کی حد میں ہے ، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے ، تو اسے بخش دے ، اور اس پر رحم کر ، بیشک تو غفور ( بہت بخشنے والا ) اور رحیم ( رحم کرنے والا ) ہے ۔
“I saw the Messenger of
Allah
(ﷺ) offering the funeral prayer for a man among the Ansar, and
I
heard him say: ‘Allahumma salli ‘alayhi waghfirlahu warhamhu, wa
‘afihi wa’fu ‘anhu, waghsilhu bi ma’in wa thaljin wa baradin,
wa
naqqihi min adh-dhunubi wal-khataya kama yunaqqath-thawbul-abyadu
minad-danas, wa abdilhu bi darihi daran khayran min darihi, wa ahlan
khayran min ahlili, wa qihi fitnatal-qabri wa ‘adhaban-nar. (O
Allah,
send blessing upon him, forgive him, have mercy on him, keep
him safe
and sound, and pardon him; wash him with water and snow and
hail, and
cleanse him of sins just as a white garment is cleansed of
dirt. Give
him in exchange for his house that is better than his
house, and a
family that is better than his family. Protect him from
the trial of
the grave and the torment of the Fire).’”
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ، میں حاضر تھا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا : «اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر وعذاب النار» ” اے اللہ ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما ، اسے بخش دے ، اس پر رحم کر ، اسے اپنی عافیت میں رکھ ، اسے معاف کر دے ، اور اس کے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو دے ، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے ، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے ، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے ، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا ۔
Chapter 23: What was narrated concerning supplication during the funeral prayer - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَا أَبَاحَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ أَبُو بَكْرٍ وَلاَ عُمَرُ فِي شَىْءٍ مَا أَبَاحُوا فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ . يَعْنِي لَمْ يُوَقِّتْ .
It was
narrated that Jabir said:
“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu
Bakr
and ‘Umar did not give us so much leeway in anything as they did
with regard to the prayer for the deceased,” meaning that there was
nothing affixed.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا ۔
Chapter 24: What was narrated concerning saying four takbir in the funeral prayer - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ، قَالَ صَلَيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا . قَالَ فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَكُنْتُمْ تُرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا قَالُوا تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ . قَالَ لَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَ . وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ يُسَلِّمُ .
Al-Hajari said:
“I prayed with ‘Abdullah bin Abi Awfa Al-Aslami,
the
Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), offering the funeral
prayer
for a daughter of his. He said Takbir over her four times, and
he
paused for a while after the fourth. I heard the people saying
Subhan-
Allah to him throughout the rows. Then he said the Salam and
said:
‘Did you think that I was going to say a fifth Takbir?’
They said: ‘We
were afraid of that.’ He said: ‘I was not going
to do that, but the
Messenger of Allah (ﷺ) used to say four Takbir,
then pause for a
while, and he would say whatever Allah willed he
should say, then he
would say the Salam.’”
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ
میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی ، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں ، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے ، ( اور سلام پھیرنے میں توقف کیا ) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں ، انہوں نے سلام پھیرا ، اور کہا : کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا ؟ لوگوں نے کہا : ہمیں اسی کا ڈر تھا ، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا ، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے ، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے ، پھر سلام پھیرتے تھے ۔
Chapter 25: What was narrated concerning one who says the takbir five times - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَبِّرُهَا .
It was
narrated that ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila said:
“Zaid bin
Arqan
used to say the Takbir four times in the funeral prayer, and he
said
the Takbir five times for one funeral. I asked him (about that)
and
he said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) used to do that.’”
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے ، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں ، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات ۱؎ ( بھی ) کہتے تھے ۔