Chapter 65: What was narrated concerning the death and burial of the Prophet (SAW) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْعِجْلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا .
It was
narrated that Ubayy bin Ka’b said:
“We were with the Messenger
of
Allah (ﷺ) and we all had a single focus, but when he passed away
we
started to look here and there (i.e., have different interests).”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو ہم سب ایک رخ تھے ، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے ۔
Chapter 65: What was narrated concerning the death and burial of the Prophet (SAW) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِي، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالاً .
It was
narrated that Umm Salamah bint Abi Umayyah, the wife of the
Prophet
(ﷺ), said:
“At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), if
a
person stood to pray, his gaze would not go beyond his feet. When
the
Messenger of Allah (ﷺ) died, if a person stood to pray, his gaze
would not go beyond the place where he put his forehead when
prostrating. Then Abu Bakr died and it was ‘Umar (the caliph). So,
when any person stood to pray his gaze would not go beyond the
Qiblah.
Then came the time of ‘Uthman bin ‘Affan, and there was
Fitnah
(tribulation, turmoil), and the people started to look right
and
left.”
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا ۔
Chapter 65: What was narrated concerning the death and burial of the Prophet (SAW) - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَزُورُهَا . قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالاَ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ . قَالَتْ: إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْىَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ . قَالَ: فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلاَ يَبْكِيَانِ مَعَهَا .
It was
narrated that Anas said:
“After the Messenger of Allah (ﷺ)
had
died, Abu Bakr said to ‘Umar: ‘Let us go and visit Umm Ayman as
the Messenger of Allah (ﷺ) used to visit her.’ He said: ‘When
we
reached her she wept.’ They said: ‘Why are you weeping? What
is with
Allah is better for His Messenger.’ She said: ‘I know
that what is
with Allah is better for His Messenger, but I am weeping
because the
Revelation from heaven has ceased.’ She moved them to
tears and they
started to weep with her.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : چلئے ، ہم ام ایمن ( برکہ ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے ، تو وہ رونے لگیں ، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے ، انہوں نے کہا : میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے ، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا : تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا ، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۱؎ ۔
It was
narrated from Aws bin Aws that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘The best of your days is Friday. On it Adam was created; on it
shall be the Nafakhah,* on it all creation will swoon. So send a
great
deal of blessing upon me on this day, for your blessing will be
presented to me.’ A man said: “O Messenger of Allah! How will our
blessing be presented to you when you have disintegrated?” He said:
“Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the
Prophets.”
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم پیدا ہوئے ، اسی دن صور پھونکا جائے گا ، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے ، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود ( صلاۃ و سلام ) بھیجا کرو ، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ، تو ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا ؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے “ ۔
It was
narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is
witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his
blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man
said:
“Even after death?” He said: “Even after death, for Allah
has
forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the
Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو ، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا “ میں نے عرض کیا : کیا مرنے کے بعد بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، مرنے کے بعد بھی ، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے “ ۱؎ ۔