The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying: O Allah, I ask Thee, I bear witness that there is no god but Thou, the One, He to Whom men repair, Who has not begotten, and has not been begotten, and to Whom no one is equal, and he said: You have supplicated Allah using His Greatest Name, when asked with this name He gives, and when supplicated by this name he answers.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا : «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت ، الأحد ، الصمد ، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے “ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے “ ۔
I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man was offering prayer. He then made supplication: O Allah, I ask Thee by virtue of the fact that praise is due to Thee, there is no deity but Thou, Who showest favour and beneficence, the Originator of the Heavens and the earth, O Lord of Majesty and Splendour, O Living One, O Eternal One.
The Prophet (ﷺ) then said: He has supplicated Allah using His Greatest Name, when supplicated by this name, He answers, and when asked by this name He gives.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا ، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی : «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ : ساری و حمد تیرے لیے ہے ، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور عطاء و بخشش والے ، اے زندہ جاوید ، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے ! “ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے “ ۔
'Asma daughter of Yazid reported the Prophet (ﷺ) as saying:
"Allah's Greatest Names is in these two verses: "And your Ilaah (God) is One Ilaah (God), none has the right to be worshipped but He, the Ever-Merciful, the Mercy-Giving' and the beginning of Surah Al 'Imran, "A.L.M Allah, there is no deity but He, the Living, the Eternal."
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا اسم اعظم ( عظیم نام ) ان دونوں آیتوں «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ۱؎ اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ۲؎ میں ہے “ ۔
Ata' said: The quilt of Aisha was stolen. She began to curse the person who had stolen it. The Prophet (ﷺ) began to tell her: Do not lighten him.
Abu Dawud said: The meaning of the Arabic words la tasbikhi 'anhu means "do not lessen him or lighten him".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو ۔
I sought permission of the Prophet (ﷺ) to perform umrah. He gave me permission and said: My younger brother, do not forget me in your supplication.
He (Umar) said: He told me a word that pleased me so much so that I would not have been pleased if I were given the whole world.
The narrator Shu'bah said: I then met Asim at Medina. He narrated to me this tradition and reported the wordings: "My younger brother, share me in your supplication."
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی ، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : ” میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا “ ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ( راوی حدیث ) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ” اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا “ ۔
Chapter 509: Regarding Supplication (Ad-Du'a) - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ مَرَّ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَىَّ فَقَالَ
" أَحِّدْ أَحِّدْ " . وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas:
The Prophet (ﷺ) passed by me while I was supplicating by pointing with two fingers of mine. He said: Point with one finger; point with one finger. He then himself pointed with the forefinger.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک انگلی سے کرو ، ایک انگلی سے کرو “ اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۔
Once Sa'd, with the Messenger of Allah (ﷺ), visited a woman in front of whom were some date-stones or pebbles which she was using as a rosary to glorify Allah. He (the Prophet) said: I tell you something which would be easier (or more excellent) for you than that. He said (it consisted of saying): "Glory be to Allah" as many times as the number of that which He has created in Heaven; "Glory be to Allah" as many times as the number of that which He has created on Earth; "Glory be to Allah" as many times as the number of that which He has created between them; "Glory be to Allah" as many times as the number of that which He is creating; "Allah is most great" a similar number of times; "Praise (be to Allah)" a similar number of times; and "There is no god but Allah" a similar number of times; "There is no might and no power except in Allah" a similar number of times.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت ۱؎ کے پاس گئے ، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں ، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ۲؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس طرح کہا کرو : «سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا إله إلا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ۔
Chapter 510: At-Tasbih (Glorifying Allah) Using Pebbles - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولاَتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ .
Narrated Yusayrah, mother of Yasir:
The Prophet (ﷺ) commanded them (the women emigrants) to be regular (in remembering Allah by saying): "Allah is most great"; "Glory be to the King, the Holy"; "there is no god but Allah"; and that they should count them on fingers, for they (the fingers) will be questioned and asked to speak.
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر ، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے ( قیامت کے روز ) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) went out from Juwayriyyah (wife of the Prophet). Earlier her name was Barrah, and he changed it. When he went out she was in her place of worship, and when he returned she was in her place of worship.
He asked: Have you been in your place of worship continuously? She said: Yes. He then said: Since leaving you I have said three times four phrases which, if weighed against all that you have said (during this period), would prove to be heavier: "Glory be to Allah, and I begin with praise of Him to the number of His creatures, in accordance with His good pleasure, to the weight of His throne and to the ink (extent) of His words."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے ( پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎ آپ نے اسے بدل دیا ) ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو ؟ “ ، انہوں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں ، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے ( اتنی دیر میں ) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے : «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» ” میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ، اس کی مرضی کے مطابق ، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر “ ۔
AbuDharr said: Prophet of Allah. The wealthy people have all the rewards; they pray as we pray; they fast as we fast; and they have surplus wealth which they give in charity; but we have no wealth which we may give in charity.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: AbuDharr, should I not teach you phrases by which you acquire the rank of those who excel you? No one can acquire your rank except one who acts like you.
He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Exalt Allah (say: Allah is Most Great) after each prayer thirty-three times; and praise Him (say: Praise be to Allah) thirty-three times; and glorify Him (say: Glory be to Allah) thirty-three times, and end it by saying, "There is no god but Allah alone, there is no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due and He has power over everything". His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مال والے تو ثواب لے گئے ، وہ نماز پڑھتے ہیں ، جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں ، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے ، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو ، جو تم پر ( ثواب میں ) بازی لے گئے ہیں ، اور جو ( ثواب میں ) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے ، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے “ ، انہوں نے کہا : ضرور ، اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) بار «الله اكبر» ( ۳۳ ) بار «الحمد الله» ( ۳۳ ) بار «سبحان الله» کہا کرو ، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو ” جو ایسا کرے گا ) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں “ ۔
"Mu'awiyah wrote to al-Mughirah b. Shu'bah: 'What would the the Messenger of Allah (ﷺ) recite when he gave Taslim (salutation) in the prayer ?' Al-Mughirah dictated and wrote to Mu'awiyah: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to say (at the end of the prayer after taslim): 'There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the dominion, to Him praise is due, and He is Omnipotent. O Allah no one cane withhold what You give and give what You withhold, and none benefits the fortunate person, for from You is the fortune. '"
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے ؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا ، اس میں تھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اے اللہ ! جو تو دے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے ، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی “ پڑھتے تھے ۔
"I heard 'Abd Allah b. al-Zubair saying on the pulpit: When the Prophet (ﷺ) finished the prayer, he used to say (at the end of the prayer): 'There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due, and He is Omnipotent. There is no God but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though the infidels should disapprove. To Him belongs wealth, to Him belongs grace and to Him is worthy accorded. There is no got but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though infidels should disapprove.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں ، وہ احسان ، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے ۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اگرچہ کافر برا سمجھیں “ ۔
'Abd Allah b. al-Zubair used to recite this supplication after each (prescribed) prayer. He then narrated a similar supplication and added to it: "There is no might and no power except in Allah; there is no god but Allah Whom alone we worship. To Him belongs wealth." The narrator then transmitted the rest of tradition.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله *** » کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا ، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا : «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة *** » اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying (the version of Sulayman has: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say) after his prayer:-
"O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that Thou art the Lord alone Who hast no partner; O Allah, Our Lord and Lord of everything, I bear witness that Muhammad is Thy servant and Thy apostle ; O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that all the servants are brethren; O Allah, our Lord and Lord of everything make me sincere to Thee, and my family too at every moment, in this world and in the world hereafter, O Possessor of glory and honour, listen to me and answer. Allah is incomparably great. O Allah, Light of the heavens and of the earth".
The narrator Sulaiman b. Dawud said: "Lord of the heavens and of the earth, Allah is incomparably great. Allah is sufficient for me; and the excellent guardian is He; Allah is incomparably great.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك ، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، أن العباد كلهم إخوة ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض ، الله أكبر الأكبر ، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» ” اے اللہ ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب ، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور اے ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں ، اے جلال ، بزرگی اور عزت والے ! سن لے اور قبول فرما لے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اے اللہ ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے “ ۔
When the Prophet (ﷺ) uttered salutation at the end of the prayer, he used to say: "O Allah, forgive me my former and latter sins, what I have kept secret and what I have done openly, and what I have done extravagance; and what You know better than I do. You are the Advancer, the Delayer, there is no god but You."
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے : «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت ، وما أسررت وما أعلنت ، وما أسرفت ، وما أنت أعلم به مني ، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو ، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، بخش دے ۔ تو جسے چاہے آگے کرے ، جسے چاہے پیچھے کرے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) used to supplicate Allah: "My Lord, help me and do not give help against me; grant me victory, and do not grant victory over me; plan on my behalf and do not plan against me; guide me, and made my right guidance easy for me; grant me victory over those who act wrongfully towards me; O Allah, make me grateful to Thee, mindful of Thee, full of fear towards Thee, devoted to Thy obedience, humble before Thee, or penitent. My Lord, accept my repentance, wash away my sin, answer my supplication, clearly establish my evidence, guide my heart, make true my tongue and draw out malice in my breast."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے : «رب أعني ولا تعن علي ، وانصرني ولا تنصر علي ، وامكر لي ولا تمكر علي ، واهدني ويسر هداي إلي ، وانصرني على من بغى علي ، اللهم اجعلني لك شاكرا لك ، ذاكرا لك ، راهبا لك ، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا ، رب تقبل توبتي ، واغسل حوبتي ، وأجب دعوتي ، وثبت حجتي ، واهد قلبي ، وسدد لساني ، واسلل سخيمة قلبي» ” اے میرے رب ! میری مدد کر ، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر ، میری تائید کر ، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر ، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو ، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو ، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے ، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے ، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر ، جو مجھ پر زیادتی کرے ، اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار ، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا ، اپنا اطاعت گزار ، اپنی طرف گڑگڑانے والا ، یا دل لگانے والا بنا ، اے میرے پروردگار ! میری توبہ قبول کر ، میرے گناہ دھو دے ، میری دعا قبول فرما ، میری دلیل مضبوط کر ، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا ، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by 'Amr b. Murrah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:
"And make right guidance easy for me." The narrator did not say: "my right guidance".
Abu Dawud said: Sufyan heard eighteen traditions from 'Amr b. Murrah.
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ
میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے ، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے «يسر الهدى إلي» ہے ۔
Chapter 511: What A Person Should Say When He Says The Taslim - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ
" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
'Aishah said:
When the Prophet (ﷺ) uttered taslim, he used to say: "O Allah, You are As-Salam, and from you is As-Salam. You are blessed, O One of Magnificence and Generosity."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے : «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ ” اے اللہ تو ہی سلام ہے ، تیری ہی طرف سے سلام ہے ، تو بڑی برکت والا ہے ، اے جلال اور بزرگی والے “ ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے ، لوگوں نے کہا ہے : انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎ ۔
Chapter 511: What A Person Should Say When He Says The Taslim - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلاَتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ
" اللَّهُمَّ " . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رضى الله عنها .
Thawban, the client of Messenger of Allah (ﷺ) said:
When the Prophet (ﷺ) finished the prayer, he asked forgiveness three times and said: "O Allah ....." The narrator then narrated the tradition like that of 'Aishah.
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے ، اس کے بعد «اللهم» کہتے ، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔