Ya'la ibn Mumallak said that he asked Umm Salamah about the recitation and prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).
She said: What have you to do with his prayer? He would pray, then sleep as long as he had prayed, till morning. She then described his recitation and did so with an exposition word by word.
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : تم کہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں ؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے ، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ، پھر ام سلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں ۔
(The narrator Qutaibah said: This tradition has been narrated by Sa'id b. Abu Sa'id in my collection): The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who does not chant the Qur'an is not one of us.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے ، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ “ ۔
Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it.
There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He is not one of us who does not chant the Qur'an.
I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn AbuMulaykah: AbuMuhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں
ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے ۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے ، میں نے سنا : وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ” جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ عبدالجبار کہتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا : اے ابو محمد ! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Qur'an with a loud voice.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: No man recites the Qur'an, then forgets it, but will meet Allah on the Day of Judgment in a maimed condition (or empty-handed, or with no excuse).
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا “ ۔
Chapter 508: 'Allah Revealed The Qur'an According To Seven Ahruf' - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ " . فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ لِي " اقْرَأْ " . فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " .
'Umar b. al-Khattab said:
I heard Hisham b. Hakim (b. Hizam) reciting Surah al-Furqan in a different manner from my way of reciting, and the Messenger of Allah (ﷺ) had taught me to recite it. I nearly spoke sharply to him, but I delayed till he had finished. Then I caught his cloak at the neck, and I brought him to the Messenger of Allah (ﷺ). I said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a manner different from that in which you taught me to recite it. The Messenger of Allah (ﷺ) the told him to recite it. He then recited in the manner I heard him recite. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Thus was it sent down. He then said to me: Recite, I recited (it). He then said: Thus was it sent down. He said: The Qur'an was sent down in seven modes of reading, so recite according to what comes most easily.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ۱؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایا : ” تم پڑھو “ ، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے “ ، پھر مجھ سے فرمایا : ” تم پڑھو “ ، میں نے بھی پڑھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی طرح نازل ہوئی ہے “ ، پھر فرمایا : ” قرآن مجید سات حرفوں ۲؎ پر نازل ہوا ہے ، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: "Ubayy, I was asked to recite the Qur'an and I was asked: 'In one mode or two modes?' The angel that accompanied me said: 'Say, in two modes', I said: 'In two modes', I was asked again: 'In two or three modes'. The matter reached up to seven modes. He then said: 'Each mode is sufficiently health-giving, whether you utter 'all-hearing and all-knowing' or instead 'all-powerful and all-wise'. This is valid until you finish the verse indicating punishment on mercy and finish the verse indicating mercy on punishment."
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابی ! مجھے قرآن پڑھایا گیا ، پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک حرف پر یا دو حرف پر ؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا ، اس نے کہا : کہو : دو حرف پر ، میں نے کہا : دو حرف پر ، پھر مجھ سے پوچھا گیا : دو حرف پر یا تین حرف پر ؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا ، کہا : کہو : تین حرف پر ، چنانچہ میں نے کہا : تین حرف پر ، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے ، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا «عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو “ ۔
The Prophet (ﷺ) was present at the pool of Banu Ghifar, Gabriel came to him and said: "Allah has commanded you to make your community read (the Qur'an) in one harf. He (the Prophet) said: 'I beg Allah His pardon and forgiveness; my community has not strength to do so'. He then came for the second time and told him the same thing till he reached up to seven harfs. Finally, he said: 'Allah has commanded you to make your community read (the Qur'an) in seven harfs; in whichever mode they read, that will be correct.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا : ” اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں ، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے “ ، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا ، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا ، تو انہوں نے کہا : ” اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں ، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا “ ۔
Ibn Sa'd said: My father (Sa'd ibn AbuWaqqas) heard me say: O Allah, I ask Thee for Paradise, its blessings, its pleasure and such-and-such, and such-and-such; I seek refuge in Thee from Hell, from its chains, from its collars, and from such-and-such, and from such-and-such. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There will be people who will exaggerate in supplication. You should not be one of them. If you are granted Paradise, you will be granted all what is good therein; if you are protected from Hell, you will be protected from what is evil therein.
سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ
انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے کہتے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں ، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے ، اس کی زنجیروں سے ، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے ، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے “ ۔
Chapter 509: Regarding Supplication (Ad-Du'a) - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ، عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَدْعُو فِي صَلاَتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَجِلَ هَذَا " . ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ " .
Narrated Fudalah ibn Ubayd,:
The Messenger of Allah (ﷺ) heard a person supplicating during prayer. He did not mention the greatness of Allah, nor did he invoke blessings on the Prophet (ﷺ).
The Messenger of Allah (ﷺ) said: He made haste.
He then called him and said either to him or to any other person: If any of you prays, he should mention the exaltation of his Lord in the beginning and praise Him; he should then invoke blessings on the Prophet (ﷺ); thereafter he should supplicate Allah for anything he wishes.
صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا ، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا “ ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجے ، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
"One of you should not say (in his supplication): O Allah, forgive me if You please, show mercy to me if You please.' Rather, be firm in your asking, for no one can force Him."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر ، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں “ ۔
Chapter 509: Regarding Supplication (Ad-Du'a) - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
"One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: 'I prayed but I was not granted an answer.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Do not cover the walls. He who sees the letter of his brother without his permission, sees Hell-fire.
Supplicate Allah with the palms of your hands; do not supplicate Him with their backs upwards. When you finish supplication, wipe your faces with them.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted through a different chains by Muhammad b. Ka'b; all of them are weak. The chain I have narrated is best of them; but it is also weak.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیواروں پر پردہ نہ ڈالو ، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے ، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے ۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق ( سند ) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: When you make requests to Allah, do so with the palms of your hands, and not backs, upwards.
Abu Dawud said: The narrator Sulaiman b. 'Abd al-Hamid said: according to us Malik b. Yasar was a Companion of the Prophet (ﷺ).
مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سلیمان بن عبدالحمید نے کہا : ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: Your Lord is munificent and generous, and is ashamed to turn away empty the hands of His servant when he raises them to Him.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم ( کرم والا ) ہے ، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے “ ۔
Ikrimah quoted Ibn Abbas as saying: When asking for something you should raise your hands opposite to your shoulders; when asking for forgiveness you should point with one finger; and when making an earnest supplication you should spread out both your hands.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال ( عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا ) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو ۔