We counted that the Messenger of Allah (ﷺ) would say a hundred times during a meeting: "My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار : «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» ” اے میرے رب ! مجھے بخش دے ، میری توبہ قبول کر ، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “ کہنے کو شمار کرتے تھے ۔
Chapter 512: About Seeking Forgiveness - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ بِلاَلَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ " .
Narrated Zayd, the client of the Prophet:
The Prophet (ﷺ) said: If anyone says: "I ask pardon of Allah than Whom there is no deity, the Living, the eternal, and I turn to Him in repentance," he will be pardoned, even if he has fled in time of battle.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے «أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone continually asks pardon, Allah will appoint for him a way out of every distress, and a relief from every anxiety, and will provide for him from where he did not reckon.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا ، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا “ ۔
Which Supplication would the Prophet (ﷺ) often make ? He replied: The supplication he would usually recite was: "O Allah, give us in this world what is good and in the next what is good, and protect us from the punishment of Hell-fire".
The version of Ziyad adds: When Anas wished to supplicate, he uttered this supplication. When he uttered some other supplication, he combined it with this supplication.
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ
قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ( البقرہ : ۲۰۱ ) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کر لیتے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone asks Allah for martyrdom sincerely, Allah will make him reach the ranks of martyrs even if he died on his bed.
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا ، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا ، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے “ ۔
Asma' bint al-Hakam said: I heard Ali say: I was a man; when I heard a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ), Allah benefited me with it as much as He willed. But when some one of his companions narrated a tradition to me I adjured him. When he took an oath, I testified him.
AbuBakr narrated to me a tradition, and AbuBakr narrated truthfully. He said: I heard the apostle of Allah (ﷺ) saying: When a servant (of Allah) commits a sin, and he performs ablution well, and then stands and prays two rak'ahs, and asks pardon of Allah, Allah pardons him. He then recited this verse: "And those who, when they commit indecency or wrong their souls, remember Allah" (Al-Qur'an 3:135).
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا ، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا ، مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے ، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله *** إلى آخر الآية» ۱؎ ” جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ آیت کے اخیر تک “ ۔
Mu'adh b. Jabal reported that the Messenger of Allah (ﷺ) caught his hand and said:
By Allah, I love you, Mu'adh. I give some instruction to you. Never leave to recite this supplication after every (prescribed) prayer: "O Allah, help me in remembering You, in giving You thanks, and worshipping You well."
Mu'adh willed this supplication to the narrator al-Sunabihi and al-Sunabihi to 'Abu Abd al-Rahman.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ” اے معاذ ! قسم اللہ کی ، میں تم سے محبت کرتا ہوں ، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں “ ، پھر فرمایا : ” اے معاذ ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں : ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا : «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» ” اے اللہ ! اپنے ذکر ، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما “ ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: May I not teach you phrases which you utter in distress? (These are:) "Allah , Allah is my Lord, I do not associate anything as partner with Him."
Abu Dawud said: The narrator Hilal is a client of 'Umar b. 'Abd al-Aziz. The name of Ja'far, a narrator, is 'Abd Allah b. Ja'far.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو «الله الله ربي لا أشرك به شيئًا» یعنی ” اللہ ہی میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہلال ، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں ، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں ۔
Chapter 512: About Seeking Forgiveness - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا مُوسَى أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " . فَقُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ " لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " .
Narrated AbuMusa al-Ash'ari:
Once we accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. When we reached near Medina, the people began to say aloud: "Allah is most great," and they raised their voice.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast.
The Messenger of Allah (ﷺ) then said: AbuMusa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise?
I asked: What is that?
He replied: "There is no might and there is no power except in Allah"
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو ، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎ “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوموسیٰ ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ “ ، میں نے عرض کیا : وہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے “ ۔
Chapter 512: About Seeking Forgiveness - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ يَتَصَعَّدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلاَ الثَّنِيَّةَ نَادَى لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ لاَ تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا " . ثُمَّ قَالَ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ " . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
Abu Musa Al-Ash'ari said:
They (the Companions) accompanied the Prophet (ﷺ) while they were climbing the turning of a hill. A man uttered loudly: "There is no god but Allah, and Allah is most great" when he ascended the hill. The Prophet of Allah (ﷺ) said: You are not supplicating one who is deaf or absent. He then said: 'Abd Allah b. Qais. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے ، ایک شخص تھا ، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو «لا إله إلا الله والله أكبر» پکارتا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو “ ۔ پھر فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
If anyone says "I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad (ﷺ) as Apostle" Paradise will be his due.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کہے : «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” میں اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا “ تو جنت اس کے لیے واجب گئی “ ۔
Aws b. Aws reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
Among the most excellent of your days is Friday; so invoke many blessings on me on that day, for your blessing will be submitted to me. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, how can our blessings be submitted to you, when your body has decayed? He (ﷺ) said: Allah has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets.
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے ، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو ، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں “ ۔
Jabir b. 'Abd Allah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
Do not invoke curse on yourselves, and do not invoke curse on your children, and do not invoke curse on your servants, and do not invoke curse on your property, lest you happen to do it at a time when Allah is asked for something and grants your request.
Abu Dawud said: This Hadith has a continuous chain of narrators, 'Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah (did) met Jabir.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے ، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے ۔
Chapter 514: Sending Salat Upon Other Than The Prophet (saws) - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلِّ عَلَىَّ وَعَلَى زَوْجِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
A woman said to the Prophet (ﷺ): Invoke blessing on me as well as on my husband. The Prophet (ﷺ) said: May Allah send blessing on you and your husband.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «صلى الله عليك وعلى زوجك» ” اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے “ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When a Muslim supplicates for his absent brother the angels say: Amin, and may you receive the like.
ام الدرادء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے ( غائبانہ ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں : تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو “ ۔
Chapter 515: Supplicating For One In His Absence - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" ثَلاَثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لاَ شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ " .
Narrated AbuHurayrah:
The Prophet (ﷺ) said: Three supplications are answered, there being no doubt about them; that of a father, that of a traveller and that of one who has been wronged.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں ، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : باپ کی دعا ، مسافر کی دعا ، مظلوم کی دعا “ ۔
When the Prophet (ﷺ) feared a (group of) people, he would say: "O Allah, we make Thee our shield against them, and take refuge in Thee from their evils."
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے : «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» ” اے اللہ ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the supplication for isthikharah (seeking what us beneficial from Allah) as he would teach us a surah (chapter) from the Qur'an. He would tell us: When one of you intends to do a work, he should offer two supererogatory rak'ahs of prayer, and then say (at the end of the prayer): "O Allah, I seek Your choice on the better (of the two matters) based upon Your knowledge, and I seek Your decree based upon Your power, and I ask You for Your great bounties. For Indeed, You are the One Who Decrees, and I do not decree, and You know, and I do not know, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this - here he should name exactly what he wishes - is better for me with regard to my religion, and my life, and my afterlife, and the end result of my affairs, then decree it to me, and make it easy for me, and bless me on it. O Allah, and if You know this to be evil for me - and he says just as he said the first time - then avert it for me, and avert me from it. And decree for me good wherever it might be, the make me content with it." A version goes: "If the work is good immediately or subsequently."
Ibn Maslamah and Ibn 'Isa reported from Muhammad b. al-Munkadir on the authority of Jabir.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے : ” جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے : «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولاأقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ۱؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں ، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں ، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں ، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں ۔ تو جانتا ہے ، میں نہیں جانتا ، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ۱؎ میرے واسطے دین و دنیا ، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر ، اے اللہ ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین ، دنیا ، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو ، اسے میرے لیے مقدر کر دے ، پھر مجھے اس پر راضی فرما “ ۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں «عن محمد بن المنكدر عن جابر» ہے ۔
Chapter 518: Regarding Seeking Refuge - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْعُمْرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
The Prophet (ﷺ) used to seek refuge in Allah from five things; cowardliness, niggardliness, the evils of old age, evil thoughts, and punishment in the grave.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی ، بخل ، بری عمر ( پیرانہ سالی ) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from weakness, and laziness, and cowardice, and old age, and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trails of the life and death."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من العجز ، والكسل ، والجبن ، والبخل ، والهرم ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے ، سستی سے ، بزدلی سے ، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎ “ ۔