The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid b. al-Walid, rescue Salamah b. Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah (ﷺ) id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی ، آپ اس میں دعا فرماتے : «اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ” اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے ، اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ، اے اللہ ! کمزور مومنوں کو نجات دے ، اے اللہ ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی ، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ ) آ چکے ہیں ؟ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication (Qunut) daily for a month at the noon, afternoon, sunset, night and morning prayers. When he said: "Allah listens to him who praises Him" in the last rak'ah, invoking a curse on some clans of Banu Sulaym, Ri'l, Dhakwan and Usayyah, and those who were standing behind him said: Amen.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی ، جب آخری رکعت میں «سمع الله لمن حمده» کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل : رعل ، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے ۔
Anas b. Malik was asked whether the Messenger of Allah (ﷺ) had recited supplication in the dawn prayer. He replied: Yes. He was again asked whether before bowing or after bowing. He said after bowing.
This version of Musaddad adds the words: "For a short period."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، پھر ان سے پوچھا گیا : رکوع سے پہلے یا بعد میں ؟ تو انہوں نے کہا : رکوع کے بعد میں ۱؎ ۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ ” تھوڑی مدت تک ۲؎ “ ۔
Chapter 496: The Qunut In The (Other) Prayers - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْغَدَاةِ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيَّةً .
Narrated Someone who prayed with the Prophet:
Muhammad ibn Sirin said: Someone who prayed the morning prayer along with the Prophet (ﷺ) narrated to me: When he raised his head after the second rak'ah, he remained standing for a short while.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے ۔
Chapter 497: The Virtue Of Offering Voluntary Prayers At Home - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا قَالَ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلاَتِهِ - يَعْنِي رِجَالاً - وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا بَابَهُ - قَالَ - فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا فَقَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ " .
Zaid b. Thabit said:
The Messenger of Allah (ﷺ) built a chamber in the mosque. He used to come out at night and pray there. They (the people) also prayed along with him. They would come (to prayer) every night. If on any night the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out, they would cough, raise their voices and throw pebbles and sand on his door. The Messenger of Allah (ﷺ) came out to time in anger and said: O People, you kept on doing this till I thought that it will be prescribed for you. Offer your prayers in your houses, for a man's prayer is better in his house except obligatory prayer.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا ، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے ، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے ، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے ، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا : ” لوگو ! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کر دی جائے ، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ۱؎ سوائے فرض نماز کے “ ۔
The Prophet (ﷺ) was asked: Which of the actions is better ? He replied: Standing for long time (in prayer). He was again asked: Which alms is better ? He replied: The alms given by a man possessing small property acquired by his labour.
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں دیر تک کھڑے رہنا “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا قتل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: May Allah show mercy to a man who gets up during the night and prays, who wakens his wife and she prays; if she refuses, he sprinkles water on her face. May Allah show mercy to a woman who gets up during the night and prays, who wakens her husband and he prays; if he refuses she sprinkles water on his face.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے ، پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے ، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے ، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے ، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: When a man himself wakes at night and wakens his wife and they pray two rak'ahs together, they are recorded among the men and women who make much mention of Allah.
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے “ ۔
Mu'adh al-Juhani reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
If anyone recites the Qur'an and acts according to its content, on the Day of Judgement his parents will be given to wear a crown whose light is better than the light of the sun in the dwellings of this world if it were among you. So what do you think of him who acts according to this ?
معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا ، ( پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے ) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا ، کیا درجہ ہو گا “ ۔
One who is skilled in the Qur'an is associated with the noble, upright recording angels, and he who falters when he recites the Qur'an and finds it difficult for him will have a double reward.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ
آپ نے فرمایا : ” جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا “ ۔
No people get together in a house of the houses of Allah (i.e. a mosque), reciting the Book of Allah, and learning it together among themselves, but calmness (sakinah) comes down to them, (Divine) mercy covers them (from above), and the angels surround them, and Allah makes a mention of them among those who are with Him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی قوم ( جماعت ) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے ، اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے ، فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے ، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں “ ۔
When we were in the Suffah, the Messenger of Allah (ﷺ) asked: Which of you would like to go out every morning to Buthan or Al-'Aqiq and bring two large humped and fat she-camels without being guilty of sin and severing ties of relationship ? They (the people) said: Messenger of Allah, we would all like that. He said: If any one of you goes out in the morning to the mosque and learns two verses of the Book of Allah, the Exalted, it is better for him than two she-camels, and three verses are better for him than three she-camels, and so on than their numbers in camels.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ ( چبوترے ) پر تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے ، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے ؟ “ ، صحابہ نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
All praise be to Allah, the Lord of the Universe" (1) is the epitome or basis of the Qur'an, the epitome or basis of the Book, and the seven oft-repeated verses.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے ۔
Abu Sa'id b. al-Mu'alla said that when he was praying the Prophet (ﷺ) passed by him and he called him. He said:
I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: "O you who believe, respond to Allah and the Apostle when he calls you to that which gives you life ? (8:24) Let me teach you the greatest surah from the Qur'an or in the Qur'an (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: "Praise be to Allah, the Lord of the Universe" which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Qur'an.
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ نے انہیں بلایا ، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا ؟ “ ، عرض کیا : میں نماز پڑھ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ” اے مومنو ! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو ، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں ، جس میں تمہاری زندگی ہے “ میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں “ ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کو چھ دی گئی تھیں ، جب انہوں نے تختیاں ( جن پر تورات لکھی ہوئی تھی ) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's Book that you have is creates ? I replied: Allah and His Apostle know best. He said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's that you have is greatest ? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on the beast and said: May knowledge be pleasant for you, Abu al-Mundhir.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابومنذر ! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے ؟ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” ابومنذر ! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے ؟ “ ، میں نے عرض کیا : «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا : ” اے ابومنذر ! تمہیں علم مبارک ہو “ ۔
Chapter 504: Regarding Surat As-Samad (Al-Ikhlas) - كتاب الوتر
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
Abu Sa'id al-Khudri said:
A man heard another man reciting "Say, He is Allah, One" He was repeating it. When the next morning came, he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned to him. The man tool it (this surah) as a small one. The Prophet (ﷺ) said: By Him in Whose Hand is my life, it is equivalent to a third of the Qur'an.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا ، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ ( سورۃ ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
I was driving the she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ) during a journey. He said to me: Uqbah, should I not teach you two best surahs ever recited? He then taught me: "Say, I seek refuge in the Lord of the dawn," and "Say, I seek refuge in the Lord of men." He did not see me much pleased (by these two surahs).
When he alighted for prayer, he led the people in the morning prayer and recited them in prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he turned to me and said: O Uqbah, how did you see.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا ، آپ نے فرمایا : ” عقبہ ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں ؟ “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں ( کے سیکھنے ) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا ، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے ( سواری سے ) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” عقبہ ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎ “ ۔
White I was travelling with the Messenger of Allah (ﷺ) between al-Juhfah and al-Abwa', a wind and intense darkness enveloped us, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) began to seek refuge in Allah, reciting: "I seek refuge in the Lord of the dawn," and "I seek refuge in the Lord of men."
He then said: Uqbah, use them when seeking refuge in Allah, for no one can use anything to compare with them for the purpose.
Uqbah added: I heard him reciting them when he led the people in prayer.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” اے عقبہ ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو ، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی “ ۔ عقبہ کہتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: One who was devoted to the Qur'an will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صاحب قرآن ( حافظ قرآن یا ناظرہ خواں ) سے کہا جائے گا : پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے ، تمہاری منزل وہاں ہے ، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎ “ ۔